اسلامی مزدور تحریک کی سفر کہانی

کتاب : اسلامی مزدور تحریک کی سفر کہانی
مصنف : پروفیسر شفیع ملک
صفحات : 464 قیمت ، 500روپے
ناشر
زیر اہتمام :
: منشورات
پاکستان ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ (وی ٹرسٹ)پلاٹ نمبر ایس ٹی 3/2، بلاک 5، گلشن اقبال ،کراچی75300-
فون نمبر : 021-34980295
ای میل : info@wetrustpk.com
wetrustpk@gmail.com
ایک وقت تھا سرخ سامراج کے کارندے مزدوروں اور کسانوں کے اندر کام کر کے سرخ سامراج کے لیے میدان ہموار کرتے تھے۔ اللہ پاک نے تحریک اسلامی کو ہمت دی اس نے کمیونسٹ مزدور تحریک کو چیلنج کیا اور ان کو پسپا کردیا۔ یہ پوری داستان بڑی عمدگی سے پروفیسر محمد شفیع ملک نے 45ابواب میں اس کتاب میں سمو دی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب مشکوک کمیونسٹ سوشلسٹ کارندے ایشیا سرخ ہے کہ نعرے لگا رہے تھے ان کے مقابل اسلامی مزدور تحریک نے ایشیا سبز ہے کا غلغلہ بلند کیا اور مسلم عوام کو ان کے خلاف متحرک کیا۔
کتاب کا مقدمہ چوہدری رحمت الٰہی سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے لکھا ہے ، وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں ۔
’’ پروفیسر شفیع ملک نے پاکستان میں اسلامی مزدور تحریک کی تاریخ مرتب کی ہے ،جو کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ یہ تحریک این ایل ایف کے نام سے سرگرم رہی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ پروفیسر شفیع ملک صاحب نے این ایل ایف کی چوتھائی صدی سے زیادہ عرصے تک قیادت کی ہے، لہٰذا ایک عینی شاہد ہونے کی حیثیت سے انہوں نے واقعات کو ان کے صحیح تناظر میں کسی مبالغہ آرائی کے بغیر قلم بند کیا ہے۔ اصل کارنامہ تو این ایل ایف کے پلیٹ فارم سے ان کی شان دار جدوجہد ہے ،جس کے ذریعے انہوں نے پاکستان کی مزدور فیلڈ میں سرخ عناصر کا نہ صرف کامیابی سے مقابلہ کیا بلکہ انہیں تاریخی شکست سے بھی دو چار کیا۔ اس ’’جہاد‘‘ کو جس طرح پروفیسر صاحب نے ریکارڈ کیا ہے وہ خود بھی ایک کارنامے سے کم نہیں ہے۔
قیام پاکستان سے قبل اور بعد کے زمانے میں بھی اس میدان پر اشتراکیت پسند چھائے ہوئے تھے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ طبقاتی کشمکش برپا کر کے ایک خوں ریز انقلاب کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ یہ فکر مزدور اور کارخانے دار کے مابین ٹکرائو کے ذریعے سرخ انقلاب کے لیے زمین تو ہم وار کرسکتی تھی جو ان کا اصل مقصد تھا لیکن مزدوروں کے مسائل حل نہیں کرسکتی تھی۔ ملک صاحب نے جماعت اسلامی کی راہ نمائی میں صحیح اسلامی سوچ کے مطابق مزدور اور کارخانے دار میں مفاہمت اور دونوں کے حقوق کی پاس داری کا راستہ اختیار کیا۔ جس سے ایک طرف مزدور کو اس کے جائز حقوق حاصل ہوں اور دوسری طرف کارخانے دار کو بھی عدل و انصاف کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھنے کا موقع ملے اور دونوں مل کر ملک کی ترقی کی راہ ہموار کرسکیں ۔ ظاہر ہے اس کام کے لیے محنت کشوں کی تربیت نہایت ضروری تھی چنانچہ پروفیسر صاحب نے تربیتی پروگراموںکے ذریعے مزدوروں میں اسلامی فکر پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ نیز مزدوروںکے کلچر کو اسلامی رنگ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جس کی ایک مثال ’’یوم یکم مئی‘‘ کی جگہ ’’ یوم خندق‘‘ منانے کا اقدام تھا۔
