’انٹرنیٹ کے بغیر‘ چلنے والی یوٹیوب ایپ دنیا بھر میں دستیاب

گزشتہ سال گوگل نے ایک نئی ایپ یوٹیوب گو کو پہلے بھارت اور پھر تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور نائجیریا سمیت چودہ دیگر ممالک میں متعارف کرایا تھا جس کا مقصد خراب انٹرنیٹ سروس والے علاقوں میں صارفین کے لیے ویڈیوز کی بفرنگ یا دیگر مسائل کو دور کرنا تھا۔ اب اس ایپ کو 130 سے زائد ممالک میں پیش کیا جارہا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اسے ڈیزائن کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ نہ ہونے کے برابر انٹرنیٹ پر بھی یہ کام کرتی ہے اور کم ڈیٹا خرچ کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ نئی یوٹیوب ایپ صارفین کو ڈیٹا بچانے میں مدد دے گی اور ان کے موبائل کا بل کم رکھنے کے لیے ایسی ویڈیوز دیکھنے کا مشورہ بھی دے گی جو اس کے خیال میں لوگوں کو پسند آسکتی ہیں۔ گوگل کی جانب سے اس ایپ کو سامنے لانے کا مقصد اپنے حریفوں جیسے فیس بک کو ٹکر دینا ہے کیونکہ دونوں پر ہی اربوں افراد ویڈیوز دیکھتے ہیں اور اب یہ دونوں کمپنیاں موبائل انٹرنیٹ والے نئے صارفین چاہتی ہیں جو ڈیٹا پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا پسند نہیں کرتے۔ ویسے اس ایپ کو متعارف کرانے کا اعلان گوگل نے ستمبر 2016ء میں کیا تھا، تاہم اپریل 2017ء میں اس کا بیٹا ورژن سامنے آیا تھا اور اب لگتا ہے کہ اس کا حتمی ورژن پیش کیا جارہا ہے۔اس کا سب سے خاص فیچر ویڈیوز کو فون یا میموری کارڈ میں محفوظ کرنا ہے جنہیں کسی بھی وقت دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ایک زبردست فیچر ایپ میں قریب موجود صارفین سے کسی ڈیٹا یا انٹرنیٹ استعمال کیے بغیر بلیو ٹوتھ کے ذریعے لوکل شیئرنگ کا فیچر بھی موجود ہے جو واقعی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ایپ میں 720p یا اس سے زائد کی ویڈیوز محفوظ یا اسٹریم کرنے کا آپشن نہیں ہوگا بلکہ 144p سے 360p تک کا آپشن ہوگا۔

فیس بک میں لوگوں کی دلچسپی میں کمی؟

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے تسلیم کیا ہے کہ سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر لوگوں کی جانب سے کم وقت گزارنے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سہ ماہی کے دوران سوشل میڈیا نیٹ ورک پر روزانہ 5 کروڑ گھنٹے صارفین نے کم گزارے جس کی وجہ کمپنی کی جانب سے وائرل پوسٹس کو کم ڈسپلے کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2018ء میں ہماری توجہ اس امر کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ فیس بک صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ لوگوں کی شخصیت اور معاشرے کے لیے بہتر ثابت ہو۔ انہوں نے لکھا ‘ہم اس مقصد کے لیے بیکار مواد کی فراہمی کے بجائے لوگوں کے درمیان بامقصد تعلق کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، گزشتہ سہ ماہی کے دوران ہم نے تبدیلیاں کرتے ہوئے وائرل ویڈیوز کو کم شو کرکے لوگوں کے وقت کو بہتر بنانے کو یقینی بنایا’۔

ڈائیٹ کرنا ہوسکتا ہےجان لیوا

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے غذا میں کیلوریز کی مقدار کم کرنا دل کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے جبکہ امراضِ قلب کا شکار افراد کو ڈائٹنگ اپنانے سے قبل لازمی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ اس تحقیق میں ایم آر آئی کے ذریعے دن بھر میں 800 سے بھی کم کیلوریز جسم کا حصہ بنانے سے دل کے افعال اور معدے، جگر اور دل کے پٹھوں کی چربی کی تقسیم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ خیال رہے کہ طبی ماہرین مردوں کو دن بھر میں 2500، جبکہ خواتین کو 2 ہزار کیلوریز جزوِ بدن بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ صحت مند وزن کو برقرار رکھا جاسکے، تاہم متعدد افراد دن بھر کی غذا میں بہت زیادہ کمی کردیتے ہیں تاکہ موٹاپے سے نجات حاصل کرسکیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کریش ڈائٹ یا بہت کم کھانا گزشتہ چند برس کے دوران فیشن بن چکا ہے، جس کے دوران 6 سے 8 سو کیلوریز ہی جسم کا حصہ بنائی جاتی ہیں، جسے جسمانی وزن میں کمی کے لیے موثر سمجھا جاتا ہے، جبکہ بلڈپریشر اور ذیابیطس پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں دل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ موٹاپے سے نجات کے لیے یہ طریقہ کار دل کے لیے نقصان دہ ہے خصوصاً امراض قلب کے شکار افراد کے لیے تو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور ان میں ہارٹ فیلیئر کا امکان بڑھتا ہے۔

 

پنجاب میں کاروباری کمپنیوں کی آ?ن لائن رجسٹریشن کی سہولت متعارف

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کاروباری کمپنیوں کی آ?ن لائن رجسٹریشن کی سہولت متعارف کرادی گئی۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کی جانب سے متعارف کرائے گئے ’بزنس رجسٹریشن پورٹل‘ کی تقریب رونمائی صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہوئی۔ واضح رہے کہ کاروباری کمپنیوں کی آن لائن رجسٹریشن کی سہولت متعارف کرائے جانے کے بعد کاروباری حضرات گھر بیٹھے اپنی کمپنیوں کی رجسٹریشن کروا سکیں گے۔ اس سہولت کے تحت صارف آن لائن تمام مطلوبہ دستاویزات و اسناد جمع کراسکیں گے۔ ساتھ ہی اس آن لائن رجسٹریشن پورٹل میں سافٹ ویئرز کی مدد سے ایسا طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا ہے، جس کے ذریعے کمپنی کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے والے شخص کو بذریعہ موبائل یا ای میل پیغام سے باخبر رکھا جاسکے گا۔

حصہ