پاکستان کی خواتین امن کی سفیر

زندہ اور متحرک معاشروں میں تعلیمی اداروں، دانشوروں اور صائب الرائے افراد کی حیثیت ایک اجتماعی ادارے اور تھنک ٹینک کی مانند ہوتی ہے۔ ہر ملک اور قوم کو الگ نوعیت کے چیلنج درپیش ہوتے ہیں، مذکورہ افراد ان چیلنجوں پر غوروفکر کرکے ان کے حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔

پاکستان کو اس وقت دہشت گردی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ’’پیغام پاکستان کانفرنس‘‘ پچھلے ماہ جنوری میں منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور دانشور اکٹھے ہوئے، سرجوڑ کر بیٹھے، شدت پسندی پیدا کرنے والے عوامل، نیز اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک لائحہ عمل تجویز کیا، ایک متفقہ فتویٰ پر تمام علماء کرام نے دستخط کیے، جس میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اسلام کے زرّیں اصولوں کی روشنی میں ایک معتدل اسلامی معاشرے کے استحکام کے لیے تجاویز پیش کیں۔

ملک کے موجودہ حالات میں جب امن وامان سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے اور ہر ایک اپنی جگہ اس سے متاثر اور فکرمند ہے، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی مبارک باد کی مستحق ہے جس نے ایک عملی قدم اٹھایا اور اس الزام کی کہ دہشت گرد عناصر مدارس میں تربیت پاتے ہیں اور علماء کرام کا ایک طبقہ ان کی پشت پر ہے، عملی تردید کی۔ بہت تاریخی موقع تھا کہ ملک بھر کے جیّد علماء کرام اکٹھے ہوئے اور ایک متفقہ فتویٰ پر دستخط کیے کہ اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور فتنہ وفساد کے خاتمے کے لیے کوئی فرد یا گروہ قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔

مشاورت کے اسی صحت مند سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یکم فروری کو اس سلسلے میں ’’پاکستان کی خواتین امن کی سفیر‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا اہتمام اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، اسلامی نظریاتی کونسل، ویمن پارلیمنٹیرین کوکس آف پاکستان، NCSWکے تعاون سے علامہ اقبال آڈیٹوریم فیصل اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس کی رودادکیا گیا۔

کانفرنس میں دینی مدارس کی نمائندگی وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اہلنست، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعہ، رابطۃ المدارس پاکستان نے کی۔ مزید برآں پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی کا جو مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا اُس میں چاروں صوبوں سے منتخب خواتین نے نمائندگی کی۔ مجھے بھی اس کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔

فیصل مسجد کے وسیع وعریض آڈیٹوریم میں صبح دس بجے پہلے سیشن کا آغاز ہوا جس میں درج بالا دینی مدارس کی نمائندگان نے اپنے اپنے بورڈز کی نمائندگی کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مدارس کے کردار کی وضاحت کی کہ مدارس کس طرح دینی تعلیم اور تعمیر شخصیت کے ذریعے سماج کی صحت مند تشکیل میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ غیر مسلم خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے رومینہ خورشید نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیشن کی صدارت راحیلہ درانی (اسپیکر بلوچستان اسمبلی) اور اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر معصوم یٰسین زئی نے کی۔

تین گھنٹے پر مشتمل اس سیشن میں تمام ہی مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی عورت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین کسی معاشرے کا نصف ہوتی ہیں، ان کا مضبوط کردار ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

ایک مختصر وقفے کے بعد تمام شرکاء کو چار گروپوں میں تقسیم کردیا گیا۔

ان چاروں گروپوں کے عنوانات :

(1) شدت پسندی سے اولاد کو بچانے میں ماں کا کردار

(2) مکالمے کے ذریعے امن کے فروغ میں عورت کا کردار

(3) اسلامی ریاست کی تعمیر میں عورتوں کے حقوق

(4) گھریلو اور سماجی معاملات قرآن کی روشنی میں

ایک گروپ کی نمائندگی سابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال صاحبہ نے کی۔ دوسرے گروپ کی نمائندگی اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کی۔ تیسرے گروپ کی نمائندگی ڈاکٹر فرخندہ ضیا منصوری (ہیڈ ویمن کیمپس اسلامی یونیورسٹی) اور چوتھے گروپ کی نمائندگی ہما چغتائی (ہیڈ آف WPC) نے کی۔گروپ ڈسکشن میں مجوزہ اعلامیہ پر بحث کی گئی۔ واضح رہے کہ کانفرنس کے شرکاء کو یہ اعلامیہ رات کو ڈنر کے موقع پر تقسیم کردیا گیا تھا کہ وہ اس پر غور و خوص کرکے اپنی تجاویز مرتب کرکے لائیں۔ اس وقت گروپ کے شرکاء نے اعلامیے کے متعلق اپنی تجاویز وترامیم پیش کیں جن کو نوٹ کرلیا گیا۔

