اگلے وزیراعظم کا فیصلہ نہیں ہوا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک باضابطہ طور پر مستقبل کے وزیراعظم کے لیے کوئی نام فائنل نہیں کیا۔ شہبازشریف کا نام پارٹی کے سربراہ نوازشریف نے ایک میڈیا ٹاک میں ضرور لیا ہے لیکن پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انتخابات کے بعد اگر پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوئی تو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی اس معاملے پر غور کرے گی اور کوئی مناسب نام دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی نامزدگی پارٹی فورم پر نہیں ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عام انتخابات میں میری یا شہبازشریف کی تصویر نہیں، نوازشریف کی تصویر پر ووٹ ملے گا۔ جس طرح تحریک انصاف کو شاہ محمود قریشی کی تصویر پر ووٹ نہیں پڑے گا، اسی طرح مسلم لیگ(ن) کو بھی شہبازشریف یا میری تصویر سے ووٹ نہیں ملے گا۔ یہ ووٹ خالصتاً نوازشریف کی تصویر اور قیادت ہی کو ملتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ وزیراعظم کا فیصلہ الیکشن کے بعد نتائج کی روشنی میں ہوگا۔
وزیراعظم نے یہ بات منگل کے روز وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے ایک وفد سے ملاقات میں کہی۔ شاید یہ بات کہنے کے لیے مناسب فورم یہی تھا کہ وفد میں ملک بھر سے آئے ہوئے نمائندہ صحافی شامل تھے۔ وفد کی قیادت انجمن صحافیان پاکستان کے صدر اور نوائے وقت اسلام آباد کے چیف رپورٹر محمد نواز رضا کررہے تھے، جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں پی ایف یو جے دستور کے سیکرٹری جنرل سہیل افضل خان، نائب صدر شکیل الرحمن حر اور میاں سلیم شاہد کے علاوہ کراچی سے شعیب احمد، حامد الرحمن… رحیم یار خان سے جاوید اقبال… لاہور سے خواجہ فرخ سعید، حامد ریاض ڈوگر، رحمان بھٹہ، امداد قریشی، راقم الحروف (تاثیر مصطفی)… فیصل آباد سے سجاد حیدر منا، رانا ابرار… راولپنڈی اسلام آباد سے سینئر صحافی سعود ساحر، محسن رضا، عامر الیاس رانا، مظہر اقبال، میاں منیر، طارق عزیز… ایبٹ آباد سے زائر خان… سرگودھا سے احمد ہاشمی شامل تھے۔
وزیراعظم نے یہ ملاقات بالکل بے تکلفانہ ماحول میں کی۔ وہ وفد کے ایک ایک رکن سے ملنے کے لیے اُس کی نشست پر آئے۔ انہوں نے یہ اہتمام بھی کیا تھا کہ ملاقات میں کسی وزیر، پارٹی رہنما، یا سرکاری افسر کو بھی شریک نہیں کیا۔ وزیراعظم اکیلے اپنے دفتر سے میٹنگ روم میں آئے اور صحافیوں کے درمیان آبیٹھے۔ انہوں نے کوئی رسمی تقریر بھی نہیں کی بلکہ صحافی رہنمائوں کو بات کرنے کا موقع دیا اور خود سوالات کے مختصر ترین جوابات دیتے رہے۔ یہ ملاقات بھی بنیادی طور پر ملک بھر کے صحافیوں کو درپیش مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ وفد کے سربراہ نواز رضا نے اس موقع پر صحافیوں کے اجرتی فارمولے ویج ایوارڈ کے نفاذ، اسلام آباد میں صحافیوں کی رہائشی اسکیم ’بہارہ کہو‘، صحافیوں کی جان اور روزگار کے تحفظ اور صحافت خصوصاً عامل صحافیوں کی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا گروپوں میں تقسیم ہونا اُن کے مسائل کے حل میں رکاوٹ بنے گا۔ صحافی متحد ہوں تو ان کی آواز مؤثر ہوجائے گی۔ اس موقع پر ایک صحافی نے لقمہ دیا کہ وزیراعظم! ملک میں کئی مسلم لیگیں موجود ہیں، ان کے اکٹھے ہونے سے ان کی آواز بھی مؤثر ہوسکتی ہے، کیا اس سلسلے میں بھی کوئی کام ہورہا ہے؟ وزیراعظم اس سوال کا جواب گول کرگئے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے لیکن دوسری جانب سے مطلوبہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں ہورہا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پی این ای اور اے پی این ایس کے ساتھ ایک نشست میں انہوں نے پندرہ دن میں دوبارہ اجلاس کرنے کا کہا تھا لیکن دونوں تنظیموں کے نمائندوں نے ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی اب تک کچھ نہیں کیا۔ وزیراعظم کو یاد دلایا گیا کہ آپ بھی ان ہی لوگوں سے مشاورت کرتے ہیں۔ صحافتی مسائل، میڈیا کی مشکلات اور خصوصاً فیلڈ اور میڈیا ہائوسز میں کام کرنے والے صحافیوں کے ایشوز اور آزادیٔ صحافت کے معاملات پر آپ اے پی این ایس اور سی پی این ای کو تو ہمیشہ اعتماد میں لیتے ہیں، ان کے دبائو بھی قبول کرلیتے ہیں مگر ان معاملات پر عامل صحافیوں اور ان کی تنظیموں سے کسی مشاورت کو ضروری نہیں سمجھتے۔ وزیراعظم کو یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بل پر آپ نے نہ صرف مالکان کے دبائو کو قبول کرتے ہوئے یہ بل واپس لے لیا بلکہ کئی متعلقہ افسروں پر ذمہ داری ڈال کر انہیں معطل بھی کردیا، لیکن اس بل پر آپ نے صحافتی تنظیموں یا نمائندوں کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا، حالانکہ اس معاملے میں بنیادی اسٹیک ہولڈر عامل صحافی ہی تھے۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ جن مالکان کو آپ ہر طرح کی مراعات دیتے ہیں اور اُن کے نخرے اٹھاتے ہیں اُن کے اداروں میں تو عامل صحافیوں کے پاس تقررنامے تک نہیں ہیں، ویج ایوارڈ کا لاگو ہونا تو اگلی بات ہے۔ جس پر وزیراعظم نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ ایسے اداروں کے نام دیں ان کی خبر چھاپتے ہیں۔ حالانکہ وزیراعظم کا کام خبر چھاپنا یا چھپوانا نہیں، قانون کی واضح خلاف ورزی پر کارروائی کرنا ہے۔ خبر چھاپنا تو صحافیوں کا کام ہے اور ان کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ ساری دنیا کی خبریں چھاپ اور نشر کرسکتے ہیں مگر اپنے حقوق، اپنی مشکلات کی خبر نہ کہیں چھاپ سکتے ہیں، نہ کہیں نشر کرسکتے ہیں کہ طاقتور مالکان کے مفادات اور اَنا کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ادارے اُن کے ہاتھ میں ہیں۔ نہ صحافیوں کے ہاتھ میں یہ ادارے ہیں اور نہ وزیراعظم کے ہاتھ میں۔
وزیراعظم سے اس موقع پر سوال کیا گیا کہ سیاست دانوں کا احتساب ہورہا ہے، کیا بیوروکریٹس اور عدلیہ کا بھی احتساب ہوگا؟ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ احتساب تو ہمارا ہورہا ہے، یہ ٹھیکہ ہمارے پاس ہے، سیاست دانوں نے احتساب کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ نوازشریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے، پارٹی سربراہ کے لیے ایسی کوئی پابندی یا شرط نہیں ہے۔ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں عوام میں ہوتے ہیں۔ نوازشریف کو پہلی بار نہیں دوسری بار سزا دی گئی ہے۔ ہائی جیکنگ کیس میں بھی انہیں سزا دی گئی تھی لیکن عوام نے انہیں تیسری بار وزیراعظم بنادیا۔ اگلے عام انتخابات کی شفافیت کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابات شفاف ہوں گے، کوئی دھاندلی کیوں کرے گا؟ دھاندلی تو کسی کو جتوانے کے لیے کی جاتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کو روکیں گے۔
وزیراعظم نے دیگر سیاسی معاملات پر بھی ہلکی پھلکی گفتگو کی۔ ان کے لہجے میں وہ تلخی نہیں تھی جو نوازشریف کے لہجے میں انتہا کو ہے، اور اب شہبازشریف بھی اسی لائن پر آتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم اداروں کے ساتھ مفاہمت اور ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے باوجود انہوں نے کسی ادارے کو خصوصی طور پر نشانہ نہیں بنایا، صرف اصولی بات کی۔ انہوں نے پاکستان بھر کے صحافیوں کے فورم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے وزیراعظم کے حوالے سے جو بات کی وہ خود وضاحت کررہی تھی کہ نوازشریف کی مقبولیت کے باوجود ان کی رائے حتمی نہیں ہے۔ اگلے وزیراعظم کا فیصلہ نوازشریف بھی نہیں کرسکتے۔ یہ فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی، اور اب نوازشریف نئے حالات کا ادراک کریں۔ فیصلے مسلط کرنے کے بجائے پارٹی سے مشاورت کریں۔ انہوں نے اشارتاً بتادیا ہے کہ شہبازشریف کے علاوہ بھی پارٹی میں کچھ لوگ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوسکتے ہیں، جن میں یقینی طور پر وہ خود بھی شامل ہوں گے۔ انتخابات تک یہ سوچ مسلم لیگ (ن) کے اندر زیادہ مضبوط ہوجائے گی۔ اور اگر نوازشریف نے شہبازشریف پر اصرار کیا تو پارٹی کے اندر گروپنگ ہوجائے گی۔ یہ گروپنگ کسی نئے دھڑے کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی اس واضح رائے پر نوازشریف اور شہبازشریف کس قسم کا ردعمل دیتے ہیں۔ پی ایف یو جے کے وفد نے بعد میں نواز شریف سے بھی ملاقات کرنا تھی، لیکن وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں خاصی دیر ہوگئی اور نوازشریف کو لاہور جانا پڑا۔ ورنہ وزیراعظم کے مؤقف اور رائے پر نوازشریف کی رائے اسی دن آجاتی۔ اب شاید چند دن انتظار کرنا پڑے۔

حصہ