امریکی مطالبات اور دھمکیاں

امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں موجود افغان طالبان رہنمائوں کو گرفتار یا ملک بدر کرے، اور ان کے گروپ کو افغانستان پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال سے روکے۔ امریکی صدر کے دفتر قصرِابیض (وہائٹ ہائوس) کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کابل پر ایک حملے کے بعد پریس بریفنگ کے دوران حسبِ معمول پاکستان کو ذمے دار قرار دیتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں یہ حکم دیا ہے۔ امریکی صدر کی ترجمان کی پریس بریفنگ سے قبل حسبِ معمول افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے ذمے داروں نے کابل میں باغیوں کے حملے کی ذمے داری پاکستان پر عائد کی تھی۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک ہوٹل پر گزشتہ سنیچر کو ایک حملہ ہوا تھا اور افغان فورسز کو ہوٹل پر اپنا قبضہ بحال کرنے میں تقریباً15 گھنٹے لگ گئے تھے۔
افغانستان کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد سے امریکی صدر سمیت ہر سطح کے امریکی عہدیداران مسلسل پاکستان پر زبانی اور عملی حملے کررہے ہیں۔ صدارتی ترجمان کے دھمکی آمیز بیان سے قبل امریکی نائب وزیر خارجہ نے بھی لب کشائی کی تھی اور پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے دہشت گرد تنظیم کے ارکان کو پناہ دے رکھی ہے۔ اس الزام کو امریکی نائب وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں دہرایا تھا۔ انہوں نے بھی متکبرانہ انداز میں قابض امریکی فوج سے لڑنے والے مجاہدینِ آزادی کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان مسلح کارروائی سے جنگ نہیں جیت سکتے۔
افغانستان دنیا کا سب سے پسماندہ ملک ہے۔ یہ ملک عالمی طاقتوں کی ہوسِ ملک گیری کی وجہ سے تقریباً30 برس سے آگ و خون اور بارود کی آگ میں جل رہا ہے۔ 1979ء میں سوویت یونین نے اپنے آلۂ کاروں کی مدد سے انقلاب کے نام پر افغانستان پر قبضہ کیا جو سوویت یونین کے لیے ایک رستا ہوا ناسور بن گیا اور افغانستان میں شکست کمیونسٹ ایمپائر کے انہدام کا سبب بن گئی۔ افغانستان کے مجاہدینِ آزادی نے پہلے برطانیہ جیسی بڑھتی ہوئی سامراجی طاقت کے خلاف مزاحمت کی۔ اسی مزاحمت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آزاد قبائلی علاقوں کی تشکیل کی۔ برطانیہ کی تاریخ کو بھولتے ہوئے سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا جو اُس کے لیے مہنگا پڑگیا، اور وہ شکست کھاگیا، لیکن پاکستان کے حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت نے امریکی سازشوں کو کامیاب بنایا اور افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور اپنی فتح کا ثمر حاصل نہیں کرسکا۔ دوسرا مرحلہ وہ تھا جب امریکہ نے ساری دنیا پر بلاشرکتِ غیرے اپنی حکمرانی کا اعلان کرنے کے لیے افغانستان پر قبضے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت سرد جنگ کا دور ختم ہوچکا تھا اور امریکہ یونی پولر ورلڈ کا بلاشرکتِ غیرے قائد تھا، اس لیے کسی ملک یا کسی طاقت کو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ پوچھے کہ دنیا کے سب سے پسماندہ ملک پر جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کا کیا جواز ہے؟ ’’امریکی وار آن ٹیرر‘‘ اوّل دن سے جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ امریکہ نے دھمکی دے کر پاکستان کے حکمرانوں کو آلۂ کار اور کرائے کا سپاہی بنایا۔ چونکہ یہ جنگ جھوٹ کی بنیاد پر قائم تھی اس لیے امریکہ اور پاکستان میں تنائو اورکشیدگی پیدا ہونا فطری بات تھی۔ امریکہ نے پاکستان کے حکمرانوں سے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی نام نہاد جنگ اہلِ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔ لیکن ہوا کیا؟ پاکستان جو امن کا جزیرہ تھا اب دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ یہ سلسلہ جنرل پرویزمشرف کے دور سے جاری ہے۔ جو بات پہلے دوسرے اور تیسرے درجے کے عہدیداروں یا ذرائع ابلاغ کے توسط سے کہی جاتی تھی وہ اب امریکی صدر نے بھی کہنا شروع کردی ہے۔ یعنی پاکستان دہشت گردوں کا سرپرست اور ان کو پناہ دینے والا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان خود بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے اور حکومت اور ریاست کے ذمے داران یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔ امریکہ نے پاکستانیسرزمین پر ڈرون حملے کیے، مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کیے جس نے قومی یک جہتی کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود امریکی صدر نے پاکستان کے حکمرانوں کو ’’دھوکے باز‘‘ قرار دیا۔ یہ وہ بات تھی جو نائن الیون سے پہلے ایک امریکی مجسٹریٹ نے کہی تھی کہ پاکستانی چند ڈالروں کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں۔ پاکستان کو یہ ذلت و رسوائی اُن ضمیر فروشوں کی وجہ سے اٹھانی پڑ رہی ہے جو امریکی آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ چونکہ امریکہ اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ جیتنے میں ناکام ہوچکا ہے، اور اُس کے پاس اس شکست کی کوئی تعبیر موجود نہیں ہے، اس لیے اُس نے پاکستان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر ایسے آثار نظر آتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے اندر براہِ راست کارروائی کرے گا جس طرح وہ پاکستان میں ڈرون حملے کرتا رہا اور اُسے پاکستان کے اندر سے مدد ملتی رہی۔ اہلِ پاکستان امریکی جنگ کی قیمت ادا کرتے رہے اور پاکستان کی اشرافیہ قیمت وصول کرتی رہی۔ اب نوبت یہ آگئی ہے کہ امریکی براہِ راست پاکستان پر دبائو ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لیے براہِ راست حملے کی دھمکی کا اشارہ کررہے ہیں۔ یہ امریکہ کے لیے بظاہر ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ اس لیے کہ افغانستان کے اندر مزاحمت جاری ہے۔ کابل کے ایک ہوٹل پر حملہ اس کی شہادت ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے بھی قومی خودداری پر مشتمل بیانات آئے ہیں۔ لیکن کیا ہمارے حکمرانوں میں امریکی غلامی سے نکلنے کا حقیقی جذبہ پیدا ہوگیا ہے؟ امریکی رویہ تو اس بات کا تقاضا کررہا ہے کہ ہم اس بات کا اعلان کردیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کی امریکی جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، دہشت گردی کا اصل سرپرست امریکہ ہے۔ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے جس کا ہدف امتِ مسلمہ ہے۔ امریکی صدر کے دورۂ اسرائیل اور نیتن یاہو کے دورۂ بھارت کی تفصیلات ’’وار آن ٹیرر‘‘ کی حقیقت بیان کرسکتی ہیں۔

Share this: