دبنگ نواب نے استعفیٰ کیوں دیا؟۔

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ کا تعلق بلوچستان کے ایک طاقتور قبیلہ زہری سے ہے۔ ان کے والد ایک طاقتور سردار تھے اور اہلِ بلوچستان انہیں سردار دودا خان زہری کے نام سے جانتے ہیں۔ 1962ء میں وہ مغربی پاکستان اسمبلی میں قلات کم خاران سے منتخب ہوئے تھے۔ ممتاز سیاست دان عبدالباقی بلوچ بھی مکران سے منتخب ہوئے تھے۔ بہترین پارلیمنٹرین اور شاعر تھے، اور نواب ثناء اللہ زہری 1988ء میں قلات 30-PB سے منتخب ہوئے، وہ اس وقت پاکستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ سے منتخب ہوئے تھے۔ غوث بخش بزنجو مرحوم پارٹی کے صدر تھے۔ 1990ء میں انہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے خضدار PB-30 سے منتخب ہوئے اور 1993 میں وہ پاکستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور 1997ء میں نواب ثناء اللہ زہری کو علاقے کے ایک وڈیرے عبدالخالق نے شکست دی۔ عبدالخالق کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے تھا بعد میں وہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 2013 کا انتخاب ان کے لیے اہم ثابت ہوا کہ وہ عبدالمالک کے بعد وزیراعلیٰ بن گئے لیکن وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عدم اعتماد کی تحریک کے سامنے دم توڑ گئے اورلمحوں میں استعفیٰ لے کر وہ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کے حضور پہنچ گئے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ نواب ثناء اللہ تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے چلے آرہے تھے اور ان کی ہمنوا پارٹی کے لیڈر اور قائدین ان کی ہامی بھرتے رہے اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے رہے مگر وہ عدم اعتماد کی تحریک کے دن اپنی کرسی چھوڑنے کی طرف چلے گئے۔ آیئے کچھ ان لمحات کا ذکر کریں اور پھر اس اہم دھماکہ خیز خبر کی طرف آئیں گے جس نے ایک طاقتور اور دبنگ نواب کے ہاتھ میں استعفیٰ تھما کر انہیں گورنر ہائوس پہنچا دیا اور یوں ایک دورچند لمحوں میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
نواب ثناء اللہ نے 4 جنوری کو پشتون خوا‘ نیشنل پارٹی کے وفود سے ملاقات کی عبدالمالک ساتھ تھے انہوں نے کہا کہ مخالفین کو شکست دیں گے‘ تحریک عدم اعتماد کا جمہوری طریقے سے مقابلہ کریں گے۔ مخلوط حکومت میں شامل دوستوں کے ساتھ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کو بھی ساتھ رکھیں گے۔
منحرف ارکان نے 9 جنوری کو اجلاس طلب کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ دوسری جانب سرفراز بگٹی نے کہا کہ عدم اعتماد تحریک کامیاب ہوگی بعد میں پشتون خوا اور نیشنل پارٹی کے بعض ارکان نے ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے اور کہا کہ قدوس بزنجو کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم خالد لانگو کو عدم اعتماد تحریک کا حصہ نہیں بننے دیں گے اور کہا کہ معلوم نہیں عدم اعتماد تحریک کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ حاصل بزنجو کے بیان کے ردعمل میں خالد لانگو نے بیان جاری کیا کہ حاصل بزنجو کے اس بیان پر کہ خالد لانگو سمجھتا ہے کہ ووٹ دینے کے بعد اس پر مقدمات ختم ہو جائیں گے۔ خالد لانگو نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو میرے سیاسی نظریے پر میری قبائلیت حاوی ہوگی آخر دم تک کھڑا رہوں گا اور مجھ میں قبائلی روایات بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔
پشتون خوا کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ ارکان کو سنگین دھمکیاں دی جارہی ہیں وزیر داخلہ نے کہا کہ ارکان پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ استعفے دے دیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نواز شریف اور نواب ثناء اللہ کا آخری دم تک ساتھ دیں گے۔ یہ بھول ہے کہ کوئی پشتون خوا کے ارکان کے ضمیر کو خریدسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی نواز شریف کو کھرا جواب دے دیا کہ ہم سے بلوچستان میں حکومت بنانے کے وقت پوچھا تک نہیں اور اب میں عدم اعتماد کی تحریک کو روکنے کا کیسے کہوں۔ سردار اختر مینگل نے بھی عدم اعتماد تحریک کا حصہ بننے کا اعلان کردیا۔ پاکستان کے وزیراعظم نے فون پر نواب ثناء اللہ سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی اور کہا کہ بلوچستان میں جمہوریت مخالف سازش ناکام ہوگی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بحران سینیٹ کے الیکشن رکوانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ 10 جنوری کو وزیراعظم خاقان عباسی نے کہا کہ ثناء اللہ زہری کو استعفیٰ کا نہیں کہا تھا اور کہا کہ منحرف ارکان نے مجھ سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کی۔
جب وزیراعظم ‘بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ آئے تو ان کی آمد سے ایک دن قبل سرفراز بگٹی نے بیان دیا کہ ہم میں سے کوئی بھی وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرے گا۔ جان محمد جمالی نے کہا کہ اب فیصلے پنجاب میں نہیں بلوچستان میں ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے بھی کہا کہ استعفے نہ دیں۔ لیکن نواب ثناء اللہ نے ان تمام یقین دہانیوں سے تعاون کے بعد بھی استعفیٰ دے دیا۔ آیئے ہم اب اس اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں جو وزیراعلیٰ بلوچستان کے استعفے کا سبب بنا۔ 8 جنوری کو ایک اہم واقعہ ہوا اور اس کی خبر اخبارات میں جاری کردی گئی اور خبر یہ تھی ایوب قریشی کو تحقیقاتی اداروں نے کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے اس پر ماہانہ 60 کروڑ روپے وصول کرکے اعلیٰ حکام کو دینے کا الزام ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے اس کے گھر سے کروڑوں روپے برامد کرلیے ہیں۔ ایوب قریشی وزیراعلیٰ ہائوس میں اسٹاف آفیسر تھا ‘ اس کی سرکاری ملازمت کلرک کی حیثیت سے ہوئی تھی‘ اس کی گرفتاری وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے لیے پیغام تھا کہ 9 جنوری کی صبح تک مہلت ہے اور اسمبلی اجلاس سے پہلے آپ کو مستعفی ہونا ہوگا اس ایک خبر نے دبنگ وزیراعلیٰ اور دبنگ نواب کو گورنر ہائوس کی راہ دکھلائی اور ان کی جیب میں استعفیٰ تھا اور انہوں نے محمود خان اچکزئی کے بڑے بھائی گورنر محمد خان اچکزئی کی میزپر استعفیٰ رکھ دیا اور اسمبلی نہیں گئے۔ ایوان اقتدار کی گردشوں میں محلاتی کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے یہ اس کی ایک جھلک ہے اور استعفے دینے کے بعد ایوب قریشی کو رہا کر دیا گیا باخبر صحافتی حلقوںمیں یہ گردش کرتی رہتی ہے خبریہ ہے کہ ملازمتوں کے ریٹ فکس ہیں چپراسی کے لیے دو سے تین لاکھ‘ کلرک کے لیے 7 سے 10 لاکھ اور 14 گریڈ کے لیے 14 سے 25 لاکھ تک‘ 23 لاکھ ایکسائز کے محکمے کے ریٹ فکس ہیں۔ اب جمہوری حکومتوں میں ملازمتوںکا نیلام گھر بنا ہوا ہے۔ یہ آج کا بلوچستان ہے۔

Share this: