دین میں عدمِ اخلاص

ترجمہ:’’ اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (البقرہ2:208)
یعنی کسی استثنا اور تحفظ کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آئو۔ تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے، تمہارے معاملات اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔
(تفہیم القرآن، اوّل، ص160، البقرہ، حاشیہ 226)
] زندگی کو مذہبی اور دنیوی دائروں میں تقسیم کرنے کا تخیل اس سے پہلے قوم شعیب نے بھی ظاہر کیا تھا، انہوں نے کہا تھا:[
ترجمہ:’’اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنی منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟ بس تُو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے!‘‘ (ہود11 :87)
یہ اسلام کے مقابلے میں جاہلیت کے نظریے کی پوری ترجمانی ہے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کے سوا جو طریقہ بھی ہے غلط ہے اور اس کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ دوسرے کسی طریقے کے لیے عقل، علم اور کتبِ آسمانی میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی بندگی صرف ایک محدود مذہبی دائرے ہی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمدن، معاشرت، معیشت، سیاست، غرض زندگی کے تمام شعبوں میں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دنیا میں انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کا ہے، اور انسان کسی چیز پر بھی اللہ کی مرضی سے آزاد ہوکر خودمختارانہ تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کے مقابلے میں جاہلیت کا نظریہ یہ ہے کہ باپ دادا سے جو طریقہ بھی چلا آرہا ہو انسان کو اسی کی پیروی کرنی چاہیے، اور اس کی پیروی کے لیے اس دلیل کے سوا کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ باپ دادا کا طریقہ ہے۔ نیز یہ کہ دین و مذہب کا تعلق صرف پوجا پاٹ سے ہے، رہے ہماری زندگی کے عام دنیوی معاملات، تو ان میں ہم کو پوری آزادی ہونی چاہیے کہ جس طرح چاہیں کام کریں۔
اس سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ زندگی کو مذہبی اور دنیوی دائروں میں الگ الگ تقسیم کرنے کا تخیل آج کوئی نیا تخیل نہیں ہے، بلکہ آج سے تین ساڑھے تین ہزار برس پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو بھی اس تقسیم پر ویسا ہی اصرار تھا جیسا آج اہلِ مغرب اور اُن کے مشرقی شاگردوں کو ہے۔ یہ فی الحقیقت کوئی نئی ’روشنی‘ نہیں ہے جو انسان کو آج ’ذہنی ارتقا‘ کی بدولت نصیب ہوگئی ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانی تاریک خیالی ہے جو ہزارہا برس پہلے کی جاہلیت میں بھی اسی شان سے پائی جاتی تھی اور اس کے خلاف اسلام کی کشمکش بھی آج کی نہیں ہے، بہت قدیم ہے۔
(تفہیم القرآن، دوم، ص361، حاشیہ 97)

احسان

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’احسان یہ ہے کہ تو اﷲ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کيفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
٭٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’(ایمان یہ ہے کہ) تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے (نازل کردہ) صحیفوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لائے اور ہر خیر و شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر مانے۔‘‘

حصہ