امریکہ کی دھمکی اور تھپکی ساتھ ساتھ

محترم ایڈیٹر: فرائیڈے اسپیشل
آپ کے موقر جریدہ کا تازہ شمارہ نظر سے گزرا۔
آپ کا اداریہ ’’امریکہ کی دھمکی اور تھپکی ساتھ ساتھ‘‘ ایک فکر انگیز تحریر ہے لیکن یہ احساس قوی تر ہوتا جا رہا ہے کہ بحیثیت قوم پاکستانیوں کو ادراک نہیں ہے کہ پس پردہ کیا کھیل تماشے ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ جو کھیل پوری دنیا میں کھیلا جا رہا ہے اس کی نوعیت پر مضامین شائع کریں تاکہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ کیا ہو رہا ہے؟ اور ہمارے ملک میں تو اس وقت محسوس یہ ہوتا ہے کہ بیشتر مناصب پر ویسے ہی لوگ زیادہ طاقت ور ہیں جنہوں نے ایک سازش کے تحت دستور ساز اسمبلی کو توڑا تھا اور اس کی قانونی آئینی حیثیت ایک خبیث، پلید جہنمی کتے نے دی تھی، جس نے بغیر کسی دلیل کے نہ صرف بارہا کہا اور لکھا کہ قائداعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں کہ جو ہر قیمت پر اس ملک کو سیکولر بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے خلاف بار بار لکھنا اور قوم کو جھنجوڑنا چاہیے۔کیا اس ملک میں سول سروس کے افسران اور دیگر محکموں میں بشمول عدلیہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اربوں کھربوں کی کرپشن کی۔ ان کو کیوں سزا نہیں دی گئی اور نہ کوئی ایسی صورت نظر آتی ہے کہ ان کو سزا دی جا سکے، کیا عدلیہ میں سب اندھے، بہرے، گونگے لوگ بیٹھے تھے اور بیٹھے ہیں کہ جنہیں کبھی یہ نظر نہیں آیا کہ ایک غیر ملکی شہری پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کی سربراہی کرتا رہا اور اس سے بڑے سے بڑا منصب دار بات چیت کرتا رہا کیا کھیل تماشا ہو رہا ہے اس موضوع پر بھی قوم کو آگہی دیں۔ (م۔ص۔ فلک…کراچی)

کراچی میں ٹریفک مسائل اور حادثات

کراچی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، اس شہر کی آبادی دو کروڑ سے زائد ہے۔ آبادی مسلسل بڑھنے کے سبب عوامی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔دیگر اَن گنت مسائل کے علاوہ ٹریفک کا مسئلہ بھی ہے جو اب بہت سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے۔ ہر روز ٹریفک حادثات میں لوگ زخمی اور ہلاک ہورہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ لاپروائی اور تیز رفتار ڈرائیونگ ہے۔ بسوں اور دیگر ہیوی گاڑیوں کے اکثر ڈرائیور نشہ کرکے، اور نوجوان لڑکے جو ہوش کے بجائے تیز رفتاری سے موٹر سائیکل یا کار چلاتے ہیں، زیادہ حادثات کا باعث ہیں۔ کئی جگہوں پر سیوریج لائن بند ہونے سے گٹر کا گندا پانی سڑکوں، گلیوں میں جمع ہوجاتا ہے، کچرا اور گندا پانی لوگوں اور ٹریفک کے گزرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اکثر جگہوں پر گٹر کے ڈھکن غائب ہیں، جو کہ حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں سڑکوں، گلیوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے، کیونکہ پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہیں ہے، اس وقت یہ کھلے گٹر پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے مزید خطرناک ہوجاتے ہیں۔ ٹریفک کی روانی کے لیے اگرچہ پل اور بائی پاس بھی بنے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی اکثر جگہوں پر ٹریفک جام ہوجاتا ہے، زیاد ہ ٹریفک والی سڑکوں پر لوگوں کے لیے سڑک پار کرنا دشوار ہوجاتا ہے، جس رش والی جگہ پر سڑک پار کرنے کے پل نہیں ہیں وہاں یہ پل فوری تعمیر ہونے چاہئیں۔ موٹر سائیکل اورگاڑی والے اپنی رفتار کم نہیں کرتے اور سڑک پر کھڑے لوگوں کو سڑک پار کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث سڑک پار کرنے میں بھی حادثات ہوتے رہتے ہیں، یہ خود ایک بے حسی کی بات ہے۔ سب اپنی گاڑیوں کو افراتفری میں بھگارہے ہوتے ہیں، نہ اپنے لیے احتیاط کرتے ہیں، نہ دوسروں کے لیے۔ اکثر گاڑی والے ٹریفک قوانین کی پابندی بھی نہیں کرتے۔ سڑکوں پر ٹریفک جام رہنا روز کا معمول ہے، اس طرح لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور انھیں شدید زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔ کراچی میں موجودہ آبادی کے تناسب سے بڑی ٹرانسپورٹ بسوں کی کمی کے بعد چنگ چی رکشوں سے عوام کو بہت سہولت مل گئی ہے۔ شہر کے چھوٹے روٹ پر پورے شہر میں چنگ چی رکشے چلتے ہیں جہاں بسیں، ویگنیں نہیں جاسکتیں۔ سڑکوں پر چلنے والی اکثر گاڑیاں بہت زیادہ دھواں چھوڑتی ہیں، جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے اور قریب سے گزرنے والوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی فٹنس کرائیں۔ اس شہر کی آبادی بڑھتی جارہی ہے اس لیے اب نجی اور ٹرانسپورٹ ٹریفک بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ سڑکوں، گلیوں پر ناجائز تجاوزات، ٹھیلے والے، غلط پارک کی گئی گاڑیاں بھی ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔ شہری انتظامیہ ٹریفک پولیس کو یقینا ان مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
نوید خان…کراچی

اپنے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا، واٹس ایپ پر ہرگز نہ ڈالیں

سانحہ قصور کی تحقیقات میں جہاں دیگر چیزیں سامنے آئی ہیں وہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مملکتِ خداداد پاکستان میں ’’چائلڈ پورنو گرافی‘‘ یعنی کمسن بچوں کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیوز بنانے کا گھنائونا کاروبار زور و شور سے جاری ہے۔
یہ ویڈیوز دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً وسطی ایشیا، روس اور مشرقی یورپی ممالک میں بھیجی جاتی ہیں جہاں بیمار ذہن کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کی خریدار ہے۔
سب سے خوفناک انکشاف یہ ہے کہ ان ویڈیوز کے لیے بچوں کا انتخاب سوشل میڈیا پر موجود تصاویر سے کیا جاتا ہے جو باسانی دستیاب ہیں۔ چونکہ آج کل والدین اپنے بچوں کے پل پل کی اَپ ڈیٹس فیس بُک اور واٹس ایپ پر لگاتے ہیں، یہ درندے وہاں سے بچوں کا سراغ لگاکر ان کو اغوا کرتے ہیں اور اپنے گھناؤنے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔(ڈاکٹر فرحت ہاشمی)

Share this: