نصیحت

اے ہند کے سیاست دانو! ابوبکرؓ نے دنیا کی عظیم سلطنت کی سربراہی فقیری میں درویشی کے ساتھ کی تھی۔ ان کی سوانح حیات پڑھو اور ان کے درخشاں چراغوں سے روشنی حاصل کرو۔ (موہن داس کرم چند گاندھی، اخبار ہریجن 1937ء)
ہم مسلمان ہیں… قائداعظم
میں چاہتا ہوں کہ آپ بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان وغیرہ کی اصطلاحوں میں بات نہ کریں۔ میں مانتا ہوں کہ یہ اپنی جگہ و حدتیں ہیں۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کیا آپ وہ سبق بھول گئے ہیں جو تیرہ سو سال پہلے آپ کو سکھایا گیا تھا؟ اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں کہوں گا کہ یہاں آپ سب باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں بنگال کے اصل باشندے کون تھے؟ وہ ہرگز نہیں جو آج کل بنگال میں رہتے ہیں۔ پس یہ کہنے کا کیا فائدہ ہے کہ ہم پنجابی ہیں، ہم سندھی ہیں، ہم پٹھان ہیں؟ نہیں! ہم مسلمان ہیں۔ (قائداعظم کا ڈھاکا میں جلسۂ عام سے خطاب۔ 21 مارچ 1948ء)
نمک اور نوشیروان
کہتے ہیں ایران کا مشہور بادشاہ نوشیروان، جو اپنے عدل و انصاف کے باعث نوشیروان عادل کہلاتا تھا، ایک بار شکار کے لیے گیا۔ شکار گاہ میں اس کے لیے کباب تیار کیے جارہے تھے کہ اتفاق سے نمک ختم ہوگیا۔ شاہی باورچی نے ایک غلام سے کہا کہ قریب کی بستی میں جا اور وہاں سے نمک لے آ۔
بادشاہ نے یہ بات سن لی۔ اس نے غلام کو قریب بلایا اور اسے تاکید کی کہ قیمت ادا کیے بغیر نمک ہرگز نہ لانا۔ غلام بولا: حضورِ والا! ایک ذرا سے نمک کی کیا بات ہے۔ کسی سے مفت لے لوں گا تو کیا فرق پڑے گا!
نوشیروان نے کہا: ضرور فرق پڑے گا۔ یاد رکھو! ہر برائی ابتدا میں ایسی ہی معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن پھر وہ بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی بن جاتی ہے کہ اسے مٹانا آسان نہیں ہوتا۔
حضرتِ سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ درس دیا ہے کہ کسی بھی برائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے۔ معمولی برائی ہی بڑھ کر بہت بڑی برائی بن جاتی ہے۔ خاص طور پر حکمرانوں کو تو اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے، کیوں کہ ان کے ماتحت برائی میں ان کی تقلید زیادہ کرتے ہیں۔
حضرت ثعبان ثوریؓ
آپ مشہور محدث ہیں، اور آپ سے 127 احادیث مروی ہیں، اور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں جنہیں رسولِؐ خدا نے خاندانِ حمیر سے آزاد کرایا تھا، 45ھ میں رملہ (شام) میں انتقال ہوا۔
٭ خوش خوئی خدا کی ناراضی دور کرتی ہے۔
٭ خدا کی شناخت اس کو ہوگی جو خلقت سے کنارہ کش رہے اور عارف ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔
٭ تجربہ ہی سب سے اچھا استاد ہے۔
٭ اپنے دل کو ہرگز نہ گرائو۔ دل چھوڑ بیٹھے تو دنیا لٹا بیٹھے۔
٭ جس شخص کے دل میں نہ مذہب کے لیے پیار ہے، نہ دولت کمانے کا خیال ہے، نہ کام کی خواہش ہے بلکہ ان چیزوں کا احساس بھی نہیں، اس کا زندہ رہنا فضول ہے کیوں کہ زندگی انہی کاموں کے لیے ہے۔
٭ انسان ہوکر ایسے کام نہ کرو جس سے انسانیت کا دامن داغ دار ہوجائے۔
٭ مبارک ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کے لیے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں۔
٭ زندگی کی مصیبتیں ہلکی کرنا چاہتے ہو تو گناہ نہ کرو۔
حیرت انگیز بات
ملکہ وکٹوریہ دنیا کے پانچویں حصے پر حکمران تھی۔ ایک روز اُس نے اپنے اتالیق اور وزیراعظم لارڈ ملبورن سے دریافت کیا کہ آپ نے تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ کیا ہے، اس میں آپ کو سب سے حیرت انگیز بات کیا نظر آئی؟ لارڈ ملبورن نے بلا تامل جواب دیا: ’’اسلام کا عروج‘‘۔ اس پر ملکہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس کے اسباب پر بھی غور کیا ہے؟ اس نے کہا: میری سمجھ میں تو ایک ہی بات آتی ہے کہ ان کے پیغمبر نے انہیں ہدایت کے لیے ایک کتاب (قرآن مجید) دی تھی۔ جب تک وہ اس پر عمل پیرا رہے، ترقی کی تمام راہیں ان پر کھلی رہیں۔ پھر جیسے ہی انہوں نے اس کتاب سے بے رخی برتنا شروع کی ان کا زوال ہونے لگا۔ اگر کسی زمانے میں تاریخ نے اپنے کو دوہرایا اور مسلمانوں نے ایک قوم کی حیثیت سے پھر قرآن مجید کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی انفرادی اور قومی زندگی اس کے مطابق بنا لی تو ہم کیا ساری دنیا اُن کے زیر نگیں آجائے گی۔
(ماہنامہ پھول۔اگست1996ء)
جوابِ آں غزل
تلوک چند محرومؔ نے کشمیر کے متعلق جوش ملیح آبادی کی یہ رباعی:
ممنوع شجر سے لطفِ پیہم لینے
عصیاں کی گھنی چھائوں تلے دم لینے
آواز دو کاشمیر آ پہنچا جوشؔ
اللہ سے انتقامِ آدم لینے
جب پہلی بار کسی اردو اخبار میں پڑھی تو جذباتی طور پر انہیں کچھ ایسا صدمہ پہنچا کہ اسی وقت اس کے جواب میں بے اختیار رباعی کہہ دی:

کشمیر میں لطفِ جام لینے والے
عصیاں کے شجر سے کام لینے والے
اللہ کی لاٹھی میں نہیں ہے آواز
اللہ سے انتقام لینے والے
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

اکبر الٰہ آبادی

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
بحرِ ہستی میں ہوں مثالِ حباب
مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
اتنی آزادی بھی غنیمت ہے
سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں
شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں
میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں
آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج
شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں
یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ
دل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں

حصہ