اسی جدوجہد کے نتیجے میں پروفیسر شفیع ملک کا نام ملک میں اسلامی مزدور تحریک کی پہچان بن چکا ہے، مزدور تحریک میں ان کی جدوجہد کو کم و بیش 62 برس کا عرصہ ہو چکا ہے، گویا یہ نصف صدی سے زیادہ کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں ۔ آج بھی وہ پیرانہ سالی میں مزدور تحریک کے ساتھ نوجوانوں کے سے جوش و جذبے سے کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے 31برس تک (2000-1969) بھرپور انداز میں ملک کی اسلامی مزدور تحریک کی براہ راست قیادت کی۔
مصنف نے اپنی ساری زندگی مزدور تحریک اور محنت کشوں کے لیے وقف کردی۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں مزدور تحریک کا جو پودا انہوں نے ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری میں لگایا تھا اور جسے سید مودودیؒ کی دعا، چودھری غلام محمد کی فہم و فراست اور مولوی فرید احمد شہید کی حوصلہ افزائی نے نشوونما فراہم کی، اس نے بعد میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرلی اور ایک ایسی قوت بن کر ابھری جو بالآخر ایشیا میں اسلامی مزدور تحریک کا ہراول دستہ بنی۔
جماعت اسلامی نے ابتدا ہی میں یہ اندازہ کرلیا تھا کہ ملک میں اپنے اثرونفوذ کو بڑھانے کے لیے اسے طلبہ اور مزدوروں میں بھی کام کرنا ہوگا۔ اسی لیے جماعت اسلامی نے سب سے پہلے 1949ء میں لیبر ویلفیئر کمیٹی کے نام سے کام کا آغاز کیا، جس نے بعد میں لیبر فیڈریشن آف پاکستان اور پھر 1969ء میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کی شکل اختیارکرلی۔ اسی دوران جماعت اسلامی نے محسوس کیاکہ ملک کا بایا ںبازو، جسے حکومت کے بااثر افراد کی حمایت حاصل ہے ، مزدور طبقے کو ہائی جیک کر کے انہیں ایک طبقاتی کشمکش کے ذریعے سرخ انقلاب کی طرف پیش قدمی کررہا ہے۔ اس کی راہ روکنے کے لیے جماعت اسلامی نے مزدور فیلڈ میں قدم رکھا اور ایک ایسی تنظیم کی بنیاد ڈالی جس پر مکمل بھروسا اور اعتماد کیا جاسکے اور جو ایک طرف محنت کشوں کے مسائل کو بھی حل کرے، ان کی اخلاقی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے اور ملک میں اسلام کے نظام عدل کے قیام کے لیے محنت کشوں کو ذہنی طور پر تیار کرے۔
اس کتاب میں بہت سے چشم کشا حقائق اور چونکا دینے والے انکشافات بھی ہیں جو پاکستان میں مزدور تحریک کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں ۔ اشتراکی نظریات کے حامل ان مزدور رہنمائوں کے چہروں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے جو سرمایہ داروں سے مراعات حاصل کر کے پرتعیش زندگی گزارتے اور مزدور کے نام پرعیاشی کرتے تھے، انتقامی کارروائیوں کے ذریعے مخالفین پر عرصۂ حیات تنگ کرتے رہے۔ ان حکمرانوں کا بھی ذکر ہے جو عوامی امنگوں کے خلاف ملک میںاسلامی تحریک کے اثرات پھیلنے سے خوف زدہ ہو کر اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے۔
یوم شوکت اسلام کے پرشکوہ جلوس میں مزدوروں کی شاندار ریلیاں، پیاسی کی پی آئی اے کے ریفرنڈم میں شاندار کامیابیاں اور کراچی کے اہم اداروں نیشنل بینک، کے ڈی اے، پراچہ ٹیکسٹائل ملز وغیرہ میں این ایل ایف کی یونینوں کی جیت نے بجا طور پر مزدوروں میں ملت اسلامیہ کے تصورکو اجاگر کیا اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی مزدور تحریک کی جدوجہد کی راہ ہموار کی۔ متحدہ پاکستان کی آخری سہ فریقی لیبر کانفرنس کی روداد میں، آجروں کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی دینے والے مزدوروں کا بھی قصہ ہے جو نہ جانے کس کے اشارے پر کام کررہے تھے۔ کتاب میں پیاسی کی کامیابی، ناکامی، اپنوں کی نادانیوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا بھی تفصیل سے ذکر ہے۔
اس کتاب میں اجمالی طور پر ملک کی سیاسی تاریخ بھی آگئی ہے کیوں کہ حکمراں طبقہ براہ راست ہر شعبہ زندگی کی طرح مزدور تحریک پر بھی اثر انداز ہو کر اس کے بنائو بگاڑ کا ذمے دار رہاہے۔
بھٹو حکومت کی چیرہ دستیوں، ٹریڈ یونین امور میں ان کی مداخلت اور اس کے نتیجے میں مزدوروں کے غیض و غضب کا احوال بھی مصنف نے سنایا ہے جس کی وجہ سے بھٹو حکومت روبہ زوال ہو کر ختم ہوگئی۔
1977ء کی قومی اتحاد کی تحریک میں بھی مزدوروں اور این ایل ایف نے پورے ملک میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے جب ملک میں مارشل لا لگایا تو انہیں مزدوروں کی طاقت کا پوری طرح اندازہ تھا، اس لیے انہوں نے اس جن کو بوتل میں بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
مصنف نے پاکستان کی مزدور تحریک کی ارتقائی جدوجہد کو رقم کر کے اس کتاب کو ایک قیمتی دستاویز کی شکل دے دی ہے۔ اس کتاب میںملک کے تمام بڑے اداروں مثلاً پی آئی اے، واپڈا، ریلوے، پاکستان اسٹیل مل، کراچی شپ یارڈ، پی این ایس سی، سیمنس، ہینکس، کول مائنز کا تذکرہ شامل ہے۔ ان اداروں میں بعض ٹریڈ یونینز کی مفاد پرست قیاد ت کا منفی کردار بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جنہوں نے طبقاتی کشمکش برپا کر کے مزدوروں کے لیے مشکلات پیدا کردیں ۔
مصنف نے اس کتاب میں این ایل ایف کی کامیابی کی کہانی ہی پیش نہیں کی بلکہ تحریک کے دوران پیش آنے والے واقعات، تجربات اور مشاہدات بھی پوری دیانت داری اور غیر جانب داری سے قلم بند کردیے ہیں اور اپنی خامیوں پر کہیں پردہ ڈالنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے کیوں کہ یہی خامیاں آنے والوں کو راہ نمائی فراہم کریں گی۔
کتاب میں آپ کو مزدور تحریک میں اپنی جوانی اور زندگی کھپا دینے والوں کے اخلاف، محبت، ہمت، جرأت، عزم و حوصلے کی کہانیاں اور واقعات جا بجا نظر آئیں گے جو بعد کے لوگوں کو روشنی فراہم کرتے رہیں گے۔ این ایل ایف نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی قیادت کا لوہا منوایا اور کانفرنسوں، کنونشنز اور مہمات میں غیر معمولی دل چسپی لے کر مزدوروں کو ایک سنجیدہ اور پاکیزہ کلچر سے روشناس کرایا جو اس سے پہلے سستی تفریح اور ناچ گانے تک محدود تھا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کانفرنسوں کی افادیت اور اثرات کو محسوس کیا گیا۔
کتاب میں مصنف نے اسلامی مزدور تحریک ہی نہیں بلکہ ملک کی پوری مزدور تحریک کے اہم پہلوئوں پر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اپنے معاصرین کا تذکرہ بھی انتہائی اخلاص سے کیا ہے۔ ان کی خوبیوں کا بجا طور پر اعتراف اور ان کی خامیوں کی درست طور پر نشانہ دہی بھی کی ہے۔
انہوں نے اپنے معاصرین اور مقابلے پر درپیش چیلنجوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ان نو وارد ساتھیوں کا بھی تعارف کرایا ہے جو اس مزدور تحریک میں ان کے دست و بازو بنے اور ان السابقون الاوّلون کا بھی ذکر کیا ہے جو انہیں اس خارزار وادی میں لائے اور ایک خوب صورت موڑ پر ساتھ چھوڑ گئے۔
امید ہے کہ یہ نئی کتاب مزدور فیلڈ سے تعلق رکھنے والے اہل درد حضرات کے نظریاتی خزانے میں ایک بیش بہا اضافہ ثابت ہوگی۔ یہ کتاب کئی قیمتی اور اہم اسباق سے بھری ہوئی ہے۔ ہر صاحب فہم و فراست کے لیے لازم ہے کہ وہ غور سے اس کتاب کا مطالعہ کرے اور پھر اپنے ماضی اور حال کا موازنہ کر کے اُسی عہدزریں کو واپس لانے کی کوشش کرے:
کتاب منشورات نے اپنے روایتی اسلوب میں خوبصورت طبع کی ہے، مجلد ہے اور حسین سرورق سے مزین ہے۔

حصہ