داعی الی اللہ

ٰفضل طارق
تحریک اسلامی کے کارکن اور داعی الی اللہ کے خلوص، للّٰہیت اور جذبۂ قربانی سے کسی کو انکار نہیں، بلکہ اس بات کے تو مخالفین بھی معترف ہیں، لیکن ہمارے لیے ایک ابہام دور کرنا بہت ضروری ہے، اور اسی اہم نکتے سے سلسلہ کلام کا آغاز کرتے ہیں۔
وہ نکتہ ہے داعی کا کام، کارکن سازی، اپنے کارکن کی فلاح و بہبود، اس کے لیے قربانی و خدمت ہی نہیں بلکہ پوری آبادی، قوم کے کسی بھی فرد کے لیے قربانی و خدمت کا جذبہ اور ان کی فلاح کی جدوجہد… اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ’’داعی صرف تنظیم یا مسلم امہ تک ہی خود کو محدود نہ کرے بلکہ غیر مسلموں اور تمام انسانیت کی خدمت اس کا اصل کام ہے۔‘‘
حوالے کے طور پر ان احادیث کو لیجیے:
’’ لوگ اللہ کے عیال ہیں، وہ شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے جو اس کے عیال کے لیے زیادہ مفید ہو۔‘‘(مسلم)
’’زمین والوں پر مہربانی کرو، آسمان والا تم پر مہربانی کرے گا۔‘‘(ترمذی)
ماحول اور آبادی کے ذیل میں ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایک داعی کو اللہ اور رسولؐ کی صرف ’’عبادت گزاری‘‘ کا ہی خیال نہیں رکھنا ہوتا بلکہ ہمارے ماحول، معاشرہ اور اطراف بسنے والے لوگوں کی بھی ہم پر نظر ہوتی ہے۔ ہمارے قول و فعل، ہمارے اعمال کمیونٹی کے مشاہدے میں ہوتے ہیں، ہمارے ’’معاملات‘‘کا جائزہ لیا جارہا ہوتا ہے جس سے ہمارے کردار اور شخصیت کا تعین کیا جاتا ہے، ایک امیج بلڈنگ ہورہی ہوتی ہے۔ لہٰذا داعی اپنے میدان میں مسلسل عمل اور ردعمل کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اسے اپنے گرد و پیش کے لیے بھی ایک اچھا مسلمان/ انسان ثابت ہونا ہوتا ہے۔
اس لیے مذکورہ بالا نکتہ ذہن نشین کرلینا چاہیے یعنی ’’اللہ کے عیال کے لیے مفید ثابت ہونا‘‘۔
(یعنی بہت ساری باتیں، بہت سے کام جو کسی حد تک مذہب کا حصہ نہیں بھی ہوں گے لیکن وہ معاشرتی کام، آپ کا وہ رویہ یا عمل بالواسطہ مذہب و دین کے لیے، تحریک کے لیے اور لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہا ہوگا)
الغرض ماحول اور آبادی کی حیثیت ایسے ذرائع کی ہے جن سے داعی اپنا کام لیتا ہے، یہ داعی کا میدان ہے۔
ارشاد ِباری تعالی ہے کہ :
’’اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟‘‘ (سورہ یوسف)
یہ اس بات کا حوالہ ہے کہ داعی کی معلومات میں وسعت ہونی چاہیے، دنیا کا پتا ہونا چاہیے۔
ایک داعی کے لیے ہم دنیا اور اس کے علم کو 4 مختلف کیٹگری میں تقسیم کرسکتے ہیں:
1۔ اَن دیکھی دنیا یعنی غیب کی دنیا، ملائکہ، کتاب، روح، تقدیر، قیامت وغیرہ۔
2۔ عالمگیر: یعنی داعی کا دین اسلام عالمگیر دین ہے، کسی خطے کے لیے مخصوص نہیں، اللہ نے زمین و آسمان اس کے لیے مسخر کیے ہیں تو یہ کائنات کا علم مشترک ہے، مقام کی تبدیلی سے اس علم میں تبدیلی نہیں آئے گی۔
3۔ بین الاقوامی: داعی کا میدان پوری دنیا ہے… کوئی سرحد، جغرافیہ نہیں۔ وہ امت کا فرد ہے، ساری دنیا میں اس کے تحریکی بہن بھائی ہیں۔ اکثریتی علاقہ، اقلیت کا فرق بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا، ہر جگہ اسے حق بات کرنی ہے، حق کی مدافعت کرنی ہے۔ الغرض پوری دنیا اس کے عمل اور عبادت کی جگہ ہے۔
حوالہ ازحدیث:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوری زمین میرے لیے پاک جگہ اور مسجد بنادی گئی ہے۔
مذکورہ بالا تینوں دنیا کی معلومات داعی کے لیے ناقابل تغیر ہیں۔ یعنی ہر دنیا ہر خطے کے داعی کے لیے ایک جیسی ہے۔
4۔ مقامی: مقامی دنیا وہ ہوتی ہے جو داعی کا اپنا حلقہ، علاقہ، زون، صوبہ، شہر، گائوں یا ملک ہے، جو اس کی بنیادی ذمہ داری کا علاقہ ہے۔
اولاً اس کے بارے میں داعی کو تھیوری / نظری معلومات بھرپور طریقے سے ہونی چاہیے، یعنی وہاں کی تاریخ، جغرافیہ، آبادی، وسائل، فرقہ، نسلی پس منظر، تنظیمیں، معیشت، رسم و رواج، سماجی، سیاسی، معاشرتی حالات وغیرہ کا معقول حد تک علم ہو۔
ثانیاً داعی کو ان سب امور میں عملی حصہ بھی لینا چاہیے جو اس کے اطراف سیاسی و معاشرتی حوالے سے جاری ہیں، اسے معاشرتی مسائل میں باقاعدہ دلچسپی لینی چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ محلے میں بلدیاتی سطح کا کوئی مسئلہ، کوئی جھگڑا، کوئی پولیس کچہری کا معاملہ، کسی کی صحت یا تعلیم سے متعلق معاملہ ہو اور آپ اس میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہوں لیکن یہ سوچ کر نہ کریں کہ ’’یہ کون سا دین کا کام ہے؟‘‘ اگر معاشرے کی قیادت سنبھالنی ہے تو اس معاشرے کے مسائل آپ کے مسائل ہیں، ان کا حل ڈھونڈنے کے لیے آپ کی جانب سے کی گئی کوشش کا نتیجہ تحریک کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی معاشرے کے لیے خدمت دیکھتے ہوئے لوگ آپ سے بلدیاتی کونسلر، ناظم، رکن اسمبلی بننے کے لیے خود اصرار کریں اور آپ کو منتخب کریں۔ مذکورہ کوشش میں یہ خیال آپ کو مدد دے گا کہ ’’خلق اللہ کی عیال ہے، آپ کو اس کے لیے مفید ثابت ہونا ہے‘‘۔
درحقیقت داعی کو ایک طبیب کی سوچ رکھنی چاہیے کہ مریض کا مرض پیدا ہونے میں طبیب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا لیکن وہ مریض پر تنقید نہیں کرتا، درد میں بلکتا نہیں چھوڑتا بلکہ درد کم کرنے کے لیے اپنے تجربے اور ذہنی صلاحیتوں کو لگا دیتا ہے تاکہ کسی طرح مریض کا کرب ختم کرسکے۔اس کی کوششوں سے مرض ختم نہ بھی ہو تو کم ضرور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا داعی بھی یہ نہ سوچے کہ معاشرتی مسائل کا اسلام سے کیا تعلق ؟ یہ داعی کا کام کیسے ہوسکتا ہے ؟یہ بالکل غلط سوچ ہے، ایسے موقع پر مسائل کا حل سوچنا، تجزیہ کرنا اور قابلِ عمل تجویز دینا لیڈر کی سوچ ہوگی۔
حزبِ اختلاف میں رہ کر غیر ذمہ دارانہ تنقید آسان ہے لیکن اس طرح مسائل کبھی حل نہیں ہوتے۔روشن خیال،روشن ضمیر حزبِ اختلاف کا کردار ادا کریں تاکہ اگر اقتدارسنبھالنے کا موقع ملے تو اُسی مسئلے پر دوسرے آپ پر تنقید نہ کررہے ہوںبلکہ آپ کے پاس اس کا قابلِ عمل حل اور متبادل ہو۔وہ ایسے منصوبے ہوں جو حقیقی زندگی میں کامیابی سے بروئے کار لائے جاسکیں نہ کہ محض کتابی فلسفے، یوٹوپیائی خیالات یا خوش فہمی پر مبنی نظریات و منصوبے۔
چوتھا نکتہ یعنی ’مقامی دنیا‘ کی معلومات تغیر پذیر ہیں، یہ ہرجگہ قابلِ اطلاق نہیں ہوتیں۔ یوںسمجھ لیجیے کہ اسلام ایک پھول کا گملا نہیں جو کسی بھی جگہ لگایا جائے تو پھول دے، بلکہ یہ ایسا گلدستہ ہے جس میں شامل پھول مختلف ممالک و خطے کی مناسبت سے ہیں، جو الگ رنگ و بو رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہرجگہ کی مٹی، آب و ہوا، جغرافیہ الگ الگ ہیں، اسی مناسبت سے ہرجگہ ہر ملک میں طریقہ عمل الگ الگ ہوسکتا ہے۔
آخر میں ایک اہم نکتہ نوٹ کرلیجیے جو کہ لیڈرشپ کے لیے پنچ لائن کی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ ’’سید القوم خادمھم‘‘ (الحدیث)
قائدِ انقلاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائد کے لیے معیار و پیمانہ مقرر کردیا ہے کہ قائد یا سردار اپنی قوم کا خادم ہوتا ہے۔ پس ہر داعی کو، ہر رہنما کو نہ صرف قوم کی خدمت اور اس کے مسائل حل کرنے کے جذبے سے سرشار ہونا ہوگابلکہ اس کا عملی ثبوت بھی دینا ہوگا۔
Things to do ..
مذکورہ بالا حدیث کے تناظر میں محمدی ماڈل آف لیڈر شپ کے لیے ہمیں کرنا کیا ہوگا؟
اس کے لیے ضابطہ عمل کا خاکہ ترتیب دیں:
1۔ انفرادی سطح: داعی کو چاہیے کہ نظریاتی مطالعہ کے ساتھ اخبارات، رسائل، ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ کے ذریعے مقامی، بین الاقوامی حالات سے باخبر رہے۔گردو پیش کے حالات سے آگاہ ہو اور ان معلومات کو ملنے جلنے والوں کے ساتھ گفتگو میں اور بہتر معاشرے کی تشکیل کی سوچ و فکر میں استعمال کرے۔
2۔ مقامی سطح: حلقہ جات/ زونل اجلاسوں میں تنظیمی اور دعوتی امور کے لیے تو سیشن ہوتے ہیںکہ تنظیم میں کیسے بہتری لائی جائے، روحانی و نظریاتی علم میں کارکن کیسے ترقی کرے۔ لیکن فرد کی رائج الوقت ترقی کے عوامل اور اسے سوشل لیڈر بنانے کے لیے یعنی مقامی سطح پر علاقے کے مسائل اور ان کے حل کے لیے سوچ و عمل کا کوئی سیشن نہیں ہوتا۔ فرد کی تیاری نظریاتی ہونا بہت اہم ہے لیکن معاشرے میں کرنے کے بہت سے ایسے کام ہیں جن کو نظرانداز کرنے سے تحریک آگے نہیں بڑھتی۔
قومی سطح: اگر انفرادی سطح پر حالات تقاضا کرتے ہیں کہ داعی کو دین و دنیا کے بارے میں معقول حد تک آگہی ہو تو یقینا قومی سطح کے داعی یعنی مرکزی سطح کی قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں انہیں تنظیمی، دعوتی کاموں کے علاوہ مختلف امور پر پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کی کمیٹیاں ترتیب دینی چاہییں جو آبادی کو درپیش مسائل کے قابلِ عمل حل پیش کرسکیں، اس طرح کی کمیٹیاں علاقائی سطح سے قومی سطح تک کے مسائل کا تجزیہ کرکے اسلام کے تناظر میں ایسی تجاویز و سفارشات پیش کریں جو ان نظریات و حل کی نسبت زیادہ اچھی اور بہتر ہوں جو دوسرے نظریات کے لوگ پیش کررہے ہوں۔
(استفادہ: رہنمائے تربیت از ہشام الطالب)

حصہ