کابل : پنج ستارہ ہوٹل پر ایمبولینس حملہ

افغان دارالحکومت کابل میں ایک ہفتے کے دوران دہشت گردی کے تین پے درپے واقعات سے جہاں ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، وہیں ان واقعات نے ایک بار پھر یہ بات بھی ثابت کردی ہے کہ امریکہ اور نیٹو پچھلے سولہ برسوں کے دوران اپنی تمام تر جدید ٹیکنالوجی اور جنگی سازوسامان سے اگر کابل کو محفوظ نہیں بنا سکے ہیں تو باقی افغانستان کی کیا صورت حال ہوگی۔ واضح رہے کہ کابل کے حالیہ واقعات سے پہلے بھی اگر ایک طرف افغانستان کے طول و عرض میں افغان سیکورٹی فورسز پر حملوں سمیت بدامنی کے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہے ہیں تو دوسری جانب کابل شاید دنیا کا وہ واحد بدقسمت ترین دارالحکومت ہے جسے پچھلے چالیس برسوں کے دوران ایک لمحے کے لیے بھی سُکھ اور چین نصیب نہیں ہوسکا ہے۔ پچھلے سال مئی اور اکتوبر میں بدامنی کے بدترین واقعات کے بعد گزشتہ ہفتے کابل شہر کے نواح میں واقع پنج ستارہ ہوٹل پرل کانٹی نینٹل پر ہونے والے حملے میں چالیس کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں مقامی افراد کے علاوہ بعض غیر ملکی بھی شامل تھے۔ ان ہی غیر ملکیوں میں سے ایک، امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی مہم کے مشیر ریک گیٹس کے ترجمان گلین سیلج بتائے جاتے ہیں، جبکہ ان کے علاوہ بھی اس واقعے میں چار سے چھے دیگر امریکیوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ اس حملے میں امریکہ کے بعض دیگر اتحادی ممالک کے افراد کے لقمۂ اجل بننے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب متذکرہ ہوٹل میں آئی ٹی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس ہورہی تھی اور اس میں شرکت کے لیے کئی غیر ملکی مندوبین ہوٹل پرل کا نٹی نینٹل میں ٹھیرے ہوئے تھے، اور حملہ آوروں کا اصل نشانہ یہی غیر ملکی مندوبین تھے۔
دوسرا حملہ کابل کے ریڈ زون میں واقع وزارتِ داخلہ کی پرانی عمارت کے قریب کیا گیا ہے جس میں سو سے زائد افراد جاں بحق اور ڈھائی سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایمبولینس کے ذریعے کیا گیا ہے جس میں بھاری مقدار میں آتش گیر مادہ چھپایا گیا تھا۔ افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایمبولینس کو ریڈ زون کی ایک چیک پوسٹ پر سرسری چیکنگ کے بعد اس بنیاد پر جانے کی اجازت دی گئی کہ اس میں ایک سیریس مریض موجود ہے، البتہ اسے دوسری چیک پوسٹ پر روک کر اس کی تلاشی لی جارہی تھی کہ اس دوران ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے سے 103 افراد جاں بحق جبکہ ڈھائی سو کے قریب زخمی ہوگئے جن میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
کابل کا تیسرا خون آلود واقعہ مارشل فہیم ڈیفنس یونیورسٹی میں زیرتربیت افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں پر کی جانے والی فائرنگ اور خودکش دھماکوں کی صورت میں رونما ہوا ہے جس کی اوّلذکر دونوں حملوں کے برعکس داعش نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسی طرح افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نے ان تینوں واقعات کی ذمہ داری حسبِ عادت پاکستان پر ڈالتے ہوئے بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے ان واقعات کو پاکستان پر پڑنے والے امریکی دبائو کا نتیجہ اور ردعمل قرار دیا ہے، حالانکہ پاکستان اعلیٰ سطح پر نہ صرف ان تینوں واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرچکا ہے بلکہ اس نے دکھ اور درد کی ان گھڑیوں میں افغان حکومت اور عوام کو ہر ممکن امداد اور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
