آزاد کشمیر اسمبلی، تحفظِ ناموس رسالت ٘بل کی منظوری

آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں تحفظ ِناموس ِرسالت بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد آزادکشمیر کی ستّر سالہ تاریخ میں قادیانی پہلی بار آئین میں غیر مسلم اقلیتوں کا حصہ تسلیم کرلیے گئے ہیں۔ آزادکشمیر انٹرم کانسٹی ٹیوشن ایکٹ 2018کے نام سے پیش کیے جانے والے اس بل میں قادیانیوں سمیت تمام غیر مسلم ادیان کی وضاحت کرتے ہوئے مسلمان کی تعریف کی گئی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کرسکیں گے۔ مسجد طرز کی عبادت گاہ تعمیر کرنے، اذان دینے اور تبلیغ کرنے پر پابندی ہوگی، جبکہ مسجد کے مینار بنانے اور اپنی عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ لکھنے سمیت تمام رسومات پر پابندی ہوگی۔ بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان نے اس دن کو تاریخی قرار دیا۔
آزادکشمیر میں 1970ء کی دہائی میں سردار عبدالقیوم خان کے دور میں اسمبلی نے ایک قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ یہ قرارداد باغ سے مسلم کانفرنس کے رکن اسمبلی میجر (ر) محمد ایوب خان نے پیش کی تھی۔ میجر ایوب بعدازاں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے اور 8 اکتوبر2005ء کے تباہ کن زلزلے میں شہید ہوئے۔ اس قرارداد کا مسودہ تحریر کرنے کی سعادت اُس وقت کے صدر آزادکشمیر سردار عبدالقیوم خان کے پریس سیکرٹری اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے راہنما پروفیسر الیف الدین ترابی کو حاصل ہوئی تھی۔ پروفیسر الیف الدین ترابی نے راقم السطور سے کئی ملاقاتوں میں اُس دبائو کا ذکر کیا تھا جسے نظرانداز کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کی حکومت نے یہ قرارداد منظور کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آزاد کشمیر اسمبلی نے یہ قرارداد اُس وقت منظور کی تھی جب پاکستان میں ابھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا تھا۔ آزادکشمیر اسمبلی نے 26 اپریل 1973ء کو میرپور منگلا کے مقام پر اس قرارداد کی منظوری دی تھی، جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو باضابطہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس طرح قادیانیوں کو باضابطہ طور پر اقلیت قرار دینے کا فیصلہ آزادکشمیر میں ہوا، جس کے بعد اسی تجربے کو مثال بناتے ہوئے پاکستان میں بھی یہ تاریخی فیصلہ کیا گیا تھا۔ پینتالیس سال بعد آزادکشمیر اسمبلی نے اس قرارداد کے تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید اور حتمی پیش رفت کی۔ موجودہ رکن اسمبلی سردار خان بہادر خان کی صورت میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو پینتالیس سال پہلے قرارداد کی منظوری میں شریک تھی اور آج بھی انہیں قانون بنانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ قرارداد پر دستخط کرنے والوں میں موجودہ وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان کی والدہ اور چچا بھی ارکانِ اسمبلی کی حیثیت سے شامل تھے۔ قرارداد کو ضبط ِتحریر میں لانے والے پروفیسر الیف الدین ترابی کو منوں مٹی تلے سوئے کئی برس گزر چکے ہیں مگر ان کی جماعت کے دو ارکان سابق امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر عبدالرشید ترابی اور خاتون رکن اسمبلی محترمہ رفعت عزیز اس قانون کی منظوری میں پیش پیش رہے۔ آزادکشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قانون سازی اور آئینی ترمیم بعد میں بوجوہ نہ ہوسکی۔کئی دہائیاں گزرنے کے بعد اب آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی نے یہ تاریخی فیصلہ کیا۔
25 اپریل 2012ء کو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا تھا کہ قانون ساز اسمبلی کے ریکارڈ سے قرارداد کا اصل مسودہ ہی غائب کردیا گیا۔ جس کے بعد آزادکشمیر کے دینی حلقوں نے قادیانیوں کو باضابطہ طور پر غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے میں شدت پیدا کردی تھی۔ ماضی میں آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور فیصلہ ساز اداروں میں قادیانی لابی بہت مضبوط رہی ہے۔ وقتاً فوقتاً اس لابی کے بااثر افراد کی نشاندہی بھی میڈیا میں ہوتی رہی۔ 1990ء کی دہائی میں پشاور سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار ’’فرنٹیئر پوسٹ‘‘ نے آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور دوسرے اداروں میں قادیانیوں کی نشاندہی کی تھی۔ شاید اسی لابی کا دبائو حکمرانوں کو مصلحت اختیار کرنے پر مجبور کرتا رہا۔ ماہ و سال کی طویل گردش کے بعد مصلحت اور خوف کی یہ زنجیر کٹ کر رہ گئی اور قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطلب اُن کے انسانی، سیاسی اور سماجی حقوق اور بطور شہری اُن کے زندہ رہنے اور پھلنے پھولنے کا حق چھیننا نہیں۔ وہ ملک اور معاشرے کی دوسری اقلیتوں کی طرح اپنی اصل مذہبی شناخت کے ساتھ اپنا فعال کردار ادا کرسکتے ہیں اور کرتے رہنا چاہیے۔ انہیں اسلام اور مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ حیلوں بہانوں اور اگر مگر کے ساتھ ختمِ نبوت کے تصور پر حملہ مسلمانوں کو برداشت نہیں۔ غیر مسلم کی حیثیت سے وہ جو چاہیں کریں، مگر اسلام کا نام لے کر اسلام کے بنیادی تصورات اور مرکزی خیال کو مسخ کرنے کا انہیں کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ اور تاویل کے جھوٹ کا بوجھ لیے پھرنے کے بجائے اب اپنی حقیقت کو تسلیم کریں۔ وہ دین ِاسلام کے مرکزی تصور کو مسلمان بن کر فسخ اور مسخ کرنے کی کوششیں ترک کریں اور دوسرے غیر مسلم باشندوں کی طرح اپنی حیثیت اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ملک ومعاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

Share this: