کردار سازی کی ضرورت

پاکستان ایک اسلامی، فلاحی ریاست ہے۔ یہاں دہشت گردی، کرپشن، اغوا، اور بچوں اور خواتین کی عصمت دری کے واقعات اتنے تواتر کے ساتھ ہورہے ہیں کہ عوام خوف اور سخت ذہنی تنائو کا شکار ہیں۔ اس طرح کے جو واقعات میڈیا کے ذریعے سامنے آجاتے ہیں اُن پر کارروائی ہوجاتی ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ واقعات وہ ہیں جو میڈیا پر نہیں آتے، نہ کہیں رپورٹ ہوتے ہیں، ان پر نہ مؤثر ردعمل ہوتا ہے نہ کارروائی ہوپاتی ہے۔ پولیس نظام میں بہت خامیاں ہیں جن کی نشاندہی ہوتی رہتی ہے۔ بچوں سے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی مناسب تربیت پر توجہ دیں، اور ان کی نگرانی رکھیں۔ والدین کی لاپروائی اور بے جا ڈانٹ ڈپٹ سے بچے بھٹک جاتے ہیں۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے حوالے سے یہ اعتراضات کیے جارہے ہیں کہ یہ نوجوان نسل کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں اور عریانی و فحاشی پھیلا رہے ہیں۔ یقینا اس طرف توجہ دینے اور اس کی روک تھام کی ضرورت ہے۔ بہرحال یہاں بچوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی کردار سازی کی بھی سخت ضرورت ہے۔ خواتین میں پردہ داری کی بہت اہمیت ہے لیکن اس سے زیادہ اہمیت کردار سازی کی ہے۔ کمزور دماغ کے لوگ اگرچہ وہ بڑے ہی ہوں، تب بھی ٹی وی اسکرین اور موبائل اسکرین پر فالتو اور گھٹیا چیزیں دیکھ کر گمراہ ہونے لگتے ہیں اور بدکردار لوگ معاشرے میں افراتفری اور جرائم کا باعث بنتے ہیں۔ پختہ ذہن اور کردار سازی کے بعد بچے یا بڑے اتنی آسانی سے غلط راہوں پر نہیں جاتے۔ والدین کے علاوہ دینی جماعتوںکو بھی عوام خصوصاً نوجوان نسل کے لیے کردار سازی پر کام کرنا چاہیے۔ تہذیب و اخلاق، پختہ ذہن سازی کی تربیت میں یہاں اتنی کمی یا کوتاہی کیوں ہے، اس کی وجوہات تلاش کریں اور سدباب کریں۔ اخبارات میں یہ بحث بھی چل رہی ہے جنسی تعلیم مسئلے کا حل نہیں ہے اس لیے اسکول میں رائج نہ کی جائے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے نفسیات کے ماہرین کی خدمات لی جائیں۔ عام اساتذہ کو یہ ذمہ داری نہ دی جائے۔ اور نہ صرف اسکول وکالج کے طلبہ و طالبات بلکہ وہ بچے جو اسکول کالج نہیں جاتے اُن کو بھی یہ تربیت مل سکے۔ بہرحال اغوا اور عصمت دری کے واقعات کے سدباب کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
نوید خان…کراچی
کامریڈ لال خان صاحب،
لال سلام قبول فرمائے۔
انجہانی لال قبیلے کے باقی دانشور تو این جی اوز کی جھولی میں بیٹھے انقلاب کو بھلانے میں مصروف ہیں۔
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مارکسی اخلاقیات میں انقلابی اہداف کے حصول کے لیے جھوٹ اور اشتعال کو جوہری مقام حاصل ہے مگر ذرا ملفوف انداز میں۔
میری آپ کے بارے میں رائے تھی کہ آپ ایک سنجیدہ کامریڈ ہوتے ہوئے جھوٹ کا صرف اتنا استعمال کریں گے جتنا کہ زردہ چاول میں نمک ڈالا جاتا ہے۔
مگر صد افسوس کہ آپ نے زردے میں نمک کی بوری ہی ڈال دی ہے۔ اپنے کالم میں صریحاً جھوٹ بولا ہے اور اپنے خون میں رچی نفرت کو اگل دیا ہے۔
میں آپ سے ’’قوم پرستوں، ترقی پسندوں کے شکنجے‘‘ میں کسی بلوچستان اور سندھ کی یونی ورسٹیوں کا تعلیمی، علمی اور جمہوری آڈٹ نہیں مانگ رہا، کیونکہ آپ کے خیال میں:
’’پورے پاکستان میں غالباً ایک ہی یونی ورسٹی ہے جسے جمعیت نے خراب کررکھا ہے اور جسے ٹھیک کرنے کے لیے ’’باشعور، غیر طبقاتی بلوچ پختون انقلابیوں‘‘ ہی کے ڈنڈے کی ضرورت ہے۔‘‘
اس مارکسی، لیننی، ماؤزی ترنگ میں آپ نے سچ کو قتل اور حقائق کو دفن کرکے کسی کی خدمت نہیں کی۔
کم از کم مارکس کے لیے ہی سچ بول دیں۔
آزاد بلوچستان کے نعروں کو بھی جمعیت کے کھاتے میں ڈال دیں۔
انجینئرنگ لیب کی کروڑوں روپوں کی آتش زدگی کو بھی رجعت پسندوں کے دامن میں ڈال دیں۔
آپ کس کو پاگل بنا رہے ہیں؟
مجھے آپ سے ہمدردی ہے کہ آپ کا آج کا کالم پڑھ کر پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات ہنسیں گے۔
کاش آپ عصبیت کی کالی لال پٹی اتارکر اس ہنگامے پر لکھنے کی اخلاقی جرأت کرتے۔
یہاں پر ایک لاکھ کا سوال ڈال رہا ہوں، اور وہ یہ کہ اگر واقعی جمعیت کی ’’بدمعاشی‘‘ ہوتی تو اب تک 25 ٹاک شو اور 120 کالم جمعیت کے خلاف آچکے ہوتے، مگر چونکہ یہ پیارے لاڈلوں کا کارنامہ ہے اس لیے پورا پریس خاموش ہے، لے دے کے صرف اعتزاز احسن اور آپ نے درفنطنی چھوڑنے کی ہمت کی ہے (یا پھر مقامی چینلوں اور روزنامہ ’92 نیوز‘ یا ’نئی بات‘ نے اصل حقائق پیش کیے ہیں)۔
لال سلام قبول فرمائیں۔
سلیم منصور خالد

Share this: