اظہار یکجہتی کشمیر کے عملی تقاضے

سینیٹر سراج الحق
پاکستان ایٹمی قوت اور پاکستانی قوم ایک جرات مند قوم ہے، مگر حکمرانوں کی بے حسی اور بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید تحفظات ہیں جن کا اظہار وہ کئی بار کرچکے ہیں
5 فروری کو ملک بھر میں یوم یک جہتی کشمیر انتہائی جوش و جذبے اور تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے جلسے جلوس،ریلیوں اور سیمینارز میں کشمیریوں کا ہر سطح پر ساتھ دینے کے عہد کا اعادہ کرتی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی رسمی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی طرف سے بھارتی ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے بلند و بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ تقریبات اور روایت انتہائی مبارک اور قابلِ تحسین ہیں، لیکن بحیثیت قوم ہمیں جائزہ لینا اور اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ کیا ہم ان توقعات اور امیدوں پر پورا اترتے ہیں جو کشمیری شہدا کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے ہم سے لگا رکھی ہیں؟ کشمیری شہدا قبر میں بھی اپنے جسموں پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لپیٹ کر اترتے ہیں، مگر ہمارے حکمران بھارت سے دوستی اور تجارت کے لیے کشمیری شہدا کے خون سے غداری کررہے ہیں۔ پاکستانی قیادت اور قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے مودی کا یہ بیان کافی ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، اور یہ بیان اس نے طوطے کی طرح کئی بار دہرایا ہے۔ مودی کشمیر میں ہمارا خون بہارہا ہے اور پاکستان کے حصے کا پانی بند کرکے پاکستان کو صحرا بنانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ کشمیر کے لوگ مزاحمت نہ کرتے تو بھارت اب تک کئی بیراج اور ڈیم بنا چکا ہوتا، اور موجودہ پنجاب اور سندھ ریگستان کا منظر پیش کررہے ہوتے، کشمیریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاکستان کو سیراب کرنے والے دریاؤں کی حفاظت کی اور پاکستان کو بنجر ہونے سے بچایا۔ پنجاب اور سندھ کی لہلہاتی فصلوں میں پانی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے۔ کشمیری بھارت کا راستہ نہ روکتے تو پاکستان کے اندر ہزاروں کلبھوشن تخریب کاری کررہے ہوتے۔ پاکستان کے جغرافیائی تحفظ کے لیے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کشمیری 27سال سے بھارتی قابض فوج کے ساتھ برسرپیکار ہیں، ہزاروں نوجوان بھارت کے عقوبت خانوں میں اذیت ناک اور انسانیت سوز سزائیں بھگت رہے ہیں، کشمیریوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہیں، مساجد اور مدارس اور کھیتوں اور کھلیانوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے،جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا جاتا ہے، برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوج کے ظالمانہ ہتھکنڈوں میں بے انتہا اضافہ ہوچکا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو یہ ظلم و جبر اور حیوانیت ٹھنڈا نہیں کرسکی۔ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، لیکن اس پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اور بھارت کو اس جبر و استبداد سے روکنے کی کوئی کوشش نہ کرنا انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے پوری وادی میں کرفیو کا سماں ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ایک آتش فشاں بن چکاہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں لوگوں کو زخمی اور پیلٹ گنوں سے اندھا کردیا ہے۔ ایک طرف مودی ہمارا خون بہارہا ہے اور دوسری طرف ہمارے حکمران اس حد تک گرچکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور دوستی کے لیے مرے جارہے ہیں، ملک میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی گئی ہے۔ کیا کسی کا ضمیر اتنی گہری نیند بھی سوتا ہے؟ اب تک حکومت کو بھارت سے ہر طرح کے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کردینے چاہیے تھے۔ بھارت نے آج تک پاکستان کے نظریے اور جغرافیہ کو تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کا جہاد کوئی علاقائی لڑائی یا محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ یہ تکمیل پاکستان کی جنگ ہے جو کشمیری لڑ رہے ہیں، حکومتِ پاکستان کو اب منافقانہ رویہ چھوڑ دینا چاہیے، حکومتِ کشمیریوں کی وکالت کرے یا بھارت سے دوستی نبھائے۔ بھارت ہمارا خون بہارہا ہے، آبی دہشت گردی کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستانی حکومت بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے جسے بھارت بار بار جھٹک دیتا ہے۔
بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور کشمیریوں کی نسل کُشی کے لیے 70سال سے جارحیت کررہا ہے مگر عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ قابض فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کے استعمال پر بھی عالمی برادری کا ضمیر نہیں جاگا۔ اس ہتھیار نے کشمیری نوجوانوں، بچوں اور خواتین کو بینائی سے محروم اور ہزاروں کو زخمی کردیا۔ بھارت کا مسلسل کرفیو کے ذریعے کشمیری عوام کو مستقل عذاب میں مبتلا رکھنا، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھ کر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا ایسے گھناؤنے جرائم ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری تھا۔ لیکن حکومتِ پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اور ضروری اقدامات کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ پاکستان ایٹمی قوت اور پاکستانی قوم ایک جرات مند قوم ہے، مگر حکمرانوں کی بے حسی اور بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید تحفظات ہیں جن کا اظہار وہ کئی بار کرچکے ہیں۔
مودی اور ٹرمپ کی دھکمیوں سے ہم ڈرنے والے نہیں، پانچ فروری کو دنیا بھر میں نہ صرف پاکستانی اور کشمیری، بلکہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف امن پسند یومِ یک جہتی کشمیر منائیں گے۔ یہ طے ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا، اسے آج یا کل کشمیر سے ذلیل و خوار ہوکر نکلنا پڑے گا۔ مگر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی جدوجہد میں کیا حصہ ڈالا۔ حکومت نے تو اپنے تین سالہ دور میں کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں بنایا جو کشمیر کے حق میں کسی عالمی فورم پر آواز بلند کرتا۔ میں اب بھی حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ وہ کشمیر میں بھارتی غاصب فوج کی سفاکی کا شکار ہونے والے کشمیریوں کے لیے ایک نائب وزیر خارجہ ہی مقرر کرلیں جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کرے۔ حکومتِ پاکستان کو کشمیریوں کے لیے ایک ریلیف فنڈ بھی قائم کرنا چاہیے تاکہ ہزاروں زخمیوں کے علاج معالجے کا کوئی انتظام کیا جاسکے۔ اقوام متحدہ نے بھارتی ظلم و جبر پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، جبکہ اسی یو این او نے مشرقی تیمور، جنوبی سوڈان اور پاکستان کو دولخت کرنے میں بڑی مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ کشمیر پر اقوام متحدہ اندھی، بہری اور گونگی ہوچکی ہے۔ ہم نے گزشتہ سال مظفر آباد سے چکوٹھی تک کشمیر مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ہم لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے اور اس دیوارِ برلن کو ایک دن گرا کر دم لیں گے۔ بھارت دونوں طرف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا راستہ کشمیر سے گزرتا ہے۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آگے نہیں بڑھتا تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم بھارت کے گلے میں بانہیں ڈالتے پھریں! پوری دنیا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو مانتی ہے جس کی بنیادی وجہ کشمیریوں کی لازوال جدوجہد ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں حالیہ بحث اور قرارداد ایک اہم پیش رفت ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کو اُن کی امنگوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے بھارتی جبر و تسلط سے آزادی نصیب ہوگی، اور وہ خود اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔

یومِ یک جہتی کشمیر کا پسِ منظر

الف الدین تربی
5 فروری کو یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منانے کا آغاز 1990 ء کے اوائل میں موجودہ تحریکِ آزادی کشمیر کے آغاز میں ہوا۔ اس دن کو یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منانے کے حوالے سے سب سے پہلے جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر محترم قاضی حسین احمد صاحب نے جنوری 1990ء کے اوائل میں اپیل کی تھی۔ یہ بات اپنے بیگانے سب تسلیم کرتے ہیں کہ محترم قاضی صاحب کی حیثیت موجودہ تحریکِ آزادی کشمیر کے آغاز سے اس کے ایک بہت بڑے محسن اور پشتیبان کی رہی ہے، اور انہوں نے اس تحریک کی تائید و حمایت کے حوالے سے ذاتی طور پر بھی اور جماعتی حیثیت سے بھی جو گراں قدر کوششیں کی ہیں اس کی پورے ملک میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اُن کی اس اپیل کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔ اُس وقت چونکہ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی اور محترم میاں محمد نواز شریف وزیرِاعلیٰ تھے۔ لہٰذا انہوں نے محترم قاضی صاحب کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے 5 فروری 1990 ء کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یک جہتی کشمیر منانے کا اعلان کردیا۔ مرکز میں ا،س وقت محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت تھی، لہٰذا انہیں بھی اس دن کو سرکاری طور پر یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی محترم قاضی صاحب نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں سے بھی یہ دن یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منانے کی اپیل کی۔ چنانچہ اس کے بعد سے یہ دن نہ صرف یہ کہ سرکاری طور پر اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں وہاں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی اسے یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن نہ صرف پورے ملک بلکہ پورے عالم ِ اسلام میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے جلسوں، جلوسوں، کانفرنسوں اور سیمیناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اخبارات و رسائل خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ اور تجدید ِ عہد کیا جاتا ہے کہ تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے حوالے سے ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی۔
یوں تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کا یہ اہتمام 5فروری کو ہر سال کیا جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ بات اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس موقع پر پوری قوم بشمول حکومت تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ ہم بحیثیت قوم آزادی اور حق ِ خودارادیت کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ 5 فروری کو تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار اور اعلان کرنے کے بعد ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے جو تقاضے ہیں کیا ہم واقعی سنجیدگی سے انہیں سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں؟

حصہ