مغرب میں نور کا سفر

تہذیبوں کے عروج و زوال کا کلیہ سوائے اصول وعمل کے کچھ نہیں۔ یہ اصول ومبادی تہذیب کی تعریف وتشریح کرتے ہیں۔ اعمالِ صالح یا اعمالِ خبیثہ نشوونما، وسعت، اثرپذیری، اور عالمگیریت کا تعین کرتے ہیں۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تہذیبی کشمکش جاری ہے۔ اسے آبنائے باسفورس کی لہروں میں مضطرب محسوس کیا جاسکتا ہے۔ آپ اس آبنائے کی مشرقی/ ایشیائی جانب نظر دوڑائیں، پُرشکوہ مساجد کے مینار نیا منظرنامہ پیش کررہے ہیں۔ یہ مساجد بیسویں صدی کے بیشتر زمانے میں قید و بند میں رہیں، ان کے مینار بے نورکیے گئے۔ مگر رسالہ نورکا سفر اندھیری کال کوٹھڑیوں میں جاری رہا۔ اعمال پر بندشوں کی گرفت زیادہ دیر ممکن نہ رہی۔ فضائیں پھر اذانوں سے تروتازہ ہوئیں۔ نورکا سفر وہاں سے آگے بڑھ گیا، جہاں صحابیٔ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے پہنچایا تھا۔ ترک انقلاب کے روح رواں بدیع الزماں سعید نورسی نے ’’قیدیوں سے گفتگو‘‘ میں لکھا تھا’’اگر انسان اپنے صبر کی قوت کو دائیں بائیں (ماضی اور مستقبل میں) بکھیرنے کے بجائے اسے آج کے دن پر مرکوزکردے تو یہ طاقت اسے تکالیف کے جال سے نجات دلانے کے لیے کافی ہے۔ جس وقت تنگی اور مایوسی سے میرا سینہ پھٹا جارہا تھا، اللہ تعالیٰ کی عنایت سے مجھے مذکورہ بالا حقیقت عطا ہوئی، چنانچہ میرا سینہ پوری طرح کھل گیا۔ وہ تکالیف ختم ہوگئیں اور میں جیل، اس کی تکالیف، امراض اور مصائب پرراضی ہوگیا۔ اگر تم فرائض ادا کرو تو جیل کے اندر گزرنے والی ایک گھڑی بھی کئی گھڑیوں میں بدل سکتی ہے۔ اُس وقت تمام مشقتیں اور مشکلات رحمتوں اور بخششوں میں بدل جائیں گی۔‘‘

آج الحمدللہ نورکا یہ سفر یورپ/ مغرب میں جاری وساری ہے۔ تہذیبِ مغرب کے نشان مٹ رہے ہیں۔ گرجاگھر اورسیناگاگ قید و بند کی سعادت سے بھی محروم کیے جارہے ہیں۔ اصول وعمل کی خانہ بربادیوں نے تہذیبی خودکشی اختیار کرلی ہے۔ انسانی خدائی کےسارے نظریے تھیسس، اینٹی تھیسس اور سن تھیسس میں کولہو کے بیل بن چکے ہیں، تھک ہارچکے ہیں۔ مغرب کو خدا کی ضرورت ہے، مگر یہ مغربی مذاہب کے بس کا روگ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کی علامتیں ہی یورپ کی واحد مذہبی علامتیں بن چکی ہیں۔ اذانیں گونج رہی ہیں۔ روشن مینار سراٹھا رہے ہیں۔ اب مغرب مذہب سے رجوع کرتا ہے، اسے سوائے اسلام کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ اسلام دشمن دوست ہوئے جاتے ہیں۔ دی ایٹلانٹک رپورٹ کرتا ہے کہ اسلام دشمن انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے اہم رہنما آرتھر ویگنر نے اسلام قبول کرلیا، اور پارٹی چھوڑدی۔ Arnoud van Doorn، ڈچ فریڈم پارٹی ہالینڈ کے رہنما، ملعون گیرٹ ولڈرزکے پرانے ساتھی اسلام قبول کرچکے۔ فرانس کے اسلام دشمن لوکل کونسلر Maxence Buttey نے نہ صرف اسلام قبول کیا، بلکہ پوری جماعت کو اسلام کی دعوت دی۔
یورپ میں اس صورت حال پر صلیبی نوحہ کناں ہیں۔ Gatestone Institute International Policy Council کے دانشور Giulio Meotti نے Europe: Judeo- Christian Symbols Vanish, Islam Rises کے واضح عنوان سے مضمون باندھا ہے۔ وہ کہتا ہے: برطانیہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ گرجاگھروں کی خرید و فروخت میں سرگرم ہے۔ 154 سال قدیم میتھڈسٹ چرچ پر برائے فروخت کا بورڈ لگادیا گیا ہے۔ لندن کا ایک چرچ اپارٹمنٹس میں ڈھل چکا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ مذہبی علامات تہذیب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب پرانی علامتیں مٹتی ہیں تو نیا مذہب، نئی علامتیں جگہ لے لیتی ہیں۔ یورپ میں اسلامی علامات کا سیلاب سا آگیا ہے۔ اسکولوں اوردفاتر میں اسلامی پردہ عام ہورہا ہے۔ سوئمنگ پول تک پردے سے محفوظ نہیں۔ جا بہ جا مساجد کے مینار سر اٹھا رہے ہیں۔ ہم بے حس سیکولرز شاید پرانے مذہبی آثار مٹنے پر خوش ہوجائیں، مگر اسلامی علامتوں کی فتوحات پر ہمیں کسی صورت لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ ایک ماہ قبل ہی تاریخی جرمن چرچ St.Lambertus ڈھادیا گیا۔ ہنگرین اسرائیلی فوٹوگرافرBernadett Alpern نے چند تصاویرلی ہیں جو صورتِ حال واضح کررہی ہیں۔ سیناگاگ سوئمنگ پول پولیس اسٹیشن اور اور سپراسٹور بن چکے ہیں۔ لندن کی برک لین میں قائم مسجد کبھی سیناگاگ ہوا کرتی تھی، اسے عبادت گزار اسلام سے ہی میسر آئے۔ World Zionist Organization کی رپورٹ انکشاف کررہی ہے کہ یورپ میں پچاس فیصد یہودی مذہبی حلیے میں محفوظ نہیں۔
گیٹ اسٹون انسٹی ٹیوٹ اسلامی تہذیب کے مسئلے کا سبب مسلمان تارکین وطن کی آمد کوسمجھتا ہے۔ Europe: Making Islam Great Again میں Judith Bergman نے سروے رپورٹوں کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ جرمنی میں 47 فیصد مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ قانونِ شریعہ جرمن قانون سے زیادہ اہم ہے۔ سوئیڈن میں 52 فیصد مسلمان سمجھتے ہیں کہ شریعہ قوانین سوئیڈش قوانین سے زیادہ اہم ہیں۔ آسٹریا کے شہرGraz میں چار ہزار افغان پناہ گزینوں میں سے 288 افراد کا سروے نمونہ نکالا گیا۔ اس مطالعے سے سامنے آیا کہ دوتہائی افراد اسلامی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔ 70 فیصد باقاعدگی سے نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ 62 فیصد خواتین اور 40 فیصد مرد پانچوں نمازیں ادا کرتے ہیں۔ 66 فیصد خواتین پردہ کرتی ہیں۔ نصف تعداد کویقین ہے کہ آبائی وطن کی نسبت یورپ کی روزمرہ زندگی میں مذہب زیادہ اہم کردار ادا کررہا ہے۔ 48 فیصد سمجھتے ہیں کہ جدیدیت اسلام کے لیے خطرہ ہے۔ تقریباً 52 فیصد کہتے ہیں کہ اسلام کی دیگر مذاہب پر بالادستی مسلّم ہے۔ 50 فیصد اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ عالمی امور میں صہیونیوں کا اثر رسوخ بہت زیادہ ہے۔
یہ اور دیگر سروے رپورٹیں مسلسل مسلمان تارکین وطن کے تعاقب میں ہیں۔ گوکہ اسلامی تہذیب کے احیاء کے حوالے سے یہ اعداد و شمار بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ مگر مغرب کی اسلام دشمن سرمایہ کاری کا حجم دیکھا جائے، مسلمان حکمرانوں کی ایمان فروشی کا جائزہ لیا جائے، مہاجرین کے بے پناہ مسائل سمجھے جائیں، اور اگر طاقت کا توازن سامنے رکھا جائے تو مغربی تہذیب کے لیے یہ صورت حال حوصلہ شکن اور مایوس کن ہے۔
یہ مایوس کن رویہ ڈھکا چھپا نہیں۔ Lifesite news پرWilliam Kilpatrick نے صلیبی سوال اٹھایا ہے۔ can the church recover its defensive fighting spirit against militant Islam? موصوف نے ماضی سے مثالیں لے کر نئی جنگ کا محاذ بنانے کی کوشش کی ہے۔ پہلا جملہ ہی الٹا لکھ دیا ہے کہ ’’اسلامی دنیا یہودی عیسائی تہذیبوں کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے، اور وہ یہ جنگ جیت رہی ہے‘‘۔ جملہ یہ ہونا چاہیے کہ مغرب نے اسلام کے خلاف جنگ مسلمانوں پرمسلط کردی ہے، اور اسلام اس جنگ کا فاتح ہے۔ یہاں ولیم کلپیٹرک کی اس دانش ورانہ بددیانتی کی نشاندہی برمحل ہوگی کہ مغرب مسلسل پینتیس سال سے اسلام کے خلاف محاذ آراء ہے۔ افغان جہاد سے بوسنیا قتلِ عام، چیچنیا کا جہاد، الجزائر کا قتلِ عام، نائن الیون کا ڈراما، دہشت گرد جنگ، عراق وشام کی تباہی، غزہ پرمظالم، افغانستان پر جارحیت، اور بے شمار اسلام دشمن سازشیں اور واقعات کتابوں کی ایسی لائبریری تشکیل دے سکتے ہیں، جس کا سارا کیٹالاگ حالیہ صلیبی جنگ پر مبنی ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے، ولیم کلپیٹرک ان حقائق سے واقف ہے، مگر یورپ میں اسلام کی توسیع سے مزید وحشت زدہ ہوچکا ہے، مزید قتل وغارت چاہتا ہے، صلیبی جنگ کو مکمل ابلیسی رنگ میں ڈھلتا دیکھنا چاہتا ہے۔
جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ باسفورس کے مشرق سے ابھرتا منظرنامہ مغرب کو اسلام کے فریم میں لارہا ہے۔ وجہ مسلمانوں کا کردار نہیں، بلکہ اسلام کا وہ نور ہے جس کے سوا بالخصوص یورپ اور بالعموم مغرب کے لیے کہیں پناہ نہیں۔
nn

Share this: