تھر کی مصنوعی ترقی اور اینگرو کول کمپنی کی امیج بلڈنگ

تحریر: نثار کھوکھر/ترجمہ: اسامہ تنولی
’’کارپوریٹ کلچر میں امیج بلڈنگ یا بہتر تاثر ابھارنے پر بہت خرچ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی کمپنی کی کوئی پروڈکٹ مارکیٹ میں لانے سے قبل اس کی مارکیٹنگ اور امیج بلڈنگ کچھ اس انداز سے کی جاتی ہے کہ لوگ دوسرے شیمپو چھوڑ کر صرف وہ مخصوص شیمپو استعمال کرتے ہیں جو اشتہارات میں ان کی پسندیدہ اداکارہ استعمال کرنے کے لیے کہتی ہے۔ امیج بلڈنگ صرف شیمپو، صابن یا کولڈ ڈرنکس کی مارکیٹنگ کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھار سیاسی اور انتظامی عہدوں کے لیے بھی امیج بلڈنگ اسی طرح سے استعمال ہوتی ہے جس طرح سے موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے بارے میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی دور میں آنے کے ساتھ ہی کراچی میں صدر کے ہوٹلوں پر جاکر اس انداز سے ناشتا کیا اور حلوہ پوریاں کھائیں جس طرح سے عام شہری افراد کیا کرتے ہیں تاکہ کراچی کے شہری انہیں اپنا سمجھیں، سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے مقابلے میں چست جانیں۔ ان کی عمر تو اللہ جانے کتنی ہے لیکن وہ اپنے لیے نوجوان وزیراعلیٰ کا تاثر قائم کرنے میں بہرکیف کچھ اس طرح سے کامیاب ثابت ہوگئے کہ بڑے رئیس (یعنی زرداری صاحب) نے ان کے لیے یہ خوش خبری جیسا اعلان کر ڈالا ہے کہ سندھ کے آئندہ وزیراعلیٰ بھی یہی سید مراد علی شاہ ہوں گے۔ ان کی امیج بلڈنگ اس طرح سے ہوئی کہ کالم نگاروں سے بھی ان کی کینیڈا کی دہری شہریت کا معاملہ فراموش ہوگیا کہ آخر وہ کس طرح سے حل ہوا؟ یہ بات تاحال واضح نہیں کہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنی کینیڈا والی شہریت ازخود چھوڑ دی یا پھر یہ معاملہ اُن کے سیاسی مخالفین سید جلال محمود شاہ والوں نے عدالت سے اسی طرح سے واپس لے لیا ہے جس طرح سے ان کے مدمقابل کھڑے کیے گئے ایس یو پی کے امیدوار کے کاغذات واپس لے لیے گئے تھے۔
امیج بلڈنگ کو موجودہ دور میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس امیج بلڈنگ کے لیے ہی بڑے ہوٹلوں کے استقبالیہ پر پُرکشش خواتین کو مقرر کیا جاتا ہے تاکہ ہوٹل میں آنے کے ساتھ ہی آپ کو یوں لگے کہ گویا آپ کسی خاص جگہ پر خاص مہمان ہوکر تشریف لائے ہیں۔ اسی بہتر امیج کو پیدا کرنے کے لیے مردوں کے استعمال کے شیونگ ریزر کے اشتہار میں بھی اس طرح سے خواتین ماڈلز دکھائی جاتی ہیں جس طرح سے تھر کی کمپنی سرکار کی ترقی دکھانے کے لیے تھری ڈمپر ڈرائیور عورتیں دکھائی جاتی ہیں۔ اسی طرح جنگی حرکتیں کرنے والے ممالک میں بھی بطور ترجمان خوب صورت خواتین ہی مقرر کی جاتی ہیں، جو اسرائیلی جنگی وحشت کا دفاع بھی کچھ اس انداز سے خوب صورت الفاظ کے ساتھ کرتی ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کے تشدد سے مرنے والی نو سالہ معصوم بچی ہدیل کا چہرہ بھی لوگوں کی یادداشت سے محو ہوجاتا ہے۔
بالکل اسی طرح سے تھر کی کوئلہ والی اینگرو کمپنی سرکار کی امیج بلڈنگ بہتر ہورہی تھی۔ پورے پاکستان میں ان کی پراڈکٹ کی بھرپور مارکیٹنگ ہورہی تھی۔ سارے نام نہاد قومی میڈیا کے چینلز پر اور اخبارات میں تعریف و توصیف کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ: بھائی بڑی بات ہوگئی، یعنی اب تھری عورتیں بھی ڈمپر چلایا کریں گی، آفرین ہے اس کمپنی کو کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈمپر ڈرائیور کے طور پر عورتوں کو رکھا گیا ہے۔ لیکن یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ کمپنی سرکار ان ڈمپر ڈرائیور عورتوں کو شو پیس کی طرح کس طرح سے کیش کرا رہی ہے۔ ان کی جانب سے کی گئی یہ مارکیٹنگ اتنی تو کامیاب ثابت ہوئی کہ عام افراد سے لے کر سیاست دانوں اور ادیبوں تک سے، تھر کی کوئلے کا کاروبار کرنے والی کمپنی اور گوڑائو ڈیم کے خلاف احتجاج کرنے والے اس کے متاثرین تقریباً بھلائے جا چکے تھے۔ بعینہٖ اسی طرح سے فراموش ہوگئے تھے جس طرح عالمی میڈیا سے معصوم فلسطینی بچی ہدیل فراموش ہوچکی تھی، اسی طرح گوڑائو کی کوئی ہنجو کولہی بھی تمام افراد نے بھلا دی تھی۔ انہیں اگر کوئی یاد رہا تو وہ ڈمپر ڈرائیور تھری عورت۔ بس کبھی کبھار سندھی اخبارات میں آتا تھا کہ گوڑائو ڈیم کے خلاف گوٹھانوں (دیہاتیوں) نے 458 ویں دن بھی احتجاج کیا، لیکن کسی لکھنے والے کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی تھی کہ سندھ کے ایک پسماندہ حصے میں آخر اتنے عرصے سے کوئی احتجاج ہورہا ہے تو کیوں؟ اور یہ متاثرین ہیں کون؟ کمپنی سرکار کی امیج بلڈنگ پر مبنی سرمایہ کاری کے باعث گوڑائو ڈیم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی آواز لگ بھگ دب کر محدود ہوچکی تھی، لیکن معلوم نہیں تھر کول کی اینگرو انتظامیہ کو کس نے یہ مشورہ دیا کہ انہوں نے جاکر ادبی میلوں میں سرمایہ کاری کی، جو ان کی ٹیم کے خیال کے مطابق اینگرو انتظامیہ کا امیج مزید بہتر بنائے گی۔ لیکن کبھی کبھی غلط جگہ پر انویسٹمنٹ کرنے کا نقصان بھی اتنا ہی بڑا اٹھانا پڑتا ہے کہ پھر دوگنا رقم دے کر صرف عزت بچا کر ہی نکلنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں پر تو کمپنی سرکار کی بات ہی اس کے اپنے گلے میں پڑ گئی۔ کمپنی سرکار نے شاید یہ سمجھاکہ بڑے بڑے نام دے کر چند سیشن اسپانسر کرکے وہ نوجوانوں کو گونگا بہرا کرکے بٹھا دیں گے اور اپنا لیکچر دے کر رخصت ہوجائیں گے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ادبی میلہ میں ان کی جانب سے کی گئی ساری انویسٹمنٹ ان تھری نوجوانوں نے ڈبو دی جو کمپنی سرکار کے خلاف دل میں ایک آتش فشاں لیے ہوئے چلے آئے تھے۔ ان کی آواز میں اس قدر طاقت اور توانائی تھی کہ کمپنی سرکار کے تمام حامیوں کو اپنا منہ چھپانے پر مجبور ہونا پڑ گیا اور نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے لیے پولیس بھی منگوائی گئی، لیکن کمپنی سرکار کو کچھ بھی ہاتھ نہیں آسکا اور ان کا امیج باوجود اتنی زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے، زیرو پر جا پہنچا۔
کمپنی سرکار اپنی سب سے بڑی کامیابی یہ گردانتی ہے کہ انہوں نے تھر کا نقشہ ہی تبدیل کرڈالا ہے، اور تھری خواتین کو اتنا مضبوط کیا ہے کہ وہ اب ڈمپر ڈرائیور بن کر روزگار کما رہی ہیں۔ مجھے یہ مارکیٹنگ بے حد پسند تھی، میں بھی خوش ہوا کرتا تھا کہ یار! کمپنی سرکار نے کام تو شان دار سرانجام دیا ہے۔ تھری عورتیں جو دکھ، غربت اور ’’دُکھاں دی روٹی، سُولاں دا سالن‘‘ کی عملی تفسیر تھیں ان میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ میں نے تو خواب میں یہ بھی دیکھا کہ تھر کے سارے گوٹھوں میں اتنی عورتیں ڈمپر چلا رہی ہیں کہ پٹھان ڈرائیوروں نے اس کے خلاف احتجاج کیا ہے کہ بابا یہ عورتیں ڈرائیوری نہ کریں، کیوں کہ اس وجہ سے ہمارے ڈمپر ڈرائیور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ لیکن خواب سے بیداری کے بعد پتا چلا کہ وہ تو محض شو پیس کے لیے کچھ عورتیں ڈمپر ڈرائیور رکھی گئی ہیں۔ اس کے باوجود میں بے حد خوش تھا اور گوڑائو ڈیم کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر تنقید کیا کرتا تھا کہ یہ ناسمجھ لڑکے تھر کی ترقی کے دشمن بن بیٹھے ہیں، انہیں ڈمپر ڈرائیور تھری خواتین دکھائی ہی نہیں دیتیں جو ہر ٹی وی چینل پر پاکستان اور خاص طور پرتھر کا فخر بن کر سامنے آرہی ہیں اور عالی شان ڈرائنگ رومز میں براجمان بیگمات کو اٹریکٹ کررہی ہیں۔ تھری ڈمپر ڈرائیور عورتوں کے بارے میں، مَیں اُس وقت تک خوش تھا جب تک کہ بھت جبل کا وہ نوجوان ڈرائیور نہیں ملا تھا، جس کے ساتھ میں نے حیدرآباد سے جامشورو تک کریم سروس میں چلنے والی اس کی کلٹس کار میں سفر نہیں کیا تھا۔ اس نے مجھے خوشی خوشی بتایا کہ اس نے چند ماہ کے اندر اپنی اس کمپنی سے ڈرائیوری کے دوران اتنا کمایا ہے جتنا اس نے ایک برس کے اندر جامشورو سوسائٹی کے شاپنگ سینٹر والی دکان سے بھی نہیں کمایا ہوگا۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی کمائی دیکھ کر اپنے چھوٹے بھائی کو بھی کرولا گاڑی لے کر دی ہے جو کریم ٹیکسی سروس میں لگی ہوئی ہے جہاں دونوں بھائیوں کو مہینہ میں ڈیڑھ لاکھ روپے بچتے ہیں۔ ان پر کوئی صوبیدار یا منیجر مقرر نہیں ہے، نہ ہی انہیں کمپنی اشتہار بازی کے لیے استعمال کرتی ہے۔ وہ اپنی مرضی سے ٹیکسی چلاتے ہیں، جب جی چاہتا ہے آرام کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ان کا گوٹھ سیہون کے قریب بھت جبل کی طرف واقع ہے جہاں سے گیس نکلتی ہے لیکن مقامی افراد کو روزگار کا کوئی آسرا نہیں ہے، اس لیے انہوں نے حیدرآباد آکر پہلے دکان کھولی، بعد میں ٹیکسی شروع کی۔ اس نے مجھے بھی یونیورسٹی کا کوئی ملازم جان کر مشورہ دیا کہ شام کو نہ جانے یونیورسٹی کے کتنے پروفیسر صاحبان کریم سروس کے تحت اپنی گاڑیاں چلایا کرتے ہیں، آپ بھی یہ کام کرنا شروع کردیں، باعزت اور اچھا کاروبار ہے۔ مجھے اُس کی جانب سے یہ مشورہ دیے جانے پر ازحد ہنسی آئی لیکن میں نے سوچا کہ یہ کریم ٹیکسی کمپنی تھر کول والی اینگرو کمپنی سرکار سے تو سو درجے بہتر ہے جو اپنے ڈرائیوروں کو باعزت روزگار تو دیتی ہے لیکن انہیں در در لے جا کر ان کی مارکیٹنگ نہیں کرتی۔ میں نے سوچا کہ یہ کمپنی پڑھے لکھے گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ نوجوانوں کو باعزت روزگار مہیا کرتی ہے لیکن اس کے بدلے میں ان کی عزتِ نفس کو اس طرح سے مجروح نہیں کرتی اور اس انداز سے ان کے پائوں تلے سے زمین نہیں نکالتی جس طرح سے تھرکول کی اینگرو انتظامیہ گوٹھوں کے گوٹھ مسمار کرکے گوڑائو والوں کو کہہ رہی ہے کہ بابا یہاں سے اب نقل مکانی کرلو، یہاں پر ڈیم تعمیر ہوگا۔ روزگار کے بدلے مقامی افراد کو تکلیف پہنچا کر، انہیں دھونس دھمکیوں سے خوفزدہ کرکے، اور ان کے نوجوانوں کو پولیس کے ذریعے ہراساں کرکے، ان کے کسی اعتراض یا کسی بات پر بھی غور نہ کرکے یہ کمپنی سندھ اور خاص طور پر اہلِ تھر کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی بنتی جارہی ہے۔ اس کمپنی میں بھلے سے کتنے ہی نامور سندھی افراد کو بٹھایئے، ریٹائرڈ بریگیڈیئر مقرر کیجیے لیکن شاعر کیفی اعظمی کے اس جملے کے مصداق کہ ’’بھائی برانڈ خواہ کوئی بھی ہو مگر یہ کمپنی نہیں چل پائے گی‘‘ گوڑائو ڈیم پر اٹھنے والی آوازوںکو دبانے کے لیے وڈیروں کے انداز میں دبائو ڈالنے اور زبردستی کرنے سے کمپنی کا امیج اور زیادہ خراب ہوتا جارہا ہے جو شاید وزیراعلیٰ کے بھرتی کردہ اہلِ خانہ کی کوششوں سے بھی بہتر نہیں ہوسکے گا، کیوں کہ تھری نوجوان تھر کی اس جھوٹی ترقی کے خلاف اپنے اندر کرودھ اورغم و غصے سے بھرے بیٹھے ہیں۔

Share this: