ویکسین کیسے قوت مدافعت پیدا کرتی ہے؟

ڈاکٹر ریحان احمد صدیقی
آپ بچپن سے ہی ’ویکسین‘ کی اصطلاح سنتے آرہے ہوں گے، اور ویکسی نیشن کے عمل سے بھی گزرے ہوں گے۔ آپ کے ذہن میں بارہا یہ سوال بھی پیدا ہوا ہوگا کہ ویکسین کہتے کسے ہیں؟ یہ جسم میں داخل ہونے کے بعد کیاکام کرتی ہے؟ کن بیماریوں کی ویکسین دستیاب ہیں اور انہیں کب اور کیسے لگایا جاتا ہے؟ اگر آپ ان سوالوں کے جواب جاننا چاہتے ہیں تو شاید یہ تحریر آپ کی تشنگی دور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ویکسین کے بارے میں کچھ جاننے سے پہلے ہمارے جسم میں پائے جانے والے مدافعتی نظام (Immune System) کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔ مدافعتی نظام مخصوص خلیات، لحمیات (پروٹین)، بافتوں اور اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے جو ہمیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف بیماریوں اور جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ نظام سلسلہ وار مرحلوں سے کام کرتا ہے جسے مدافعتی ردِ؎عمل(Immune Response) کہتے ہیں۔ یہاں دو اصطلاحات کا جاننا ضروری ہے۔ ایک اینٹی جن (Antigen)، دوسری اینٹی باڈیز (Anti-bodies)۔ کوئی بھی بیرونی چیز یا جراثیم جو جسم کا حصہ نہ ہو اسے اینٹی جن کہتے ہیں، اور جب یہ اینٹی جن جسم میں داخل ہوتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام اس کے خلاف ایک پروٹین بناتا ہے جسے اینٹی باڈیز کہتے ہیں۔ مدافعتی نظام کی تین طرح سے درجہ بندی کی جاتی ہے:
1۔ پیدائشی مدافعتی نظام (Innate Immune System) اور موافقتی مدافعتی نظام (Adaptive Immune System)
Innate مدافعت ایک غیر مخصوص مدافعتی نظام ہے جو پیدائشی طور پر پائی جاتی ہے۔ یہ بیماریوں کے خلاف پہلے ردِعمل کے طور پر کام کرتی ہے اور اس کا ردِعمل تمام جراثیم کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے۔ جبکہ Adaptive مدافعت ایک مخصوص مدافعتی نظام ہے جس میں خاص اقسام کے خلیات مخصوص جرثوموں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
2۔ رطوبتی مدافعت (Humoral Immunity) اور خلیاتی مدافعت (Cell-mediated Immunity)
Humoral مدافعت رطوبتی لحمیات جن میں Anti-bodies شامل ہیں، پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ Cell-mediated مدافعت خاص خلیات پر مشتمل ہوتی ہے۔
3۔ فعال مدافعت (Active Immunity) اور غیر فعال مدافعت (Passive Immunity)
Active مدافعت میں خون کے سفید خلیات بجائے خود جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں، جبکہ Passive مدافعت میں جسم کے باہر سے اینٹی باڈیز داخل کی جاتی ہیں۔
ہمارے جسم کا مدافعتی نظام کیسے کام کرتا ہے؟
مدافعتی نظام کی اقسام کے مختصر تعارف کے بعد یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ آپ کے جسم کا مدافعتی نظام بالکل ایسا ہی ہے جیسے آرمی ایک قلعے کی حفاظت کرتی ہے۔ قلعہ دراصل خود ایک حفاظتی حصار ہوتا ہے۔ آپ کے جسم کی جلد اور میوکس (بلغمی رطوبت) جو کہ منہ، آنت، ناک اور پھیپھڑوں کی سطح پر پائی جاتی ہے، ایک قلعہ کا کام کرتی ہے۔ اسی طرح جسم میں خون کے خلیات آرمی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ عام طور پر ہمارے جسم کا مدافعتی نظام جسم کے اپنے خلیات کے خلاف کام نہیں کرتا، کیوں کہ جسم میں ان خلیات کی پہچان کے لیے مخصوص مارکر لگے ہوتے ہیں۔ جب کوئی بیرونی مادہ یا اینٹی جن جسم میں داخل ہوتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام سب سے پہلے اسے پہچانتا ہے۔
جس طرح آرمی میں فوجیوں کے مختلف درجات ہوتے ہیں اسی طرح خون کے خلیات کی بھی درجہ بندی ہوتی ہے اور ان کے افعال بھی ان کی ساخت کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں۔ کچھ خلیات آرمی کے پیادوں کی طرح ہوتے ہیں جو فوری طور پر انفیکشن کی جگہ پہنچتے ہیں اور ان کا خاتمہ کرتے ہیں۔ کچھ خلیات حوالداروں کی مانند ہوتے ہیں۔ یہ تعداد میں کم ہوتے ہیں اور انفیکشن کو ختم کرنے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ خلیات انفیکشن کرنے والے جراثیم کی معلومات جمع کرتے ہیں اور انہیں مزید خاص قسم کے خلیات کو منتقل کرتے ہیں، جن کا کردار نیوی اور ائر فورس کی طرح کا ہوتا ہے۔ یہ اپنی پوری تیاری کے ساتھ انفیکشن کی جگہ پہنچتے ہیں اور اپنے مختلف ہتھیاروں سے ان کا خاتمہ کرتے ہیں۔ جب مکمل طور پر انفیکشن کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو کچھ خلیات انفیکشن کی وجہ بننے والے جراثیم کے بارے میں مکمل معلومات اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں، اور ان خلیات کی زندگی خاصی طویل ہوتی ہے۔ پہلی بار انفیکشن کی صورت میں مدافعتی نظام کو متحرک ہونے اور اس کا خاتمہ کرنے میں ایک سے دو ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن جب وہی جرثومہ دوسری بار جسم میں داخل ہوتا ہے تو جن خلیات کے پاس معلومات محفوظ ہوتی ہیں، وہ فوری طور پر اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں اور براہِ راست نیوی اور ائرفورس جیسے خلیات کو معلومات منتقل کرتے ہیں، جن کا ردعمل پوری تیاری کے ساتھ بہت جلد سامنے آتا ہے۔ دوسری بار انفیکشن کو ختم کرنے میں مدافعتی نظام کو ایک سے دو دن درکار ہوتے ہیں۔
خلیات میں سب سے اہم کردار خون کے سفید خلیات (Leukocytes) کا ہوتا ہے۔ ان خلیات کی پانچ اقسام ہوتی ہیں جو الگ الگ طریقوں سے مختلف اقسام کے افعال سرانجام دیتے ہیں۔ ان کے نام اور افعال درج ذیل ہیں:
1۔ نیوٹروفل (Neutrophil) : یہ خلیات Innate مدافعتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور جسم میں جہاں کہیں بھی انفیکشن ہو، سب سے پہلے یہ خلیات اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور جراثیم کو ختم کرنا شروع کردیتے ہیں۔
2۔ لمفو سائٹ (Lymphocyte): ان خلیات کی مزید دو اقسام ہوتی ہیں، (الف) B لمفوسائٹ کو اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں اور(ب) T لمفوسائٹ جو کہ انفیکشن زدہ خلیات کو پہچاننے اور ان کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان دونوں خلیات میں Memory خلیات بھی ہوتے ہیں جو کہ جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کی پہچان اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں، اور دوسری بار انفیکشن کی صورت میں فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
3۔ مونو سائٹ (Monocyte): یہ خلیات Innate اور Adaptive مدافعت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کام جراثیم کو نگل کر ختم کرنا اور ان کو دوسرے خلیات تک پہنچانا ہوتا ہے۔
4۔ اِیوزینوفل (Eosinophil): یہ خلیات الرجی اور طفیلیوں (Parasites) کے خلاف مدافعت پیدا کرتے ہیں۔
5۔ بیزو فل (Basophil) : یہ خلیات بھی الرجی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ایسے اجزاء کا اخراج کرتے ہیں جو سوزش پیدا کرتے ہیں اور خون جمنے نہیں دیتے۔
مندرجہ بالا تحریر میں مدافعتی نظام کی اقسام، ان کے اجزاء اور ان کے کام کرنے کے طریقے جاننے کے بعد اپنے موضوع پر آتے ہیں، یعنی ویکسین کیا ہوتی ہے اور یہ کس طرح ہمارے مدافعتی نظام پر اثرانداز ہوتی ہے؟
’ویکسین‘ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا ماخذ Cowpox وائرس vacciniaہے۔ لفظ ویکسین کا استعمال سب سے پہلے برطانیہ کے ڈاکٹر ایڈورڈ جینر (Dr. Edward Jenner) نے 1799ء میں کیا۔ ویکسین کے بارے میں کچھ جاننے سے پہلے ایڈورڈجینر کے کام کو سمجھنا اس موضوع کو کافی دلچسپ بنا سکتا ہے۔ جب ڈاکٹر ایڈورڈ جینر ایک دورے پر تھے تو انہوں نے گائے سے دودھ دوہنے والی خواتین کو دیکھا جن کے ہاتھوں اور بازوئوں پر آبلے پڑے ہوئے تھے۔ ان خواتین میں Cowpoxوائرس کے خلاف قوتِ مدافعت موجود تھی۔ اس دوران Cowpox وائرس کلیسا کے علاقے میں ایک وبائی صورت اختیار کرچکا تھا۔ واضح رہے کہ Cowpox وائرس، گائے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ایڈورڈ نے ان خواتین کو دیکھتے ہوئے ایک شاندار مشاہدہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے 1770ء کی دہائی میں برسٹال کے ایک دودھ دوہنے والے کے الفاظ سن رکھے تھے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’مجھے Cowpox ہوچکا ہے اور اب مجھے چکن پاکس نہیں ہوگا۔ میرا چہرہ کبھی چیچک زدہ نہیں ہوگا‘‘۔
ڈاکٹر ایڈورڈ نے Cowpox سے متاثر شخص کے ہاتھوں میں لگے آبلوں سے مواد (Pus) حاصل کیا اور اسے ایک 8 سالہ بچے کے بازو میں کٹ لگاکر داخل کردیا۔ چھے ہفتوں بعد ڈاکٹر ایڈورڈ نے اس بچے کو Smallpox وائرس سے exposeکیا، لیکن وہ بچہ انفیکشن سے محفوظ رہا۔ ایڈورڈ کے اس تجربے نے 1796ء میں ایک تاریخ رقم کی۔ یہ دنیا کی پہلی ویکسین تھی جسے Smallpox وائرس کے انفیکشن سے محفوظ کرنے کے لیے دنیا بھر میں استعمال کیا گیا۔
ویکسین دراصل حیاتیاتی Preparation ہے جوکسی مخصوص بیماری کے خلاف موافقتی (Adaptive) مدافعت پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ویکسین میں بیماری پیدا کرنے والے وائرس اور بیکٹیریا کے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو دراصل خود جسم میں ایک قسم کا انفیکشن پیدا کرتے ہیں، لیکن اس سے مرض لاحق نہیں ہوتا بلکہ اس سے بیماری کے خلاف جسم میں قوتِ مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ جسم میں داخل ہوکرT لمفوسائٹس اور اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں۔ اس عمل میں جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھ سکتا ہے جو کہ ایک معمولی اثر ہے۔ ویکسی نیشن کے عمل کے بعد جسم میں B اور T لمفوسائٹس کے میموری خلیات پیدا ہوجاتے ہیں جو مخصوص وائرس یا بیکٹیریا کی شناخت کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ویکسین کی پانچ اقسام ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ Live/Attenuated ویکسین: اس ویکسین میں زندہ وائرس موجود ہوتے ہیں جنہیں کمزور کردیا جاتا ہے تاکہ وہ بیماری پیدا کرنے کا باعث نہ بن سکیں۔ ان میں خسرہ، ممپس، روبیلا اور چکن پاکس کی ویکسین شامل ہیں۔
2۔Inactivated ویکسین: اس ویکسین میں مُردہ یا غیر فعال وائرس ہوتے ہیں، ان میں پولیو، ہیپاٹائٹس A، ریبیزاور انفلوئنزا ویکسین شامل ہیں۔
3۔ Toxoidویکسین: اس ویکسین میں وائرس اور بیکٹریا نہیں ہوتے بلکہ ان سے خارج ہونے والے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں۔ ان میں ٹیٹنس اور خناق کی ویکسین شامل ہیں۔
4۔Subunitویکسین: اس ویکسین میں مکمل وائرس اور بیکٹریا کے بجائے ان کے اجزاء ہوتے ہیں۔ ان میں DTaP(خناق، ٹیٹنس اور کالی کھانسی) شامل ہیں۔
5۔Conjugate ویکسین: یہ ویکسین مختلف قسم کے بیکٹریا کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔ ان بیکٹریا کی بیرونی دیوار پر اینٹی جنز پائی جاتی ہیں۔ Hibویکسین اس کی مثال ہے۔
ویکسین بیماریوں کی روک تھام کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، لیکن ویکسین کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ ویکسین کے حوالے سے آپ اپنے سوالات ای میل کرسکتے ہیں جنہیں آئندہ تحریر میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

حصہ