حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ نہیں، ڈاکٹر خالد محمود

واجد انصاری۔سید حسن احمد
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ اقوام عالم ہیں، جنہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)کی حکومتوں سمیت پاکستان کی کسی بھی حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، اگر ایسا ہوتا تو آج مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہوتا۔ کشمیریوں کو حکومت ِ پاکستان سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ حکومتِ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی محاذ پر اپنے سفارتی مشن بیرونی ممالک بھیجنے چاہئیں تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے بے نقاب اور مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی پیش رفت ہوسکے۔ پاکستان کی کوئی مستقل خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان اقوام عالم میں اپنا اصل مقام نہیں بناسکا۔ حکومتِ پاکستان آزاد کشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرے تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔ آزاد کشمیر میں ہزاروں باصلاحیت نوجوان ہیں، اگر ان کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے کر لوڈشیڈنگ فری زون قرار دیا جائے۔ آزاد کشمیر بینک کو شیڈول بینک بنایا جائے اور آئندہ انتخابات میں مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ادارۂ نور حق میں فرائیڈے اسپیشل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔
ڈاکٹر خالد محمود نے کشمیر کمیٹی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ اس کمیٹی کا جو کردار ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آیا۔ ہمارا گلہ پاکستان کے حکمرانوں سے ہے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی مستقل پالیسی بناسکی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن ہوں یا وزارتِ خارجہ اور او آئی سی، ان سب نے ہی مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں اپنا اصل کردار ادا نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد محمود کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اپنی بساط سے بڑھ کر کشمیریوں کی مدد وخدمت کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی جماعت اسلامی اس خطے کی بڑی توانا جماعت ہے اور جو لوگ بھی کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں شریک ہیں ان کی پشتیبان بھی جماعت اسلامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کی پشتیبانی بھی کشمیریوں کا بڑا سہارا ہے۔ ہم دنیا بھر کے کشمیریوں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر اور مجاہدینِ کشمیر کی ہر سطح پر مدد و معاونت کے حوالے سے جماعت اسلامی نے جو کردار ادا کیا ہے اور کررہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی کی دعوت کو سمجھیں گے اور اس کے ممبر بنیں گے، اور جماعت اسلامی کو ریاستی میدان میں ایک بڑی قوت بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ جماعت اسلامی سے اہلِ کشمیر کو بڑی توقعات وابستہ ہیں، جماعت اسلامی کشمیری شہدا کے لواحقین کی بھرپور مدد کررہی ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ میری پاکستانی عوام سے اپیل ہے کہ وہ 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر نہ صرف کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کریں بلکہ کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد اور تکمیلِ پاکستان کی جنگ میں شریک ہوں۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق سوال کے جواب میں جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود کاوفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کشمیر امور کا ایک مستقل نائب وزیر خارجہ مقرر کیا جائے،کشمیر کے عوام حقِ خودارادیت کے سوا کوئی آپشن قبول نہیں کریں گے۔کشمیری عوام پاکستان کی بقاء اور سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کی کمزوری کے سبب مسئلہ کشمیر اہمیت حاصل نہیں کرسکا۔ مودی سرکار کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی جنوبی ایشیا کے امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ کشمیر سے گزرکر دریاؤں کا جو پانی پاکستان پہنچتا ہے اس میں کشمیریوں کا خون شامل ہے۔ بھارت ڈیمز بنا کر پاکستان کی زمینوں کو خشک اور بنجر بنانا چاہتا ہے۔بین الاقوامی برادری کی ذمے داری ہے کہ جس طرح مشرقی تیمور اور سوڈان کو آزادی دلائی گئی ہے اسی طرح 70 سال سے حل طلب مسئلہ کشمیر کو بھی حل کرائے۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، تب تک کشمیری چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو جو زخم لگے ہے اس میں کشمیریوں کی آہ وبکا بھی شامل ہے۔ 1988ء سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہ دینا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کشمیری تکمیلِ پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں، اس جنگ میں اہلِ پاکستان کا حصہ اخلاقی و سفارتی محاذ کی صورت میں ہے، یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بیٹے اور بیٹیاں پتھر اُٹھاکر سنگینوں کے زیر سایہ برسرپیکار ہیں اور پاکستان کو اپنی منزل قرار دے چکے ہیں۔ پیلٹ گنوں کے استعمال اور خواتین کی چوٹیاں کاٹنے سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے،کشمیری ہر صورت میں اپنا حق لے کر رہیں گے۔ بین الاقوامی برادری اگر امن کی ٹھیکیدار بنتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھی عمل درآمد کرائے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی بھارت میں نفرتیں بڑھاکر بھارت کی بربادی کا سامان پیدا کررہا ہے۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں پر قابو پالیں تو مودی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایک دن کے لیے بھی آزادی کی جدوجہد ماند نہیں پڑی۔ شہید برہان مظفر وانی اس تحریک کا نیا عنوان بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو کشمیر سے کوئی الگ نہ کرسکا ہے اور نہ مستقبل میں ایسا ممکن ہے۔ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور رہے گا۔ یہ خطہ کشمیر کے ماتھے کا جھومر ہے، اگر اسے الگ کرنے کی کوشش کی گئی تو کشمیری عوام اس اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو بھی حقوق دیے جائیں۔ ان کا کہناتھا کہ مسئلہ کشمیر اس لیے حل نہیں ہورہا کہ اس کے ذمہ داروں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کرکٹ کا میچ ہوتا ہے تو کشمیری نوجوان پاکستانی جھنڈے لہراتے ہیں، جس کے جواب میں انہیں لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2001ء میں 13 لاکھ کشمیری اپنے حق کے لیے کشمیر کی سڑکوں پر نکل گئے تھے اور ریاستی دہشت گردی ان کے راستے کی دیوار نہ بن سکی۔ امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ بھارت کے سابق آرمی چیف اپنی حکومت کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے سیاسی طور پر حل ہونا چاہیے، بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں۔

Share this: