ہر ظلم کشمیریوں کے جذبۂ آزادی میں اضافہ کررہا ہے، سید علی گیلانی

فرائیڈے اسپیشل: مسئلہ کشمیر کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ انگریزوں اور بھارت کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، ورنہ تقسیم برصغیر کے فارمولے کے لحاظ سے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا تھا؟
سید علی گیلانی: مسئلہ کشمیر کو جنم دینے میں بہت سارے عوامل شامل ہیں، لیکن بنیادی طور پر انگریزوں اور ہندوؤں کی ملی بھگت ہی اس کی اصل وجہ ہے، ورنہ 650 رجواڑوں میں سے ریاست جموں وکشمیر کو ایک متنازع علاقہ کیوں قرار دیا گیا۔ اسی نوعیت کی صورت حال جوناگڑھ اور حیدرآباد میں بھی پیش آئی تھی، وہاں پر تقسیم ہند کے اصولوں کو بنیاد بناکر اُن علاقوں کو بھارت میں ضم کردیا گیا، لیکن انہی اصولوں پر جموں وکشمیر میں عمل کرنے سے چونکہ یہ حصہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے جارہا تھا، اس لیے ہندوؤں نے انگریزوں سے مل کر اس مسئلے کو پہلے اقوامِ متحدہ میں لیا، وہاں جب اس تنازعے کے حل کے لیے متعدد قراردادیں پاس ہوئیں تو ان پر عمل کرنے میں لیت ولعل سے کام لے کر دھوکے اور فریب سے وقت گزار کر اس خطے پر اپنا جبری قبضہ قائم کیا گیا۔
فرائیڈے اسپیشل:کشمیر کی تحریک آزادی کا ایک مرحلہ وہ تھا جب قائداعظم نے قیام پاکستان کے فوراً بعد جنرل گریسی کو کشمیر میں عسکری مداخلت کا حکم دیا تھا، مگر جنرل گریسی نے اُن کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔کیا اس صورت حال کا سبب بھی یہی تھا کہ انگریز ہندوئوں کو اپنا دوست اور مسلمانوں کو اپنا دشمن تصّور کرتے تھے؟
سید علی گیلانی: قیام پاکستان کے فوراً بعد کشمیر میں فوجی مداخلت ہوئی ہوتی تو شاید یہ مسئلہ اُسی وقت حل ہوجاتا، لیکن جنرل گریسی کے انکار نے اس ناسور کو جوں کا توں رکھ کر جموں وکشمیر کی پوری آبادی کو مستقبل کے مصائب اور خون خرابے کی نذر کردیا۔ تاریخ کے مطالعے سے تو یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ انگریزوں کو مسلمانوں سے زیادہ دشمنی تھی، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اُن کے خلاف ہر جگہ مسلمانوں نے مزاحمت کی اور انہوں نے اقتدار بھی مسلمانوں سے ہی چھینا تھا۔ اس لیے اُن کی عداوت فطری تھی۔
فرائیڈے اسپیشل: پاکستان نے 1948ء میں قبائلیوں کی مدد سے کشمیر کو آزاد کرانے کی کوشش کی، مگر کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی مقامی آبادی اُس وقت تیار نہ تھی۔ چنانچہ کشمیر کو آزاد کرانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
سید علی گیلانی:1948ء میں کشمیر میں قبائلیوں کی آمد سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے الجھ ہی گیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی کوشش یا تو جان بوجھ کر کی گئی یا منصوبہ بندی کے بغیر ہی اپنے طور پر چند افراد نے یہاں آکر اس خطے پر بھارتی قبضے کو ختم کرنے کی کارروائی انجام دی تھی۔ کیونکہ غیر منظم، غیر سنجیدہ اور غیر منصوبہ بند گروہ کے پاس جب طاقت آجاتی ہے تو وہ زیادہ تر تخریب اور افراتفری کو ہی جنم دیتا ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے آئے ہوئے ان افراد نے یہاں کے دیہاتوں میں جاکر غیر مسلموں کو نشانہ بناکر صدیوں کے ہمارے آپسی بھائی چارے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگادیا۔ اُن کی حرکتوں کو کوئی بھی ذی حس انسان عموماً اور مسلمان خصوصاً کسی بھی حال میں جائز قرار نہیں دے سکتا۔ اس کے نتیجے میں اُن کے خلاف مقامی سطح پر نفرت کے جذبات کا پیدا ہونا فطری عمل تھا۔ پھر اُس وقت بھارتی حکمرانوں کے دم چھلوں نے بھی جو نیشنل کانفرنس کی شکل میں یہاں موجود تھے، اپنی انا اور لالچ کی خاطر ان قبائلیوں کو غلط راہوں پر دھکیل کر بھارت نوازی کا ثبوت دیا۔ بھارت نے یہاں سے بھاگے ہوئے ڈوگرہ حکمران کی طرف سے مدد کی درخواست کو اس شرط پر تسلیم کیا کہ وہ پہلے دستاویزِ الحاق پر دستخط کرے تب وہ اپنی فوجی مدد فراہم کرے گا۔ ڈوگرہ حکمران نے سوا کروڑ عوام کے جذبات، اُن کے احساسات، اُن کے ملّی رشتوں اور نظریاتی یکسانیت کو قلم کی ایک جنبش سے زمین بوس کرکے پوری ریاست کو سیاسی غیر یقینی کی دلدل میں جھونک دیا، جس سے نکلنے کے لیے ہم پچھلے 70 سال سے بحیثیت ایک مظلوم قوم اپنی استطاعت کے مطابق سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے تھے اور اس سلسلے میں کئی قراردادیںمنظور ہوئیں، لیکن اقوام متحدہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکی، اس کا کیا سبب ہے؟
سید علی گیلانی:کشمیر کا قضیہ خود بھارت اقوامِ متحدہ میں لے گیا، جہاں اس کو بین الاقوامی سطح پر ایک متنازع علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لیے کُل ملاکر 18قراردادیں پاس کی جاچکی ہیں، جن پر پاکستان کے ساتھ ساتھ خود بھارت کے دستخط بھی موجود ہیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ چونکہ سپر پاور ممالک کی لونڈی ہے، اس لیے اُس نے کبھی بھی عدل وانصاف اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ بڑی طاقتوں کے اشاروں پر ہی ناچتی رہی۔ کشمیر پر جب بھی کوئی اہم فیصلہ ہونا ہوتا تھا تو بھارت کا دیرینہ ساتھی روس اُس کو ویٹو کرکے اس حل میں رُکاوٹ بن جاتا تھا۔ اس طرح 70سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اقوامِ متحدہ اس مسئلے کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے خود اس ادارے کی افادیت اور اس کی شبیہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آج جو پوری دنیا میں طاقتور ممالک کمزور اور بے بس خطوں کو ہڑپ کرنے کے تانے بُن رہے ہیں اور انسانوں خاص کر مسلمانوں کو اس آگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کررہے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انصاف کے عالمی ادارے اپنی افادیت کھوچکے ہیں اور ان کی پہچان بڑی طاقتوں کے آلۂ کار اور گماشتوں کے سوا کچھ نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: 1962ء میں چین اور بھارت کی جنگ کے دوران چینی قیادت نے پاکستان کو اس بات پر قائل کیا کہ بھارت کی عسکری طاقت کا بڑا حصّہ چین کی سرحد پرتعینات ہوگیا ہے اور پاکستان کے لیے موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے اور عسکری طاقت کے ذریعے کشمیر کو آزاد کرالے، لیکن کہا جاتا ہے کہ امریکہ اس پیغام سے آگاہ ہوگیا اور جنرل ایوب کو یہ قدم اٹھانے سے باز رہنے کا کہا گیا، اور امریکہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کروائے گا۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
سید علی گیلانی:1962ء میں چین نے پاکستان سے کیا کہا، پاکستان نے اس پر کیا ردعمل ظاہر کیا، اور امریکہ بہادر کا کیا رول رہا ہے، یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جنرل ایوب کو کسی اور پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود بزور طاقت اپنی ’’شہہ رگ‘‘ چھڑانی چاہیے تھی، اور اگر چین بھی عسکری مدد کی پیشکش کررہا تھا تو اس سے بڑھ کر اور کیا اچھی بات ہوسکتی تھی۔ لیکن ’’شہہ رگ‘‘ کو دشمن کے ظالم اور خونخوار پنجوں میں جکڑ کے رکھ کر امریکہ جیسے بے اعتبار دوست نما دشمن کی چکنی باتوں پر اعتماد کرکے اُس وقت کے پاکستانی حکمرانوں نے یہی ثابت کیا کہ وہ اپنی گردن دشمن کے نرغے میں رکھ کر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس سے تو انہوں نے خود اپنے اس دعوے کی نفی کردی کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: پاکستان کی قومی سیاست پر نظر رکھنے والے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق نے اہلِ کشمیر سے کہا کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کو تیز کریں اور جب آپ اس کو ایک خاص سطح پر لے آئیں گے تو پاکستان مداخلت کرے گا۔ اور جب کشمیریوں نے یاد دلایا کہ تحریک تیز ہوگئی اور اس سطح پر آگئی ہے، تو پاکستان کی طرف سے کہا گیا ’’ہم کشمیر کے لیے پاکستان کو دائو پر نہیں لگا سکتے‘‘۔ اس پس منظر کے ساتھ میرا سوال ہے کہ کیا واقعی کوئی ایسی صورت حال تھی؟
سید علی گیلانی:1980ء میں ضیاء الحق مرحوم نے اہلِ کشمیر کو کیا کہا اور پھر کیا ہوا! عسکری راستہ اختیار کرنے کے عوامل اس بات کے گواہ ہیں کہ جب کشمیری جوانوں کے لیے تمام جمہوری اور پُرامن راستے مسدود کردیئے گئے تو انہوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہونے کے ناتے کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کی ہے۔ پاکستان نے عسکری محاذ پر مدد کی ہوتی تو صورت حال شاید مختلف ہوتی۔ عسکری محاذ کے حوالے سے اس سے وابستہ خطرات ہی اس پر اور زیادہ تفصیل سے روشنی ڈال سکتے ہیں، لیکن اتنا ہم ضرور کہیں گے کہ بیس کیمپ کے طور پر قائم ہونے والا آزاد کشمیر کا خطہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا جو آزاد سرزمین کی حیثیت سے اس پر فرض بنتا تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: جنرل پرویز مشرف ایک زمانے میں کارگل کے ہیرو تھے، مگر پھر انہوں نے بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنا شروع کی، اور بالآخر مذاکرات کی نوبت آئی تو وہ پاکستان کے اصولی مؤقف سے ہٹ گئے اور انہوں نے کشمیر کے ایسے حل پر مذاکرات کیے جو پاکستان اور کشمیری عوام کی خواہشات اور اصولوں کے برعکس تھا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟
سید علی گیلانی: جنرل پرویزمشرف جب پہلی بار بھارت تشریف لائے تو ہم اُن سے ملاقات کرنے دہلی گئے، ہم نے اُن کے ماتھے کو بوسہ دیا، کیونکہ انہوں نے اصولی مؤقف اور حقائق کے گھوڑے پر سوار ہوکر جس قد اور جس گرج کے ساتھ بھارت کی سرزمین پر قدم رکھے تھے وہ بھارتی ایوانوں میں ہلچل مچانے کے لیے کافی تھا۔ بھارت کے نیتاؤں کے پاؤں تلے زمین سرک رہی تھی، کیونکہ پہلی بار کسی پاکستانی حکمران نے بھارت ہی کی سرزمین پر انہیں کھری کھری سنائی تھی اور کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہی وہ رات کے اندھیرے میں یہاں سے کوچ کرگئے۔ کشمیری عوام کو اچھی طرح علم تھا کہ اس صورتِ حال سے اُن کے غموں اور دکھوں کا مداوا نہیں ہوپائے گا اور ان کی شامِِ غم ابھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے، بلکہ اس سے بھارت بدحواس ہوکر ظلم وستم کی چکی اور زیادہ تیز کرے گا، لیکن اس کے باوجود انہیں پرویزمشرف کے روپ میں ایک مسیحا نظر آنے لگا۔ اپنے مصائب سے قطع نظر انہوں نے جنرل کے اس دلیرانہ کردار کو بہت سراہا کہ اُس نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صورت حال کو حقائق کی کسوٹی پر رکھ کر برابر کی سطح پر بات کرنے کا اپنا عزم ظاہر کیا۔ لیکن شومئی قسمت کشمیریوں کی یہ امید بھی دم توڑتی نظر آنے لگی جب 9/11کے بعد کی عالمی صورت حال نے پوری دنیا کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا۔ عوامی تحاریک، جائز مطالبات اور آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی کے کفن میں لپیٹ کر اس طرح زمین بوس کردیا گیا کہ اب اس مزار پر کسی کو فاتحہ خوانی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں پرویزمشرف صاحب نے بھی عالمی طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے میں ہی عافیت سمجھ کر مسئلہ کشمیر پر اپنے دیرینہ اور اصولی مؤقف سے ہٹ کر Out of Box حل کی باتیں کرکے بھارتی پالیسی سازوں کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی نادانستہ کوشش کی۔ اگرچہ بھارت نے پھر بھی اس پر کوئی توجہ نہیں دی، لیکن کشمیریوں کی جدوجہد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا جس کا ازالہ ابھی بھی ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: بعض لوگ کہتے ہیں کہ کشمیر پر جنرل پرویزمشرف اور واجپائی کے درمیان سودے بازی ہوگئی تھی مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر کے اُس حل پر بھی آمادہ نہیں ہوئی جو پاکستان اور کشمیریوں کی جدوجہد کے تقاضوں کے برعکس تھا، اس سلسلے میں آپ کا تجزیہ کیا کہتا ہے؟
سید علی گیلانی: واجپائی دورِ حکومت میں یہ تاثر عام تھا۔ میڈیا کے ذریعے بھی ایسی باتیں منظرعام پر آگئیں۔ پاکستان کے اُس وقت کے حکمران طبقے میں شامل لوگوں نے بھی اپنی تحریروں میں لکھا کہ پرویزمشرف اور واجپائی کے درمیان معاملات طے ہوئے تھے، لیکن بی جے پی میں سخت گیر امیج رکھنے والے چند افراد نے بازی ہی پلٹ دی۔ اس میں کس حد تک صداقت ہے یہ وہی لوگ بہتر جانتے ہیں جو اس ساری صورت حال میں اچھل کود کررہے تھے۔
فرائیڈے اسپیشل: نئی دہلی میں جنرل پرویز مشرف سے ایک ملاقات کے دوران آپ دونوں کے درمیان تلخ کلامی کی خبریں بھی آئیں اورآپ نے جنرل پرویزمشرف کے ساتھ فوٹو سیشن کرانے سے بھی انکار کردیا تھا۔ اُس ملاقات میں کیا بات ہوئی تھی، جنرل پرویزمشرف کیا کہہ رہے تھے؟
سید علی گیلانی: جی ہاں، تلخ الفاظ کا تبادلہ ضرور ہوا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب پرویزمشرف صاحب دوسری دفعہ یہ کہہ کر دلی آئے کہ وہ اِس بار دل بدل کر آئے ہیں۔ ظاہر ہے وہ پہلے دورے والے پرویزمشرف تو تھے نہیں، اس لیے ہمیں توقع تھی کہ اب کی بار اُن کی باتوں میں وہ دم خم اور دبدبہ نہیں ہوگا جو سچائی اور حق وانصاف کی طاقت سے حاصل ہوتا ہے۔ دورانِ ملاقات انہوں نے کہا کہ ’’بھارت بڑا ملک ہے۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی ہے۔ جوہری طاقت کا مالک ہے اور مغربی ممالک بھی اس کی حمایت اور پشت پر ہیں۔ آپ لوگوں نے بھی قربانیاں دی ہیں، ہم نے بھی تین جنگیں لڑی ہیں، مگر ابھی تک کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اب ہمیں مفاہمت اور مصالحت کا راستہ اختیار کرنا ہے‘‘۔ اُن کے ارشادات سن کر میں نے اُن سے کہا کہ ’’ہمارا مؤقف اور Stand مبنی برصداقت ہے۔ ہمیں اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرکے اپنی جدوجہد کو جاری وساری رکھنا چاہیے۔ اﷲ تعالیٰ ہماری ضرور مدد کرے گا۔ ہمیں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ ان کا جواب تھا ’’میرے ساتھ بُش اور ٹونی بلیئر ہے‘‘۔ اس کا کیا جواب دیا جاسکتا ہے سوائے اس کے کہ
بتوں سے تجھ کو اُمیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
دوران گفتگو میں نے اُن سے کہا کہ ’’آپ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کریں‘‘۔ ان کا جواب تھا ’’آپ ہماری اپوزیشن کی بولی بولتے ہیں‘‘۔ اُن کے کلام اور Body Languageسے غیر مبہم انداز میں مرعوبیت اور مایوسی ٹپک رہی تھی، ایسی کیفیت اور صورت حال میں اُن سے مزید گفتگو کا کچھ حاصل نہیں تھا۔ وزیر خارجہ محترم خورشید محمود قصوری کے ساتھ الگ ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بھی زوردار لہجے میں فرمایا کہ ہمیں Compromise کرنا چاہیے۔ میں نے اُن کے دُرشت لہجے کے باوصف اُن سے کہا کہ ’’اگر آپ لوگ یہ بوجھ اٹھانا نہیں چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیجیے۔ ہم اﷲ تعالیٰ کے بھروسے اور توکل پر اپنی جدوجہد جاری وساری رکھیں گے‘‘۔ وہ بے قابو ہوکر اٹھ کرچلے گئے، یہ فرماتے ہوئے کہ ’’مجھے دوسری میٹنگ میں شرکت کرنا ہے‘‘۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پاکستان جاتے ہوئے ہوائی جہاز میں بھی پرویزمشرف صاحب غصے میں آگ بگولہ ہورہے تھے۔ ایوانِ صدر پہنچ کر انہوںنے میڈیا کے خاص خاص افراد کو بلاکر اپنا غبار نکال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گیلانی جیسے لوگ ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔ پھر شیخ رشید صاحب کی مداخلت سے صدر کے ان ارشادات کو عوام میں آنے سے روک دیا گیا۔ اگلے روز پرویزمشرف صاحب کو ٹی وی پر یہ کہتے سنا گیا کہ گیلانی صاحب ہمارے بزرگ ہیںاور ان کی کافی زیادہ قربانیاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔
فرائیڈے اسپیشل: بھارت کشمیر میں اپنے ظلم کو بڑھاتا چلاگیا ہے، اُس کا خیال تھا کہ وہ اس طرح سے کشمیر کی تحریک آزادی کو کچل دے گا، لیکن اُس کے ظلم کے نتیجے میں کشمیر کی تحریک ختم ہونے کے بجائے اور توانا ہوگئی، اس کا کیا سبب ہے؟
سید علی گیلانی: بھارت نے کشمیر میں اپنی سفاک اور قاتل فوج کے ذریعے ہر وہ ظلم کیا جو اُن کی دسترس میں ہے۔ ریاست کے طول وعرض میں ان گنت شہدا کے قبرستان، یتیموں اور بیواؤں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد اور مقامی اور باہر کی جیلوں اور انٹروگیشن سینٹروں میں ہزاروں کی تعداد میں ہمارے جوان اور بزرگ اس بات کا ظاہری ثبوت ہیں کہ قابض طاقتوں نے مقامی دلالوں کے ذریعے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو اس قوم کو کمزور کرنے، انہیں اپنے مشن اور نصب العین سے دور کرنے کا سبب بن سکے، لیکن یہاں کی اکثریت کا تحریکِ آزادی کے تئیں وابستگی اور جذبہ ہر ظلم کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس قوم کی کمزوریاں اپنی جگہ، لیکن مجموعی طور پر کسی بھی حال میں یہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ کیونکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ رہ کر ہم اپنی آنے والی نسل کا مستقبل تاریک سے تاریک تر بنانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم بحیثیت مسلمان بھارت کے کسی گوشے میں تو دور، خود اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یہ تحریک محض تحریکِ آزادی ہی نہیں، بلکہ ہماری بقاء اور وجود کی تحریک ہے۔ ایک باشعور انسان خاص کر مسلمان اغیار کے ہاتھوں اپنے ملّی تشخص کو پامال ہوتا کیسے دیکھ سکتا ہے! یہی وجہ ہے کہ ہر ظلم، ہر ستم، ہر شہادت اور ہر زندان ہمارے عزائم اور حوصلوں کو اور زیادہ مضبوط کرکے ہمیں جدوجہد جاری رکھنے کے لیے آمادہ کردیتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:کشمیر کی تحریک آزادی آج جہاں کھڑی ہے اُس کے تناظر میں آپ اس تحریک کی کامیابی کے سلسلے میں کتنے پر امید ہیں اور آپ کی امید کی کیا بنیاد ہے۔؟
سید علی گیلانی: ہماری تحریک جہاں آج کھڑی ہے ظاہری طور تو کوئی صورت ایسی نظر نہیں آرہی ہے کہ دور دور تک منزل کا کوئی دھندلا سا نشان بھی نظر آرہا ہو۔ جہاں آٹھ لاکھ مسلح فوج ہو، پولیس اور نیم فوجی دستے سڑکوں پر ہی نہیں، سروں پر بھی سوار ہوں، قابض طاقتوں کی خفیہ ایجنسیاں ہمارے نجی معاملات میں بھی مداخلت کرتی ہوں، دہلی کے آقاؤں کے مقامی غلام جب اقتدار اور اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنی غیرت، اپنی عزت، اپنی انا اور اپنی خودی سب کچھ بیچ کھا چکے ہوں اور ان قاتلوں کے آگے اپنی قوم کی جواں سال نسل کو کٹنے کے لیے پیش کررہے ہوں تو گوشت پوست کا ایک عام اور نہتا انسان کب تک مایوسی اور بزدلی کے اثرات سے خود کو بچا سکتا ہے؟ لیکن اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں بھی ہم نے یقینِ محکم کی شمع روشن رکھی ہے۔ جس طرح مجھے کل کے سورج کے طلوع ہونے کا یقین ہے بالکل اسی طرح مجھے یقینِ کامل ہے کہ یہ خون حق وصداقت کے لیے بہا ہے، یہ عصمت اللہ کی زمین کو غیر اللہ کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے تار تار ہوئی ہے، یہ قیدوبند کی صعوبتیں اقامتِ دین کے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لیے برداشت کی جارہی ہیں۔ ہم کمزور ہی سہی، کم عمل ہی سہی، لغزشوں سے پُرہی سہی، لیکن ہمارا رب تو فیاض ہے۔ اس کو ہماری ناتوانی کا علم ہے، وہ ضرور ہمیں کامیاب کرکے ظالموں کے پنجے سے آزاد کرنے میں، مدد فرمائے گا۔ ان شاء اللہ
فرائیڈے اسپیشل: امتِ مسلمہ کے باشعور حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مغربی دنیا کا مفاد ہوتا ہے تو وہ دو سال میں ایسٹ تیمور میں آزاد ریاست قائم کردیتا ہے،چند برسوں میں جنوبی سوڈان کو آزاد کرادیتی ہے لیکن مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوپاتا،تو کیا یہ مغرب کی اسلام اور مسلم دشمنی ہے۔؟
فرائیڈے اسپیشل: باشعور حلقوں کی یہ رائے اور احساس کہ اگر ہمارے ساتھ بھی مغربی مفاد ہوتا تو مشرقی تیمور اور سوڈان کی طرح ہمیں بھی آزادی مل گئی ہوتی بہت حد تک صحیح ہے، اور یہ حالات وواقعات نے ثابت بھی کیا ہے۔ لیکن میرا اس ضمن میں یہ تجزیہ ہے کہ مغرب اگر طاقتور ہے تو ہم بھی کم نہیں۔ 57ممالک اور ان میں بسنے والے کلمہ گو، قدرتی وسائل، مال ودولت کے ذخائر اور قائدانہ نصاب ہونے کے باوجود ہم پر عتاب وعذاب ہے تو ہمیں دوسروں کی بے اعتنائی کے بجائے اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالنی چاہیے۔ دو تہائی خطہ ارض پر قابض وہ اُمت جس کے پاس چیختی، کراہتی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کا بہترین نسخہ موجود ہے، لیکن افسوس وہ خود ہی اس نسخے کو دقیانوسی قرار دے کر اس پر عمل کرنے سے پہلوتہی کررہہ ہے۔ جہاں کہیں بھی آگ وآہن کی ہولی کھیلی جارہی ہو وہاں مسلمان ہوں گے، جہاں کہیں بھی اقتصادی بدحالی ہوگی وہ مسلم ممالک ہوں گے، جو بھی بڑی طاقتوں کے دم چھلے ہوں گے وہ مسلم حکمران ہوں گے۔ مسلمان مسلمان کی گردن کاٹ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر یزیدی دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ معصوم بچوں کا جنسی استحصال کرکے انہیں ایک خونخوار درندے کی طرح چیر پھاڑ کرکے وہ مکہ کے اُن جاہلوں کو صحیح ثابت کررہا ہے جو شاید اسی ڈر سے بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کرتے تھے۔ کشمیر اور فلسطین تو مغربی طاقتوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی ترجیحات تھی، لیکن جب ہم کو اپنوں نے ہی نہیں اپنایا تو غیروں سے گلہ کیسا!
فرائیڈے اسپیشل: آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس خطے میں امریکہ، اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ وجود میں آچکا ہے جو چین اور پاکستان سے متعلق ہے۔ سنا ہے کہ اسرائیل بھارتی فوج کو تربیت دے رہا ہے۔ آپ اس گٹھ جوڑ کے تناظر میں کشمیر کی تحریک آزادی پر کیا رائے رکھتے ہیں؟
سید علی گیلانی: امریکہ، بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ بہت پہلے سے موجود تھا۔ لیکن اب کھل کر سامنے آرہا ہے۔ بھارت کے سنگھ پریوار کے نظریات، ان کی مسلمانوں کے ساتھ انتہا درجے کی نفرت اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست ونابود کرنے کے کھلم کھلا اعلانات اسرائیل کے نظریات کے ساتھ بہت حد تک میل کھاتے ہیں۔ ہندوستانی فوج کشمیر میں تحریکِ آزادی کو طاقت سے کچلنے کے لیے پہلے ہی اسرائیلی فوجیوں سے تربیت حاصل کرچکی ہے، اور اُن کے ہتھیاروں کو استعمال کررہی ہے۔ اب اس علی الاعلان گٹھ جوڑ سے قتل وغارت گری کے اس عمل میں تیزی آئے گی جو بھارت پچھلے 70 سال سے کرتا آرہا ہے۔ اس میں امتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک بہت اہم سبق ہے اگر وہ کہیں زندہ ہو تو۔ اسلام دشمن اور مسلم مخالف قوتیں ہمارے خلاف ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر شانہ بشانہ کام کرنے میں فخر محسوس کرتی ہیں، لیکن ہم اس کی پیش بندی کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر ان کا کام آسان بنارہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مسلک کے نام پر گالیاں دیتے ہیں۔ دشمن کے خلاف متحد ہونا تو دور کی بات ہے ہم آپس میں یگانگت اور یکسوئی پیدا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ آپسی سرپٹھول، منافرت اور انتشار کی وجہ سے ہم دشمن کے لیے ترنوالہ بن چکے ہیں، اور جب تک ہم بحیثیت ملّت بنیانِ مرصوص کی مثال قائم نہیں کریں گے، ہمارے لیے مقتل سجتے رہیں گے۔ ہماری معصوم بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی وارداتیں ہوتی رہیں گی۔
فرائیڈے اسپیشل: کشمیر کی تحریکِ آزادی کے سلسلے میں پاکستانی قیادت نے ستّر برسوں میں جو کچھ کیا ہے آپ اس سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
سید علی گیلانی: کشمیر کی تحریکِ آزادی میں پاکستانی قیادت نے زبانی خرچ اور اخباری گھوڑے دوڑانے کے سوا عملاً کوئی قابلِ قدر خدمت انجام نہیں دی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ پاکستان کی اپنی مجبوریاں، اندرونی خلفشار، سیاسی اتھل پتھل اور دوسرے عوامل ہیں، لیکن اس کے باوجود تحریکِ کشمیر پچھلے 70سال سے بالعموم اور 30سال سے بالخصوص جن عملی اقدامات کی متقاضی تھی، ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ پاکستان اس مسئلے کا ایک اہم اور بنیادی فریق ہے، اس کو برابری کے اصول پر دشمن سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی چاہیے۔ معذرت خواہانہ لہجے اور دب کر بات کرنے سے بھارتی مائنڈ سیٹ تبدیل ہونے والا نہیں۔ ہر محاذ پر اپنے مؤقف کی صداقت اور اس کا رعب و دبدبہ ظاہر ہونا چاہیے۔ میڈیا ہو یا سیاست، حکمران ہوں یا اپوزیشن، سوسائٹی ہو یا فنی ماہر… ہر جگہ، ہر وقت اور ہر موقع پر اپنی بات ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: پاکستانی عوام کشمیر کی آزادی کے لیے آپ کی عظیم جدوجہد کے معترف ہیں اور پاکستان کے ساتھ آپ کی والہانہ وابستگی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن آپ پاکستان نہیں آتے۔ کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟
سید علی گیلانی: میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں اپنے آپ کو ایک ادنیٰ سا خادم سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ جیسے کمزور اور ناتواں انسان کو اس عظیم مقصد کے لیے اپنی استطاعت اور مقدور کے مطابق خدمت کرنے کے لیے چُن لیا ہے۔ اس کو میں اپنے ربّ کی طرف سے سعادت سمجھتا ہوں۔ مجھ سے جہاں تک ہوسکا حقائق کی روشنی میں، تاریخ کے تناظر میں اور بے مثال قربانیوں کو مدنظر رکھ کر میں نے اس قوم کو بیدار کرنے اور آنے والے بھیانک خطرات سے متنبہ کرنے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں رب العزت سے دُعاگو ہوں کہ میری اس کوشش میں ہوئی لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف کرکے میری یہ معمولی سی خدمت قبول فرما کر مجھے اس کا اجر عطا کرے، آمین۔ رہی بات پاکستان آنے کی، تو وہاں کی سرزمین پر قدم رکھنے کا خواب اور اس کی تمنا میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ کیونکہ انسانی جذبات اور احساسات کی شدت کو زبان کے اُتار چڑھاؤ میں سمونا فن تو ہوسکتا ہے، مگر حقیقت کی ترجمانی نہیں ہوسکتی۔ میں پچھلے 40 سال سے بھارت سے باہر نہیں جاسکا ہوں، صرف تین بار حج بیت اللہ کے لیے گیا ہوں۔ میرے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ پچھلے 8 سال سے اپنے ہی گھر کی چاردیواری میں مقید ہوں۔ ذہن کے دریچوں سے، تخیل کی نگاہوں سے اور ہواؤں کی سراسیمگی سے میں ہر وقت آپ لوگوں کے درمیان ہی ہوتا ہوں۔ چونکہ جسمانی ملاپ پر ظالموں کی قدغنیں ہیں اس لیے ہم اُن کی اس ’’کرم فرمائی‘‘ کے باوجود اپنے خوابوں کی سرزمین میں گھومتے پھرتے ہیں۔ دُعا کریں روحانی ملاپ کے ساتھ ساتھ جسمانی ملن کی بھی کوئی راہ نکل آئے۔ اللہ رب العالمین کی رحمت سے کچھ بھی بعید نہیں۔

Share this: