پاکستان میں پہلے جدید بریل پریس کا افتتاح

نیشنل بک فائونڈیشن کا قیام 1972ء میں عمل میں آیا اور ان 45 برسوں میں لاکھوں کتابیں شائع کرکے اس ادارے نے اپنی اہمیت کو منوا لیا ہے۔ فروغِ اردو، اشاعتِ کتب اور فروغ ِ عاداتِ مطالعہ و کتب بینی میں اس کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنوری 2016ء میں معروف ادیب و صحافی عرفان صدیقی مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی نگرانی میں نیشنل بک فائونڈیشن (NBF) کے آنے کے بعد اس کی کارکردگی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ علمی، ادبی حلقوں کی خوش بختی کہ اس وزارت کو جو سیکرٹری انجینئر عامر حسن ملے انہوں نے منصوبوں میں روڑے اٹکانے کے بجائے ’’سہولت کاری‘‘ کا فریضہ انجام دیا، چنانچہ ملک بھر میں 3 سے 5 روزہ قومی کتب میلے، ’’شہر کتاب‘‘ کے عنوان سے اسلام آباد میں مستقل کتاب میلے کا سلسلہ، این بی ایف، ماڈل بک شاپس، ملک کے 24 بڑے بک اسٹالز پر این بی ایف کی کتابوں کی رعایتی نرخوں میں فروخت، مختلف اداروں کو کتب کا عطیہ، جیلوں میں قیدیوں کو کتب کی فراہمی، ریڈرز بک کلب کے ذریعے ممبرشپ کے تحت 55 فیصد رعایت، لاہور، کراچی ائرپورٹ پر ٹریولرز بک کلب، ملک کے پانچ بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر ٹریولرز بک شاپس، اور اب ملک کے دیگر علاقوں میں جہاں این بی ایف کی شاخیں نہیں ہیں وہاں اس کے ریجنل آفس قائم کیے جارہے ہیں۔ چنانچہ اسی سال سندھ میں دادو، آزاد کشمیر میں مظفر آباد، پنجاب میں ملتان، اور فاٹا اور گلگت بلتستان کے عوام بھی ان سہولیات سے مستفید ہوں گے۔
قائداعظم اور علامہ اقبال پر اردو، انگریزی و دیگر علاقائی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں کے مصنفین کو نقد انعامات دینے کا سلسلہ بھی خوش آئند ہے، نیز بڑے اہلِ قلم اصحاب کے نام سے گوشے بھی قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کا سبب ہیں۔ گزشتہ دنوں تیونس اور پاکستان میں علم و ادب اور فن و ثقافت کے شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق ہوا، تیونس کے سفیر عادل الحربی کی وزیراعظم کے مشیر قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی سے اُن کے ڈویژن آفس میں ملاقات میں طے پایا کہ اس سال اپریل میں منعقد ہونے والے کتب میلے میں تیونس بھی اپنا اسٹال لگائے گا۔ سفیر محترم نے ’’گوشۂ ابن خلدون‘‘ کے قیام کو سراہا اور کہا کہ تیونس میں بھی ’’گوشۂ اقبال‘‘ کا قیام عمل میں آرہا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات میں اضافہ ہوگا۔ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اس سے قبل ترکی میں بھی ’’ارسیکا‘‘ کے تعاون سے بین الاقوامی خطاطی کی ایک نمائش کرچکا ہے۔
کراچی میں نیشنل بک فائونڈیشن کے ریجنل آفس واقع لیاقت نیشنل لائبریری کی خوبصورت عمارت میں گزشتہ دنوں پاکستان کے پہلے جدید بریل پریس کا افتتاح ہوا، اس تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی تھے۔ یہ جدید بریل پریس ایک گھنٹے میں 300 سے زائد صفحات پرنٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس مرکز کو جسے میں ’’ گوشۂ نور‘‘ کہتا ہوں، پاکستان کا سب سے بڑا بریل کتابوں کی اشاعت کا مرکز بنائیں گے جس کے لیے حکومت نے ساڑھے تین کروڑ روپے رکھے ہیں۔ انہوں نے نیشنل بک فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی بھی تعریف کی کہ ان کے ادارے نے گزشتہ سال 106 کتب شائع کرکے پاکستانی پبلشرز کے لیے بھی ایک مثال قائم کردی، دیکھا جائے تو انہوں نے ساڑھے تین دن میں ایک کتاب شائع کی۔ انہوں نے بریل لکھنے، اس کا پروف پڑھنے والوں کے بھی تمام مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا اور ان کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنے تمام جائز مطالبات یکجا کریں جنہیں وہ حل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈویژن میں 12ادارے آتے ہیں جو اب تیزی سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے قائداعظم اکادمی کے خواجہ رضی حیدر اور اردو لغت بورڈ کے عقیل عباس جعفری کے پروجیکٹ کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اردو لغت بورڈ نے 22 ہزار صفحات میں درج دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ پر مشتمل ارو لغت کو آن لائن کرنے کا کام بھی مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان میں کتاب کلچر فروغ پا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اس سال نیشنل بک فائونڈیشن نے 34کروڑ کی کتابیں فروخت کیں۔ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے کہا کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ فروغ کتب اور کتب بینی کے لیے ہونے والے اقدامات میں مشکلات کے بجائے سہولت فراہم کریں اور یوں آپ مجھے ’’ سہولت کار‘‘ کہہ سکتے ہیں جس کی وجہ سے 12علمی، ادبی، ثقافتی اداروں میں تیزی سے کام آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بصارت سے محروم افراد کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی یقین دلایا کہ ان کے مسائل وہ ترجیحی بنیادوںپر حل کریں گے۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ نیشنل بک فائونڈیشن گزشتہ 36 برسوں سے بصارت سے محروم افراد کے لیے کتب شائع کررہی ہے، ادارے کا یہ اعزاز ہے کہ وہ بریل میں مکمل قرآن مجید اور اردو ترجمے والا قرآن پاک شائع کرتا ہے، اور ہم بھارت، بنگلادیش، سری لنکا، سعودی عرب سمیت 51 ملکوں میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے نیشنل بک فائونڈیشن کی کتب بھجواتے ہیں ۔ بریل قرآن پاک کے ایک سپارے کا ہدیہ صرف 10روپے ہے، جلد ہی ہم کراچی میں بڑے کتب میلے کا انعقاد کررہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں کتاب کا لکھا جانا اور ان کو شائع کرنا بہت ضروری ہے، اور آج بریل کتب کی اشاعت کے لیے اس جدید مشین کا لگنا ان اداروں کے سربراہوں کی علم دوستی کا نتیجہ ہے۔ عرفان صدیقی نے قائداعظم اکادمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اردو لغت بورڈ کو بھی فعال کیا، میں ان کی گراں قدر خدمات کی تعریف و تائید کرتا ہوں ۔
معروف نقاد مبین مرزا نے کہا کہ آج جن کتابوں کی اشاعت کے لیے پریس کا افتتاح ہورہا ہے، لوگ انہیں دل کی آنکھوں سے پڑھیں گے۔ جس معاشرے میں کتب بینی کا رواج کم ہورہا ہو اسی معاشرے میں عرفان صدیقی، انجینئر عامر حسن، جنید اخلاق اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید جیسی شخصیات فروغ کتب بینی کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی یہ تحریک تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کا اندازہ ان کے اداروں کی شائع شدہ کتب اور ان کی فروخت سے کیا جاسکتا ہے۔ بصارت سے محروم افراد کی ایسوسی ایشن کے سابق عہدیدار عامر اشرف نے بتایا کہ بریل ایسا سسٹم ہے جسے چھو کر پڑھا جاتا ہے، دنیا کی ہر زبان میں اس کا لٹریچر موجود ہے۔ آج جدید مشین کا افتتاح بریل پڑھنے والوں کے لیے بڑی خوش خبری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 16اکتوبر 2008ء کو وزیراعظم سے ملے تھے اور اپنے مطالبات رکھے تھے۔ عرفان صدیقی صاحب! اب ہمیں ایک بار پھر ملوا دیں تاکہ ہمارے مسائل حل ہوسکیں۔ جواباً عرفان صدیقی اور سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ تقریب کی خوبصورت نظامت کرتے ہوئے معروف صحافی، ادیب و شاعر حنیف عابد نے کہا کہ نیشنل بک فائونڈیشن کتاب کلچر کے لیے ایک استعارے کے طور پر جانی جاتی ہے، یہ علم کی ترویج کا ایک بڑا ذریعہ ہے جو نہ صرف عام افراد کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی جو انگلیوں سے پڑھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس موقع پر شعبہ بریل سے تعلق رکھنے والے کارکنان ثمینہ رحمان، محمد فیصل اور عامر ایاز کو خصوصی توصیفی اسناد دی گئیں۔
تقریب کی ابتدا بریل قرآن مجید کے پروف ریڈر عرفان ایاز نے تلاوتِ کلام پاک سے فرمائی، جبکہ سینئر پروف ریڈر محترمہ ثمینہ رحمن نے نعتِ رسولؐ پیش کی۔ تقریب کا خوبصورت اہتمام کراچی ریجن کے علی حیدر بھٹو، محسن علی ناریجو اور “سفیر کتاب” سلطان خلیل نے کیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں اہلِ قلم اصحاب نے شریک ہوکر علم دوستی کا ثبوت دیا۔ دورانِ عصرانہ عرفان صدیقی، انجینئر عامر حسن، ڈاکٹر انعام الحق جاوید اہلِ قلم میں گھل مل گئے اور تبادلہ خیال کیا۔ تقریب میں محمود شام، شکیل عادل زادہ، محترمہ ناصرہ زبیری، راشد نور، عثمان دموی، شاہکار کے ریحان فاروقی، شاہد محی الدین، عبدالمعیز، آرٹسٹ احمد انور و دیگر نے بھی شرکت کی۔ کئی ادیب و شعرا نے اپنی کتابیں اور ریحان فاروقی نے شاہکار کا تازہ شمارہ مہمانوں کو پیش کیا۔ تمام شرکاء کے لیے پُرتکلف عصرانے کا اہتمام کیا گیا۔

حصہ