السیرۃ عالمی

نام مجلہ : ششماہی السیرۃ عالمی کراچی شمارہ 37
مدیر : سید فضل الرحمن
نائب مدیر : سید عزیز الرحمن (ڈاکٹر)
صفحات : 400 قیمت فی شمارہ 300 روپے
سالانہ 550 روپے، سالانہ بیرونِ ملک 2800 روپے
ناشر : زوّار اکیڈمی پبلی کیشنز۔اے17/4
ناظم آباد نمبر 4،کراچی74600
فون نمبر : 021-36684790
ای میل : info@rahat.org
ویب گاہ : rahat.org
مولانا سید زوّار حسین اکیڈمی ٹرسٹ (وقف) پاکستان کے تحت سیرتِ طیبہ اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا نقیب علمی و تحقیقی مجلہ ششماہی السیرۃ عالمی کا یہ 37 واں شمارہ ہے جس میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تعلیماتِ نبوی پر گرانقدر مقالات اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ ہر شمارہ چار سو صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طرح سیرت پر تقریباً چودہ ہزار آٹھ سو صفحات چھپ چکے ہیں۔ مجلہ اس برصغیر میں اپنی نوعیت کا منفرد رسالہ ہے۔ اب یہ ایچ ای سی سے بھی منظور شدہ ہے۔
زیرنظر شمارے میں ’’پیغام سیرت‘‘ کے عنوان سے سید فضل الرحمن صاحب مدیراعلیٰ مجلہ نے تصوف اور احسان و سلوک کا موضوع منتخب کیا ہے اور تفصیل سے قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائی ہے۔
دوسرا مقالہ محمد جاد المولیٰ بک مصری کے قلم سے عربی میں ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا حافظ محمد ابراہیم فیضی صاحب نے عمدگی کے ساتھ کیا ہے۔ محمد جاد المولیٰ بک مصر کے بیسویں صدی کے اہم اہلِ قلم میں سے ہیں، ان کی اہم ترین کتاب ’’المثل الکامل‘‘ ہے، جس میں سیرتِ طیبہ کا بیان ایک مختلف اسلوب میں کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا اہم حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل پر مشتمل ہے جس کا ترجمہ فیضی صاحب نے کیا ہے۔ ترجمے کا عنوان ’’تمام فضائل کا مدار اور مرجع سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہے۔
تیسرا مقالے کا عنوان ہے ’’سیرۃ النبی میں شبلی کا ایک اہم ترین ماخذ شرح زرقانی‘‘۔ زرقانی (محمد بن عبدالباقی 1645ء ۔1710ء) اصلاً قسطلانی (ابوالعباس احمد بن محمد 851 ھ۔923ھ) کے شارح ہیں۔ زرقانی المواہب اللدنیہ تصنیف قسطلانی کی شرح ہے۔
چوتھا مقالہ ہے ’’السیرۃ النبویہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ و السلام
تحقیقی و توقیتی مطالعہ (حصہ جدلیات)
فتنۂ انکارِ حدیث تشقیق جدلی کی روشنی میں
(تیسرا حصہ) خلفائے راشدین اور حدیث‘‘
یہ اس سلسلۂ مقالات کی انتیسویں قسط ہے، اور یہ قسط بھی 123 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
پانچواں مقالہ محترمہ ادیبہ صدیقی کے قلم سے ہے، عنوان ہے ’’عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقطاع و عطایا کے دعوتی اثرات‘‘
چھٹا مقالہ ڈاکٹر حافظ شبیر احمد جامعی کی تحقیق ہے۔
ساتواں مقالہ ڈاکٹر حافظ شبیر احمد جامعی کی تحریر ہے، عنوان ہے ’’برصغیر میں متجددین اور ان کی سیرت نگاری‘‘۔
آخر میں حافظ محمد عارف گھانچی صاحب نے جدید اردو کتابیاتِ سیرت کی تفصیل دی ہے۔
مجلہ سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کیاگیا ہے۔ لاہور میں کتاب سرائے اردو بازار سے دستیاب ہے۔
………
نام مجلہ : ہفت روزہ ایشیا لاہور…ختم نبوت نمبر
مدیر : طارق محمود
صفحات : 112 قیمت شمارہ ٔخاص 120 روپے
ناشر : حافظ محمد ادریس۔ ہفت روزہ ایشیا، ہال نمبر 5 چودھری عبداللہ اسٹریٹ، آئوٹ فال روڈ بلال گنج لاہور
فون : 042-37146259
ای میل : siteasia@hotmail.com

برطانوی سامراج نے غیر منقسم ہند میں جھوٹی نبوت کا ڈراما شروع کیا جس کو مسلمانوں نے تسلیم نہ کیا، بالآخر پاکستان کی قومی اسمبلی نے اس کا فیصلہ کردیا کہ اس جھوٹی نبوت کو ماننے والے کافر ہیں۔ اب یہ جوتوں کا ہار بھی مسلم لیگ نے اپنے گلے میں ڈالا ہے کہ غیر ملکی دبائو کے تحت پہلے اسلام آباد کے ایک انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کا نام قادیانی عبدالسلام کے نام پر رکھا، اور پھر حلف نامے میں شرارت کی، تاکہ قادیانیوں کو ریلیف دیا جائے۔ اس پر شور مچا اور وزیر قانون مستعفی ہوا اور قانون میں ترمیم کی گئی۔ تمام علمائے اسلام نے اس کی مذمت کی اور بہت سے مضامین اس سازش کے رد میں لکھے گئے۔ اسی شر سے یہ خیر بھی برآمد ہوا کہ ختمِ نبوت کے عقیدے کی وضاحت سامنے آئی۔ اسی سلسلے میں ہفت روزہ ایشیا نے یہ خاص اشاعت ختم نبوت نمبر کی شکل میں شائع کی ہے۔ یہ جلد 67 کا شمارہ نمبر 3 ہے،11 تا 17 جنوری 2018ء۔ اس میں جو مضامین شائع کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: ’’درسِ قرآن۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔ الحکمۃ خاتم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ شیخ عمر فاروق، ’’ختم نبوت۔ ایک مطالعہ‘‘ محمد عبدالرئوف۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے درج ذیل مضامین اشاعت میں شامل کیے گئے ہیں:
قادیانی مسئلہ، عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور مدعی نبوت کی تکفیر، احادیث درباب نزولِ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، نزول عیسیٰ علیہ السلام فقہا، محدثین اور مفسرین کی تصریحات، احادیث درباب ظہور مہدی، مرزا غلام احمد کی تحریک کے مختلف مراحل۔
حافظ محمد ادریس کے مضمون کا عنوان ہے ’’ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، زندگی اور موت‘‘۔ مولانا عبدالمالک نے ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں‘‘ کے نام سے مضمون لکھا ہے۔ ’’مسلم، قادیانی اختلافات کی حقیقت‘‘ ملک غلام علی کا مقالہ ہے۔ مولانا گلزار احمد مظاہری کے تین مضمون شاملِ اشاعت ہیں ’’سراپا غلام احمد قادیانی‘‘، قادیانی اقلیت کیوں؟‘‘ ’’اسرائیل سے ربوہ تک‘‘۔ ’’غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز‘‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد دین قاسمی کا مقالہ ہے۔ ’’قادیان کا متنبی اور ختمِ نبوت‘‘ غلام محمد اعوان ایڈووکیٹ، ’’قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں‘‘۔ ’’اقبال اور ختم نبوت‘‘ پروفیسر ظفر حجازی، ’’عقیدہ ختم نبوت اور جھوٹے مدعیانِ نبوت‘‘ از حافظ محمد ادریس، ’’قادیانیوں سے چند سوال‘‘ مفتی محمد امتیاز مروت۔ اس طرح یہ ایک جامع دستاویز تیار ہوگئی ہے جو اس مسئلے کی تفہیم کے لیے ضروری لوازمہ فراہم کرتی ہے۔
ہفت روزہ ایشیا کا سائز بھی ہمارے فرائیڈے اسپیشل جتنا ہے اور جماعت اسلامی کا قدیمی خادم ہے جس کے صفحات پر جماعت کی تاریخ بکھری ہوئی ہے۔
خوبصورت سرورق سے مزین ہے۔
…………
اس برصغیر میں جو صفِ اوّل کے اردو مجلات شائع ہوتے ہیں ان میں بھی اعلیٰ مقام کا مجلہ سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی علی گڑھ ہے، جو ادارۂ تحقیق و تصنیفِ اسلامی کا ترجمان ہے اور پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ زیرنظر شمارہ جلد 36 شمارہ 3 جولائی ستمبر 2017ء ہے۔ اس کے محتویات درج ذیل ہیں:
حرفِ آغاز کے تحت حضرت مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند کا خطبۂ عید دیا گیا ہے۔ امیر جماعت ہر سال مرکز جماعت کمپلیکس میں واقع مسجد اشاعتِ اسلام میں عیدین کا خطبہ دیتے ہیں جہاں دور و نزدیک کے علاقوں سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں جوق در جوق حاضر ہوتے ہیں۔ مولانا موصوف نے 26جون 2017ء کو ہزاروں مسلمانوں کے مجمع کے سامنے جو خطبۂ عیدالفطر دیا تھا اُسے بطور اداریہ شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ اس میں موجودہ حالات میں امت کے لیے مؤثر رہنمائی ہے۔
تحقیق و تنقید کے زیرعنوان جناب محمد امجد خان ریسرچ اسکالر شعبہ علوم اسلامیہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کی تحقیق ہے ’’علم الفتن: معنی و مفہوم اور آغاز وارتقاء‘‘۔ عربی زبان میں فتن، فتنہ کی جمع ہے۔ فتنہ سے مراد آزمائش اور امتحان کے ہیں۔ اصطلاحی مفہوم کتب حدیث میں ابواب الفتن یا کتاب الفتن کے زیر عنوان محدثین کرام نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جن کا تعلق قرب ِقیامت میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات سے ہے جن میں علاماتِ قیامت، ملاحم یعنی خونریز جنگیں اور ان سے متعلق مخصوص مقامات اور متعین شخصیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے مثلاً ظہورِ مہدی، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، خروجِ دجال اور ان سے متعلق مقامات وغیرہ۔ عمدہ معلومات افزا مقالہ ہے۔
پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی کی تحقیق مکی دور کی احادیث سیرت ابن اسحاق میں، یہ اس تحقیق کی تیسری قسط ہے۔
بحث و نظر کے عنوان کے تحت دو مقالات ہیں، پہلا مقالہ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کا ہے ’’غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کے حدود‘‘ اور دوسرا ’’صرف دولت کے اسلامی اصول و آداب‘‘ کے عنوان سے ہے، مقالہ نگار ڈاکٹر سعدیہ گلزار اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی لاہور۔
سیروسوانح کے زیر عنوان جناب ابوسعد اعظمی کا مقالہ ہے ’’ولید الاعظمی، عالم عرب کا اسلام پسند شاعر‘‘۔ جامع مقالہ ہے۔
…………
نام مجلہ : سہ ماہی ’’تحقیقات ِاسلامی‘‘ علی گڑھ
مدیر : حضرت مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ۔ امیر جماعت اسلامی ہند
معاون مدیر : حضرت مولانا محمد رضی الاسلام ندوی حفظہ اللہ

صفحات
:
128 قیمت سالانہ پاکستان میں 660 روپے(بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک)
(رابطہ پاکستان: سجاد الٰہی، 196 احمد بلاک نیو گارڈن ٹائون لاہور)

موبائل0300-4682752
ناشر
:
ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، نبی نگر
(جمال پور) پوسٹ بکس نمبر 93
علی گڑھ202002 بھارت

فون0571-2902034

موبائل
:
08126677681
ای میل
:
idaratahqeeq2016@gmail.com
ویب گاہ
:
www.tahqeeqat.net
(مجلہ تحقیقات ِاسلامی کے تمام شمارے مندرجہ بالا ویب گاہ پر لوڈ کردیے گئے ہیں)
مقالہ نگار حضرات اپنے مقالات tahqeeqat@gmail.comپرارسال فرمائیں۔
معارف و تبصرۂ کتب میں مسلم اقلیتوں کے شرعی مسائل پر، اور عربی زبان میں خودنوشت سوانحی ادب پر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کا تبصرہ ہے۔
یہ تمام مجلات اہلِ اسلام کی اطلاع اور علم کے لیے شائع کیے جاتے ہیں، ان کا مطالعہ بہت سے علوم سے آگاہی اور تعارف کا باعث ہوتا ہے۔ ان کا مطالعہ جہاں مفید ہے وہیں علمی ماحول بھی اس سے پیدا ہوتا ہے۔ قارئین کے لیے ہی ان کو شائع کیا جاتا ہے۔ اگر قاری ان کا خریدار بھی بن جائے تو سونے پر سہاگہ کا منظر پیدا ہوتا ہے۔
مجلہ سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کیا گیا ہے، رنگین سرورق سے مزین ہے۔

حصہ