جدید ترین اردو لغت کے آن لائن ایڈیشن کا افتتاح

صدر ممنون حسین نے جدید ترین اردو لغت کے آن لائن ایڈیشن کا باضابطہ افتتاح کردیا۔ اس سلسلے میں ایوانِ صدر میں تقریب ہوئی۔ کئی عشروں کی محنت سے تیار ہونے والی 22 جلدوں پر مشتمل اردو لغت کے آن لائن ایڈیشن کے ذریعے 22 ہزار صفحات اور تقریباً 2 لاکھ 64 ہزار الفاظ پر مشتمل علمی خزانہ اب انٹرنیٹ پر دستیاب ہوگا، جس کے لیے مخصوص ’’ایپ‘‘ تیار کی گئی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہاکہ آج ہماری زبان تہذیبی جاہ وجلال کے ساتھ بڑی عالمی زبانوں کی صف میں شامل ہوگئی ہے، کامیابیوں کا یہ سفر مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور ادب و ثقافت کا یہ پرچم پوری دنیا میں آب و تاب سے لہراتا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ اردو لغت کے آن لائن ایڈیشن کے ذریعے پوری دنیا میں استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ توقع ہے کہ جلد آن لائن ایڈیشن میں صوتی اور درست تلفظ بھی میسر ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے وقت کے ساتھ زبان میں بھی جدت کی ضرورت ہوتی ہے۔ امید ہے کہ وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ نئے الفاظ ہماری لغت میں شامل ہوسکیں گے۔ صدر نے یقین دلایا کہ حکومت لغت کے حوالے سے کام کرنے والوں کی ضرورت پوری کرتی رہے گی۔ وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو لغت پاکستان کی علمی و ادبی تاریخ کا سب سے بڑا خزانہ ہے، لغتِ اقبال اور فرہنگِ غالب بھی تیار کی جارہی ہیں، جبکہ حکومتِ چین کے تعاون سے اردو چینی لغت پر بھی کام جاری ہے۔

پاکستانی مدارس میں دو کروڑ بچے زیر تعلیم

ایک تازہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 43 فیصد والدین اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں۔ اسلام آباد میں اس تحقیق پر مبنی ایک کتاب ’دی رول آف مدرسہ‘ شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں دیے گئے ایک اندازے کے مطابق سند جاری کرنے والے باضابطہ مدارس کی تعداد 32 ہزار سے زائد ہے، جن میں دو کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں

امریکہ: ایوانِ عدل میں بھی خواتین محفوظ نہیں

امریکہ میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے، دست درازی، فحش مکالمے بازی اور ’اظہارِ عشق‘ صرف ہالی وڈ اور ایوانِ سیاست تک ہی محدود نہیں، بلکہ ایوانِ عدل کی راہداریوں اور دفاتر میں بھی حوا کی بیٹی تذلیل و بدسلوکی کا نشانہ بن رہی ہے۔ گزشتہ دنوں خاتون کلرکوں کو ہراساں کرنے کی خبر سامنے آنے پر وفاقی سرکٹ کورٹ کے ایک سینئر جج الیکس کوزنسکی (Alex Kozinski)کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ سی این این نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی عدالتوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ خاصا گمبھیرہے اور اس معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ خواتین کی دادرسی کا کوئی مؤثر انتظام نہیں۔ رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2016ء کو ختم ہونے والے سال کے دوران ہراساں کرنے کی 1303 تحریری شکایتیں موصول ہوئیں، جن میں سے صرف 4 درخواستوں کا سنجیدگی سے ’جائزہ‘ لیا گیا۔ 2015ء میں خواتین سے بدسلوکی کی 1214 درخواستیں وفاقی عدالتوں کو جمع کرائی گئیں، اور اس بار بھی صرف 4 شکایات کی تحقیق کی گئی۔

اسلام کا شدید مخالف جرمن سیاست دان مسلمان ہوگیا

جرمنی کی دائیں بازو کی عوامیت پسند اور اسلام اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ جرمن انتخابات میں اے ایف ڈی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی تھی۔ جرمنی میں اسلام اور مہاجرین مخالف بیانیے کی بنیاد پر سیاست کرنے والی اس عوامیت پسند جماعت نے اپنی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور اہم سیاست دان آرتھر واگنر کے اسلام قبول کرنے کی تصدیق کی ہے۔ مسلمان اور اسلام مخالف سیاست کرنے والے واگنر نے مسلمان ہونے کے بعد اس جماعت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔
اسلام مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو بند کردینا چاہیے تاکہ غیر قانونی مہاجرین اس بلاک میں داخل نہ ہوسکیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کردی جائے۔ اس پارٹی کا اصرار ہے کہ سیاسی پناہ کے متلاشی ایسے افراد کو فوری طور پر ملک بدر کردیا جائے، جن کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔
آرتھر واگنر کا تعلق وفاقی جرمن ریاست برانڈنبرگ سے ہے۔ اے ایف ڈی کے ترجمان ڈینیل فریزے نے واگنر کے اسلام قبول کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جماعت کو اُن کے اسلام قبول کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اے ایف ڈی میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے علاوہ ہم جنس پرستوں کی نمائندگی بھی ہے، اور یہ جماعت ان سب طبقوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتی ہے۔ آرتھر واگنر 2015ء میں مہاجرین اور اسلام مخالف جماعت میں شامل ہوئے تھے اور پارٹی کی صوبائی کمیٹی میں انہیں چرچ اور مذہبی امور کا نگران مقرر کیا گیا تھا۔
رواں برس 11 جنوری کے روز انہوں نے اے ایف ڈی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر کمیٹی کے رکن کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ ایک مقامی جرمن اخبار نے اُن سے اسلام قبول کیے جانے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’’یہ میرا ذاتی معاملہ ہے‘‘۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید بھی کی کہ اے ایف ڈی نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا۔ 2015ء میں یورپ میں مہاجرین کا بحران شروع ہونے کے بعد اے ایف ڈی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ زیادہ تر مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک ملین سے زیادہ مہاجرین اور تارکین وطن کی جرمنی آمد کے بعد اس جماعت کا کہنا تھا کہ جرمنی میں ’اسلامائزیشن‘ کا خطرہ ہے اور حکومت کو ملکی سرحدوں کی نگرانی سخت کردینی چاہیے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ آرتھر واگنر ایسے پہلے سیاست دان نہیں ہیں جو اسلام مخالف سیاست کرتے کرتے خود بھی مسلمان ہوگئے۔ اس سے پہلے ہالینڈ کی مسلمان مخالف سیاسی جماعت فریڈم پارٹی سے تعلق رکھنے والے آرنوڈ فان ڈورن نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا، جس کے بعد انہیں اُن کی جماعت سے نکال دیا گیا تھا۔

حصہ