کابل میں تخریب کاری کے حالیہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب ایک جانب امریکہ یک طرفہ طور پر محض اپنی طاقت اور دھونس پر مبنی نظریے اور ماضی میں غیر منطقی فیصلوں کے نتیجے کے تناظر میں پاکستان سے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالنے میں مدد دینے کے لیے مسلسل ڈومور کا مطالبہ کررہا ہے، تو دوسری طرف امریکہ افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کی مرضی اور خواہش کے برعکس، حتیٰ کہ شمالی اتحاد کو چھوڑ کر باقی تمام افغان دھڑوں کی مخالفت کے باوجود بھارت کو افغانستان میں پائوں جمانے کی شہہ اور موقع دے رہا ہے،
جبکہ تیسری جانب پچھلے دنوں اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھارت کا ایک ہفتے پر مشتمل ایک ایسا طویل دورہ کرچکے ہیں جس میں دوطرفہ اقتصادی رابطوں کے ساتھ ساتھ دفاع اور خاص کر انٹیلی جنس اور افغانستان میں بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ کردار کے حوالے سے تفصیلی امور پر اصولی اتفاق کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جب اسرائیل کے وزیراعظم بھارت کا دورہ کررہے تھے تو ان ہی دنوں دنیا کی ایک درجن سے زائد خفیہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا افغانستان سے متعلق سربراہ اجلاس اسرائیل میں ہورہا تھا۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ افغانستان میں ویسے تو پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ناموں اور کاموں کے ذریعے مصروفِ عمل ہیں، لیکن گزشتہ پندرہ سولہ برسوں کے دوران جب یہاں نیٹو اور ایساف کے پلیٹ فارم سے 48 ممالک کی افواج موجود ہیں تو یہاں نہ صرف ان ممالک کے مختلف خفیہ ادارے سرگرمِ عمل ہیں، بلکہ وہ ممالک جو یہاں امریکہ اور نیٹو کی موجودگی سے خوش نہیں ہیں جن میں روس، چین اور ایران سرفہرست ہیں، ان کی خفیہ ایجنسیاں بھی یہاں مکڑی کے جالے کی طرح نہ صرف اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں بلکہ یہاں ہونے والی سرگرمیوں پر بھی ہر ایجنسی اپنی استطاعت اور مفادات کے تحت اثرانداز ہونے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان اور بالخصوص کابل میں لگی ہوئی بدامنی کی آگ کی مثال اُس گرم تندور کی مانند ہے جس میں ہر قوت اپنی خواہش اور مفادات کی روٹی لگا رہی ہے۔ لہٰذا ایسے میں افغان حکام کے اس گھسے پٹے الزام کی نہ تو کوئی وقعت ہے اور نہ ہی کوئی اس الزام کو سنجیدہ لینے کے لیے تیار ہے کہ کابل میں بدامنی کے حالیہ واقعات کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ دراصل ان الزامات کے ڈانڈے جہاں افغان حکومت میں براجمان بھارت کے پروردہ شمالی اتحاد کی ذہنیت سے ملتے ہیں وہیں امریکہ اپنے لے پالک افغان حکمرانوں کے ذریعے پاکستان کو بلیک میل کرکے اگر ایک طرف افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے تو دوسری جانب وہ پاکستانی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف تاریخی کامیابیوں سے بھی جلن محسوس کرتے ہوئے پریشان ہے۔
حرفِ آخر یہ کہ افغان بحران نہ تو دھمکیوں اور نہ ہی فوجی طاقت کے استعمال سے حل ہوگا، اس کا سیدھا سادہ حل جہاں تمام فریقین کے درمیان وسیع البنیاد مذاکرات ہیں وہیں الزام تراشیوں کو چھوڑ کر زمینی حقائق کی روشنی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر آنا ہوگا، بصورتِ دیگر مفادات کا یہ دھندا یوں ہی چلتا رہے گا، جس کا خمیازہ بیچارے افغان عوام بم دھماکوں، خودکش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کی شکل میں بھگتتے رہیں گے۔

Share this: