لودھراں انتخابات کے بعد موروثی سیاست کی بحث

بہت سے سیاسی پنڈتوں اور تحریک انصاف کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی ناکامی کی وجہ موروثی سیاست ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد اُن کے بیٹے علی ترین کو پارٹی ٹکٹ دیا تھا اور خیال تھا کہ وہ آسانی سے انتخابی معرکہ سر کرلیں گے۔ لیکن مسلم لیگ(ن) کی جیت اور تحریک انصاف کی شکست نے سب کو حیران کردیا ہے۔ تحریک انصاف بنیادی طور پر موروثی سیاست کے خلاف ہے، لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ علی ترین کو پارٹی ٹکٹ جاری کرکے خود عمران خان نے بھی متضاد طرزعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر تحریک انصاف انتخاب جیت جاتی تو شاید یہ بحث زیادہ سامنے نہ آتی، لیکن شکست کے بعد موروثی سیاست کی بحث خود تحریک انصاف کے اندر بھی چل رہی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ پارٹی غلط سمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں موروثی یا خاندانی سیاست موجود ہیں۔ موروثی سیاست کے حق اور مخالفت میں دلائل دینے والوں کی بھی کمی نہیں، اور ہر کوئی اپنے مخصوص نکتہ نظر کو بنیاد بناکر اپنا مؤقف پیش کرتا ہے۔ موروثی سیاست کوئی منفی عمل نہیں، اور خاندان کی نئی نسل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بڑوں کی پیروی کرتے ہوئے سیاست میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں میں سیاسی جدوجہد کے طور پر کم اور خاندانی حق کو بنیاد بناکر کی جاتی ہے۔ ان کے لیے سیاست ایک ایسی جاگیر بن گئی ہے جس پر قبضہ کرکے وہ ایک طرف اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کرسکتے ہیں تو دوسری طرف وسائل پر قبضہ کرنے کا عمل بھی ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خود بھی خاندان کے دیگر افراد کو سیاست سے جوڑے رکھیں، تاکہ اقتدارخاندان کے اندر موجود رہے۔
پاکستان کی سیاست میں موروثیت کامسئلہ کسی خاص جماعت کا نہیں ہرسیاسی خاندان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقامی سیاست میں ایم این اے، ایم پی اے، چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز، کابینہ، مشیر سمیت دیگر حکومتی عہدوں پر اپنے کنٹرول کو مضبوط رکھیں۔ ان مقامی بڑے اور مضبوط طبقات کا سیاسی جماعتوں اور اُن کی قیادتوں پر دبائو ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے کھیل میں ان کے ساتھ سمجھوتا کریں، وگرنہ دوسری صورت میں وہ ان کے مخالفین کی طاقت بن کر مسائل پیدا کریں گے۔
موروثی سیاست دانوں کے سامنے مسئلہ محض سیاسی طاقت حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس سیاسی طاقت کو بنیاد بناکر ریاست، حکومت اور اداروں پر کنٹرول حاصل کرکے وسائل کو اپنے اور اپنے خاندان کے مفادات تک محدود کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں میں سیاست اختیارات کی جنگ اور طاقت کے مراکز میں اپنا کنٹرول بڑھانے یا پیسہ بنانے کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں وہ لوگ جوسیاسی کارکن کے طور پرمیدان سیاست میں آگئے ہیں وہ اس موروثی یا خاندانی سیاست کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ ان سیاسی کارکنوں کے پاس اس کے سوا کوئی سیاسی آپشن نہیں بچتا کہ وہ اپنی اعلیٰ قیادت اور ان کی اولادوں کی چاپلوسی یا تعریفیں کرکے ان کی خوشنودی کو ممکن بنائیں اور اس طرح اپنے مفادات کو تقویت دیں۔
پاکستان کا پڑھا لکھا یا اہلِ دانش طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ ہماری جمہوری سیاست چند خاندانوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، یہ غلط تجزیہ نہیں۔ ان چند خاندانوں نے جمہوری لبادہ اوڑھ کر سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنی مفاداتی سیاست کو فوقیت دی۔ ان بڑے خاندانوں کے سیاسی طرزعمل کو دیکھ کر اب یہ عمل مجموعی طور پر معاشرے کے تمام طبقات میں غالب نظر آتا ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ طاقت اپنے کنٹرول میں رکھنی چاہیے۔کچھ طبقے اس کو محض جاگیردارانہ سیاست یا جاگیر داروں تک محدود کرکے دیکھتے ہیں۔ لیکن اب سرمایہ دار، کاروباری طبقات، ہماری سول وفوجی بیوروکریسی، جج اور میڈیا میں موجود طاقت ور طبقات بھی اس موروثی کھیل میں حصہ دار بنتے جارہے ہیں۔
پچھلے دنوں معروف صحافی، دانشور اور تجزیہ نگار ثقلین امام نے جو بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ہیں، موروثی سیاست کے مسائل پر ایک فکر انگیز تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے۔ ثقلین امام خود پاکستان کی سیاست اور جمہوریت سے منسلک مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاست کیسے چند خاندانوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ اس تجزیاتی رپورٹ میں ثقلین امام نے لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ اکنامک الٹرنیٹوزکے محقق ڈاکٹر علی چیمہ اور اُن کے ساتھیوں حسن جاوید اور محمد فاروق نصیرکی وہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ چند دوسرے ممالک سے کیا تھا۔ ان کے مطابق امریکی کانگریس میں 1996ء میں موروثی سیاست کا حصہ تقریباً 6 فیصد تھا، بھارت کی لوک سبھا میں 2010ء تک 28 فیصد، جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد تھا۔ ثقلین امام کے بقول کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابلِ قبول ہے۔
ثقلین امام لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر علی چیمہ کے مطابق موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے تقریباً چار سو خاندان ہیں جو مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازی کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی جارہی ہے۔ ان کے مطابق 1985ء کے انتخابات سے لے کر 2008ء کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے۔ ثقلین امام نے ایک اور تحقیق کا حوالہ دیا ہے جس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے محققین عبدالقادر مشتاق، محمد ابراہیم اور محمد کلیم کے مطابق ’’موروثی سیاست کے بارے میں ایک نکتہ نظر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیونکہ تاریخی لحاظ سے بڑے سیاسی خاندان ریاستی وسائل، اپنی خاندانی دولت، حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور مخالفین یا دوسروں پر تشدد کرنے کی صلاحیت پر اجارہ داری رکھتے ہیں، اس لیے ان ہی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے سیاست میں اپنی حیثیت بنانا یا منوانا آسان ہوتا ہے۔‘‘
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان موروثی سیاست کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی سیاست ہی کرپشن اور موروثی سیاست کی مخالفت میں کھڑی ہے،لیکن 2013ء کے انتخابات کے نتائج نے تحریک انصاف کو یہی پیغام دیا کہ وہ موروثی، خاندانی یا جیتنے والے امیدواروں پر توجہ دے کر ان کو اپنے ساتھ ملائے۔یہی وجہ ہے کہ اب عمران خان کی سیاست بھی ان ہی بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے گرد کھڑی نظر آتی ہے۔ عمران خان کے گرد جو بڑے سیاسی نام ہیں انہوں نے عمران خان کو سمجھوتے کی سیاست پر مائل کیا تو دوسری طرف بڑے سیاسی خاندان ہونے کے ناتے پارٹی پر اپنی گرفت بھی مضبوط کرلی۔ اس وقت بھی 2018ء کے انتخابات کے تناظر میں ان بڑے خاندانوں کو بنیاد بناکر ہی انتخابی مہم کو مرتب کیا جارہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس موروثی سیاست کا علاج کیا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں موجود سیاسی نظام اور جماعتیں ایک طویل سیاسی حکمت عملی کو بنیاد بناکر اس طرز کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن یہاں سیاسی جماعتیں کیونکہ مضبوط نہیں ہیں اور ان کی داخلی کمزوریاں خود قیادت کی شعوری کوششوں کا حصہ ہیں، اس لیے ایک مضبوط اور شفاف جمہوری یا سیاسی نظام مشکل نظر آتا ہے۔ حال ہی میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے پارٹی ٹکٹ جاری کیے ہیں، اس میں بھی خاندانی چھاپ غالب نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری خاندانی سیاست سے جڑے ہوئے لوگ کسی بھی صورت میں کسی اور کو سیاسی جگہ دینے کے لیے تیار نہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہر صورت میں اپنی سیاسی طاقت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ان بڑے سیاسی خاندانوں کی دیکھا دیکھی چھوٹے خاندانوں کی سطح پر بھی کچھ اسی طرح کے رویّے غالب نظر آتے ہیں۔
اصل میں ہمیں تین مختلف حکمت عملیوں کے تحت اس موروثی سیاست کا مقابلہ کرنا ہوگا:
اوّل: اپنے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو جمہوری اور شفاف بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں اس بحث کو آگے بڑھانا ہوگا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے دبائو کی سیاست میں حصہ لیں اور سمجھیں کہ موروثی سیاست میں ہماری سیاست یرغمالی بن کر رہ گئی ہے۔
دوئم: اہلِ دانش اور میڈیا کے محاذ پر ایک بڑی علمی اور فکری جنگ لڑنا ہوگی، اور سیاسی جماعتوں کے غیر جمہوری اور موروثی سیاست سے جڑے مسائل میں ایک متبادل فکر اجاگر کرنی ہوگی تاکہ سیاسی جماعتیں اپنا طرزعمل بدلیں اور عام آدمی میں یہ سوچ اجاگر کی جائے کہ موروثی سیاست جمہوریت کی نفی ہے۔
سوئم: نئی قانون سازی اور پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کے نظام کو مؤثر اور شفاف بناکر موروثی سیاست کو کمزورکیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ہم تسلیم کریں کہ موروثی سیاست کی وجہ سے ملک میں جمہوریت پر مبنی سیاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔ کیونکہ جب تک ہم مرض کی درست تشخیص نہیں کریں گے مرض کا علاج بھی ممکن نہیں ہوگا۔
ثقلین امام نے درست لکھا ہے کہ روزا بروکس اپنی کتابA Dynasity is not Democracy میں کہتی ہیں کہ ’’موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانب دار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے، جبکہ ایک طاقت ور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے‘‘۔ اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی دولت کی بہتر اور منصفانہ تقسیم اور صنعتی ترقی بھی موروثی سیاست کو کمزور کرسکتی ہے۔اس لیے پاکستان کے سیاسی نظام کو ایک ایسی علمی اور فکری تحریک درکار ہے جو سیاسی نظام سے جڑ کر ان امراض کا بہتر علاج تلاش کرسکے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت ہماری مجموعی سیاست اس موروثی سیاست کے نکتہ پر مرکوز ہوگئی ہے، اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ سیاست میں مڈل کلاس اور پڑھی لکھی قیادت سامنے آئے تو ایک منظم سماجی اور سیاسی تحریک ہی موروثی سیاست کے خلاف اپنا مقدمہ مضبوط بناسکتی ہے۔

Share this: