راؤ انواز کی گرفتاری کا معما؟

رائو انوار کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، یہ معما حل نہیں ہوسکا۔ قانون کی عمل داری کا سوال ابھی تک باقی ہے اور یہ اُس وقت تک رہے گا جب تک قانون قاتلوں کی گردن دبوچ نہیں لیتا۔ دھرنے کے ساتویں روز ایک پیش رفت ہوئی کہ وزیراعظم نے دوٹوک اعلان کیا کہ نقیب کا قتل صوبائی حکومت کا نہیں بلکہ ریاست کا معاملہ ہے۔ وزیراعظم کے اس اعلان اور یقین دہانی کے بعد رائو انوار کی گرفتاری کے حوالے سے اب کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ معطل ایس ایس پی رائوانوار کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد کے پوش علاقے میں مبینہ طور پر اُن کے ملکیتی گھر پر چھاپہ مارا گیا اور اُن کے لیے اشتہاری نوٹس چسپاں کیا گیا، لیکن رائو انوار نے اپنے پہلے میڈیا بیان میں اس گھر کی ملکیت سے انکار کردیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ 25 سال پہلے وہ بیچ چکے ہیں لیکن سیکورٹی وجوہات کے باعث شناختی کارڈ پر پتا تبدیل نہیں کرایا تھا۔ تحقیقاتی حکام نے شناختی کارڈ اور نادرا ریکارڈ کی مدد سے بتایا ہے کہ جس مکان پر چھاپہ مارا گیا، وہ رائو انوار ہی کا ہے۔ اسلام آباد سیکٹر ایف 10 فور کی گلی نمبر 43 کے مکان نمبر 133 پر چھاپہ مارا گیا۔ بقول رائو انوار یہ گھر ان کی ملکیت نہیں ہے بلکہ کئی سال پہلے وہ یہ مکان فروخت کرچکے ہیں، اب یہ گھر وقاص رفعت ولد ملک رفعت حسین کی ملکیت ہے۔ تحقیقاتی حکام نے چھاپے کے لیے اس گھر کا انتخاب اس لیے کیا کہ رائو انوار کے بچوں میں سے ایک کو حال ہی میں شناختی کارڈ ملا ہے، اس پر بھی اسی گھر کا پتا درج ہے۔ آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جاچکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نقیب اللہ محسود کے فون فرانزک نے بھی پولیس مقابلے کوجعلی ثابت کردیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں موجود کال ڈیٹا کے ریکارڈ کے مطابق گرفتاری کے وقت نقیب اللہ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تھا، اسے حراست میں لینے والے پولیس اہلکاروں کا سی ڈی آر بھی اسی علاقے سے ملا ہے۔ سی ڈی آر کے مطابق نقیب اللہ کو 3 جنوری کو حراست میں لیا گیا اور اس کا موبائل فون 4 جنوری کو بند ہوا، جس سے اس کے زیرحراست ہونے کی تصدیق ہوتی ہے، جبکہ 4 جنوری سے اس کی ہلاکت اور اب تک اس کا موبائل فون بند ہے۔ نقیب اللہ کے زیراستعمال 2 موبائل فون تھے اور ان سے دہشت گردوں سے رابطوں کا ثبوت نہیں ملا۔

اس قتل کے بعد احتجاج اور دھرنے نے جس طرح حکومت پر دبائو بڑھایا اُس کے نتیجے میں ہی وفاق کا مؤقف سامنے آیا ہے کہ یہ قتل ریاست کا معاملہ ہے اور کیس میں اب ریاست ہی مدعی بنے گی۔ امکان یہی ہے کہ اس یقین دہانی کے بعد اور کسی متفق قیادت کے فیصلے کی روشنی میں دھرنا ختم کردیا جائے گا۔ نقیب کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے دھرنے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق، سینیٹر صالح شاہ، ایم این اے جمال الدین، محمد نذیر، ساجد طوری، اجمل خان وزیر، بشریٰ گوہر کے علاوہ قبائلی عمائدین میں معراج الدین، رحمت خان محسود، بریگیڈیئر(ر) عبدالقیوم خان، مولانا حسام الدین، منظور خان، عبداللہ خان، ملک نصراللہ خان محسود، عدنان بیٹنی، اور ٹانک کے عمائدین شریک ہوئے، اور جرگے میں مشاورتی عمل کا بھی حصہ رہے۔ نقیب کے والد محمد خان کا مؤقف یہ رہا کہ’’ہمارا خاندان خون کا سودا نہیں کرے گا بلکہ انصاف چاہتا ہے، اور بے گناہ قتل کرنے پر قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے‘‘۔ ذرائع ابلاغ پر اس دھرنے کے حوالے سے پیش کیے گئے مؤقف کا جواب نقیب اللہ کے کزن نور رحمان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دیا کہ ’’من گھڑت افواہوں کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور ہمارا خاندان دیت نہیں بلکہ قانون کے مطابق قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی کسی افواہ پر توجہ نہ دیں‘‘۔ جب یہ افواہیں پھیلائی جارہی تھیں اُس وقت نقیب اللہ کے والد محمد خان کراچی میں اپنے ایک عزیز کے ہاں مقیم تھے اور دبئی پلٹ ان کے بھائی فرید اللہ محسود، علم شیرمحسود، جام شیر محسود اور نقیب اللہ شہید کے بچے آبائی گائوں میں تھے۔ محسود قبائل کا یہی فیصلہ ہے کہ خون بہا نہیں لیا جائے گا، قانون کی عمل داری کرائی جائے گی اور قاتل کو قانون کے مطابق ہی سزا ملنی چاہیے۔ دراصل کراچی سے اسلام آباد دھرنا منتقل ہونے کے بعد پیپلزپارٹی دو دھاری تلوار بن کر سامنے آئی، دھرنا کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو سندھ حکومت بھی دبائو سے باہر آگئی، اور اسے ذرائع ابلاغ پر یک طرفہ مؤقف پیش کرنے کا موقع ہاتھ آگیا، اسی لیے یہ تاثر ملنا شروع ہوا کہ شاید دیت کے معاملے پر بات چیت بڑھ رہی ہے اور معاملہ حل ہوسکتا ہے، لیکن قبائلی عمائدین نے اس تاثر کو مسترد کردیا۔ کراچی میں قبائلی عمائدین نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ اور کور کمانڈر کراچی سے ملاقات میں پانچ مطالبات پیش کیے تھے۔ سندھ کے حکام سے ملاقات کے بعد ہی دھرنا اسلام آباد منتقل ہوا۔ چونکہ یہ نہایت حساس معاملہ تھا اور ہے، اس لیے فیصلہ یہی ہوا ہے کہ نقیب اللہ کے قتل کے باعث فضا چونکہ بہت جذباتی ہے لہٰذا کوئی بھی قدم کسی مشاورت کے بغیر نہیں اٹھایا جائے گا اور اسلام آباد میں پُرامن رہا جائے گا، تاہم دبائو بڑھایا جائے گا اور جناح ایونیو سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ بھی احتجاج کے لیے حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سندھ میں ہونے والی اعلیٰ حکام کی ملاقات میں عمائدین سے گزارش کی گئی تھی کہ وہ پُرامن رہیں اور ملک کو درپیش مسائل، خاص طور پر فاٹا سے ملحق افغان مسائل بھی کسی بھی لمحے نظروں سے اوجھل نہیں رہنے چاہئیں۔ عمائدین نے یقین دہانی کراتے ہوئے پانچ مطالبات ان کے روبرو پیش کیے:

(1)بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔

(2) نقیب اللہ کے قتل میں ملوث رائو انوار اور اس کے ساتھیوں کو قانون کے حوالے کیا جائے۔

(3)جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے گئے افراد کے لواحقین کی درخواستوں کی روشنی میں ملوث افراد کو برطرف کیا جائے۔

(4)پختونوں کو کاروبار کے لیے نقل و حرکت کی مشکلات سے نجات دلائی جائے۔

(5) شناختی کارڈ کے مسائل بھی حل کیے جائیں۔

یہی مطالبات قبائلی عمائدین نے وفاقی حکومت کے نمائندوں وزیر سیفران جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ اور وزیر کیڈ طارق فضل چودھری کو پیش کیے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی گزارش کی۔ وفاقی حکومت کے نمائندوں نے انہیں بھرپور تعاون اور جلد جواب سے مطلع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ محسود اور وزیر قبائل کے جرگے نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔ گورنر خیبر پختون خوا اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر طارق فضل چودھری اور وزیراعظم کے مشیر امیر مقام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ نقیب اللہ کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔ جرگے نے نقیب اللہ محسودکے ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داران کو فوری گرفتار کرنے اور قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ملاقات میں وزیرستان میں قبائل کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ نقیب اللہ محسود کے نام پر وزیرستان میں ایک کالج بھی تعمیر کیا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں قبائلی عوام نے قربانیاں دی ہیں، پوری قوم قبائلی علاقوں کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، حکومت قبائلی عوام کی آبادکاری میں ہر ممکنہ تعاون جاری رکھے گی اور بارودی سرنگوں کے نتیجے میں زخمیوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے کام کو تیز کیا جائے گا۔ جرگے کی جانب سے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ یہ وہی مطالبات ہیں جو اس سے قبل صوبائی حکومت کو بھی پیش کیے گئے تھے اور وفاقی سطح پر ان مطالبات کو اصولی طور پرتسلیم کیا گیا اور یقین دہانی کرائی گئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لیا اور ان میں سے بیشتر مطالبات اس کے ذریعے بھی تسلیم کیے گئے ہیں۔ اب معاملہ رائو انوار اور جعلی پولیس مقابلے میں ملوث ان کے ساتھیوں کی گرفتاری اور انہیں قانون کے حوالے کرنے کا ہے۔ یہ جب تک نہیں ہوگا، مطالبات بھی جاری رہیں گے، جرگہ بھی ختم نہیں ہوگا اور ہر سطح پر جدوجہد بھی آگے بڑھائی جاتی رہے گی، اور یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ حکمت عملی وقت کے ساتھ ساتھ مناسب اقدام کے لیے تبدیل کی جاسکتی ہے۔

اسلام آباد جرگے میں شریک قبائلی عمائدین کا مؤقف یہ تھا کہ وہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ اپنی قوم کے لیے یہاں آئے ہیں اور قانون کی عمل داری کی حمایت کرتے ہیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود بیک ڈور چینل سے بات چیت جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اس بات چیت کا حصہ ہیں۔ تین بااثر مشران ملک اختر گل، ملک خیر محمد، اور ملک بشیر خان بھی اس معاملے میں متحرک ہیں۔ لیکن حالات یہی بتاتے ہیں کہ معاملہ بہت گمبھیر ہے، لہٰذا جو بھی مسئلہ حل کرانے کی کوشش کا جس سطح پر بھی حصہ ہے، وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے کہ کہیں چھوٹی سی غلطی، کوتاہی اور لغزش ہم آہنگی کے لیے تباہ کن بارودی سرنگ ثابت نہ ہو، کیونکہ سب اس پر متفق ہیں کہ انصاف ہونا چاہیے۔ اگر اپنی آزاد مرضی سے، کسی دبائو کے بغیر ورثا راضی ہوجائیں تو دیت بھی معاملہ حل کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ یہی اس وقت سب سے بڑا سوال ہے کہ آیا قانون کے مطابق قاتلوں کو سزا سے کم پر لواحقین اور ورثا میں سے کون کیسے، کیونکر راضی ہوگا؟

nn

حصہ