کھانے کے وقفے کے بعد تمام گروپوں کی قائدین نے اعلامیے سے متعلق اپنے اپنے گروپوں کی تجاویز پیش کیں۔ اس سیشن کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم قبلہ ایاز، سابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال اور گورنر خیبر پختون خوا اقبال ظفر جھگڑا کی بیگم نے کی۔ بعد ازاں چیئرمین نظریاتی کونسل محترم قبلہ ایاز نے کانفرنس میں خواتین کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ پیش کیا جو 16 نکات پر مشتمل تھا۔ اس کو اختصار کے ساتھ درج کررہی ہوں:

’’دخترانِ پاکستان۔ پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی کا اعلامیہ‘‘

1… پاکستان کے 1973ء کے آئین کی دفعہ 2۔ الف کے تحت پاکستان بطور اسلامی ملک تشدد کی مخالفت کرتا اور رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ قراردادِ مقاصد آئین کا جزوِ لازم ہے۔ قرارداد میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ’’جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کے وہ تمام تقاضے جن کو اسلام میں لازمی قرار دیا گیا ہے، کی بجاآوری کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ تمام مسلمان اپنی انفرادی واجتماعی زندگی کو قرآن وسنت کے بتائے ہوئے اصولوں اور تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے‘‘۔

2… آئین کی دفعہ 25 صنفی تفریق سے بالاتر ہوکر مساوات کو یقینی بناتی ہے۔ دفعہ 34 قومی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کو اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ازواجِ مطہرات کے کردار کی روشنی میں اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے کردار کو فروغ دیتا ہے۔

3… امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے قرآنی حکم کے مطابق خواتین سماجی اور گھریلو تناظر میں امن و رواداری کے فروغ کے لیے نائب کی حیثیت رکھتی ہیں۔

4…اسلام سرپرستی کے اصول اور مادریت کے ضابطے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمام اصول پاکستان کے سماجی ڈھانچے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے سماجی انصاف، مساوات، باہمی توقیر اور اعلیٰ کردار کو فروغ دے سکتے ہیں۔

5… اسلام تشدد کے بجائے دلیل اور مکالمے پر زور دیتا ہے۔ سماجی نظام سے فساد کا خاتمہ صرف جہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عورت ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے روپ میں نہ صرف معاشرے کی تشکیل بلکہ تعمیرِنو میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

6… اسلام اختلافِ رائے اور تنوع کو تسلیم کرتا ہے۔ خواتین ثابت قدم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہیں اپنے خاندانوں میں امن و رواداری کو فروغ دینے اور تشدد کی تمام صورتوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔

7… اسلامی تعلیمات میں علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر لازم ہے، لہٰذا خواتین علم حاصل کریں اور اپنے خاندانوں کی پرورش اور تعلیم وتربیت میں اہم کردار ادا کریں۔

8… احادیث میں پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اپنی زبان اور ہاتھ سے دوسرے کو نقصان نہ پہنچانے کی تاکید ہے۔ پاکستانی خواتین اپنے کردار کو مثبت بناکر سماج کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

9…پاکستان میں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔ خواتین کو تعلیم دے کر انہیں غیر مسلموں کے حقوق سے آگاہ کیا جائے۔ میثاقِ مدینہ کی تعلیمات اس سلسلے میں مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔

10…واعتصمو بحبل اللہ کے قرآنی فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے خواتین پاکستانی سماج میں اتحاد و وطینت کے جذبات کو فروغ دیں تاکہ قائداعظم کے فرمان اتحاد، ایمان اور تنظیم پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاسکے۔

11… تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کو آگہی دی جائے کہ تشدد پسندی کا خاتمہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔

12…خواتین کو قومی دھارے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق ملنا چاہیے، انہیں ذاتی شناخت کا حق حاصل ہے۔

13… آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبائی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ بچیوں پر اوائل عمری میں ایسے کاموں کا بوجھ نہ ڈالا جائے جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما متاثر ہو۔

14… خواتین بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گود سے گور تک علم حاصل کرنے کے متمنی رہیں۔

15… اسلام صبر کا حکم دیتا ہے۔ خواتین معاشرے اور اپنے خاندان کو امن، ہم آہنگی اور متحد رکھنے کے اصولوں سے واقف ہوں۔

16… تاریخ سے ثابت ہے کہ مسلم خواتین نے امن کے اسلامی پیغام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپنی گود میں پرورش پانے والے نونہالوں کو امن وآشتی کی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں، بلکہ اپنی نسلوں کی گھٹی میں اسے شامل کریں تاکہ وطن عزیز امن وسکون کا گہوارہ بن جائے۔

سیشن کا آخری فکر انگیز خطاب اسلامی یونیورسٹی کے صدر محترم احمد یوسف الدرویش کا تھا۔ انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ ملک بھر کے دینی مدارس اور خواتین کے امور سے متعلق حکومتی ذمہ داران و نمائندہ شخصیات نے اس پروگرام کو کامیاب بنایا۔ کانفرنس کا اعلامیہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

nn

حصہ