پاکستان کا سیاسی کلچر اور شائستگی کا فقدان

اس وقت ملکی سیاست میں جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ جمہوریت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اگرچہ یہ رجحان ماضی میں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا، مگر اب سوشل میڈیا کے ذریعے جس انداز سے نجی میڈیا اور ابلاغ کے مواقع سامنے آئے ہیں اُس مسئلے کی سنگینی بڑھا دی ہے۔ اصولی طور پر ہماری جمہوریت، اہلِ سیاست اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کو داخلی اور خارجی محاذ پر تعمیری سیاست کے تناظر میں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا، اس کا فقدان غالب نظر آتا ہے۔ عمومی طور پر اہلِ سیاست اور سیاسی نظام معاشرے میں ایک بہتر، مثبت اور متبادل تبدیلی کے امکانات کو پیدا کرتے ہیں۔ یہی ان کا اصل فریضہ ہے لیکن شاید یہ بات ہمارے اہلِ سیاست کی سمجھ میں نہیں آتی اور وہ خود ایسی سیاست کو طاقت دے رہے ہیں جو ان کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے حق میں بھی نہیں۔ لیکن یہ سب کچھ کیسے بدلے گا؟ یہی بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو غور وفکر کا متقاضی ہے۔
سیاست سے منسلک افراد ملک میں جمہوریت کی حکمرانی پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں، لیکن وہ یہ بنیادی نکتہ بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت اور سیاست کی بنیاد اخلاقی اصولوں، تہذیب، تمدن، کلچر، شائستگی، احترام اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا، اور ایک دوسرے کی کردارکشی اور الزامات کی سیاست سے گریز کرکے تعمیری سیاست کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یہی عمل بنیادی طور پر ملک میں سیاست، جمہوریت اور جمہوری قوتوں کی سیاسی و اخلاقی ساکھ کو پیدا کرکے عوام میں جمہوریت کا مقدمہ مضبوط بناتا ہے۔کیونکہ عوام کو لگتا ہے کہ ہماری جمہوری سیاست آپس میں محاذ آرائی کے بجائے ہمارے حقیقی مسائل پر توجہ دیتی ہے۔ اسی طرح جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جمہوریت اور سیاست عوام میں سیاسی شعور اور تدبر پیدا کرتی ہیں تو اس کا عملی نمونہ بھی مہذب سیاست سے ہی جڑا ہوا ہوگا۔ مگر ایک خاص سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت سیاست کو عوامی مفادات سے الگ رکھ کر ایک طبقے کے مفادات کو تقویت دی جارہی ہے۔
اگر ہم مجموعی طور پر ملکی سیاست کا جائزہ لیں تو اس میں سب کچھ ملے گا، سوائے جمہوریت کے حقیقی منظرنامے کے۔ اہلِ سیاست اور ان سے منسلک لوگ یہاں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو، اپنی مفادات پر مبنی سیاست میں بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہماری سیاست میں اخلاقیات اور شائستگی کا جنازہ نکل گیا ہے اور اس کی جگہ بدتمیزی، بدتہذیبی اور گھٹیا نوعیت کی ذاتیات پر مبنی الزام تراشی کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے۔ ہمارے اہلِ سیاست اور اہلِ دانش سیاسی جلسوں، تقریروں، ٹی وی ٹاک شوز سمیت مختلف مجالس میں ایک دوسرے کے بارے میں جو لب ولہجہ اختیار کرتے ہیں وہ ایک مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ یا سیاست اخلاقی اصولوں کو بھول چکی ہے یا ان کی تربیت کے عمل میں اب خاصے نقائص پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے سیاسی اور اخلاقی زوال کی بھی کہانی ہے۔ یہ رجحان محض سیاست تک محدود نہیں، بلکہ مجموعی طور پر ہر شعبے میں لب ولہجے کا زوال غالب نظر آتا ہے۔
اہلِ دانش کی سطح پر ہم یہ بیانیہ آگے بڑھاتے ہیں کہ سیاست قوموں کو آگے کی طرف لے جاتی ہے، مگر ہماری سیاست ہمیں آگے بڑھانے کے بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس کی وجہ جہاں سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرنے والے خارجی مسائل ہیں، وہیں سیاست کے داخلی مسائل بھی خرابی کی اہم وجہ ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم خارجی مسائل کا تو بہت ماتم کرتے ہیں، مگر اپنی داخلی کمزوریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت اور سیاست میں جہاں خارجی مسائل بڑھ رہے ہیں، وہیں داخلی مسائل میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے، لیکن شاید ہمیں اس کا ادراک نہیں۔
ملک میں محاذ آرائی، الزا م تراشی اور گالی گلوچ پر مبنی سیاست نے پانچ طریقوں سے ملکی جمہوری سیاست کا مقدمہ کمزور کیا ہے۔
اوِل: سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کے پاس عوامی مسائل سے نمٹنے اور ان کے مفادات کو فوقیت دینے کا کوئی ایجنڈا، فہم یا تدبر نہیں۔
دوئم: اس طرز کی سیاست سے عام آدمی سیاست اور جمہوریت سے اپنے آپ کو لاتعلق رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سارا کھیل ذاتی مفادات پر مبنی ہے۔
سوئم: معاشرے میں یہ مسائل مجموعی طور پر ایک ایسے کلچر کو متعارف کرواتے ہیں جس میں لعن طعن اور اسکینڈلز کی سیاست کو فوقیت حاصل ہوتی ہے، یہی سیاست کا مجموعی کلچر بھی بن جاتا ہے۔
چہارم: اہلِ سیاست اپنے آپ کو عوام کے جذبات کو ابھار کر عوام کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
پنجم: اہلِ دانش کی فکری مجالس اور میڈیا میں ریٹنگ کی بنیاد پر کھیلے جانے والے کھیل میں بھی الزام تراشیوں پر مبنی ایجنڈا اس حد تک غالب ہوگیا ہے کہ کچھ باقی نہیں بچا۔
مسئلہ اس نئی نسل کا ہے جسے ہماری سیاسی قیادتیں ایک ایسے سیاسی کلچر سے متعارف کروا رہی ہیں جو کسی بھی صورت میں جمہوریت کو مضبوط نہیں بناسکے گا۔ نئی نسل کے مزاج اور ذہنوں میں بھی یہی کچھ بھرا جارہا ہے کہ ہمیں اپنے مخالف نکتہ نظر کے لوگوں سے مکالمہ کرنے، انہیں برداشت کرنے، رواداری پر مبنی سوچ کو اجاگر کرنے، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے، سیاسی وجود کو تسلیم کرنے، شائستگی اور تہذیب پر مبنی کلچر اور سوچ کو فروغ دینے کے بجائے منفی انداز کو اپناکر وہی کچھ کرنا چاہیے جو اب سیاست میں غالب نظر آتا ہے۔ یہ سب کچھ لاشعوری طور پر نہیں ہورہا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہورہا ہے، کہ عوام کو حقیقی نوعیت کے مسائل سے نجات دلانے کے بجائے انھیں غیر حقیقی مسائل اور ذاتیات پر مبنی سیاست میں الجھاکر حکمران اور بالادست طبقات اپنے ذاتی مفادات کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
اہلِ سیاست جب یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ملک میں ایک خاص سوچ اور فکر کو بنیاد بناکر سیاست، جمہوریت اور سیاست دانوں کو گالی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ اس بات میں وزن ہے، یقینی طور پر غیر سیاسی قوتیں جمہوری قوتوں کے خلاف اپنا ایجنڈا رکھتی ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ اہلِ سیاست خود وہ تمام مواد اپنے طرزِعمل سے پیدا کررہے ہیں جو غیر جمہوری قوتوں کے حق میں جاتا ہے۔ آپ نوازشریف، عمران خان، آصف زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن سمیت تمام سیاست دانوں کے اپنے مخالفین کے بارے میں لب ولہجہ کا تجزیہ کریں تو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا، اور لگتا ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کا قائد اپنی جماعت میں موجود اُن لوگوں کا کڑا احتساب نہیں کرتا یا انھیں نہیں روکتا جو اپنے مخالفین کے خلاف سیاسی و اخلاقی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ بعض سیاست دان براہِ راست اور بعض دوسروں کی مدد سے اپنے مخالفین کی مخالفت میں اُن کی ذات اور گھروں تک گھس جاتے ہیں، اور بدقسمتی سے اس میں گھروں کی عورتوں، بیٹیوں، بہنوں اور بہوئوں سمیت سیاسی خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ یہ سب کچھ اس کھلے انداز اور بے شرمی یا ڈھٹائی سے کیا جاتا ہے کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیںکہ عورتوں کو سیاست میں بطور ہتھیار استعمال کرکے ہم کیسی سیاست کا فروغ چاہتے ہیں!
سیاست عملی طور پر ایک اخلاقی دائرۂ کار کے تحت کی جاتی ہے یا کی جانی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں میں یقینی طور پرآگے بڑھنے کے لیے قواعد وضوابط ہوتے ہوں گے، لیکن اگر ان پر عملدرآمد نہ کیا جائے تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ ایک مسئلہ سیاسی نظام میں لب ولہجہ کی تلخی یا ناشائستگی کی وجہ سے ردعمل کی سیاست کا بھی ہے۔ جب ایک جماعت یا سیاست دان کیچڑ اچھالتا ہے تو دوسرا اُس سے دو قدم آگے بڑھ کر اور زیادہ تلخیاں پیدا کرتا ہے۔
عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ اہلِ دانش کا کردار مؤثر دبائو پیدا کرکے اہلِ سیاست کی سمت کو درست کرنا اور انھیں حقیقی سیاست اور جمہوری طرزعمل کی طرف لانا ہوتا ہے۔ لیکن میڈیا کے ٹاک شوز بھی مکالمے کے کلچر کو فروغ دینے کے بجائے ایک دوسرے پر وہ لعن طعن کرتے ہیں کہ لگتا ہے اپنی دانش بھول گئے ہیں۔ اہلِ سیاست یہ دلیل دیتے ہیں کہ میڈیا میں ہمیں لڑایا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ایجنڈے پرکام ہی کیوں کرتے ہیں، اور کیوں اپنی عقل استعمال نہیں کرتے؟ سیاسی کارکنوں کی تربیت اہم نکتہ ہے، لیکن اس پر بھی اہلِ سیاست قومی جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایک زمانے میں ہماری نظریاتی جماعتیں اپنے کارکنوں کی تربیت کے لیے بڑی دلجمعی سے کام کرتی تھیں، مگر اب عام سیاسی جماعتیں تو کجا، خود نظریاتی اور فکری جماعتیں بھی اخلاقی زوال کا شکار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کارکنوں کو نظراندازکرکے ایک مخصوص طبقے کو آگے کردیا ہے جو سیاسی کلچر کی مضبوطی کے بجائے ایک ایسا کلچر متعارف کروا رہے ہیں جو عوام کو سیاست اور جمہوریت سے لاتعلق کرنے کا باعث بنتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے طرزِعمل میں شائشتگی کا کلچر کیسے آگے بڑھایا جائے؟ اصولی طور پر تو یہ کام خود سیاسی جماعتوں اور اُن کی قیادتوں کو کرنا چاہیے۔ لیکن اگر وہ یہ کام کرنے کے لیے تیار نہیں تو اہلِ دانش اور رائے عامہ بنانے والے فکری اداروں کو آگے بڑھ کر ایک بڑے قومی سیاسی و اخلاقی نصاب کی بات پر دبائو بڑھانا چاہیے جو نفرت، انتقام اور غیر شائستگی کی سیاست کو پیچھے دھکیلے۔ ہمیں قومی سیاست کے اہم مسائل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری اور غیر سنجیدہ مسائل میں الجھ کر خود کو بھی خراب کریں اور قومی جمہوری سیاست کو بھی نقصان پہنچائیں۔ لیکن یہ کام مؤثر دبائو کی سیاست کو پیدا کیے بغیر ممکن نہیں، اور اسی پر ہماری توجہ بھی ہونی چاہیے۔کیونکہ آج ملکی سیاست کو ایک ایسے سیاسی اور جمہوری کلچر کی ضرورت ہے جو قومی سطح پر موجود حقیقی مسائل سے نمٹنے میں مدد دے اور ہم بہتر معاشرے کی تشکیل کی بحث کو آگے بڑھاسکیں۔

حصہ