شہباز شریف کی سجادہ نیشن سیال شریف پیر حمید الدین سیالوی سے ملاقات

معاملہ اور مطالبہ کتنا ہی اہمیت کا حامل ہو، اس کے حل اور تسلیم ہونے کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے پیش کرنے والے کس قدر سنجیدہ اور پختہ عزم کے حامل ہیں… مملکت خداداد پاکستان کا واحد مقصد وجود ہی یہاں اسلامی نظام، شریعت محمدیؐ، نظام مصطفی یا قرآن و سنت کا نفاذ تھا اور اسی وعدے اور اعلان پر یقین کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں نے تحریک قیام پاکستان میں اپنی جانوں، عصمت اور اموال کی قربانی پیش کی تھی مگر آج ستر برس سے زائد گزر چکے ہیں لیکن پاکستان اور اہل پاکستان اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں یقیناً یہ اس وعدہ خلافی ہی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتیں پاکستان میں دستیاب ہونے کے باوجود اہل پاکستان پریشانی و نا امیدی سے دو چار اور مایوسی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے لاچار و بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم بہت سے مایوس کن تجربات سے گزرنے کے باوجود آج بھی اگر دین و شریعت کے نام پر کوئی انہیں پکارے تو وہ کشاں کشاں اس کی جانب کھچے چلے آتے ہیں، حالیہ دنوں میں جنم لینے والی تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ اس کی نمایاں مثال ہیں۔
پیر آف سیال شریف کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دی جا سکتی ہے جنہوںنے ختم نبوت کے مسئلہ سے اپنی تحریک کا آغاز کیا اور اس نہایت حساس معاملہ پر حکومت کی بے تدبیری کے باعث انہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت حکومت کی حمایت سے دست کش ہونے کا اعلان کیا اور ان حلقہ اثر میں موجود کم از کم پانچ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے استعفوں کی دھمکی بھی دی گئی۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے پہلے پیر صاحب نے پہلے 9اور پھر 13 جنوری کو لاہور میں حضرت علی ہجویری کے مزار پر حاضر ہو کر تحریک کے اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت کا عندیہ دیا تاہم مختلف وجوہ کی بناء پر وہ اسے 20 جنوری تک موخر کرتے رہے اور آخر بیس جنوری کو بہت سے علماء و مشائخ کے ہمراہ انہوں نے حضرت علی ہجویریؒ کے مزار کے سامنے منعقدہ ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو صرف سات روز کی مہلت دی کہ ملک میں شریعت نافذ کی جائے ورنہ پورے پنجاب کا نظام درہم برہم کر دیا جائے گا اور علماء و مشائخ تمام اضلاع میں سڑکوں پر نکل کر دھرنے دیں گے جو نفاذ شریعت کا مطالبہ پورا ہونے تک جاری رہیں گے… پیر حمید الدین سیالوی اور دیگر علماء و مشائخ نے اپنی تقریروں میں بجا طور پر انتباہ کیا کہ ’’ختم نبوت کے معاملہ پر تمام اہلسنت متحد ہیں اور کسی بھی قسم کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر کوئی بھی صاحب ایمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور جب تک حکومت رانا ثناء اللہ اور کلیدی عہدوں پر تعینات مرزائیوں اور قادیانیوں کو فارغ نہیں کرتی اس وقت تک تحریک ختم نبوت جاری رہے گی۔ پنجاب سرکار نے اس مسئلہ پر کمپرومائز کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں لیکن اسے کامیابی نہیں ملی اور وہ ان کا ایمان اور اسلامی حمیت کو ہر گز نہیں خرید سکتے،اپنے موقف پر پہلے ان کی طرح قائم ہیں، ہماری تحریک کو سیاسی رنگ دینے کی بھی حکومتی اداروں نے کوشش کی اور پنجاب حکومت کے ساتھ معاملات طے ہونے اور ڈیل کی افواہیںبھی اڑائی گئیں لیکن عوام ان ظالم حکمرانوں کی چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اگر انتظامیہ نے کسی بھی قسم کی رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو اس کی تمام تر ذمہ داری انھیپر ہو گی ہم ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیگی قیادت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف جا رہے ہیں۔ پیر حمید الدین سیالوی نے حکومت کو سات روز میں شریعت نافذ کرنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو پنجاب کے بازار، گلیاں اور کوچے بند کر دیں گے جب کہ ڈاکٹر اشرف آصف علی جلالی نے 27 جنوری سے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف آستانوں کو خریدنے کا کام بند کرو، آئندہ عام انتخابات ختم نبوت کے وفاداروں اور غداروں کے درمیان ہوں گے، چند مولویوں سے بیان دلوانے سے کام نہیں چلے گا۔ کانفرنس سے پیر حمید الدین سیالوی ، سنی اتحاد کو نسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، جے یو پی نورانی کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر زبیر، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف آصف جلالی، جماعت اہل سنت پنجاب کے صدر مفتی محمد اقبال چشتی، پیر مدثر تونسوی، سنی تحریک کے صدر بلال سلیم قادری، صاحبزادہ نظام الدین سیالوی، قومی اسمبلی سے مستعفی رکن غلام بی بی بھروانہ ، پیر شمس الرحمن مشہدی کاظمی، پیر سید شمس الدین بخاری، پیر خضر حسین شاہ چشتی، صاحبزادہ حسن رضا، بیرسٹر حسین رضا، مولانا محمد علی نقشبندی، صاحبزادہ محبوب الحسن سواگ شریف، پیر سید سعید احمد شاہ گجراتی ، صاحبزادہ حاملہ عزیز ، علامہ قاری زوار بہادر، صاحبزادہ رضائے مصطفی و دیگر علماء و مشائخ نے خطاب کیا۔
اب ذرا علماء و مشائخ اور مقررین کے الفاظ اور مطالبات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر سنجیدہ اور بنیادی نوعیت کے مطالبہ کو لے کر تحریک برپا کرنے کا اعلان فرما رہے ہیں مگر ایک بات سمجھ سے بالاتر تھی کہ جو کام ستر برس میں نہ ہو سکا اس کے لیے صرف سات دن کا الٹی میٹم دیا جا رہا تھا کیا یہ اتنا ہی سادہ اور آسان کام ہے کہ بس ایک مطالبہ اور الٹی میٹم پر تکمیل پذیر ہو جائے گا۔ بہرحال علماء و مشائخ کا انتباہ یہی تھا کہ سات دن میں یہ کام بہر صورت ہونا چاہیے ورنہ دما دم مست قلندر…!!!
لیکن ہوا کیا ؟؟؟ حکومت کو شدید اول روز ہی سے ان علماء و مشائخ کے بارے میں اندازہ تھا کہ رانا ثناء اللہ جن کے استعفیٰ کا مطالبہ یہ سب لوگ پوری شدومد سے کررہے تھے، وہ ذرائع ابلاغ کے سامنے ان مشائخ کے احترام تک کا لحاظ کئے بغیر کھلے بندوں ان کا تمسخر اڑاتے رہے اور ان کو پر کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دی اس الٹی میٹم کے بعد بھی باوجودیکہ یہ بڑا واضح اور دوٹوک پیغام لیے ہوئے تھا، حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ جسے انہیں یقین ہو کہ کچھ نہیں ہونے کا۔ دن پہ دن گزرتے چلے گئے مگر حکومت کی جانب سے کوئی سرگرمی دیکھنے میں آئی نہ کسی پریشانی کا اظہار ہوا… پھر جب سات دن کے الٹی میٹم کی مہلت کے اختتام میں ابھی دو روز باقی تھے کی اچانک خبر آئی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سیال شریف پہنچ گئے… سجادہ نشین پیر حمید الدین سیالوی کے گھٹنوں کو چھؤا ملاقات میں کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں ان کی شان میں کہیں چند جملے پیر صاحب کو خوشامد میں کہے… جس کے بعدپیر صاحب کے سب گلے جاتے رہے… خوشامد بڑے بڑوں کو بہت کچھ بھلا دیتی ہے… پیر صاحب کا جوش بھی جاگ کی طرح بیٹھ گیا… سب ٹائیں ٹائیں فش… ہنڈیا کا ابالختم ہوتے دیر نہیں لگی… پیر صاحب فوراً ہی رام ہو گئے… تھوڑی دیر بعد پیر صاحب وزیر اعلیٰ کے پہلو میں بیٹھے تھے اور شہباز شریف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور اس کے بغیر کسی مسلمان کا عقیدہ مکمل نہیں ہوتا۔ ختم نبوت پر ہم سب کا لازوال اعتماد اور اعتقاد ہے۔ قادیانی دائرہ سلام سے خارج ہیں اس میں کوئی دورائے نہیں۔ پاکستان کے آئین نے بھی اس حوالے سے واضح طور پر فیصلہ دیا ہے۔ معاملات اور تمام امور کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا پہلا اجلاس اگلے ہفتے لاہور میں ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں یہاں حاضر ہونے کے لیے بے تاب تھا تاہم ہر چیز کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ حمید الدین سیالوی کے ساتھ میرامروت مہربانی اور محبت کا رشتہ موجود ہے تاہم بعض سیاسی مخالفین اور بعض مذہبی طبقات نے ہمارے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ میری درخواست پر حمید الدین سیالوی صاحب نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میر ا اور میرے خاندان کا سیال شریف کے خاندان سے دیرینہ تعلق ہے اور سیال شریف کی خدمات نا قابل فراموش ہیں…!!!
سجادہ نشین سیال شریف، شہباز شریف کی آمد سے اتنے سے خود ہونے کہ سب کچھ بھول کئے۔انہیں اپنا الٹی میٹم یاد رہا نہ نفاذ شریعت کا مطالبہ اور نہ ہی شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفوں سے کم کچھ قبول نہ کرنے کے اعلانات۔ شہباز شریف کو دیکھ کر پیر صاحب کی بے خودی اس حد تک بڑھی کہ پہلے سے قومی و صوبائی اسمبلیوںسے اعلان کردہ استعفے بھی واپس لے لیے گئے اور حاصل کیا ہوا… ایک کمیٹی… جو تمام معاملات کا جائزہ لے گی… خدا جانے اس طرح کی کتنی کمیٹیاں وزیر اعلیٰ پہلے بنا چکے ہیں جن کی رپورٹیں اول تو پیش ہی نہیں ہو سکیں اور اگر کوئی رپورٹ کسی کمیٹی نے پیش بھی کر دی تو حکمران اسے رات گئی بات گئی… قرار دے کر طاق نسیاں کی نذر کر چکے ہیں اور یوں کتنے ہی معاملات چودھری شجاعت حسین کے ’’مٹی پائو‘‘ کے فارمولے کے تحت تہہ خاک دفن ہو چکے ہیں…!!!
آخری اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ نے پیر آف سیال شریف سے ملاقات کے چھ دن بعد ان سے وعدہ کردہ کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں چھے علماء جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے، کے علاوہ صوبائی وزیر اوقاف زعیم حسین قادری اور پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خاں شامل ہیں… کمیٹی کے دائرہ کار نہیں یہ بات شامل ہے کہ وہ رانا ثناء اللہ قادیانیوں کے حوالے سے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو دیئے گئے متنازع انٹرویو کی وضاحت طلب کر کے ان کا تحریری یا ویڈیو بیان ریکارڈ کرے اور اس کے بعد یہ فیصلہ سنائے کہ رانا ثناء اللہ کو اپنے اس انٹرویو پر سجادہ نشین سیال شریف پیر حمید الدین سیالوی سے مل کر معذرت کرنی چاہئے یا نہیں… گویا معاملہ صرف پیر صاحب سے معذرت طلبی تک محدود ہو گیا جب کہ قبل ازیں پیرصاحب ہی نہیں ان کے ہمراہ تحریک لبیک، سنی تحریک، سنی اتحاد کونسل اور بہت سے علماء و مشائخ متحد ہو کر یہ مطالبہ کیا تھا کہ سات دن میں شریعت نافذ کی جائے اور رانا ثناء اللہ صوبائی حکومت کی وزارت قانون کے منصب سے استعفیٰ دیں… اب جو صورت حال سامنے آئی ہے اس میں کہیں نفاذ شریعت کا ذکر ہے اور نہ رانا ثناء اللہ کے استعفے کا کاش ہمارے علماء و مشائخ دین اور شریعت کے نفاذ کے ضمن میں سنجیدگی اور متانت کا مظاہرہ کر سکیں… اے کاش…!!!

حصہ