جنسی جرائم میڈیا اور عالمی لابی

میڈیا کے دو معیار ہیں۔ (1) میرر امیج، اور (2) ایجنڈا۔
پہلا معیار: یہ جو ہورہا ہے اسے شیشے کی مانند دکھا دیا جائے۔
دوسرا معیار: ہر واقعے کا رخ کسی خاص ایجنڈے کے مطابق موڑا جائے۔
عالمی سطح پر بڑی بڑی لابیاں اس کے لیے کام کررہی ہیں کہ پاکستان کو ہمیشہ بحران کی زد میں کیسے رکھا جائے اور یہاں کے میڈیا کو اپنے ایجنڈے کے مطابق کیسے چلایا جائے۔ یہ موضوع بہت وسیع ہے اور اس پر ضرور بات ہونی چاہیے، لیکن زینب، اسماء اور ان جیسے دوسرے واقعات جس طرح میڈیا میں اچھالے گئے، اسی پر اپنی بات محدود رکھیں گے۔ نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر میڈیا سے متعلق ایک فیصلہ ہوا کہ عالمی میڈیا مذہب کے خلاف استعمال ہوگا، اور اس کے لیے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑا گیا۔ اسی میڈیا وار کے نتیجے میں دینی مدارس میں اصلاحات لائی گئیں، آئین کی بنیادی اساس کے مقابلے میں لبرل ازم کو طاقت ور بنایاگیا، مذہبی ہم آہنگی کی فضا سازگار بنانے کے لیے راہ کے کانٹے چنے گئے، اور بالآخر عالمی ساہوکارروں نے پاکستان کو مشروط مالی امداد دینا شروع کی کہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے امداد چاہیے تو پاکستان خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ دبائو بڑھانے کے لیے پاکستان میں جان بوجھ کر ایسی فضا بنائی گئی جیسے کہ یہاں ہر اقلیت غیر محفوظ ہے۔ پھر یہ ہوا کہ ہر مظلوم شخص اور خاندان کو یورپ، امریکہ، کینیڈا کا ویزا ملنے لگا۔ یہ سب کچھ ایک خاص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تھا، اور ہمارا میڈیا عالمی لابی کے ہاتھوں ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوا۔
میڈیا کے علاوہ این جی اوز بھی عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پیش پیش ہیں۔ پاکستانی خواتین کو عملی زندگی میں آگے بڑھنے سے متعلق مدد دینے کے لیے امریکہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس ایڈ کام کررہا ہے۔ این جی اوز سے تعلق رکھنے والی سو سے زیادہ ایسی خواتین ہیں جو اس پروگرام میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک ہیں۔ غریب اور پسماندہ علاقے ان کا اصل ہدف ہیں۔ یو ایس ایڈ کے ٹریننگ فار پاکستان پروگرام کے تحت صوبہ سندھ اور خیبر پختون خوا کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی تین ہزار لڑکیوں کی معاونت کی گئی ہے۔ یہی ایجنڈا اب بچوں کے حوالے سے بھی سامنے آئے گا، بلکہ ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے جس کے مطابق: پاکستانی لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے گیارہ سے پندرہ برس تک کی عمر انتہائی پُرخطر ہوچکی ہے۔ اس کے بعد انہی بچوں اور بچیوں کی ان کے خلاف جنسی جرائم کے حوالے سے قومی ڈیٹا کے مطابق دوسری خطرناک ترین عمر چھے سے گیارہ برس کے درمیان ہے۔ یہ اعداد و شمار محض پولیس کو رپورٹ کیے گئے ایسے جرائم کے ہیں، جبکہ ایسے بہت سے جرائم کے مقدمات درج کرائے ہی نہیں جاتے۔ یوں پاکستان میں مستقبل کے معمار قرار دیے جانے والے نابالغ بچوں اور بچیوں کے خلاف اس نوعیت کے جنسی جرائم کی اصل سالانہ تعداد ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔ بچوں کو باور کرایا جانا چاہیے کہ انہیں کیسے ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔ اس کے بعد پاکستانی اسکولوں کے تعلیمی نصاب میں بھی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ ایسے جرائم کے خلاف بچوں کو زیادہ باشعور بنایا جاسکے۔ 2016ء میں پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی، اغوا، قتل، گمشدگی اور ان کی جبری شادیوں کے سوا چار ہزار کے قریب کیس رجسٹرڈ کیے گئے، اور یہ تعداد اس سے ایک سال قبل 2015ء کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ تھی۔ اس کے بعد گزشتہ برس یعنی 2017ء کی صرف پہلی ششماہی میں پولیس کو ایسے جرائم کے 1764 مقدمات درج کرائے گئے۔ غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ ملک کے نوّے سے زائد اخبارات میں ایسے جرائم کی خبروں اور پولیس کو درج کرائی گئی رپورٹوں کی بنیاد پر ہر چھے ماہ بعد اپنی ایک رپورٹ جاری کرتی ہے، یہ رپورٹ ’’ظالمانہ اعداد و شمار کی دستاویز‘‘ کہلاتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پچھلے برس یکم جنوری سے لے کر تیس جون تک ملک میں نابالغ بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی کے جو 1764 واقعات رپورٹ ہوئے، ان میں 1067 واقعات میں لڑکیوں اور 697 واقعات میں لڑکوں کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔ ساحل ایک این جی او ہے، ایسی تمام این جی اوز میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں اور ایک مہم کے طور پر ایسی خبریں شائع بھی کرائی جاتی ہیں۔ جس طرح خواتین کی آزادی، حقوقِ نسواں اور خواتین کو بااختیار بنانے کی مہم شروع کی گئی تھی، اب یہی مہم بچوں کے حوالے سے ہوگی اور اب دبائو بڑھایا جائے گا کہ بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی نصاب میں انہیں رہنمائی فراہم کی جائے جیسا کہ مغرب کے تعلیمی اداروں میں ہے۔ یہ تمام حقائق اور واقعات ثابت کرتے ہیں کہ عالمی لابی کا ایجنڈا یہی تھا اور اب بھی ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان کو ایک ایسا ملک دکھایا جائے جہاں بچے، خواتین ایک مظلوم طبقہ ہے، اور حکمت عملی یہ ہے کہ انتہاپسندی، دہشت گردی اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے کیس میں مذہب کا عنصر لازمی دکھایا جائے۔ زینب کیس میں کیا ہوا؟ یہی کچھ ہوا۔ دنیا کے سامنے یہ چہرہ رکھا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے واقعات کی سیریز ہے۔ ان تمام واقعات کی غیر معمولی تشہیر کے پیچھے لبرل ازم کا وہ ایجنڈا ہے جسے وہ ہر قیمت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں بہت سے مہرے میسر ہیں۔ ان مہروں کے پیچھے جو قوتیں ہیں اس ملک میں ہیجانی کیفیت، بے یقینی، افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے جو ہر وقت کمربستہ رہتی ہیں، اُن تک پہنچنا چاہیے۔ اسی وجہ سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بدقسمتی سے ہمارا ملکی میڈیا میرر امیج، جیسے کہ شیشہ کوئی صورت دکھاتا ہے، دکھانے کے بجائے براہِ راست یا بالواسطہ اس ایجنڈے کی تکیمل میں شریک ہوتا جارہا ہے جس کی بنیادی لائن عالمی مافیا نے کھینچ رکھی ہے۔
یہ حقائق بھی اپنی جگہ موجود ہیں کہ ہمارے ملک میں مافیا ہیں، اور وہ طاقت بھی رکھتے ہیں۔ منشیات فروش، قبضہ مافیا، کرائے کے قاتل، پیشہ ور گداگر، جسم فروشی کے دھندے میں ملوث گروہ… یہ سب مافیا ہیں۔ انہیں میڈیا سمیت ہر طاقت ور گروہ کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے، اور المیہ یہ ہے کہ سیاست میں اس مافیا کے لوگ بھی پیش پیش رہتے ہیں، اور ہیں۔ متعدد معروف منشیات فروش انتخابات کے ذریعے آئے ہیں، یا درجنوں افراد ان کی حمایت اور سرپرستی کی وجہ سے طاقت ور بنے ہیں۔ میڈیا ان کے لیے مددگار رہا ہے۔ میڈیا میں ایک نہایت غیر معمولی تبدیلی یہ بھی آئی ہے کہ اب مؤقف یہ پیش کیا جاتا ہے کہ میڈیا سروسز دیتا ہے، لہٰذا جو بھی جیسا بھی اشتہار دینا چاہے وہ شائع ہوگا۔ اخلاقیات والی کہانی اب ختم ہوچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب خبروں کی بناوٹ کا معیار بھی نہیں رہا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ ’’جوسی خبریں‘‘ پسند کی جاتی ہیں۔ زینب کیس میں اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے جو دعویٰ کیا کہ زینب کیس میں ایک مافیا ملوث ہے اور غیر ملکی بینک اکائونٹس بھی ہیں، کسی حد تک یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ اندازہ تو یہی ہے کہ کسی نے انہیں جزوی طور پر استعمال کیا اور ادھورا سچ ان کے سامنے رکھ کر انہیں شواہد پیش کرنے اور ثبوت فراہم کرنے کے پلِ صراط پر تنہا چھوڑ دیا۔ ان کے دعوے پرچیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا اور کھلی عدالت میں دعوے کے حق میں اُن سے ثبوت مانگا، ثبوت پیش کرنے میں ناکامی پر برہمی کا اظہار بھی کیا اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دے دی اور انہیں جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی، اور جے آئی ٹی کو حکم دیا کہ زینب قتل کیس کی تفتیش دس روز میں مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کیا جائے۔
معصوم زینب کے ساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ بلاشبہ ملک میں قانون کی حکمرانی پر ہی ایک طمانچہ نہیں بلکہ اس پر پوری انسانیت شرمسار ہے۔ بدقسمتی سے ایسے ننگِ انسانیت مجرموں کو ہمارے مروجہ تفتیشی نظام میں موجود قباحتوں کے باعث چھوٹ ملنے، ان کی صحیح گرفت نہ ہونے اور فوری انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کے نتیجے میں بروقت کیفرِکردار تک نہ پہنچنے کے باعث ہی ایسے انسانیت سوز جرائم کو تقویت ملتی رہی ہے۔ ایک دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اگر میڈیا غیر فعال رہتا تو معاملہ بھی دب جاتا، یہ میڈیا کی فعالیت ہی تھی کہ زینب قتل کیس پر اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال آیا۔ لیکن اس بھونچال نے حقائق سامنے لانے میں مدد نہیں دی، البتہ یہ ہوا کہ میڈیا کی فعالیت سے ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا۔ اب مجرموں کو چھوٹ اور رعایت ملنے کا امکان نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے میڈیا کی فعالیت کے باعث زینب قتل کیس کے حوالے سے پوری انتظامی مشینری اور عدلِ گستری کے متحرک ہونے کے باوجود اس نوعیت کے قبیح جرائم کی روک تھام نہیں ہوسکی تو قانون و انصاف کی عمل داری کا تقاضا ہے کہ ایسے جرائم کے پورے پس منظر کا کھوج لگا کر انہیں جڑ سے اکھاڑنے کی ٹھوس حکمت عملی طے کی جائے۔ یہی وہ کام ہے جسے ملکی میڈیا کسی ایجنڈے کا حصہ بنے بغیر ’’میرر امیج‘‘ کے طور پر کرے اور حقائق دکھائے۔
دو سال قبل قصور میں ہی اسکولوں کے معصوم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور اس فعل کی ویڈیو فلمیں بناکر بیرونی ممالک بھجوانے کا معاملہ اٹھا تھا، جس پر انتظامی مشینری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان جرائم میں ملوث ملزمان کو قانون و انصاف کی عمل داری کے ذریعے عدالتوں میں سزا دلوا دیتے تو یہ سزا دوسروں کے لیے عبرت کی مثال بن جاتی، لیکن میڈیا اصلاحِ احوال کے بجائے کسی ایجنڈے کا حصہ معلوم ہوتا ہے اور گرد اُڑا کر مافیا کو بچانے میں ایک مددگار کے طور پر سامنے آیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ سچ اور حقیقت ہے کہ زینب کا قاتل پکڑنے کے لیے پولیس اہلکاروں نے مختلف بھیس بدلے اور اپنے فرائض ادا کیے۔ پولیس کمانڈوز نے اس علاقے میں جاکر غبارے بیچے، ریڑھی لگائی اور مزدوری کی، تب جاکر قاتل تک پہنچنا ممکن ہوا۔ پولیس دیانت داری کے ساتھ فرائض ادا کرے تو کسی مجرم اور قاتل کا اُس کے ہاتھوں سے بچ نکلنا ممکن نہیں۔ لیکن پولیس کے مروجہ تفتیشی نظام پر لوگوں کا عدم اعتماد ہے، اس لیے صدائے احتجاج بلند ہوئی ہے، حتیٰ کہ دو قیمتی جانیں بھی گئیں۔ چیف جسٹس نے درست کہا کہ کسی معاملے کو دبانے یا معرضِ التوا میں ڈالنے کے لیے کمیشن تشکیل دیئے جاتے ہیں۔ اگر فی الواقع اصلاحِ احوال مقصود ہے تو پھر عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو باہمی مشاورت سے کوئی ٹھوس اور جامع پالیسی طے کرنا ہوگی۔ پولیس اور میڈیا کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نظامِ عدل کی اصلاح کے لیے بھی زینب قتل کیس بہرصورت ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ زینب کیس کی تفتیش کے دوران ہی یہ انکشاف بھی ہوا کہ پنجاب کی6 جیلوں میں بچوں سے زیادتی میں ملوث 3800 سے زائد افراد موجود ہیں، درجنوں کیس ایسے بھی ہیں کہ جن کا فیصلہ 9 سال بعد بھی نہیں ہوسکا۔ اب جے آئی ٹی کی جانب سے ان جرائم میں ملوث تمام افراد کا ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے، اس حوالے سے رپورٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پنجاب میں بچوں سے زیادتی کے کیسز میں ملوث افراد کی مجموعی تعداد3865 ہے، ان میں سے 592 افراد سینٹرل جیل لاہور، 421 سینٹرل جیل ساہیوال، 287 ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑہ، 580 ڈسٹرکٹ جیل قصور، 394 ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ، جبکہ 1591 افراد کیمپ جیل لاہور میں موجود ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ایسے درندوں کی موجودگی کسی خطرے سے کم نہیں۔ جے آئی ٹی کے ارکان نے جیلوں میں موجود ایسے افراد کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی جو بچوں سے زیادتی کے جرائم میں ملوث ہیں، اور ان تمام افراد کے ریکارڈ کے حصول کے لیے تاحال جے آئی ٹی کی کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ملک میں بچوں کی فحش (پورنوگرافک) فلمیں بنانے اور ان کی برہنہ تصاویر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے کے معاملات میں صوبہ پنجاب سب سے آگے ہے۔ بچوں کی عریاں فلمیں بنانے کے حوالے سے اب تک جو ایک درجن سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پنجاب میں ہوئے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے بھی اس ضمن میں ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے جو انٹرنیٹ پر بچوں کی عریاں تصاویر اَپ لوڈ کرنے والوں کی نشاندہی کرے گا اور ان معلومات کی روشنی میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم سیل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستانی بچوں کی عریاں تصاویر اور فلمیں انٹرنیٹ پر بھی فروخت ہورہی ہیں اور ٹیم کے ارکان ان افراد کی تلاش بھی کررہے ہیں جو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جتنے بھی افراد گرفتار کیے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری ہولڈر ہیں۔ ایف آئی اے نے حال ہی میں انٹرپول کینیڈا سے ملنے والی معلومات کی مدد سے جھنگ کے رہائشی تیمور مقصود کو بچوں کی پورنوگرافی پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر رکھنے اور انٹرنیٹ پر جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
اس وقت یہ بحث بھی شروع ہوچکی ہے کہ غلط خبر دینے پر میڈیا پرسن کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ ازخود نوٹس لیا لیکن ماہرین کی رائے میں سپریم کورٹ خود براہِ راست کوئی کارروائی نہیں کرسکتی، یہ کام سول عدالتوں کا ہے، لیکن اسی ضمن میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے تین آپشنز بتادیئے ہیں کہ ان آپشنز کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے: اینٹی ٹیرر کورٹ، پی پی سی 193 جس میں سات سال قید ہے، اور توہینِ عدالت، جس میں چھے مہینے کی قید ہے۔ لیکن اگر کوئی عاجزی و انکسار سے معافی مانگے تو عدالت بھی اسی روح کے ساتھ معاملہ دیکھے گی۔

حصہ