مکاتیب ِمشاہیر

نام کتاب : مکاتیب ِمشاہیر جلد اوّل
مرتب : محمد صادق قصوری
صفحات : 568 قیمت 800 روپے
ناشر : آن لائن پبلشرز۔ لاہور
ان برسوں میں بہت سے رسائل کے مکاتیب نمبر شائع ہوئے ہیں جن کا تعارف ہم فرائیڈے اسپیشل میں کراتے رہے ہیں۔ اسی طرح مکاتیب کے مجموعے کتابی شکل میں بھی طبع ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے جو ہماری دسترس میں آتے ہیں ان کو قارئین کرام سے متعارف کراتے ہیں۔ زیر نظر ’’مکاتیبِ مشاہیر‘‘ بھی بڑی محنت اور سلیقے سے ترتیب دیا گیا مجموعہ ہے۔ ہر مکتوب نگار کے مختصر حالات مکتوب درج کرنے سے پہلے دے دیے گئے ہیں۔ جناب محمد صادق قصوری تحریر کرتے ہیں:
’’اصنافِ ادب میں جو صنف سب سے زیادہ دلچسپی اور رغبت سے پڑھی جاتی ہے وہ ’’خطوط‘‘ ہیں۔ خواہ وہ عالمِ دین کے ہوں یا شیخ ِطریقت کے، ادیب کے ہوں یا خطیب کے، سیاست دان کے ہوں یا دانشور کے… قاری بڑے ذوق اور شوق سے پڑھ کر لطف اندوز اور محظوظ ہوتا ہے۔
خطوط نویسی صرف ایک عام آدمی ہی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اہلِ علم و فضل اور اصحابِ دانش و فکر بھی اس کے ذریعے ایک دوسرے کی آراء سے آگاہ اور مستفید ہوتے ہیں، عقیدت اور احترام کا خراج بھی پیش ہوتا ہے، تعریف و توصیف کے پھول بھی برستے اور اختلاف و تنقید کے تیر بھی چلتے ہیں۔ قلمی مذاکروں کی گرماگرمی، باہم رقابتوں اور حریفانہ کشاکش کا پتا چلتا، علمی و ادبی معاملات میں بھی نقطۂ نظر کے فرق کی نشان دہی ہوتی ہے اور خطوط کے آئینے میں ایک دوسرے کی بشری خوبیوں، خامیوں اور ذہنی کیفیتوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
پیشِ خدمت کتاب میں خطوط و مکاتیب کی ترتیب زمانی ہے اور اس میں اُن حضرات کے خطوط شامل ہیں جن سے وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی علمی ضرورت کے تحت میرا رابطہ و علاقہ رہا۔ مکتوب نگاروں میں علماء و مشائخ کے علاوہ اصحابِ علم و ادب جن میں سرکاری افسران، ارکانِ اسمبلی، کاروباری حضرات اور ماہرینِ تعلیم بھی شامل ہیں، مقصد سب سے استفادہ و استفاضہ ہے۔
ندرت و تنوع کے اعتبار سے یہ خطوط، مکاتیب اور نوازش نامے گُلہائے رنگا رنگ کا ایک حسین، خوش نما اور دیدہ زیب گلدستہ ہے جس کا حسن آنکھوں کو بصیرت، دماغ کو تراوت، ذوق کو نظارہ اور طبیعت کو حظ بخشتا ہے۔ یہ خطوط بہت سے مسائل کا احاطہ کیے ہوئے ہیں مثلاً ادب و انشاء، شعر و شاعری، فلسفہ و فقہ، شریعت و طریقت ، تاریخ و سیاست ، درس و تدریس اور شخصی معاملات و معلومات۔ غرض ہر گل رارنگ وبوئے دیگر است۔
اس حقیر کاوش میں 81 مکتوب نگاروں کے پانچ صد (500) مکاتیب و خطوط شامل ہیں۔ ہر مکتوب نگار کا ابتدا میں مختصر مگر جامع تعارف دے دیا گیا ہے جس سے قاری کو مکتوب نگار کی حیات و خدمات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا، اور پھر ’’تذکرۂ رجال‘‘ کے تحت 129علمی، ادبی، مذہبی اور سیاسی شخصیات کا بڑے احسن انداز میں ولادت تا رحلت تذکرہ کیا گیا ہے، جسے پڑھ کر قاری کے علم میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری جلد بھی ان شاء اللہ تعالیٰ اسی انداز اور اسی پیرائے میں زیرترتیب ہے جو بہت جلد منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر تشنگانِ علم و ادب کے ذوق کی آبیاری کرے گی۔‘‘
جن اصحاب کے خطوط شاملِ اشاعت ہیں ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
مولانا محمد سردار احمد، فیصل آباد
مولانا عبدالغفور ہزاروی، وزیر آباد
مخدوم سید علمدار حسین گیلانی، ملتان
پروفیسر محمد طاہر فاروقی، پشاور
شاہ محمد عارف اللہ میرٹھی، راولپنڈی
مولانا مودودی، لاہور
جی اے مدنی، کراچی
چودھری حبیب احمد، فیصل آباد
چودھری محمد علی، سابق وزیراعظم پاکستان، کراچی
حافظ مظہر الدین، راولپنڈی
شفیق بریلوی، کراچی
حکیم آفتاب احمد قرشی،لاہور
مولانا شاہ محمد جعفر پھلواری، کراچی
حکیم نیر واسطی، لاہور
نواب زادہ محمود علی خان، لاہور
ڈاکٹر محمد ایوب قادری، کراچی
نواب مشتاق احمد خان، لاہور
مولانا محمد شفیع اوکاڑوی،کراچی
ڈاکٹر عبداللہ چغتائی، لاہور
سید حسین امام، کراچی
شیخ عبدالشکور، لاہور
سید الطاف علی بریلوی، کراچی
جسٹس بی زیڈ کیکائوس، لاہور
پروفیسر وارث میر، لاہور
سید محمودشاہ گجراتی، گجرات
ظہور عالم شہید، لاہور
ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی، لاہور
علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری، کراچی
سید غلام مصطفی خالد گیلانی، راولپنڈی
حکیم محمد نبی خاں جمال سویداؔ، لاہور
حضرت شہاب دہلوی، بہاولپور
مولانا ظفر احمد انصاری، کراچی
ملک محمد اکبر ساقی، خوشاب
علامہ نور احمد قادری، اسلام آباد
جسٹس سید شمیم حسین قادری، لاہور
میجر جنرل سید شاہد حامد، راولپنڈی
ڈاکٹر محمد باقر، لاہور
میاں محمد شفیع (م ش)، لاہور
شاہ زید ابوالحسن فاروقی مجددی، دہلی
مولانا کوثر نیازی، اسلام آباد
چودھری غلام رسول ازہرؔ، لاہور
مولانا بشیر احمد اخگرؔ، صادق آباد
ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، لاہور
جسٹس قدیر الدین احمد، کراچی
میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ، لاہور
ممتاز مفتی، اسلام آباد
ڈاکٹر سید آفتاب احمد نقوی، لاہور
میاں کلیم اختر، لاہور
پیر کرم شاہ الازہری، بھیرہ شریف، سرگودھا
مولانا محمد عبداللہ قصوری، قصور
میرزا ادیب، لاہور
سید اشتیاق اظہر، کراچی
محمد علی ظہوری، قصوری، لاہور
ممتاز احمد خاں، لاہور
سید عارف حسین بخاری، حافظ آباد
ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی، کراچی
دیوان سید آل مجتبیٰ علی خاں، پشاور
پروفیسر محمد منور مرزا، لاہور
ڈاکٹر احسان رشید، کراچی
سید ہاشم رضا ، کراچی
مولانا شاہ احمد نورانی، کراچی
پروفیسر سید خورشید حسین بخاری، شیخوپورہ
سید حامد رضا گیلانی، ملتان
جنرل امیر عبداللہ خان نیازی، میانوالی
حضرتِ حفیظ تائب، لاہور
چودھری رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ، لاہور
پروفیسر منظورالحق صدیقی، راولپنڈی
ڈاکٹر غلام مصطفی خان، حیدرآباد سندھ
محمد حنیف رامے، لاہور
سردار علی احمد خاں، لاہور
پروفیسر شریف کنجاہی، گجرات
ڈاکٹر عبدالشکور احسن، لاہور
ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، لاہور
پروفیسر ڈاکٹر غلام علی چودھری، لاہور
مولانا عبدالحکیم شرفؔ قادری، لاہور
پروفیسر محمد فیروز شاہ، میانوالی
مولانا محمد حسن حقانی، کراچی
ڈاکٹر وحید قریشی، لاہور
ڈاکٹر پیر محمد خالد رضا، زکوڑی شریف
ڈاکٹر محمد مختار الدین آرزوؔ، علی گڑھ
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، حیدرآباد ، سندھ
ان تمام حضرات کے مختصر تذکرے اس کتاب میں مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ تذکرۂ رجال کے عنوان کے تحت مندرجہ ذیل اصحاب کے تذکرے بھی یک جا مل جائیں گے جن کی تعداد 129 ہے:
مولانا آزاد سبحانیؒ، دیوان سید آلِ رسول علی خاں اجمیریؒ، شاہ ابوالخیر دہلویؒ، امام ابوحنیفہؒ، ابوسعید انور، مولانا ابوالکلام آزاد، احسان دانش، پیر سید اختر حسین شاہ علی پوریؒ، مولانا اسمٰعیل ذبیح، خواجہ اشرف احمد، اشفاق حسین قریشیؒ، اشکؔ رام پوری، اعجاز حسین بٹالوی بیرسٹر، مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ، ڈاکٹر افضال حسین قادریؒ، میاں افتخار الدین، نواب افتخار حسین ممدوٹ، علامہ اقبال احمد فاروقی، سید امیر کلالؒ، امیر مینائیؒ، امیر تیمور، ڈاکٹر امیر الدین، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، میاں بشیر احمد مدیر ’’ہمایوں‘‘ لاہور، بُلھے شاہؒ، نواب بہادر یار جنگ،بیگم زاہدہ خلیق الزماں، پیر صاحب زکوڑی شریفؒ، پروفیسر پریشان خٹک، پیر سید جماعت علی شاہ علی پوریؒ، پروفیسر حامد حسن قادریؒ، مولانا حامد علی خاں ملتانیؒ، حافظ پیلی بھیتیؒ، نواب حبیب الرحمن خان شروانیؒ، مولانا شاہ حبیب اللہ میرٹھیؒ، سید حسن مثنیٰ ندوی، سید حسن امام، مولانا حسرت موہانیؒ، مولانا حسین احمد مدنی،سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حمید اللہ خان ضیاؔ اسلام پوری، سید حیدر حسین علی پوریؒ، خلیل الرحمن میرؔ، خلیل الدین آزاد صمدانیؒ،خواجہ نقشبندؒ، رائو خورشید علی خاں، مرزا خیر الدین خورشید جاہ، داتا گنج بخش ہجویریؒ، سید دیدار علی شاہ الوریؒ،دیوان سید آل حبیب علی خاں اجمیری، راقبؔ قصوریؒ، پروفیسر رشید احمد صدیقی، سرسید احمد خان، حکیم سعید اللہ قادریؒ، قاضی سلطان محمود، اعوان شریفؒ، ڈاکٹر سیف الدین کچلوامرتسری، جسٹس میاں شاہ الدین ہمایوں، سردار شوکت حیات خاں، نواب صدیق علی خاںؒ، مولانا صلاح الدین (ادبی دنیا)، ڈاکٹر سرضیاء الدین احمدؒ، مولانا ظفر الدین بہاریؒ، مولانا ظفر علی خاںؒ،پروفیسر عابد حسن فریدیؒ، میاں عبدالباریؒ، قادری عبدالرحمن پانی پتیؒ، میاں عبدالرشید ؒ (نور بصیرت والے)، مولانا عبدالحامد بدیوانی، مولانا عبدالحفیظ حقانیؒ، مولانا محمد عبدالستار خان نیازی ‘ مجاہدِ ملتؒ، خواجہ عبدالکریم قاصفؔ ایڈووکیٹؒ‘ ملتان، مولانا عبدالصمد مقتدریؒ، مولانا عبدالقدیر نعمانیؒ، مولانا مفتی عبدالقیوم ہزارویؒ، مولانا عبدالماجد بدیوانیؒ، مولانا عبدالمجید سالکؔ، علامہ علاء الدین صدیقیؒ، پروفیسر علم الدین سالکؒ، مولانا غلام رسول گوہرؔؒ، غلام حیدر وائیں، چودھری غلام عباسؒ، غلام قادر روہیلہ، مولانا غلام محمد ترنمؒ، مولانا غلام مرشدؒ، سید فتح علی شاہ کھروٹہ سیداںؒ، مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی، علامہ فضل حق خیر آبادیؒ، میاں فیروز الدین احمدؒ نقیب ملت، مولانا فیض احمد بدیوانیؒ، قدرت اللہ شہابؒ، ڈاکٹر قمر میرٹھیؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ، مولانا کرم علی ملیح آبادیؒ، مولانا محمد ابراہیم علی چشتیؒ، پروفیسر محمد اسلم‘ مورخ، نواب محمد اسماعیل خاں میرٹھیؒ، شیخ محمد اکرام بیورو کریٹ، ڈاکٹر محمد الیاس مسعود، حکیم محمد انور بابریؒ، جنرل محمد ایوب خان‘ سابق صدرِ پاکستان، پیر سید محمد حسین علی پوری سراج الملتؒ، پیرزادہ محمد حسین عارفؔؒ، پروفیسر چودھری محمد صادق، جسٹس چودھری محمد صدیق، پروفیسر محمد طاہر فاروقیؒ، محمد طفیل مدیر ’’نقوش‘‘ لاہور، پروفیسر محمد عثمان، مولانا محمد علی جوہر رئیس الاحرار، حکیم محمد موسیٰ امرتسریؒ، خواجہ محمد یوسف تونسویؒ، پیر محمد ہاشم جان مجددیؒ، پروفیسر مرغوب صدیقیؒ، مشتاق سُنیاسیؒ، مولانا مظہر الدین شیر کوٹیؒ، سید مظہر گیلانی پشاوریؒ، حکیم معراج الدین احمد امرتسریؒ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ، پیر سیدمنور حسین علی پوری‘ مہرالملت، پیر سید محمد علی شاہ گولڑویؒ، سید نذیر نیازیؒ، میر نسیم محمود، مولانا نور احمد خان فریدیؒ، سید نور حسین علی پوری‘شمس الملتؒ، چودھری نصراللہ خانؒ ایڈووکیٹ، سید نور محمد قادریؒ، خان بہادر حافظ ہدایت حسین، شاہ ہدایت علی جے پوریؒ، پروفیسر یوسف سلیم چشتی۔
اتنے حضرات کے مختصر حالات یک جا ملنا نعمت سے کم نہیں، جس پر جناب محمد صادق قصوری شکریے کے حق دار ہیں۔
اس کتاب میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نام لکھے تین خطوط کے جوابات بھی شاملِ اشاعت ہیں وہ قارئین کرام کی ضیافتِ طبع کے لیے درج کرتے ہیں۔ ان میں ایک خط مولانا کی ہدایت کے مطابق مولانا غلام علی صاحب کا لکھا ہوا ہے۔ دوسرا مولانا مودودیؒ کے سیکرٹری مولانا محمد سلطان معاون شعبۂ رسائل کا تحریر کردہ، اور تیسرا مولانا مودودیؒ کا تحریر کردہ ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد راقم نے قصوری صاحب کو فون کیا اور اُن سے ان خطوط کی اصل کے عکس کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں 75 سال کا بیمار آدمی ہوں، شوگر کا مریض ہوں، کتابوں کے ڈھیر میں تلاش نہیں کرسکتا۔ اللہ پاک ان کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت اسلامی پاکستان
5 ۔ اے۔ ذیلدار پارک، اچھرہ لاہور
فون نمبر 52507 حوالہ 2841
تاریخ 11نومبر1973ء
محترمی و مکرمی… السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں۔
(1) مولانا احمد رضا خان صاحب بریلویؒ اور علمائے دیوبند نے ایک دوسرے کی جو تکفیر کی ہے ہمیں اس سے سخت اختلاف ہے۔ اس میں دونوں گروہ غلط راہ پر تھے۔ اس شغلِ تکفیر سے گمراہ فرقوں مثلاً پرویزیوں اور قادیانیوں کو ہم مسلمانوں کے خلاف ایک نہایت کارگر ہتھیار مل گیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ان علماء کے فتووں کے مطابق یہ سب خود کافر ہیں تو ان کا ہمیں (یعنی قادیانیوں کو) کافر قرار دینے کا کیا حق ہے۔ قادیانیوں کے خلاف تحقیقاتی عدالت میں جب مرزائیوں نے ان لمبے چوڑے فتووں کے طومار پیش کیے تو بریلوی دیوبندی اس کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔ مگر افسوس کہ ان کی آنکھیں اب تک نہیں کھلیں اور باہمی تفسیق و تکفیر کا یہ مشغلہ اسی طرح جاری ہے۔ آج کل مرزائی ایک کتابچہ گھر گھر تقسیم کررہے ہیں، جس کا عنوان ہے ’’احمدی مسلمان غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟‘‘ اس میں انہی فتووں کے بعض اقتباسات درج ہیں۔ آپ چاہیں تو مبارک محمود رام گلی نمبر 2، برانڈ رتھ روڈ لاہور کے پتے پر خط لکھ کر یہ رسالہ منگوالیں اور عبرت حاصل کریں۔
(2) مولانا احمد رضا خان صاحبؒ کا ترجمہ قرآن سارا بغور پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا۔ جہاں تک پڑھا ہے صحیح ہے۔ ’’حدائق بخشش‘‘ ہماری نظر سے نہیں گزری۔
(3) اگر فاضل بریلویؒ نے دوسروں کو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا پر کافر کہا ہے، تب بھی ان کا یہ فعل درست نہیں، دعویٰ تو سب حضرات کا یہی ہے کہ وہ اللہ (جل جلالہ) اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت اور عشق کی بنا پر دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں۔ مگر مجرد اس جذبے کی بنا پر ایک غلط کام صحیح نہیں ہوتا۔
(4) یہ بات غلط ہے کہ فاضل بریلویؒ انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔ یہ بھی اسی آپس کی آویزش کا شاخسانہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے ایک مسلّم رہنما تھے۔ انہوں نے اور ان کے پیروئوں نے بھی مسلمانوں کی دینی و علمی خدمت سرانجام دی ہے۔
(5) مولانا احمد رضا خان صاحبؒ کے مسلمان اور عالمِ دین ہونے میں کیا شبہ ہے؟ ہمیں صرف اس معاملے میں اُن سے اختلاف ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ دیو بندی، بریلوی اور دوسرے مسلمانوں کے باہمی اختلافات کفر و اسلام کے اختلافات نہ تھے لیکن مناظرانہ ذوق و شوق اور انہماک نے انہیں خواہ مخواہ معرکۂ حق و باطل بنادیا ہے۔
یہ جواب میری ہدایت کے مطابق ہے
ابوالاعلیٰ
خاکسار
غلام علی
معاونِ خصوصی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
………
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت اسلامی پاکستان
5 ۔ اے۔ ذیلدار پارک، اچھرہ لاہور
فون نمبر 52507 حوالہ 5077
تاریخ :5 اکتوبر1974ء
محترمی و مکرمی… السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے۔
’’بہارِ شریعت‘‘ کا یہ مؤقف کہ جو آدمی عشاء کے فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھ سکے وہ وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے، فقہائے حنفیہ کے نزدیک درست ہے اور جو اس پر عمل کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ مگر ہماری ذاتی تحقیق اور رائے یہ ہے کہ اس معاملے میں زیادہ شدت درست نہیں۔ اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے فرض جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکا اور وتروں کی جماعت میں شامل ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔
’’بہارِ شریعت‘‘ فقہ حنفی کے مطابق نہایت عمدہ اور مستند کتاب ہے۔
خاکسار
محمد سلطان
معاون شعبۂ رسائل
………
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت اسلامی پاکستان
5 ۔ اے۔ ذیلدار پارک، اچھرہ لاہور
فون نمبر 411017 حوالہ 2207
تاریخ:18 جنوری1977ء
محترمی و مکرمی… السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا خط ملا۔ میں نے پیر سید جماعت علی شاہ صاحب مرحوم محدث علی پوری کا اسم گرامی تو ضرور سنا ہے مگر میں ان کے حالات و سوانح سے متعارف نہیں ہوں۔ اس لیے ان کے متعلق اپنے تاثرات پیش کرنے سے معذور ہوں۔ امید ہے کہ آپ میری معذرت قبول کریں گے۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
کتاب عمدہ طبع کی گئی ہے، مجلّد ہے اور رنگین سرورق سے مزین ہے۔

حصہ