نسلی عصبیت زدہ بھارت کا مکروہ چہرہ

کتاب:
India – An Aparthied State
(بھارت۔ ایک نسلی عصبیت زدہ ملک)
مصنف:
ڈاکٹر جنید احمد
صفحات:
453
قیمت:
2000 پاکستانی روپے
ناشر
:اے اے جے اے پبلشرز، پہلی منزل، پی آئی ڈی سی ہائوس، مولوی تمیزالدین خان روڈ، کراچی
طابع:
فضلی بک سپرمارکیٹ، کراچی
(کتاب کے جملہ حقوق مع ترجمہ بحق مصنف محفوظ ہیں
بھارت اور بھارتی معاشرے کے بارے میں بھارت، پاکستان اور دوسرے ممالک میں بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب بھارتی معاشرے کے تلخ حقائق سے آگہی کے لیے ایک مستند حوالے کی حیثیت سے سامنے آئی ہے۔
تعارفی تقریب کا احوال
عالمی حالاتِ حاضرہ کا تنقیدی نقطہ نظر سے احاطہ کرنے کے لیے ڈاکٹر جنید احمد تصنیفی میدان میں خم ٹھونک کر کھڑے ہیں اور ان کی کتابیں کامیابی اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں، اس سلسلے میں ان کی معرکۃ الآراء انگریزی کتاب “Creation of Bangladesh: Myth Exploded” کا افتتاح 16 دسمبر 2016ء کو ہوٹل میریٹ میں ہوا تھا۔ کتاب کا اردو ترجمہ ’’بنگلہ دیش کی تخلیق، فسانے اور حقائق‘‘ کے نام سے ہوچکا ہے اور خاکسار نے اُردو میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ یہ کتاب اشاعت کے مراحل میں ہے اور اگلے ماہ کے آخر تک شائع ہوجائے گی تاکہ حقائق کے کھوجی قارئین اپنی تسکین کے لیے اس کے مطالعے سے بہرہ ور ہوسکیں، اور اس کے مطالعے سے پاکستان کے خلاف بھارت اور بنگلہ دیش کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پردہ بھی چاک ہوجائے گا۔
کتاب کا تعارف
ڈاکٹر جنید کی اسی سلسلے کی دوسری کتاب India – An Aparthied State (بھارت۔ ایک نسلی عصبیت زدہ ملک) کی تقریب رونمائی 9 جنوری کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں شام 5 بجے، ریڈرز کلب کراچی کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں معروف دانشوروں، عسکری تجزیہ کاروں اور سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل(ر) معین الدین حیدر، وائس ایڈمرل (ر) عارف اللہ حسینی، اکرام سہگل، جاوید جبار اور مصنف ڈاکٹر جنید احمد نے خطاب کیا۔ یہ ایک پُرشکوہ اور کامیاب تقریب تھی جس میں صحافیوں، دانشوروں، اکابرین اور عسکری تجزیہ کاروں نے بھرپور شرکت کی۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے غیرملکی سفارت کاروں کو بھی دعوت دی گئی تھی مگر وہ بوجوہ اس میں شریک نہ ہوسکے۔ ریڈرز کلب کے صدر پروفیسر محمد رفیع نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کتاب کے مصنف کا تعارف پیش کیا اور تقریب کی غایت پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) کریم اللہ، سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر اور وائس ایڈمرل (ر) عارف اللہ حسینی نے کتاب کے متن، شامل مواد اور حقائق پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ آخر میں سوال جواب کے وقفے سے پہلے مصنف نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کتاب کی تصنیف کی ضرورت کی غرض سے حاضرین اور سامعین کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد یادگاری شیلڈ تقسیم کی گئیں، اور بعد ازاں مہمانوں کو لذتِ کام و دہن کی دعوت دی گئی، ان کی خاطر تواضع کی گئی۔
کتاب میں ڈاکٹر جنید احمد نے بھارت کے ہندو نیتائوں، برہمنوں اور حکمرانوں کے اصل چہرے نمایاں کیے ہیں اور حقائق کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہندو ذہنیت تنگ نظری اور گندی فطرت سے عبارت ہے، اور برہمن جو خود کو سب سے اعلیٰ و ارفع انسان تصور کرتے ہیں باقی سب ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اچھوت (Untouchable) گردانتے ہیں، ان کے ساتھ یا ہاتھ سے کچھ کھانا پینا تو بہت دور کی بات ہے ان سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے کیونکہ ان کے تئیں اس سے ان کا دھرم متاثر ہوتا ہے اور جسم ناپاک ہوجاتا ہے۔
ہندو مت (Hinduism) کیا ہے؟
فاضل مصنف کتاب کی تمہید میں ہندومت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ لفظ ایک برطانوی دانشور ڈبلیو۔ سی۔ اسمتھ (W.C. Smith) کا ایجاد کردہ ہے جس نے 1829ء میں پہلی مرتبہ ہندو مت کا لفظ استعمال کیا۔ جون ہیلی لکھتا ہے کہ یہ لفظ حقیقتاً انیسویں صدی میں معرضِِ وجود میں آیا۔ یہ ایک بدنام ناجائز اولاد تھا جس کا باپ ایک درمیانی عمر کا برطانوی تھا اور ماں یقینی طور پر بھارت ماتا تھی۔
ہرجت اوبرائے اس بارے میں کہتا ہے کہ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ہم آج جن افراد کو ہندو کہتے ہیں، یہ لفظ کسی وید، رامائن اور بھگوت گیتا اور دوسری ہندو مذہبی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔ صرف برطانوی سامراجی دور میں یہ لفظ برطانوی ایجاد کے طور پر سامنے آیا اور استعمال ہونا شروع ہوا۔ ہندو مت کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ ماضی کے دیومالائی قصوں اور بے بنیاد کہانیوں کا مجموعہ ہے جس کی کوئی تاریخی شہادت موجود نہیں ہے۔ ان میں بہت سے دیوتا اور دیویوں کا ذکر ہے جن کی نامانوس طریقوں سے عبادت کی جاتی تھی۔ اس کا معاشرہ انتہائی معتصبانہ نوعیت کا ہے جو نسلی امتیازی بنیاد پر قائم ہے۔ موجودہ دور میں ہندوستان کو ترقی اور امن کے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاہم ہندوستانی مملکت اور معاشرے کا تفصیلی اور داخلی طور پر جائزہ بہت کم لیا گیا ہے۔ بیشتر ہندوستانی معاشرہ ہندومت کا عملی مظہر ہے اور یہ ایک نسلی، عصبیتی اور امتیازی معاشرہ ہے۔ اس کتاب میں اس کے فلسفے، نظریات، عناصر کا تحقیقی مطالعہ کیا گیا ہے جو ساخت کے اعتبار سے ذات پات کے امتیازات کی بنیاد پر قائم ہے۔
یہ کتاب 13 ابواب پر مشتمل ہے اور اس میں مستند حوالے، اصل دستاویز اور مسودات کی نقول ضمیموں کی شکل میں شامل ہیں۔ پہلے باب میں ہندومت اور اس کے ذات پات کے مروجہ نظام کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں اپنے قیام سے اب تک ہندوستان کی اپنی اقلیتوں کو زورزبردستی سے قابو کرنے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے باب میں ہندو اکثریت اور مسلمانوں، نچلی ذات کے دلتوں، عیسائیوں اور سکھوں کے مابین فسادات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح ان اقلیتی فرقوں کے ساتھ ہندو اکثریت کتنا بدترین، ظالمانہ اور سنگ دلانہ سلوک کرتی آئی ہے۔ ساتویں اور آٹھویں باب میں ہندو معاشرے میں عورت کے مقام اور انسانوں کی ناجائز اور غیرقانونی خرید و فروخت اور نقل و حرکت کے بارے میں تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ نویں اور دسویں باب میں کشمیر کی جدوجہدِ آزادی اور ہندوستان میں ہونے والی مختلف بغاوتوں کا احوال ہے۔ گیارہویں باب میں ہندوستان کی اس شرانگیز حکمت عملی اور پالیسی کا احاطہ کیا گیا ہے جس کے ذریعے اس نے اپنے پڑوسی ملکوں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کے خلاف دہشت گردی اور دیگر کارروائیاں کی ہیں۔ بارہویں باب میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے کہ جنسی آزادی اور بے راہ روی کے دلدادہ مغربی ممالک ہندوستان کی حمایت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ بھارتی معاشرہ دیومالائی کہانیوں کی بنیاد پر جنسی افعال، جنسی آزادی اور ثقافت سے عبارت ہے۔ آخری اور تیرہویں باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی ترقی ایک فریبِ نظر یا سراب ہے اور ہندوستان اپنے رائج نسلی عصبیتی کردار کے سبب کبھی ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہوسکے گا۔
اس کتاب میں ہندو قوم کی بحیثیت قوم اجتماعی سنگ دلی، تنگ نظری اور گھنائونی عادات و اطوار اور گندگی میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں اور ان برائیوں کا جائزہ لے کر ان کے تدارک کے طریقے پر گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب اچھے گیٹ اپ کے ساتھ شائع کی گئی ہے اور گیارہ فونٹ سائز میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کا سرورق خاصا علامتی ہے اور اس میں ہندومت کے اہم پہلوئوں اور ہندو معاشرے کے خمیر سے اٹھنے والے تعفن سے دوسری اقلیتوں کے متاثرہ مظاہر کو تصویری شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ مختصراً اس کتاب میں ہندوستان اور ہندو معاشرے کا ایک بھرپور اور تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جو قارئین کے علم میں خاصے اضافے کا سبب ہوگا، اور مودی کی موجودہ ہندوستانی متعصب اور تنگ نظر حکومت، انتہا پسند ہندوئوں کے قول و فعل کے کھلے تضاد اور مکروہ اور گھنائونے کردار اور عمل سے دنیا کو آگہی ملے گی۔

حصہ