سینٹ انتخابات کے بعد انتخابی مہم کی تیاری

الیکشن کمیشن نے ان 52 سینیٹروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جو 11 مارچ 2018ء کوسبکدوش ہوجائیں گے۔ سینیٹ کے انتخابات کے نظام الاوقات کا اعلان 2 فروری کو متوقع ہے۔ چاروں صوبائی اسمبلیاں11,11 سینیٹروں کا انتخاب کریں گی۔ فاٹا سے 4آزاد ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ 2 ارکان کا انتخاب اسلام آباد سے ہوگا، جبکہ 2 اقلیتی ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ سینیٹ کا ہر رکن چھے سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ 11 مارچ کو جن ارکان کی شدت ختم ہوئی ہے، وہ مارچ 2012ء میں منتخب ہوئے تھے۔ چھ سالہ مارچ میں جو سینیٹر منتخب ہوں گے وہ 2024ء تک سینیٹر رہیں گے۔ یہ انتخاب ایسا ہے جس کے نتائج کی پیش گوئی کرنا بہت آسان اس لیے بھی ہوتا ہے کہ اگر ووٹر اپنی اپنی جماعت کی حمایت میں پارٹی امیدوار کو ووٹ دیں اور بغاوت نہ کریں تو نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی پارٹی کے ارکان بغاوت پر اتر آئیں، تو پیش گوئی مشکل ہوتی ہے۔
ملک میں عام انتخابات سے قبل سینیٹ کے انتخابات کا میدان سجنے والا ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی سمیت ہر قابلِ ذکر سیاسی جماعت اس انتخابی معرکے میں کود چکی ہے۔ امیدواروں کے انتخاب، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور بھائو تائو کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی ہر قیمت پر سینیٹ انتخاب کا معرکہ سر کرنا چاہتی ہے اور اس فکرمیں ہے کہ سینیٹ کے ایوان میں بالادستی کیسے حاصل کی جائے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ اور مراد علی شاہ اس ملاکھڑے میں اہم کھلاڑی ہوں گے۔ ان کی معاونت کے لیے آصف علی زرداری خود ہیں جنہوں نے سینیٹ انتخابات میں تین صوبوں سے کامیابی کے لیے ابتدائی فارمولا تیار کرلیا ہے۔ پیپلز پارٹی بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں سینیٹ انتخابات کے لیے مولانا فضل الرحمن سے اتحاد کرنا چاہتی ہے، اسی لیے سید خورشید شاہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں موجود جماعتوں اور سیاست دانوں سے رابطہ کریں گے۔ سندھ میں سینیٹ کی 10نشستوں پر کامیابی کے لیے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ سندھ سے سینیٹ کی 12نشستوں پر انتخاب ہونا ہے۔ بلوچستان، خیبر پختون خوا میں سینیٹ کی 22 نشستوں پر الیکشن ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ سندھ میں سینیٹ انتخابات کے لیے جوڑتوڑ کریں گے، پیپلزپارٹی سندھ سے سینیٹ کی 4 جنرل اور 2 مخصوص نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے، اسی لیے سندھ سے سینیٹ کی 1 جنرل، 3 مخصوص نشستوں پرکامیابی کے لیے جتن شروع ہوگئے ہیں۔ بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے اپنی کابینہ کے ساتھ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے، حالانکہ ان کی جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین ہیں، لیکن انہوں نے کراچی جانے کو ترجیح دی۔ اس ملاقات میں سینیٹ کا اگلا الیکشن بھی زیر بحث آیا۔ پیپلز پارٹی نے امیدواروں سے 30 جنوری تک درخواستیں طلب کی ہیں، اس سے لگتا ہے کہ معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں جو بے یقینی تھی وہ ختم ہوتی محسوس ہورہی ہے۔
اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 26 ہے جن میں سے 18 ریٹائر ہوجائیں گے، باقی صرف 8 ارکان رہ جائیں گے۔ پیپلز پارٹی سندھ سے چھ یا سات ارکان منتخب کراسکتی ہے۔ بلوچستان کے بدلے ہوئے حالات میں ممکن ہے ارکان اسمبلی اس کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیں، کیونکہ آصف زرداری نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ’’دعا اور دوا‘‘ کی صورت میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ باقی کسی صوبے سے پیپلز پارٹی کا کوئی رکن منتخب نہیں ہوسکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد اس وقت 27 ہے جن میں سے 9 ریٹائر ہوجائیں گے اور باقی 18 رہ جائیں گے۔ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) فی الحال تو 11 ارکان منتخب کرانے کی پوزیشن میں ہے۔ خیبر پختون خوا سے بھی ایک یا دو ارکان منتخب ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان میں بغاوت نے صورت حال بدل دی ہے، اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی سینیٹ میں نمائندگی قابلِ ذکر ہوگی۔ اگرچہ سادہ اکثریت تو پھر بھی اسے حاصل نہ ہوگی، تاہم اِس وقت جو پوزیشن ہے، اس سے نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل ہو جائے گی۔ اے این پی کے اس وقت 6 ارکان ہیں جن میں سے 5 ریٹائر ہوجائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے اس وقت 4 ارکان ہیں جو سب ریٹائر ہو جائیں گے۔ اس طرح سینیٹ میں مسلم لیگ (ق) کا کوئی رکن باقی نہیں رہ جائے گا، نہ یہ جماعت اپنا کوئی رکن منتخب کرانے کی پوزیشن میں ہے۔ ایم کیو ایم کے 8 ارکان ہیں، جن میں سے 4 ریٹائر ہوجائیں گے اور اگر ایم کیو ایم سندھ اسمبلی میں متحد رہے تو ان ریٹائر ہونے والوں کی جگہ 4 نئے ارکان منتخب کرا سکتی ہے۔ جے یو آئی فضل الرحمن کے 5 میں سے 3 ارکان ریٹائر ہوجائیں گے اور شاید اتنے ہی ارکان منتخب ہوجائیں۔ پی ٹی آئی کے 7 ارکان میں سے ایک ریٹائر ہوگا، موجودہ خیبر پختون خوا اسمبلی کے ارکان کی تعداد کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔
سینیٹ کی انتخابی مہم کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ اس نے پنجاب کو اپنا بیس کیمپ بنالیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنا بیانیہ جاری رکھے گی، حالات جیسے بھی ہوں نوازشریف انتخابی مہم کی قیادت کریں گے اور وہ خود ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوچکے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے بیانیہ کو دیگر صوبوں کے عوام کے سامنے بھی رکھنا چاہتی ہے۔ سینیٹ انتخابات کے بعد ملک گیر رابطہ عوام مہم شروع کی جائے گی۔ جہاں تک سینیٹ انتخابات کا تعلق ہے، مسلم لیگ (ن) کو سب سے پہلی چوٹ بلوچستان میں لگی ہے جہاں پیپلزپارٹی کا کندھا استعمال کرکے مسلم لیگ (ن) کا سارا اصطبل ہی خرید لیا گیا ہے۔ سینیٹ انتخابات کے لیے اختیار کیے گئے اس حربے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات میں مضبوط امیدواروں کو سامنے لانے کے لیے سارا اختیار نوازشریف کو دے دیا ہے۔ امیدواروں کا انتخاب کرتے ہوئے نوازشریف کو چودھری نثار علی خان کے حوالے سے بہت مشکل فیصلہ کرنا پڑے گا۔ وہ اس وقت نوازشریف کے بجائے شہبازشریف کے زیادہ قریب ہیں، اور مسلم لیگ(ن) کے بہت سے رہنمائوں نے بھی شہبازشریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کے بعد چودھری نثار علی خان کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنا شروع کردیے ہیں، ان میں نمایاں نام راولپنڈی سے سینیٹر چودھری تنویر احمد خان کا ہے، جو مریم نواز اور بیگم کلثوم نواز کے بہت ہی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ، دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کی سیاست ختم ہونے جارہی ہے اور نوازشریف کا اگلا ٹھکانہ صرف اور صرف جیل ہے، جس کے لیے جیل میں آج کل تیاریاں بھی جاری ہیں تاکہ کر پشن کے بادشاہ سلامت کو جیل میں سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

Share this: