جنوبی یمن علیحدگی کی تحریک اور تاریخی تناظر

بدنصیب و بے آسرا یمنی کئی برس سے ایران اور خلیجی ممالک کے شوقِ کشور کشائی کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ سارا ملک قحط کا شکار ہے اور ہیضے کی وبا نے آبادی کے بڑے حصے کو اپاہج کردیا ہے۔ لڑنے جھگڑنے بلکہ اجتماعی خودکشی کے لیے غالباً فرقہ واریت کافی نہ تھی کہ ادھر کچھ عرصے سے جنوبی یمن میں علیحدگی کی تحریک عروج پر ہے۔ ڈھائی کروڑ نفوس پر مشتمل یہ ملک کئی دہائیوں سے بے امنی کا شکار ہے۔
تاریخی اعتبار سے یمن ملکہ سبا کا ملک تھا اور ان کی ریاست کی حدود بحر احمر کی دوسری جانب حبشہ (موجودہ ایتھوپیا اور اریٹیریا) تک پھیلی ہوئی تھیں۔ قلبِ سلیم کی حامل اس ملکہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعوت پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حبشہ ہجرت کرنے والے صحابہؓ یمن کی بندرگاہ عدن ہی کے راستے حجاز واپس آئے تھے۔ بعثتِ محمدیؐ کے وقت یمن کو عرب دنیا میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور اس خطے کو جزیرہ نمائے عرب میں تہذیب و ثقافت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ حضرت یاسر، حضرت ابوموسیٰ اشعری اور حضرت مقداد بن اسود رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تعلق یمن ہی سے تھا۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو دعوت و تبلیغ کے لیے یمن بھیجا تھا۔ اہلِ یمن کی طرف سے دعوت کے خلاف کسی غیر معمولی مزاحمت کی کوئی روایت نہیں۔ اسی بنا پر بعض صحابہ یمنیوں کو اصحاب الیمین کہہ کر دعا دیا کرتے تھے۔
یمن کے معنی مسرت و شادمانی اور زرخیزی کے بھی ہیں کہ جزیرہ نمائے عرب کے تپتے ریگستان کے مقابلے میں یمن سرسبز و شاداب بھی ہے اور یہاں درجہ حرارت بھی نسبتاً کم ہوتا ہے۔ یمن کی سوغات میں عطریات شامل ہیں۔ یمن سے اعلیٰ معیار کی خوشبویات اہلِ مکہ کو فراہم کی جاتی تھیں۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یمن کا عطر بہت پسند تھا۔
کشمیر، فلسطین، جبل الطارق اور دنیا کے دوسرے بہت سارے تنازعات کی طرح شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان تفریق کا ’’سہرا‘‘ بھی سلطنتِ برطانیہ کے سر بندھتا ہے۔ جب جزیرہ نمائے عرب تاجِ برطانیہ کے زیر نگیں آیا تو انگریز بہادر نے باقی سارے علاقے تو اپنے وفادار شیوخ کے حوالے کردیئے لیکن عدن براہِ راست ملکہ معظمہ مادام وکٹوریہ کے زیراقتدار آگیا۔ یہاں انگریزوں نے اپنا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا اور تعلیمی، عدالتی و ثقافتی نظام کو برطانوی اخلاقیات کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ انگریز بہادر کی سرمایہ کاری کی بنا پر عدن اور اس کا قرب و جوار گل و گلزار بن گیا۔ شمالی یمن پر متوکلی بادشاہت قائم رہی، جو 1962ء میں عرب جمہوریہ بن گیا، جبکہ 1967ء میں آزادی ملنے پر جنوبی یمن دنیا کے تقشے پر عوامی جمہوریہ یمن کے نام سے ابھرا، جلد ہی سوشلسٹ پارٹی نے اسے مارکسسٹ ریاست میں تبدیل کردیا جسے روس کی بھرپور سرپرستی حاصل تھی۔ دوسری طرف شمالی یمن کو امریکہ نواز سعودی عرب نے گود لے لیا۔ 1986ء میں جنوبی یمن کی برسراقتدار سوشلسٹ پارٹی کی اندرونی چپقلش مسلح تصادم کی شکل اختیار کر گئی۔ اُس وقت روس کو افغانستان میں بدترین ہزیمت کا سامنا تھا، وسط ایشیا کی ریاستیں آزادی کا مطالبہ کررہی تھیں، چنانچہ جنونی یمن کی سوشلسٹ پارٹی روس کی سرپرستی سے محروم ہوگئی۔ شمالی یمن نے سوشلسٹ پارٹی کے باغیوں کا ساتھ دیا اور یہ فوجی بغاوت شمالی یمن سے ادغام کی تحریک بن گئی۔ خونریز جنگ چار سال جاری رہی اور 22 مئی 1990ء کو جمہوریہ یمن کے نام سے شمالی و جنوبی یمن ایک ملک بن گئے اور صنعا جمہوریہ یمن کا دارالحکومت قرار پایا۔ شمالی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نئی ریاست کے صدر اور اُن کے جنوبی ہم منصب علی سلام البیض نائب صدر مقرر ہوئے۔ بظاہر تو یہ دو ملکوں کا باہمی ادغام تھا لیکن جنوبی یمن کے لوگوں نے اس نئے انتظام کو اپنے ملک پر قبضہ سمجھا اور قائدانہ صلاحیتوں سے محروم صدر علی عبداللہ بھی قومی یک جہتی کے فروغ میں ناکام رہے۔
سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب علی عبداللہ صالح نے 1990ء میں کویت پر عراق کا قبضہ ختم کرانے کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔ سلامتی کونسل میں رائے شماری کے دوران یمن نے عراق کی مذمت تو کی لیکن طاقت کے استعمال کے لیے ہونے والی قرارداد پر غیر جانب دار رہا۔ اس ’’گستاخی‘‘ کی سزا سعودی عرب میں آباد یمنیوں کو دی گئی اور سارے ملک سے 8 لاکھ یمنیوں کو بیک جنبش قلم بے دخل کردیا گیا۔ دوسری طرف نائب صدر علی سلام اور صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا۔ علی سلام کو شکایت تھی کہ ریاستی امور میں ان کی سنی نہیں جاتی اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں جنوب کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ 1993ء کے آغاز پر علی سلام وفاقی حکومت سے روٹھ کر عدن واپس آگئے۔ اردن کی کوششوں سے شمال و جنوب کی قیادت اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی لیکن دلوں کی خلیج نہ پاٹی جاسکی اور 1994ء میں ’’حرکت الجنوبی‘‘ کے نام سے تحریک اور مسلح تصادم کا آغاز ہوا۔ دلچسپ بات کہ سعودی عرب جو اس سے پہلے جنوبی یمن کے مقابلے میں شمالی یمن کا اتحادی تھا، خانہ جنگی کے دوران جنوبی یمن کا پشتی بان بن گیا، بلکہ علی عبداللہ صالح نے الزام لگایا کہ ریاض جنوبی یمن ملیشیا کی عسکری مدد کررہا ہے۔ علی عبداللہ فوجی قوت کے زور پر بغاوت کچلنے میں کامیاب ہوگئے لیکن طاقت کے نشے میں انھوں نے دلوں کو جوڑنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ ملّی وحدت کو فروغ دینے کے لیے1999ء کے صدارتی انتخابات میں اخوان المسلمون کے قائد عبدالمجید زندانی کی تحریک پر متحدہ حزبِ اختلاف نے جنوبی یمن کے ایک معروف سیاسی گھرانے کے نجیب قحطان الشعبی کو اپنا امیدوار نامزد کیا جو جنوبی یمن کے پہلے صدر کے صاحبزادے ہیں۔ حسبِ توقع انتخابات میں دھاندلی کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور صدر علی عبداللہ صالح 96 فیصد ووٹ لے کر ’’کامیاب‘‘ ٹھیرے۔ اس دھاندلی کے خلاف مہم کا آغاز ہوا جس پر صدر صالح نے وعدہ کیا کہ وہ 2004ء میں اپنی مدت پوری ہونے پر مستعفی ہوجائیں گے، لیکن پاکستان کے صدر پرویزمشرف کی طرح مہم ختم ہوتے ہی صالح صاحب نہ صرف اپنے وعدے سے صاف مکر گئے بلکہ ایک ترمیم کے ذریعے مدتِ صدارت 5 سے بڑھاکر 7 سال کردی گئی۔ وعدہ خلافی کے علاوہ صدر صالح اور پرویزمشرف کے درمیان ایک اور مشترک بات ’’بردہ فروشی‘‘ ہے کہ جیسے پرویزمشرف نے پیسے لے کر درجنوں بے گناہ پاکستانیوں کو القاعدہ سے تعلق کے جھوٹے الزام میں امریکہ کے حوالے کیا، ویسے ہی یمن کے سابق آمر نے بھی سینکڑوں یمنی نوجوانوں کو بھاری رقومات کے عوض گوانتاناموبے کے عقوبت خانے بھجوایا۔
دسمبر 2010ء میں تیونس سے شروع ہونے والی عوامی بیداری کی تحریک یا عرب اسپرنگ کا اثر یمن میں بھی ہوا اور عظیم الشان تحریک نے صالح اقتدار کو ہلا کر رکھ دیا۔ شام کے صدر بشارالاسد کی طرح صدر صالح نے بھی اپنے خلاف تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جس میں انھیں کامیابی نہ ہوسکی کہ زیدی ملیشیا کے سربراہ عبدالرحمان الحوثی نے صدر صالح کی حمایت سے انکار کردیا۔ صدر صالح کے خلاف تحریک کی قیادت عبدالمجید زندانی کے ہاتھ میں تھی اور اخوان المسلمون کی شعلہ بیان رہنما محترمہ توکل کرمان سارے یمن کا طوفانی دورہ کرکے عدل و انصاف پر مبنی اسلامی یمن کے لیے رائے عامہ ہموار کرتی رہیں۔ عوامی تحریک نے یمنی آمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور 2011ء میں صدر صالح سعودی عرب سے ایک معاہدہ کرکے مستعفی ہوگئے۔ سعودیوں کی مداخلت پر ایران نے حوثی ملیشیا کو مسلح کرنا شروع کیا اور سابق صدر صالح کے وفاداروں نے حوثی ملیشیا کی مدد سے وفاقی فوج کے خلاف خوفناک جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی یمن میں علیحدگی کے نعرے لگنا شروع ہوگئے، اور جب صدر صالح اور حوثی ملیشیا نے عدن کا رخ کیا تو حرکت الجنوبی راستہ روکنے کے لیے میدان میں آگئی۔
مارچ 2015ء میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے یمن میں بمباری کا آغاز کیا اور سارا ملک کھنڈر بن گیا۔ اس دوران عدن اور جنوبی یمن میں عبدالمجید زندانی اور اخوان سے وابستہ عناصر انتشار کو روکنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے۔ علیحدہ جنوبی یمن کے بجائے ایک اور نیک یمن کی تحریک چلائی گئی، لیکن یہ نعرہ صدا بصحرا ثابت ہوا اور گزشتہ برس اپریل میں المجلس انتقال الجنوبی (جنوبی عبوری کونسل) یا STC تشکیل دے دی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ کونسل دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ جنوبی یمن نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب عبوری معاملات طے کرنے کا مرحلہ درپیش ہے۔ سعودی عرب اور ان کے نامزد صدر عبدالرب منصور ہادی نےSTC کی شدید مخالفت کی اور ان کے وفادار فوجی دستوں نے STC پر حملے شروع کردیئے۔ حوثیوں کو بھی جنوبی یمن کی علیحدگی پسند نہ تھی، یعنی منصور ہادی اور حوثی STC کو تباہ کرنے کے نکتے پر متفق ہوگئے۔ اسی دوران دسمبر 2017ء میں علی عبداللہ کو خود حوثیوں نے ہی قتل کردیا۔
اِس سال کے آغاز سے STC کی مہم شدت اختیار کرگئی ہے۔ یعنی اب ایران نواز حوثی اور سعودی لاڈلے عبدالرب منصور ہادی کی لڑائی میں ایک تیسرا فریق بھی پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہے۔ اسی دوران یہ خبر بھی سامنے آئی کہ STC کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔28 جنوری سے عدن میں ہادی ملیشیا اور STCکے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے جس میں درجنوں افراد جاں بحق اور کئی سو زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ مجروح افراد گلیوں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں کہ ایمبولینس دستیاب نہیں، اور اگر انھیں اپنے کندھوں پر سوار کرکے ہسپتال لے بھی جایا جائے تو اندر داخل ہونا ناممکن ہے کہ ہسپتالوں کے باہر ہیضے کے مریض لیٹے ہیں۔ صدر ہادی کے وزیراعظم احمد بن دغر نے STC کی کارروائی کو فوجی بغاوت قرار دیتے ہوئے اسے بے رحمی سے کچل دینے کا عزم ظاہر کیا، لیکن میدانِ جنگ میں موجود عسکری نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ STCکا پلڑا بھاری ہے۔ شہر کی اکثر سرکاری عمارات اور تنصیبات پر علیحدگی پسندوں نے قبضہ کرکے اپنی فتح کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی نظر آرہی ہے۔ ریاض وفاقی حکومت کی پشت پناہی کررہا ہے اور حوثیوں کے ساتھ STCکے خلاف مہم پر بھی مُصر ہے۔ متحدہ عرب امارات حوثیوں کے خلاف جنگ میں تو سعودی عرب کا اتحادی ہے لیکن اس نے آزادی کی تحریک میں STC کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس نئی صورتِ حال نے سعودی عرب کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ STC پر وفاقی دستوں کے حملے امارات کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ دوسری طرف عدن پر قبضہ برقرار رکھنا صدر ہادی کی سیاست اور اقتدار کے لیے لازمی ہے کہ شمالی یمن اور وفاقی دارالحکومت صنعا حوثیوں کے قبضے میں ہے، اور ہادی حکومت عدن اور اس کے مضافات تک محدود ہے۔ اب اگر STC نے جنوبی یمن پر قبضہ کرکے اس کی آزادی کا اعلان کردیا تو جناب ہادی کہاں جائیں گے؟
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ برسوں کی خانہ جنگی کے نتیجے میں کھنڈر شہر، جھلسی زمین، تعفن زدہ میتیں، اور ان سے بدتر زندہ لاشوں کے ڈھیر پر قبضہ کرکے اماراتی حکمران کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اماراتیوں کی نظریں یمن کے تیل اور اُس کے منفرد محلِ وقوع پر ہیں۔ بحر احمر روس، یورپ اور شمالی امریکہ کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے ملانے کا مختصر ترین آبی راستہ ہے۔ اس سمندر میں داخلے اور اخراج کے لیے آبنائے باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے جو عدن کا ساحل ہے۔ روس، یورپ اور شمالی امریکہ سے آنے والے جہاز نہر سوئز سے گزر کر بحراحمر میں داخل ہوتے ہیں اور آبنائے باب المندب سے گزرکر بحر عرب کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جس کے بعد بحر ہند اور بحرالکاہل تک کوئی رکاوٹ نہیں۔ باب المندب دنیا بھر کی تجارت کا دروازہ ہے۔ آبنائے ہرمز کے اردگرد کشیدگی کی بنا پر خلیج عرب کی تہ سے حاصل ہونے والے خام تیل کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے ہوتی ایشیا پہنچتی ہے۔ یمن کے حصے بخرے کرکے جنوبی یمن پر قبضے کی یہ پہلی کوشش نہیں۔گزشتہ صدی میں مصر کے صدر جمال ناصر کی نظریں بھی بحر احمر پر تھیں۔ اُن کا خیال تھا کہ اگر آبنائے باب المندب کو قابو کرلیا جائے تو بحر احمر مکمل طور پر اُن کے زیراثر آجائے گا، کہ نہر سوئز کی شکل میں اس سمندر کا شمالی دہانہ مصر کی ملکیت ہے۔ اسی بنا پر انھوں نے جنوبی یمن کی سوشلسٹ حکومت کی بھرپور حمایت کی تھی۔
یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ جنوبی یمن پر اثر رسوخ بڑھانے کی اماراتی مہم پر سعودیوں کا ردعمل کیا ہوگا؟ خیال تو یہی ہے کہ عدن پر امارات جیسے ’’جگری دوست‘‘ کا قبضہ بھی شہزادہ محمد بن سلمان کو پسند نہیں آئے گا۔ جدہ اور ینبوع سمیت مملکت کی تمام بڑی بندرگاہیں بحر احمر میں ہیں۔ سعودی عرب کی معیشت کا دارومدار تیل کی تجارت پر ہے۔ تیل کے تمام بڑے میدان خلیج عرب اور اس سے متصل مشرقی صوبے میں واقع ہیں، اور اس تیل کو ایشیائی گاہکوں تک پہنچانے کا مختصر اور تیز ترین راستہ خلیج فارس سے بحر عرب ہے، جہاں سے دنیا بھر کے لیے رسائی مل جاتی ہے، لیکن خیلج سے نکلنے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا ہوتا ہے، یہاں ایران نے بحری تنصیبات قائم کرلی ہیں اور اس راستے کو بوقتِ ضرورت مسدود کردینا تہران کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر سعودی عرب نے اربوں ڈالر خرچ کرکے پائپ لائنیں تعمیر کی ہیں جو مشرقی صوبے کے میدانوں سے حاصل ہونے والے تیل کو بحر احمر کے ساحلوں تک پہنچاتی ہیں۔ تیل بردار ٹینکروں کے علاوہ سعودی عرب آنے جانے والے دوسرے جہازوں کو بھی آبنائے باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنی اقتصادی شہہ رگ کے بارے میں ریاض بے حد حساس ہے۔ تیل کی ترسیل اور مالِ تجارت کی نقل و حمل کے لیے کھلے سمندروں تک رسائی کی خواہش فطری ہے، لیکن یہ ہدف مہذب انداز میں بات چیت اور سب کے لیے قابلِ قبول معاہدوں کے ذریعے بھی تو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ درہم و دینار کے لیے لاکھوں یمنیوں کو ذبح کرنا کیا ضروری ہے…؟

حصہ