یاداشت کے لیے بہترین غذائیں

Print Friendly, PDF & Email

اپنی غذا میں پالک اور انڈے کی زردی کے استعمال کو زیادہ کرکے درمیانی عمر میں یاداشت کو اچھا رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔الینوائے یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ان غذائوں میں پائے جانے والا جز لیوٹین چیزوں اور معلومات کو بہتر طریقے سے یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کئی برس پہلے سے ذہن میں ہوتی ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ جز دماغ کو تحریک دیتا ہے اور اس حصے کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو یاداشت کو کنٹرول کرتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 65 سے 75 سال کی عمر کے 122 افراد کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے خون کے نمونے میں لیوٹین کی مقدار زیادہ ہوئی وہ یاداشت کے ٹیسٹ میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔تحقیق کے مطابق لیوٹین سے بھرپور غذائیں دماغی ساخت پر اثرانداز ہوتی ہیں اور مختلف دماغی حصوں کو ورم وغیرہ سے متاثر نہیں ہونے دیتیں۔
اس سے قبل مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ لیوٹین سے بھرپور غذائیں بینائی میں کمی کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔یہ غذائیں عمر کے ساتھ آنکھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتی ہیں۔

جنک فوڈ اور سرخ گوشت زیادہ کھانا کینسر کا خطرہ

پراسیس شدہ گوشت یا جنک فوڈ اور سرخ گوشت، ریفائن اجناس اور میٹھے مشروبات کا بہت زیادہ استعمال آنتوں کے کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ غذائیں جسم میں ورم کو بڑھا دیتی ہیں جو کہ آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھانے والا عنصر ہے۔یہ خطرہ جسمانی طور پر زیادہ وزن والے افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ برگرز، فرنچ فرائیز اور ڈائیٹ مشروبات پر مبنی غذا کا مسلسل استعمال کینسر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔تحقیق کے مطابق آنتوں کے کینسر کے حوالے سے جسمانی ورم نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔پراسیس شدہ گوشت، سرخ گوشت، مچھلی، سبزیاں، ریفائن اجناس، زیادہ توانائی والے میٹھے مشروبات، ڈائٹ مشروبات اور ٹماٹر وغیرہ، جسمانی ورم کو بڑھانے والے ثابت ہوئے جو کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ ان غذا?ں کے ساتھ جسمانی سرگرمیاں نہ کرنا، زیادہ جسمانی وزن اور ذیابیطس وغیرہ یہ خطرہ کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

جعلی خبروں کو روکنے کے لئے فیس بک کا اہم قدم

فیس بک نے گزشتہ ہفتے اپنی نیوز فیڈ میں سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب اس میں اشتہارات اور خبروں کے مقابلے عام لوگوں کی پوسٹیں زیادہ نظر ا?ئیں گی۔تاہم فیس بک کے اس اعلان کے محض 5 دن بعد یہ خبر سامنے آئی کہ اس تبدیلی سے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں تیزی سے اور زیادہ پھیلنے کا امکان ہے۔امریکی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق نیوز فیڈ میں تبدیلی ہوتے ہی چند ممالک میں جعلی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ جن ممالک میں نیوزفیڈ میں تبدیلیوں کا تجربہ کیا جارہا ہے، وہاں جعلی خبریں پوری سروس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہیں۔ستاہم اب فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس حوالے سے اہم تبدیلی کا اعلان کردیا۔

چھوٹے کاروبار کے لیے واٹس ایپ نے علیحدہ ایپ لانچ کردی

واٹس ایپ نے چھوٹے کاروبار کے لیے الگ سے مختص ایک ایپ لانچ کردی ہے جس کے ذریعے مختصر پیمانے پر بزنس کرنے والے خواتین و حضرات اپنے صارفین سے رابطے میں رہیں گے۔
واٹس ایپ نے فی الحال اسے اینڈروئڈ اسمارٹ فون کے لیے ریلیز کیا ہے جس کے تحت واٹس ایپ بزنس ایپ میں کاروبار اور تجارت سے متعلق خاص پروفائل اور ان کی تفصیلات دی جاسکتی ہیں۔ ان میں کاروبار کا تعارف، ای میل ایڈریس، پتہ اور ویب سائٹ ایڈریس بھی شامل کیا جاسکے گا۔ایپ میں اسمارٹ میسجنگ ٹولز بھی موجود ہیں جن میں فوری جواب، عدم موجودگی کے پیغامات، اور پیغامات بھیجنے ، پڑھنے اور وصول کرنے کا ایک چارٹ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی فون پر واٹس ایپ اور واٹس ایپ بزنس دونوں ہی چلائے جاسکیں گے تاہم رجسٹریشن کیلیے مختلف نمبر درکار ہوں گے۔ واٹس ایپ بزنس ایپ اس کے ڈیسک ٹاپ ورڑن پر بھی کھل جاتی ہے۔

Share this: