اکبر مجید سہجوی مرحوم ۔ ۔ ۔ایک بہن کی یادیں

کُلُّ مَنْ عَلَیْْہَا فَانٍ (26) جتنے بھی ہیں سب کو فنا ہے

اس عالم فانی کی ہر شے عارضی ہے، یہاں کی خوشی بھی اور غم بھی، یہاں کا ملاپ بھی اور جدائی بھی… اور دوسرے جہاں کی ہر شے دائمی ہے، باقی رہنے والی ہے۔ اللہ پھر سے ہم سب کو اکٹھا کردے گا۔ اس کے بعد کوئی فراق ہے نہ غم وحزن… یہی وہ جذبۂ ایمانی ہے جو مائوف اور صدمہ زدہ دلوں کو صبغۃ اللہ کے لیے کمر کسنے پر متحرک کردیتا ہے۔

13دسمبر2017ء کو فجر کے وقت خبر ملی کہ بھائی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، بابا کے گھر جانا ہے۔ راستے میں تھے کہ اعلان سنائی دیا: نیو پاک کیڈٹ چلڈرن پیراڈائز کے پرنسپل اکبر مجید سہجوی قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ شاید غلط خبر تھی، رات تو بات ہوئی ہے۔ کل ہی تو گھر شفٹ کیا ہے۔ ’’راستہ دو، سر کی بہن آئی ہے‘‘۔ سارا اسکول گھر میں موجود تھا۔ بچوں نے ہاتھوں میں گتے اٹھا رکھے تھے۔ سب ننھے وجود پانی ہورہے تھے۔ زمین کا دامن سسکیوں اور ہچکیوںسے بھر گیا تھا۔ ان کے طلبہ و طالبات کی آہ بکا دلوں کو دہلارہی تھی۔

بہت ملال ہے یاروں کو اس کے جانے کا
جو اس سے ہاتھ ملاتے تھے، ہاتھ مَلتے ہیں

دور دور تک بس سروں کی فصل تھی۔ یہ فصل اچانک نہیں اُگائی گئی تھی، بڑی محنت اور محبت سے ان پودوں کو سینچا گیا تھا۔ آج تھکا ہارا مالی لوگوں کے دلوں میں سچائی اور پاکیزگی کا بیج بوکر خود اپنے ربِّ حقیقی سے جا ملا تھا۔ جماعت کے کارکنان، یوتھ جماعت اسلامی کے جوان، طلبہ و طالبات، والدین (مرد و عورت) ہر طبقۂ خیال کے لوگوںکی آنکھیں نم تھیں۔ بھانت بھانت کی آوازیں آرہی تھیں: ’’سہجہ کے یتیم بچے آج پھر یتیم ہوگئے‘‘۔ ’’یتیموں کی خبرگیری کرنے والا چلا گیا‘‘۔ بھونچال کی سی کیفیت تھی۔ دل ودماغ مائوف ہوچکے تھے۔

خدمتِ خلق کے ایسے دھنی تھے کہ ایک ہاتھ سے دیتے تو دوسرے کو خبر نہ ہوتی۔1999ء سے اب تک کئی غریب طلبہ و طالبات ان کے پاس مفت تعلیم حاصل کررہے تھے۔کئی گھروں میں آٹا، گھی اور دیگر ضروری اشیاء بھجوانا ان کا معمول تھا۔ رمضان اور عیدین کے دوران یہ سرگرمیاں مزید بڑھ جاتی تھیں۔ راقمہ لاہور میں تھی تو ان کا فون آیا،کہنے لگے ’’رمضان فنڈ کے لیے کیا بھیج رہی ہو؟‘‘ راقمہ نے سبکی محسوس کرتے ہوئے کہا ’’بھائی حالات کچھ اچھے نہیں‘‘ تو یہ اشعار سنا دیے:

’’حالات کا شکوہ کس سے کریں ۔ حالات کا کس نے ساتھ دیا
تم خود کو بدل کر دیکھو تو ۔ حالات بدلتے جائیں گے‘‘

بھائی وسیع العلم اور کثیرالمطالعہ شخص تھے۔ ان کا سینہ بے شمار تاریخی واقعات اور علوم وفنون کا مدفن تھا۔ اقبال کے اشعار اکثر زبان پر رہتے تھے۔ ’’ان اللہ مع الصبرین‘‘ ان کا تکیہ کلام بن گیا تھا۔ انگریزی بہت اچھی تھی۔ روزنامہ اوصاف کے صحافی رہے۔ استدلال، ثابت قدمی، تحمل و بردباری اور استقامت جیسی خصوصیات انہیں دوسروں سے ممیز کرتی تھیں۔ طرزِ خطابت اس قدر مؤثر اور دلنشین تھا کہ ہر لفظ دل کی گہرائیوں میں اُتر جاتا۔ رواں دواں گفتگو کے بجائے ٹھیر ٹھیر کر بات کرتے۔ ان کے دروس لوگوں کو زبانی یاد ہوجایا کرتے تھے۔

لباس اور چال ڈھال کے ساتھ مزاج بھی بہت سادہ تھا۔ ہر طبقے کے لوگوں میں دعوت کا کام بآسانی کرلیتے تھے۔ اسکول ورکرز اور چھابڑی والوں کے ساتھ کھانا کھانے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ہر وہ کام حوصلے سے کرلیتے تھے جسے کرنے میں اکثر لوگ گھبراتے ہیں۔ صفیں یا کرسیاں لگانی ہوں، کھانا تقسیم کرنا ہو، یا اسٹیج سنبھالنا… ہر کام کے لیے ہمہ وقت تیار نظر آتے۔

۔24 نومبر2017ء کو محترم لیاقت بلوچ صاحب محسنِ انسانیتؐ کانفرنس اور اسلامک سینٹر کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے سہجہ تشریف لائے۔ دونوں بھائی (اخترسہجوی/ ارشد سہجوی) ایک عزیزہ کے جنازے میں تھے۔ راستے میں بڑے بھائی کو فون کیا کہ لیاقت بلوچ صاحب پہنچ گئے ہیں،آپ کہاں غائب ہیں!۔

بھائی اپنے سے بڑوں کو بھی خوبصورتی سے احتساب کے کٹہرے میں لاکھڑا کرتے اور اگلے کو پھر چپ کے سوا کچھ نہ سوجھتا، پھر خود ہی مسکرا دیتے۔

نگاہ میں بھی اثر پذیر رکھتے ہیں
پاک صاف جو اپنا ضمیر رکھتے ہیں

رمضان میں ہر خاص وعام کے لیے افطار اور درسِ قرآن کا انتظام کرتے، ہمارے ساتھ مل کر پکوڑے اور دہی بڑے بنواتے۔ گھر کے سامنے زمین خرید کر مسجد و مدرسے کے لیے وقف کی۔ باوجود محدود وسائل کے وہ یہاں منصورہ طرزکے ایک ادارے کا قیام چاہتے تھے۔ ایک ذاتی پک اَپ خریدی تاکہ لوگ ایمرجنسی میں مفت بروقت گاڑی حاصل کرسکیں۔

سہجہ میں یوتھ جماعت اسلامی اُن کے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا ہے، جس میں ہر طالب علم اور نوجوان مزدور طبقہ بھی شامل ہے۔ یوتھ کے جوانوں میں کرکٹ میچ اور تقریری مقابلہ کرواتے۔ سہجہ میں جماعت اسلامی کا دفتر بھی مرحوم کا قائم کردہ صدقۂ جاریہ ہے۔ دستور پر مکمل عبور حاصل تھا۔ دفعات زبانی یاد تھیں۔ خلافِ اصول بات پر فوراً سرزنش کرتے۔

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

راقمہ کا مقالہ ’’مریم جمیلہ نقاد تہذیبِ مغرب‘‘ شائع ہوا تو کتاب کے ساتھ ایک ٹاپک ’’اللہ کا مطلوب انسان‘‘ لکھ بھیجا۔ پھر فون پر کہتے ’’ ایک ایسی سادہ تحریر ہو جسے لوگ سمجھ سکیں،کہ اللہ کو اپنے بندے کی کیسی بندگی مطلوب ہے؟‘‘ ماضی کے اوراق پلٹوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بھائی کی بیالیس سالہ زندگی اسی سعی میں گزری کہ میں اللہ کو پسند آجائوں، بندگی کا حق ادا ہوجائے۔ اکثر بابا جان سے لاڈ کرتے ہوئے کہتے ’’بابا آپ اپنے بھی تو چھے بچوں کو سنبھالے ہوئے ہیں، میرے بھی چھے بچوں کی ذمہ داری لے کر مجھے جماعت کے کاموں کے لیے فارغ کردیں۔‘‘

جب بھائی اسلامی جمعیت کے معتمد ڈویژن تھے تو پولیس بھائی اور کارکنان کو پکڑ کر لے گئی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں ناظم ڈویژن ڈاکٹر طاہر سے پوچھتے ’’بھائی گولی آپ کو لگی ہے یا مجھے‘‘۔ نڈر اور بے باک تھے۔ جو بات حق سمجھتے، بلا خوف کہہ دیتے۔ بقول ظفر علی خان

نکل جاتی ہے جس کے منہ سے سچی بات مستی میں
فقیہ و مصلحت سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا

گھر، معاشی، تنظیمی یا سیاسی معاملات میں اپنی ذمہ داریوں سے کبھی غافل نہ ہوتے۔ اپنے طلبہ کی عصری تعلیم کے ساتھ دینی اور اخلاقی تربیت کا خاص خیال رکھتے۔ دورہ ہو یا اجتماعات، شاہین کیمپس یا تربیت گاہیں… دو ڈھائی سو طلبہ و طالبات کو جانے کے لیے آمادہ کرلیتے۔

اجتماعات سے پمفلٹس، کتابیں، پنسلیں، لیٹر پیڈ اور ڈائریاں وافر مقدار میں لاتے اور تقسیم کرتے۔ رمضان کا پورا مہینہ راشن، امدادی پیکٹس جمع کرنے اور تقسیم کرنے میں گزرتا، اور بقرعید کے تین دن خون سے لت پت کپڑوں میں نظر آتے۔ آخری بقرعید پر میں نے انہیں رات گیارہ بجے اسکول میں کھالیں لوڈ کرتے دیکھا۔ مسکرا کر کہتے ’’کیا اس حالت میں عید نہیں ملو گی؟‘‘ سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ اس میں میرا خون بھی شامل ہے۔ ہاتھ زخمی تھا اور پٹی بندھی تھی۔

بچوں سے بہت پیار کرتے، اسکول میں آنے والے ہر روتے ہوئے بچے کو گود میں اٹھا لیتے۔ بچوں کے ساتھ نظمیں پڑھتے اور روزمرہ کی دعائیں یاد کرواتے۔ باتوں ہی باتوں میں نماز، تلاوت اور نیک بننے اور نیکی پھیلانے کا جذبہ پیدا کردیتے۔ بیماری کے سبب راقمہ ایک ماہ بابا جان کے گھر رہی تو فجر کے وقت اپنے بچوں کے ساتھ چائے کا کپ لے کر میرے سرہانے کھڑے ہوجاتے کہ چائے پی لو۔ جب میں اٹھ جاتی تو کہتے: ٹھنڈے پانی سے وضو کے بعد گرم چائے مزا دیتی ہے۔

بہت نرم مزاج تھے۔ بار بار کہنے، لیکن اگر کوئی بات نہ مانتا تو مسکرا کر بس اتنا کہتے: لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ سوات سے واپسی پر لاہور راقمہ کے گھر کچھ گھنٹوں کے لیے ٹھیرے۔ میں اور میرے شوہر زاہد ان کے شاگرد ہیں۔ زاہد صاحب نے ان کے کپڑے استری کرکے دیئے تو میں نے کہا کہ آپ نے میرے کپڑے تو کبھی استری نہیں کیے۔ زاہدصاحب کے بولنے سے پہلے ہی کہنے لگے کہ یہ میرا شاگرد ہے، مگر تمھاری ادھر سے ہی جنت وابستہ ہے۔

رحم کے رشتوں کا بہت خیال کرتے، بہنوں کے آنے پر خود سالن بناتے، مسکراہٹ کے ساتھ ہماری باتیں سنتے رہتے اور پھر درمیان میں ٹوک دیتے کہ اب باتیں ختم ہوگئی ہیں اور اب آپ غیبت کررہی ہیں۔ ان کی دعائوں میں اکثر یہ دعا شامل رہتی کہ اے اللہ ہمیں انصاراللہ کا حق ادا کرنے والا بنادے۔

ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ میرا کُل مالی اثاثہ رکشہ خراب ہوگیا اور ایکسیڈنٹ کی وجہ سے میں بھی زخمی تھا، مستقل میرے گھر کی خبر گیری کرتے رہے اور مجھے رکشہ بھی بنوا کر دیا۔ اس معاملے میں وہ ڈاکٹر نذیر شہید ؒ کی مثال تھے۔

اپنے نئے ہمسایوں سے بس ایک بار ملاقات ہوئی، دوسری بار ہمسائے کو ہسپتال میں دیکھا تو فوراً مدد کے لیے پہنچے۔ سارا دن منصورہ ہائوس میں سامان شفٹ کرتے گزرا۔ عشاء کے بعد سو گئے۔ رات چار بجے گھبراہٹ محسوس ہوئی۔ بڑے بھائی کو فون کیا۔ باباجان کو ساتھ والے کمرے سے جگانا مناسب نہ سمجھاکہ پریشان ہوجائیں گے۔ جیب سے75 ہزار روپے نکال کر چند امانتیں بابا کے سپرد کیں۔تین بار بآوازِ بلند کلمہ پڑھا اور خود ہی بستر پر سیدھے لیٹ گئے جیسے تھکا مسافر آرام کرنے کو لیٹ جاتا ہے۔

اہلِ سہجہ کے لیے خصوصی اور پاکستان کے لیے عمومی پیغام:

محسن ِانسانیتؐ کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے نزدیک تم سب سے بڑھ کر وہ ہے جو متقی اور پرہیزگار ہے۔ اپنی زندگیوں کو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارنا ہی ہمارا مقصدِ حیات ہے۔ دعوتِ دین کو پھیلانا ہی انسان کو انسانیت سکھاتا ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اول و آخر قرآن و سنت ہی کی تعلیمات ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ ہمیں خود کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر پرکھنا ہو گا۔ اپنے دل کو ٹٹولیں، اور اپنے عمل کا جائزہ لیں کہ اس معاملے میں ہمیںکہاں تک کامیابی حاصل ہے۔

ساتھیو! دعوتِ دین کا ہر خاص و عام تک پہنچانا ہم پر لازم ہے۔ اللہ حقوق العباد معاف نہیں کرتا، اسی لیے ہمیں اپنے معاشرے کو رب کے رنگ میں ڈھالنا ہوگا، اس ظلم وجبر کے مقابلے میں ڈٹ جانے کے لیے جماعت اسلامی ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گی۔ ان شاء اللہ
اکبر مجید سہجوی (ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی) کا نماز جنازہ ڈاکٹر انوارالحق (ضلعی امیر جماعت اسلامی) نے پڑھایا۔ اتنی صفیں اور بڑا جنازہ دیکھ کر لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ میّت کے ساتھ اللہ نے ہماری بھی مغفرت کردی ہوگی۔

سبھی نے اپنے تعزیتی بیانات و پیغامات میں ان کی وفات کو ناقابلِ تلافی قرار دیا۔ مرحوم کی بڑی بیٹی گیارہ سال اور چھوٹا بیٹا سوا سال کا ہے۔ اللہ ان بچوں کو اپنے والد کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ بنا دے، ان کی تمام بشری خطائوں کو معاف فرماکر اعلیٰ علیین میں مقام رفیع سے نوازے۔

آمین یارب العالمین!

Share this: