پیاسا کتا

حضرت سعدیؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک نیک دل شخص جنگل میں سفر کررہا تھا۔ ایک جگہ اسے ایک کتا نظر آیا جو پیاس کی وجہ سے ہلکان ہورہا تھا۔ کتے کو اس حالت میں دیکھ کر اسے بہت ترس آیا۔ اس نے فوراً اپنے سر سے پگڑی اور کلاہ اتاری اور ان کی مدد سے کنویں سے پانی نکال کر پیاسے کتے کو پلایا۔ اس زمانے کے پیغمبر کو بتایا گیا کہ اس شخص کی اس نیکی کو اﷲ پاک نے ایسا پسند فرمایا کہ اس کے سارے گناہ معاف فرمادیے ۔
جو لوگ نیکی کے راستے سے بھٹک گئے ہیں انہیں اس واقعے پر غور کرنا چاہیے کہ جب اﷲ پاک نے ایک کتے کو پانی پلادینے جیسی معمولی نیکی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا تو نیک انسان کے ساتھ بھلائی کرنے کا درجہ کتنا بڑا ہوگا۔ لازم ہے کہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق بھلائی کے کاموں میں لگا رہے۔ اگر ایک شخص مسافروں کے لیے کنواں نہیں کھدوا سکتا تو اسے چاہیے کہ اندھیرے راستے میں چراغ ہی جلادے۔ ایک غریب آدمی کا راہِ خدا میں ایک دینار خرچ کرنا امیرکے خزانے لٹانے سے زیادہ قابلِ تعریف ہے ؎
نہ اس بات کو بھول اے نیک بخت
بھروسے کے قابل نہیں تاج و تخت
ازل سے ہے دنیا کی خُو انقلاب
ہے اس کی ہر اک چیز پادر رکاب
جسے آج بے چارہ پاتا ہے تُو
ہے ممکن ہو کل صاحبِ کاخ و کُو
بقا ہے فقط نیک اعمال کو
بقا کچھ نہیں جاہ اور مال کو
وضاحت: اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ نیکی کرنے کے لیے صاحبِ اقتدار اور قوت و شوکت والا ہونے کی شرط نہیں۔ اس سلسلے میں اصل چیز دل کا تقویٰ ہے۔ درست نیت اور خلوص کے ساتھ ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی انسان کو بہشتِ بریں کا حقدار بناسکتی ہے۔
ایک دوسرے کی مدد
کچھ خبر ہے؟ اﷲ تعالیٰ نے آپ کے لیے کتنے خادم مقرر فرما رکھے ہیں۔ جمادات، نباتات اور حیوان نہیں… انسان۔ حضرت امام غزالیؒ کا اندازہ ہے کہ قریباً ایک ہزار آدمی کام میں مصروف رہتے ہیں تب جاکر ایک آدمی زندگی بسر کرتا ہے۔ تاجر اناج نہ خریدیں، مزدور اناج نہ دھوئیں۔ علیٰ ہٰذا سُوت کَتنے اور کپڑا بُنے جانے کا حال ہے۔ موچی، بڑھئی، لوہار، معمار، غرضیکہ امام غزالی کے اندازے کے مطابق ایک ہزار پیشہ ور ہیں جو اگر نہ ہوں تو آپ چوبیس گھنٹے نہیں گزار سکتے۔
اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ دنیا میں کسی کا مستقل قیام نہیں ہوتا۔ دنیا مسافر خانہ ہے۔ مسافرت کے موقع پر لوگوں کے اندر یہ جذبہ ابھر آیا کرتا ہے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ یہی جذبہ دنیا کے پورے سفر میں کارفرما ہوجائے تو کیسا اچھا ہے! مگرکون ہے جو خلقِِ خدا کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے پیشہ کرتا ہے، اور کون ہے جسے خیال آتا ہے کہ اتنے پیشہ ور میری خدمت میں مصروف ہیں، میں بھی ایسا پیشہ اختیار کروں جس سے خلقِ خدا فائدہ اٹھائے۔ ذرا سا خیال کرلینے سے مسلمان کی دنیا، مسلمان کا دین بن جاتی ہے۔ (مُلاّ واحدی)
(حکایاتِ بوستانِ سعدیؒ)

نظریاتی مملکت میں ادیب کا کردار

’’اسلامی فکر کی روشنی میں ادیبوں کے کردار کو اگر مزید تفصیل سے بیان کیا جائے تو کچھ اس طرح کہنا ہوگا کہ وہ کتاب کے سطحی مفہوم سے زیادہ تر کتاب کی معنوی حکمت اورحقیقت کو سمجھتے ہیں، اپنے تحریری یا زبانی خطاب کو سامعین کی سوجھ بوجھ کی سطح پر پیش کرتے ہیں، احسن طریقے سے استدلال کرتے ہیں، طعنہ زنی اور دشنام طرازی سے پرہیز کرتے ہیں تاکہ مخالف ان پر طعنہ زنی اور دشنام طرازی سے کام نہ لے، وہ تنقید و موازنے میں انصاف برتتے ہیں، اختلاف کی صورت میں وہ مخالف کو اور خود کو یہ حق دیتے ہیں کہ ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ حسن کردار ہی ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ ملک و ملّت اور انسان کی خدمت کا نیک جذبہ ان کے کردار کا منبع و مشرب ہوتا ہے۔ خودپرستی کے بجائے حق پرستی اور غرور اور گھمنڈ کے بجائے تواضع اور انکسار ان کاخصوصی شیوہ ہوتا ہے۔ وہ چلتے ہیں تو بھی دھیرے نرم خرام چلتے ہیں۔ وہ لغو اور پست افکار اور افعال سے اپنا دامن بچاکر عزت سے گزر جاتے ہیں۔
اسلامی فکر کی رو سے وہ شخص جو کتابی مطالعے اور تحریر و تصنیف میں دسترس رکھتا ہو مگر اخلاقی پستی کی طرف جھکا ہوا ہو، اور جس کا کردار انسانی زندگی کی اعلیٰ قدروں کے خلاف ہو، وہ ادیب کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ جو کتابیں پڑھتا ہو، مضامین لکھتا ہو یا شعر کہتا ہو، مگر اعزہ و اقارب کا پاس نہ رکھتا ہو، جو محلہ اور پڑوسی کا بہی خواہ نہ ہو، جو وطن کی حب سے عاری ہو، جو انسانی ہمدردی سے خالی ہو، جس کے قول اور فعل میں تضاد ہو، اور جو اپنی گفتگو، تحریر اور تصنیف میں پست موضوعات اور پست خیالات کی طرف مائل ہو، تو ایسا لکھا پڑھا، ذہین اور ہوشیار مصنف اور مقالہ نگار کہلا سکتا ہے لیکن ادیب نہیں کہلا سکتا۔ اس نے محض کتابی مطالعہ اور معلومات کا بے نتیجہ بوجھ اٹھا رکھا ہے، مگر نہ وہ خود اس سے صحیح معنوں میں مستفید ہوتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔‘‘
(ماخوذ از ’’نظریاتی مملکت میں ادیب کا کردار‘‘ از ڈاکٹر نبی بخش بلوچ در کتاب
’’گلشن اردو‘‘ مرتبہ محمد راشد شیخ، صفحہ نمبر46)

Share this: