موسم سرما ، کافی اور صحت

حکیم راحت ندیم سوہدروی
موسم سرمامیں علی الصبح یا دھند آلود سہ پہر میں اہلِ خانہ یا دوست احباب کے ساتھ پُرسکون ماحول میں تازہ دم ہونے کے لیے کافی سے بہتر کوئی مشروب نہیں۔ کافی پینے سے نہ صرف دماغ کے بند دریچے کھل جاتے ہیں، بلکہ جسمانی اور ذہنی استعدادِ کار میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہے۔ کیفین کا تعلق زین تھین (XANTHENE) نامی مرکبات سے ہے، جن کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔
کافی دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ہے اور تقریباً دنیا کے ہر خطے میں اسے پیا جاتا ہے۔ کافی پینے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ معلوم تاریخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عربوں کی دریافت ہے۔ صدیوں قبل ایک یمنی چرواہے نے اس کی افادیت محسوس کرتے ہوئے اسے پانی میں ابال کر پینے کی روایت ڈالی۔ جب عربوں میں اس نے مقبولیت حاصل کی تو اس کی باقاعدہ کاشت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پھر یہ سلسلہ عربوں سے ہوتا ہوا مصر، ترکی، فرانس اور دیگر مغربی ممالک تک پہنچ گیا۔ دنیا کا پہلا کافی ہائوس 1554ء میں استنبول میں بنا، جبکہ انگلینڈ میں 1650ء میں ایک یہودی نے کافی ہائوس قائم کیا، جو آج بھی موجود ہے۔ آج انگلینڈ میں کافی کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں تین ہزار سے زیادہ کافی ہائوس ہیں۔
اس وقت دنیا کے ستّر سے زیادہ ممالک میں 40 سے 80 اقسام کی کافی کاشت کی جاتی ہے۔ برازیل دنیا میں کافی برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر ویت نام اور تیسرے پر کولمبیا ہے۔ یمن چوں کہ اس کا آبائی گھر ہے، اس لیے یمنی کافی کو دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔ اس کے رنگ، خوشبو اور ذائقے کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کے بعد عربی کافی اور پھر امریکہ کی کافی شہرت رکھتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایتھوپیا (پرانا نام حبشہ) کا ایک گڈریا ایک روز معمول کے مطابق بکریاں چَرا رہا تھا کہ اچانک وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی سست دکھائی دینے والی بکریاں اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہوکر اچھل کود کررہی تھیں اور گول سرخ رنگ کے پھل کھا رہی تھیں۔ اس نے خود بھی یہ پھل توڑ کر چکھے تو اس کی تھکاوٹ دور ہوگئی اور وہ خود کو تازہ دم، چست اور توانا محسوس کرنے لگا۔ جب شام ہوئی تو واپس گائوں جاتے ہوئے وہ بہت سے پھل توڑ کر ساتھ لے آیا اور گرجا گھر کے پادری کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اپنی اور اپنی بکریوں کی کیفیت بیان کی، جس پر پادری نے کہا کہ یہ شیطانی بیج ہیں، اور انہیں جلتی ہوئی آگ میں پھینک دیا۔ کچھ ہی دیر میں انہوں نے آگ پکڑلی۔ اس طرح سارے کمرے میں خوشبودار دھواں پھیل گیا۔ اب پادری نے جلدی جلدی ادھ جلے بہت سے بیج سمیٹ کر پانی کے پیالے میں ڈال دیے تو یہی خوشبو پانی میں سے آنے لگی۔ پادری سے رہا نہ گیا اور وہ یہ خوشبودار پانی غٹاغٹ پی گیا۔
پانی پیتے ہی پادری تازہ دم ہوگیا۔ اس کی تھکن ختم ہوگئی اور وہ خود کو چست محسوس کرنے لگا۔ وہ اس سے بہت متاثر ہوا اور شام کو آنے والے تمام پادریوں کو یہ خوشبو والا پانی پلایا۔ سب نے اسے خدائی نعمت قرار دیا اور اس پانی کے مداح ہوگئے۔ وہ عبادت کے دوران اپنی طبیعت میں فرحت، چستی اور خود کو تازہ دم محسوس کرتے رہے۔ اس طرح کافی دنیا میں مقبول ہوئی اور یہ بیج آج ’کافی‘ کے نام سے ساری دنیا میں گرم و سرد مشروب کے طور پر پیا جاتا ہے۔
انہوں نے آگ پکڑلی۔ اس طرح سارے کمرے میں خوشبودار دھواں پھیل گیا۔ اب پادری نے جلدی جلدی ادھ جلے بہت سے بیج سمیٹ کر پانی کے پیالے میں ڈال دیے تو یہی خوشبو پانی میں سے آنے لگی۔ پادری سے رہا نہ گیا اور وہ یہ خوشبودار پانی غٹاغٹ پی گیا۔ پانی پیتے ہی پادری تازہ دم ہوگیا۔ اس کی تھکن ختم ہوگئی اور وہ خود کو چست محسوس کرنے لگا۔ وہ اس سے بہت متاثر ہوا اور شام کو آنے والے تمام پادریوں کو یہ خوشبو والا پانی پلایا۔ سب نے اسے خدائی نعمت قرار دیا اور اس پانی کے مداح ہوگئے۔ وہ عبادت کے دوران اپنی طبیعت میں فرحت، چستی اور خود کو تازہ دم محسوس کرتے رہے۔ اس طرح کافی دنیا میں مقبول ہوئی اور یہ بیج آج ’کافی‘ کے نام سے ساری دنیا میں گرم و سرد مشروب کے طور پر پیا جاتا ہے۔
کافی کا پودا سدا بہار ہے اور زیادہ تر گرم ممالک میں ہوتا ہے، اس کے پودوں کو نرسریوں میں اگایا جاتا ہے، جہاں سے انہیں کھیتوں میں منتقل کرلیا جاتا ہے۔ کافی کے پودے میں کوئی تین سال بعد چھوٹے چھوٹے خوشبودار پھول آتے ہیں، جن پر بیضوی شکل کی بیریاں اگتی ہیں، جو پہلے سبز، پھر سنہری رنگت اختیار کرتی ہیں، پھر بھورے رنگ کی ہوجاتی ہیں، جو مونگ پھلی کی مانند دو دانے والی ہوتی ہیں، اور یہی کافی کے بیج ہیں۔ کافی کا درخت دس سال بعد مکمل ہوتا ہے، جبکہ اس کی عمر 15 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔ ہر پودا سالانہ ایک کلو بیج تیار کرتا ہے۔ پودوں سے ان بیریوں کو ہاتھوں سے چنا جاتا ہے، پھر سُکھا کر بیجوں کو الگ کرلیا جاتا ہے۔ ان بیجوں کو خشک کرنے کے بعد پیکٹوں میں بند کرکے فروخت کردیا جاتا ہے۔ کافی کے ان سبز بیجوں کو بھوننے کے بعد ہی کافی تیار ہوتی ہے۔ درمیانے درجے پر بھوننے سے اس کی خوشبو اور ذائقہ برقرار رہتا ہے۔
کافی کے فائدے
کافی میں موجود کیفین کے باعث اسے پینے والے سینے میں خرخراہٹ اور سانس کے دوسرے امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔
کافی مضر قلب چکنائی (ایل ڈی ایل) اور مفید قلب چکنائی (ایچ ڈی ایل) دونوں کی سطح کو بڑھا کر توازن قائم رکھتی ہے۔ اس کا اعتدال سے پینا قلب کے لیے مضر نہیں ہوتا۔
کافی ذیابیطس قسم دوم کی تکالیف کم کردیتی ہے، کیوں کہ اس میں مختلف مانع تکسید اجزا ہوتے ہیں۔ اس میں میگنیزیم، موسم سرما کافی اور صحت/حکیم راحت ندیم سوہدروی
جست (زنک) اور دیگر معدنی اجزا خون میں شکر کی سطح کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کافی ہاضمے کی صلاحیت بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں چربی زیادہ جلنے سے وزن کم ہوتا ہے۔ یہ قبض کشا ہوتی ہے۔
کافی کے نقصانات
کافی کا زیادہ پینا فکر و پریشانی میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ ذہنی دبائو بڑھاتی ہے اور بڑی آنت میں خراش پیدا کرسکتی ہے۔ معدے میں صفرا بڑھاتی ہے، اس لیے سینے میں جلن کی شکایت ہوجاتی ہے۔ چوںکہ جسم سے کیلشیم خارج ہونے لگتا ہے، اس لیے ہڈیوں کے حجم میں کمی آجاتی ہے اور خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ اگر کافی چھان کر بنائی جائے تو چکنائی دور کرکے کولیسٹرول کی سطح کم کردیتی ہے۔
جنین پر کافی کے مضر اثرات ہوسکتے ہیں، لہٰذا حاملہ خواتین احتیاط کریں۔
جدید تحقیق
کافی صرف لطف و سرور ہی نہیں دیتی، بلکہ تحقیق کاروں کے مطابق روزانہ تین سے چار کپ کافی پینے والوں میں کئی امراض سے محفوظ رہنے کے امکانات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ 2009ء کی ایک تحقیق کے مطابق کافی پینے والوں میں نسیان کے مرض (الزائمر) کا امکان 20 فیصد کم ہوجاتا ہے، جب کہ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کافی پروٹین میں شامل ہوکر ڈی این اے (DNA) کو ہونے والے نقصان، جسے ’’اے آر ٹی‘‘ (ART) کہا جاتا ہے، کو ظاہر کردیتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جسمانی سرگرمیوں اور کھیل کود سے قبل کافی پینا مضر ہے، کیوں کہ اس طرح فشارِ خون بڑھتا ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کافی یا دیگر مشروبات کے مضر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں شکر اور دیگر نباتات کے اجزا خاصی مقدار میں ہوتے ہیں۔
امریکہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق یہ خیال درست نہیں ہے کہ کافی پینا مضرِ صحت ہے، بلکہ کافی کا اعتدال سے پینا مفید ثابت ہوسکتا ہے، مثلاً جو لوگ دن میں تین کپ کافی پیتے ہیں ان کے رعشے میں مبتلا ہونے کے امکانات 20 فیصد کم ہوجاتے ہیں۔ روزانہ چھے کپ کافی پینے والوں کے ذیابیطس دوم میں مبتلا ہونے کے امکانات 50 فیصد کم ہوجاتے ہیں۔
جاپان کے کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق تین سے چار کپ کافی پینے والوں کے لیے جگر کے سرطان میں مبتلا ہونے کے 50 فیصد خطرات کم ہوجاتے ہیں۔
برٹش ڈائبیٹک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کافی کا بیان کردہ مقدار سے زیادہ پینا طبیعت میں بے چینی اور مزاج میں الجھن پیدا کرتا ہے۔

Share this: