برصغیر کے مسلمانوں اور ترکوں میں تاریخی روابط ہیں‘ ڈاکٹر عزمی اوزجان

حنین رفیع
خلافتِ عثمانیہ کی شان و شوکت اور پھر اس کا شکست و ریخت سے دوچار ہوجانا دنیا میں مسلم معاشروں کے لیے انتہائی دلچسپی کا معاملہ رہا ہے۔ ترکی کا شاندار ماضی عام مسلمان کے ذہن سے اب تک محو نہیں ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے اپنے لیے انتہائی دکھ کا باعث سمجھا مگر برصغیر کے مسلمانوں نے اسے خاص طور پر محسوس کیا اور اپنا شدید نقصان سمجھا۔
پاکستان اور ترکی کے تعلقات سات عشروں پر محیط ہیں۔ پاک ترک سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ترک مصنف اور تاریخ دان پروفیسر ڈاکٹر عزمی اوزجان کراچی کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئر(PIIA) میں موجود تھے۔ انسٹی ٹیوٹ کے تحت منعقدہ تقریب میں انہوں نے ترکی اور برصغیر کے مسلمانوں کے روابط سے متعلق عشروں پر محیط اپنی تحقیق کے بارے میں حاضرین کو بتایا۔
پی آئی آئی اے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر معصومہ حسن نے بتایا کہ تحریکِ خلافت بیسویں صدی کے اوائل میں چلائی جانے والی ایک بڑی سیاسی تحریک تھی اور اُس وقت کی برصغیر کی سیاست سے بہت حد تک ہم آہنگ تھی۔ ڈاکٹر معصومہ حسن نے پروفیسر ڈاکٹر عزمی اوزجان سے استدعا کی کہ وہ ترکی اور برصغیر کے مسلمانوں کے روابط پر روشنی ڈالیں۔ ڈاکٹر اوزجان اس وقت سکریا یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ہیں اور ’’ترک برطانوی تعلقات‘‘ کے موضوع پر لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں۔ ڈاکٹر اوزجان نے بتایا:
’’ترکوں اور برصغیر کے مسلمانوں کے تعلقات کے حوالے سے میں نے کراچی، لاہور، دہلی اور آگرہ میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس خطے میں آکر مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ میں نے یہ اندازہ بھی لگایا کہ میرے اجداد برصغیر میں کب آئے ہوں گے اور انہوں نے یہاں سے کیا کیا سیکھا ہوگا۔‘‘
ڈاکٹر اوزجان نے محمد بن قاسم سے محمود غزنوی کے سترہویں حملے تک اس خطے میں اسلامائزیشن کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ محمود غزنوی کی معرکہ آرائی کے سو سال بعد غوریوں اور قطب الدین ایبک نے مل کر سلطنتِ دہلی کی بنیاد رکھی۔ اور یہ کہ ماضی کے جھروکوں میں جھانکیے تو مشترکہ تاریخ دکھائی دے گی۔
ڈاکٹر اوزجان نے ترکوں اور برصغیر کے مسلمانوں کے روابط کے بارے میں تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ترکی میں پندرھویں صدی کے بہت سے قلمی مسودوں کا بھی مطالعہ کیا۔ ان میں چند ایسے خطوط بھی شامل تھے جن میں قسطنطنیہ کی فتح پر برصغیر کی سرکردہ شخصیات نے مبارک باد دی تھی۔
ڈاکٹر اوزجان نے بتایا کہ سفر ناموں نے بھی ترکوں اور برصغیر کے مسلمانوں کے روابط کی تعبیر و تشریح میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 1557ء میں ترک بحریہ کے کمانڈر علی رئیس نے ’’مراۃ الممالک‘‘ کے زیر عنوان سفرنامہ لکھا جس سے اس عہد کی سیاست اور عسکری مہمات پر بھی خاصی روشنی پڑتی ہے۔ امیر البحر علی رئیس کا مشن تو بصرہ سے قاہرہ تک مختلف بحری راستوں کو واپس لینا تھا مگر اس نے پرتگالیوں کے ہاتھوں کئی معرکوں میں شکست کھانے اور اپنی افواج اور جہازوں کا بڑا حصہ گنوانے کے بعد بھارت کے مغربی ساحل پر پناہ لی۔
علی رئیس نے ہندوستان کی سرزمین پر کچھ مدت قیام کے بعد زمینی راستے سے ترکی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران اس کی ملاقات بہت سی سرکردہ مقامی شخصیات اور عام لوگوں سے ہوئی۔ اس نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اُس کے بارے میں کھل کر لکھا۔ اس نے شہنشاہ ہمایوں اور دیگر شخصیات سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں بھی لکھا۔ علی رئیس کی یادداشتیں انگریزی میں ’’دی مِرز آف کنٹریز‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوچکی ہیں۔
ڈاکٹر اوزجان نے بتایا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے اقتدار پر زوال آیا تو انہوں نے اخلاقی حمایت کے حصول کے لیے ترکی کی طرف دیکھنا شروع کیا جو اُس وقت ایک بڑی قوت تھی۔ خلافتِ عثمانیہ کو برصغیر کے مسلمان اپنے لیے بہت بڑا اخلاقی سہارا تصور کرتے تھے۔ ڈاکٹر اوزجان کا مؤقف ہے کہ برصغیر کے مسلمان چونکہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور بہتر زندگی بسر کرنے کے لیے درکار ہمت کے لیے خلافتِ عثمانیہ کی طرف دیکھتے تھے اس لیے جب ترکی میں اتاترک نے سلطنتِ عثمانیہ کو باضابطہ ختم کیا تب سب سے زیادہ دکھ برصغیر کے مسلمانوں کو ہوا۔
ڈاکٹر اوزجان کا کہنا تھا کہ ٹیپو سلطان نے ترکوں سے مدد مانگی تھی۔ اُس زمانے میں ترک افواج روس کا سامنا کررہی تھیں اور انہیں اس میں برطانیہ کی مدد درکار تھی۔ برطانوی حکومت نے ترکوں سے کہا کہ اگر روسیوں کے خلاف مدد درکار ہے تو برصغیر میں برطانوی افواج کی مدد کرنا ہوگی۔ یہ مدد اس صورت میں تھی کہ برصغیر کے مسلمانوں کی عسکری مدد نہ کی جائے۔
عالم اسلام اس وقت جس صورت حال سے دوچار ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اوزجان جذباتی ہوگئے اور اس بات پر شدید رنج ظاہر کیا کہ اسلامی دنیا میں جو مقامات کبھی مذہبی، علمی اور ثقافتی حوالے سے انتہائی وقیع تھے اور مرکزِ نگاہ کا درجہ رکھتے تھے وہ آج تباہی اور بربادی سے دوچار ہیں اور آپس کی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کے مسلمان اپنے لیے ایک نئی، بہتر اور مفید دنیا کا تصور پروان چڑھائیں اور اختلافات ختم کرکے اس دنیا کا حصول یقینی بنانے کی کوشش کریں تو اصلاحِ احوال ممکن ہے۔
(ترجمہ: ابراہیم خان۔ بشکریہ روزنامہ ڈان 21دسمبر 2017ء)

حصہ