کھڑے ہوکر پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ؟

اسلامی تعلیمات میں پانی بیٹھ کر چند گھونٹ میں پینے کی ہدایات ملتی ہیں، جبکہ کھڑے ہوکر پانی پینے سے روکا جاتا ہے، بلکہ اکثر اس پر لوگوں کی جانب سے ٹوکا بھی جاتا ہے، مگر کیا یہ عادت کسی قسم کے نقصان کا باعث بنتی ہے؟طبی سائنس میں تو اس حوالے سے کوئی واضح جواب موجود نہیں، یا اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، مگر آیورویدک طریقہ علاج میں اس عادت کو صحت کے لیے ضرور نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
اس طریقۂ علاج کے ماہرین جن نقصانات کا ذکر کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
نظام ہاضمہ کے افعال متاثر ہوتے ہیں
جب کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہے تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے۔ یہ لہر معدے کی دیوار، اردگرد موجود اعضاء اور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے۔
گردوں کے افعال پر اثرانداز
گردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی سوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔
جوڑوں کے امراض
کھڑے ہوکر پانی پینے کی عادت جسم میں سیّال کے توازن کو بگاڑتی ہے اور اضافی سیّال جوڑوں میں اکٹھا ہوکر جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
معدے کی تیزابیت
اس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتا ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے جو آگے چل کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
پیاس نہیں بجھتی
ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں، یا نقصان نہیں ہوتا، مگر اسے عادت بنالینے سے گریز کرنا چاہیے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی۔

ایک بلڈ ٹیسٹ سے 8 اقسام کے کینسر کی تشخیص

دنیا بھر میں کینسر کی تشخیص و علاج کے لیے فی منٹ ہزاروں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں لیکن اس کی شناخت اب تک ایک معمّا بنی ہوئی ہے۔ اب صرف خون کے ایک نمونے سے کیے گئے ایک بلڈ ٹیسٹ سے 8 مختلف اقسام کے کینسر کی شناخت کرنا ممکن ہوجائے گا۔ خون کے اس نئے ٹیسٹ کو کینسر سیک کا نام دیا گیا ہے۔ عام طور پر سرطان کی شناخت ایک بہت مشکل عمل ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے مہنگے اور پیچیدہ طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ اب کینسر سیک ٹیسٹ کے لیے خون کے ایک نمونے سے کئی اہم اقسام کے کینسر کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ نیا بلڈ ٹیسٹ 16 جینیاتی تبدیلیوں اور آٹھ پروٹین کے مارکر بھانپ سکتا ہے جو اپنے اپنے کینسر کو ظاہر کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں، چھاتی، بڑی آنت، جگر، معدے، لبلبے اور ایسوفیگل کینسر شامل ہیں۔

اسمارٹ فون دیواروں کے آرپار بھی دیکھ سکیں گے

ٹیکنالوجی کے مختلف ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بہت تیزی سے ترقی کررہی ہے اور اگلی نسل کے اسمارٹ فون لیزر کے ذریعے دیواروں کے پار دیکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔اس ضمن میں گلاسگو یونیورسٹی میں کوانٹم ٹیکنالوجیز کے ماہر ڈینیل فیشیو اور ہیرئٹ واٹ یونیورسٹی کے اسٹیفن مک لفلِن نے کہا ہے کہ کیمرا ٹیکنالوجی میں انقلاب اور لیزر شعاعوں کی مدد سے بہت جلد دیواروں کے عقب میں دیکھنا ممکن ہوجائے گا۔ ان کے مطابق چہرہ پہچاننے اور سلوموشن ویڈیو بنانے والے کیمرے تو صرف شروعات ہیں۔ کمپیوٹر پروگرام اور الگورتھم سے کیمرے کی صلاحیت حیرت انگیز طور پر بڑھ چکی ہے۔ بہت جلد کیمرے انسانی جسم میں جھانکنے، دیوار کے آرپار دیکھنے اور دھویں میں دیکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اگر ان کیمروں کو اسمارٹ فون میں لگادیا جائے تو ان سے باقاعدہ جاسوسی کا کام لینا آسان ہوجائے گا۔

فالج کے علاج میں معاون ایک نئی انقلابی ٹیکنالوجی

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے فالج کی درست نشاندہی اور علاج میں مددگار ایک ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس سے فالج کے شکار لاکھوں مریض استفادہ کرسکیں گے۔اگر کوئی مریض سوتے میں فالج کا شکار ہوجائے، یا پھر فالج کے بعد طبی مدد میں دیر ہوجائے تو بہت دیر ہوجاتی ہے۔ کیونکہ فالج پڑنے کے بعد ابتدائی چھے گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں۔ دماغ میں خون کے لوتھڑے کو گھلانے والی دوائیں بھی اپنا اثر دکھانے میں بہت وقت لگاتی ہیں۔ اس طرح نیند میں اس کے شکار ہونے والے افراد چھے گھنٹے گزار چکے ہوتے ہیں اور فالج اپنا حملہ پورا کرچکا ہوتا ہے۔اسٹینفرڈ اسٹروک سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر گریگوری ایلبرز کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کی تیارکردہ نئی ٹیکنالوجی چھے گھنٹے کے اندر اندر علاج کی اس ضرورت کے باوجود فالج کے مزید خطرات دور کرسکتی ہے۔ انہوں نے کمپیوٹر ٹوموگرافی (سی ٹی) امیجنگ سسٹم کی بنیاد پر دماغی تصویرنگاری کی ایک ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے ’’ریپڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دماغ میں فالج کے متاثرہ مقام کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ اس میں دماغ کے تمام حصوں کو مختلف رنگوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی صحت مند مقام پر جریانِ خون (ہیمریج) کا خطرہ ہو تو وہ اسکین میں سبز دکھائی دے گا، جبکہ گہرا سبز زیادہ ہیمرج کو ظاہر کرے گا۔ اسے دیکھتے ہوئے ڈاکٹر دماغ میں تار ڈال کر وہاں موجود خون کے لوتھڑے کو نکال باہر کرسکتے ہیں۔اس طریقے کے نتائج اتنے حوصلہ افزا ہیں کہ امریکی فالج (اسٹروک) سوسائٹی نے فالج کے چھے گھنٹے کے اندر طبی سہولیات کے دورانیے کو بڑھاکر 24 گھنٹے تک کردیا ہے، تاہم یہ نئی رہنما ہدایات تمام مریضوں کے لیے نہیں۔

Share this: