تبصرہ کتب

بڑی مسرت کی بات ہے کہ ایک اہل شخصیت، اہلِ علم اور مؤقر استاد کی زیر ادارت ایک علمی و تحقیقی مجلے کا اجرا ہوا ہے۔ اس میں اردو اور انگریزی زبانوں میں مقالات شامل کیے گئے ہیں۔ اداریہ ’’نگاہِ اوّلین‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے:
’’انسان کے احساسات و خیالات کے بوسیلۂ قلم ابلاغ و ترسیل کا اہم ذریعہ، آئے دن کی متعلقہ نت نئی برقی ایجادات اور وسائل کے باوجود، اب بھی طباعت ہی ہے اور شاید مزید برسہا برس انسان کی ضرورتوں اور تسکین کا باعث یہی رہے۔ اسی طرح مطالعہ و تحقیق کے حاصلات یا نتائج کے ہم تک پہنچنے کا ایک اہم وسیلہ بھی ابھی مطبوعہ کتابیں، مجلات و جرائد ہی ہیں۔ اگرچہ کتابیں اور مجلے بھی، طباعت سے قطع نظر، اب برقی وسائل کے توسط سے قارئین تک پہنچ رہے ہیں، لیکن ابھی اُن سے رجوع اور استفادہ عام نہیں ہے۔ ساری علمی دنیا میں، ایک جزوی حیثیت میں اور ایک اختصار پر مبنی مطالعات و تحقیقات، زیادہ تر مقالات کی صورت میں مجلوں اور رسائل کے توسط سے عام ہوتی ہیں۔ مغرب کی ترقی یافتہ علمی دنیا میں مجلوں کے وسیلے سے مطالعات و تحقیقات کے عام ہونے کا سلسلہ اٹھارویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوا ہے جس کی روایت یہاں جنوبی ایشیا میں بھی اٹھارویں صدی کے ربع آخر میں انگریزی زبان میں شروع ہوئی اور اردو زبان میں عمومی نوعیت کے رسائل، جریدوں اور گلدستوں سے قطع نظر، کسی مجلے کی اشاعت کا آغاز انیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں سید احمد خاں کی روشن خیالی کے سبب ان کی علمی و تعلیمی تحریک کے ایک اہم وسیلے کے طور پر ’’اخبار سائنٹفک سوسائٹی‘‘ سے ہوا۔ پھر اسی تحریک سے فیض یافتگان میں سے متعدد اہلِ قلم کے متنوع رسالوں کی ایک لمبی قطار اور ’’مخزن‘‘،’’دلگداز‘‘ اور ’’زمانہ‘‘ سے قطع نظر مولوی عبدالحق نے ’’اردو‘‘، شمس اللہ قادری نے ’’تاریخ‘‘، اکبر شاہ خاں نجیب آبادی نے ’’عبرت‘‘، سید سلیمان ندوی نے ’’معارف‘‘ کو عام نوعیت کے رسائل سے خاصے مختلف ’’مجلوں‘‘ کی صورت دی اور اردو زبان کو ایسے وسیلوں سے قریب کیا جو معیاری اور وقیع تحقیقی مقالات اور مطالعات کے سرمائے سے باثروت ہونے لگے۔
جامعات کے مجلوں کی یہاں عمدہ مثالیں ابتدا میں سرکاری جامعات بمثل کلکتہ، بمبئی اور الٰہ آباد سے شائع ہونے والے انگریزی مجلے تھے، تاآںکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ’’علی گڑھ میگزین‘‘، جامعہ عثمانیہ نے ’’مجلہ عثمانیہ‘‘ اور اورینٹل کالج لاہور نے ’’اورینٹل کالج میگزین‘‘کی صورت میں اردو میں وقیع مجلاتی روایت کے آغاز و فروغ میں اہم خدمات انجام دیں، جب کہ مؤخرالذکر نے ایک بہتر و معیاری ’جرنل‘ کا نمونہ پیش کیا۔ اب اردو مجلوں کی اشاعت کی روایت کا یہ سلسلہ عام ہے، بلکہ اب شاذ ہی کوئی سرکاری اور بڑی جامعہ ایسی ہو جہاں سے کوئی مجلہ شائع نہ ہوتا ہو۔ جامعات میں تو اب علمی سرپرستی کے رسمی اداروں کی جانب سے جامعات اور ان سے منسلک اساتذہ اور تحقیقی اداروں پر لازم ہے کہ وہ تحقیقی منصوبے انجام دیں اور اپنی تحصیلات کو مقالات کی صورت میں مجلوں میں بھی شائع کریں، جن کے معیار کا تعین ان شرائط پر استوار ہے جو جامعات کی مرکزی نگران و سرپرست علمی مجلس نے طے کیے ہوں۔ اس فضا میں یقینا مطالعات اور تحقیقات کو خاصا فروغ حاصل ہوا ہے اور یہ سلسلہ روز افزوں بھی ہے۔
لیکن اس فروغ کا سبب صرف جامعاتی منصوبوں اور مجلوں ہی کا رہین منت نہیں ہے، متعدد محققین اور مصنفین نے جو کسی جامعہ سے شاید منسلک نہ رہے ہوں، نہایت وقیع اور قابلِ رشک مطالعاتی اور تحیقاتی منصوبے پیش کرکے علمی دنیا سے عزت و ناموری حاصل کی ہے، اور اسی طرح بعض مجلے بھی جو کسی جامعہ سے شائع نہیں ہوتے، اپنی پوری روایت میں عمدہ مطالعاتی و تحقیقاتی مقالات شائع کرنے کی ایک مثال رہے ہیں۔ جبکہ جامعات سے شائع ہونے والے مجلے سب ہی معیاری اور وقیع بھی نہیں کہے جاسکتے، اور تحقیق اور معیار کے نام پر سقیم اور مجہول تحریریں شائع کرکے، کئی وجوہات ہیں جن کے سبب، انہیں تحقیقی مقالہ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
ایسی فضا میں زیر نظر مجلہ ’’تحصیل‘‘ جو کسی جامعہ سے منسلک نہیں لیکن ایک نجی علمی و مطالعاتی ادارے سے وابستہ ضرور ہے، ایک ایسی کوشش ہے جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اور ایک عزم و ارادے کے ساتھ مجلات کی روایت میں اپنا ایک ایسا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے کہ اس کے توسط سے علمی دنیا، معاشرتی علوم و موضوعات کے دائرے میں رہتے ہوئے، وہ معیاری مطالعات اور تحقیقات پیش کرسکے جو اس کے مقالہ نگاروں کی سنجیدہ کاوش و جستجو اور محنت و لگن کا حاصل ہوں۔
………
زیرنظر شمارہ اگرچہ اس مجلے کا اولین نمونہ ہے، لیکن اس میں شامل مقالہ نگاروں نے اس مجلے اور اس کی مجلس ادارت پر جو اعتماد کیا ہے اور اپنے لائقِ تعریف مقالات سے اس میں شمولیت اختیار کی ہے ، مجلسِ ادارت اس توجہ اور عنایت پر ان سب مقالہ نگاروں کی ممنون ہے اور ساتھ ہی مجلسِ مشاورت کے فاضل اراکین کی بھی شکر گزار ہے جنہوں نے اس مجلے کی ترتیب و اشاعت کے متعلقہ جملہ امور میں اپنی فضیلتوں، کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے اپنی ہر طرح معاونت پیش کی ہے۔ امید ہے کہ تعاون اور حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔
’’تحصیل‘‘ میں ایک ’’گوشۂ نوادر‘‘، اردو اور انگریزی دونوں حصوں میں شامل کرنے کا ارادہ ہے، اور اسی شمارے سے اس سلسلے کا آغاز کیا جارہا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہر شمارے میں ان گوشوں میں وہ نادر و نایاب متون اور مآخذ پیش کرتے رہیں جو عام رسائی میں نہیں لیکن محققین اور نوادرات کے دل دادہ اہلِ قلم کی علمی ضرورتوں میں ان کے لیے مفید ومعاون ثابت ہوں گے۔
’’تحصیل‘‘ کے لیے مقالات و مطالعات کے ضمن میں ہماری خواہش رہے گی کہ یہ بالعموم نئے اور اچھوتے موضوعات پر مبنی ہوں اور ان میں دریافت و انکشاف اور تجزیات و نکتہ رسی کے عناصر بھی شامل رہیں۔ دیگر گوشوں میں ’تبصراتی مقالات‘ اور ’وفیات‘ کا اہتمام بھی رہے گا اور ساتھ ہی ’استدراک‘ جیسے عنوانات بھی شامل ہوتے رہیں گے تاکہ ’’تحصیل‘‘ میں شائع شدہ مطالعات و تحقیقات کی عندالضرورت تصحیح یا تنقیح و ترمیم بھی اہلِ علم کی جانب سے ہوتی رہے۔‘‘
تحقیقی مقالات:
-2 ’’بھگونت رائے راحت کاکوروی: نایاب مثنویاں‘‘۔ سلطانہ بخش، سابق پروفیسر شعبہ اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد
-3 ’’صنف قصیدہ: شعریات، تہذیب، تاریخ‘‘۔ ظفر احمد صدیقی، پروفیسر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
-4 ’’نوادرعبدالرحمن بجنوری : سربیا اور بلغاریہ میں اسلام کی صورت حال‘‘۔ افضل حق قرشی، مدیر مجلہ صحیفہ لاہور
-5 ’’غلام رسول مہر اور صبحِ آزادی‘‘۔ محمد حمزہ فاروقی، محقق مصنف
-6’’شیخ المشائخ میاں جمیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی: علم پروری، کتاب دوستی اور کتب خانہ داری‘‘۔ نسیم فاطمہ، سابق صدر شعبۂ کتاب داری جامعہ کراچی
-7 ’’اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی کا پنجاب: سلسلہ چشتیہ کی تجدید و ارتقاء اور لنگر کی روایت‘‘۔ سید جمیل احمد رضوی، سابق چیف لائبریرین پنجاب یونیورسٹی
-8 ’’ریاض الاسلام: عہد وسطیٰ کی ہند اسلامی اور ہند ایرانی تاریخ کے ایک مؤرخ‘‘۔ عارف نوشاہی، سابق پروفیسر شعبہ فارسی گورڈن کالج، راولپنڈی
گوشۂ اقبال:
-9’’چندنادر اقبال نمبر‘‘۔ رفیع الدین ہاشمی،۔ سابق صدر شعبۂ اردو اورینٹل کالج لاہور
-10 ’’نغمۂ جبریل آشوب: ایک استفسار‘‘۔ سہیل عمر، سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور
-11 ’’علامہ اقبال کے تصورِتاریخ کے تشکیلی عناصر‘‘۔نگار سجاد ظہیر، سابق پروفیسر و صدر شعبہ اسلامی تاریخ کراچی یونیورسٹی کراچی
-12 ’’اقبال کے چند فارسی اشعار و قطعات: غیر مطبوعہ شرح از صوفی تبسم‘‘۔ ارشد محمود ناشاد، پروفیسر شعبہ اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
-13 ’’امتیاز علی خاں عرشی کے تحقیقی و علمی کام: ایک اشاریہ‘‘۔ سید مسعود حسن، لائبریرین خدا بخش لائبریری پٹنہ بھارت
-14’’اشاریہ منظوماتِ اقبال‘‘۔ خالد ندیم، ایسوسی ایٹ پروفیسر سرگودھا یونیورسٹی
-15 ’’مولانا آزاد لائبریری میں عہدِ قطب شاہی کے مخطوطات‘‘۔ عطا خورشید، مولانا ابوالکلام آزاد لائبریری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھارت
تراجم:
-16’’ ایران کی سیاسی، سماجی، علمی و ادبی صورتِ حال، عربوں کے حملے سے تیسری صدی ہجری کے آخر تک‘‘۔ ذبیح اللہ صفا؍سید حسن عباس، ناظم رضا لائبریری رام پور بھارت
-17’’بھارت میں اردو کا المیہ‘‘۔ مرکنڈے کٹجو؍نیاز سواتی، استاد شعبہ اردو گورنمنٹ اسلامیہ کالج کراچی
گوشۂ نوادر:
-18’’تحفتہ الہند: اردو زبان کی اوّلین لغت‘‘۔ مرزا خان
وفیات:
-19’’سرسوتی وتلا‘‘۔ جاوید احمد خورشید، محقق ادارۂ معارف اسلامی کراچی
تبصراتی مقالہ:
-20 پاکستان میں جماعت اسلامی کا حلقۂ خواتین: حامیانِ نو جدیدیت؟‘‘ جاوید احمد خورشید۔
انگلش سیکشن میں یہ مضامین و مقالات ہیں
Research Articles:
1- Wahdat al-Wujud and Wahdat al-Shahud: Some Observations with special reference to Punjabi Poetry- M. Ikram Chaghatai
2- Republican Turkish Poets: Representative Poems with Turkish Texts and their English Translations- Syed Tanvir Wasti
3-Identifications versus Identities: The Indian Muslim Religious Identity Syndrome -Anwar Moazzam
4-Henry Beveridge and Annette Beveridge: late nineteenth century Scholars of the early Mughal Period-Hasan Beg
5-Religious Tolerance: Some
Observations in the Context of Islam-West Encounter-Suhey Umer
6-Shah WaliAllah’s
Al Fauz al-Kabir fi usul al-tafsirand other writings: A study of the Quranic sciences – Syed Munir Wasti
7-Learn in Urdu, Write in the Vernaculars: Translating Process of Commentary of Holy Quran in South Asia -Sunaga Emiko
Archival Annexure:
8-List of Manuscripts Relating to India and Ceylon Held in the National Library of Scotland -Najeeba Arif
Book Review
9-The Conference of the Birds- Syed Munir Wasti
Obituary
10 Tribute to
Dr Abid Ali Khan- Syed Munir Wasti
11 Tribute to Professor Ali Mohsin
Siddiqui

زیرنظر شمارہ اس مجلے کا شمارہ اول ہے۔ امید ہے برصغیر کے مجلات میں اعلیٰ مقام کا حامل ہوگا۔ سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کیا گیا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ بہ سے بہتر اور بہتر سے بہترین کا سفر تیزی سے طے کرلے۔
nn
محمد راشد شیخ صاحب کی ڈاکٹر نبی بخش بلوچ مرحوم پر پانچویں کتاب ’’سوانح ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر بلوچ پر چار کتابیں (1) ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ… شخصیت اور فن‘‘ (2) ’’خطوط ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘(3) ’’خطوطِ مشاہیر بنام ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘ (4) ’’گلشنِ اردو‘‘ (اردو مقالات نبی بخش خان بلوچ) منظرعام پر آکر پذیرائی حاصل کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ راشد شیخ صاحب کی خطاطی کے حوالے سے گرانقدر خدمات ہیں۔ ’’تذکرۂ خطاطین‘‘ ان کی شاہکار کتاب ہے۔ زیر نظر کتاب ’’سوانح ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘ 786 صفحات اور 25 ابواب پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ مارچ 1919ء میں گوٹھ جعفر خان لغاری ضلع سانگھڑ (سندھ) میں پیدا ہوئے اور 6 اپریل 2011ء کو حیدرآباد سندھ میں وفات پائی۔ انہوں نے ایل ایل بی، ایم اے (عربی)، پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں تعلیم حاصل کی۔ انہیں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی، ستارہ امتیاز اور کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے والدِ محترم کا نام علی محمد خان تھا۔ انہوں نے 25 برس کی عمر میں انتقال کیا۔ ان کی وصیت کا ذکر ڈاکٹر بلوچ نے 30 جون 2006ء کو یوں کیا:
’’ہمارے ہاں روایت ہے کہ جب کسی انسان کا وقتِ آخر قریب ہو تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی وصیت کیا ہے؟ جب میرے والد سے یہ پوچھا گیا تو انہوں نے صرف یہ جملہ کہا ’’میرے بچے کو پڑھانا‘‘ اور آنکھیں بند کرلیں۔ اُس وقت وہاں میرے چچا ولی محمد موجود تھے۔ انہوں نے اس وصیت پر نہ صرف عمل کیا بلکہ مجھ سے بھی کرایا۔ انہوں نے میری ابتدائی تعلیم کا بہتر سے بہتر انتظام کیا۔ وہ بچپن میں مجھ کو اکثر کہتے کہ میں نے اپنے بھائی کو یہ کہتے سنا تھا اس لیے میں آپ کو ضرور پڑھائوں گا اور پڑھائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔‘‘
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بین الاقوامی شہرت یافتہ محقق، عالم، تاریخ دان، ماہر لغت نویس، ماہر تعلیم، دانشور، ماہرِ ادبیات تھے۔ انہوں نے شاہ لطیف، سندھی اور اردو شاعری اور موسیقی کے موضوعات پر کام کیا۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انہوں نے بہت سی کتابیں ہی نہیں لکھیں، بہت سے کارنامے بھی سرانجام دیے۔ پاکستان میں شاید ہی اُن کے برابر کا کوئی محقق ہو۔ ڈاکٹر صاحب نامور عالم عبدالعزیز میمن کے شاگرد تھے۔ یہ اپنی جگہ ایک بڑا اعزاز ہے۔
راشد شیخ صاحب لکھتے ہیں:
’’2005ء میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کی جانب سے ڈاکٹر بلوچ صاحب کو خط لکھا گیا کہ اکادمی کے سلسلے ’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ میں ڈاکٹر بلوچ صاحب پر کتاب لکھوائی جائے گی، اور اس کام کی خاطر انہوں نے پہلے بذریعہ فون راقم کا عندیہ لیا۔ اور اس کے بعد راقم کا نام پیش کیا۔ چنانچہ تقریباً دو سال کی محنت کے بعد 2007ء میں ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ… شخصیت اور فن‘‘ اسلام آباد سے شائع ہوئی۔‘‘
ڈاکٹر بلوچ کی زندگی میں ہی شیخ صاحب نے اُن کے مقالات مرتب کیے اور مزید تین کتابیں اُن کی وفات کے بعد شائع کیں۔ شیخ صاحب ڈاکٹر بلوچ مرحوم سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں۔ ہمیشہ ان کے حوالے سے کام کرنے کے لیے نہ صرف تیار رہتے ہیں بلکہ اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔
زیرنظرکتاب (سوانح ڈاکٹر نبی بخش بلوچ) 25 ابواب پر مشتمل ہے۔
باب نمبر 1 ۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے گائوں قریہ جعفر خان لغاری کی مختصر تاریخ۔‘‘
’’ڈاکٹر بلوچ صاحب کی تحقیق کے مطابق قریہ جعفر خان لغاری اور اس کے مضافات میں موجود تمام گائوں اٹھارہویں صدی عیسوی میں آباد ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر گائوں ’’لغاری‘‘ قبیلے کے افراد سے منتقل ہوکر اس علاقے میں آباد ہوئے تھے۔‘‘
باب نمبر 2 ۔’’ابتدائی حالاتِ زندگی اور تعلیم‘‘۔
’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے ابتدائی اسکول کے رجسٹر کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش 16 دسمبر 1917ء لکھی گئی ہے۔ اور یہی تاریخ بعد میں مختلف اسناد میں درج کی گئی۔ البتہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اُس عہد میں عموماً اسکول میں داخلے کے وقت بچوں کی عمر زیادہ لکھائی جاتی تھی تاکہ زیادہ عمر کی وجہ سے نوکری جلد مل جائے۔ خود بلوچ صاحب کے مطابق ان کی پیدائش مارچ 1919ء میں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کی پیدائش قریہ جعفر خان لغاری میں ان کے نانا لعل بخش کے گھر ہوئی۔‘‘
باب نمبر 3 ۔ ’’جونا گڑھ اور علی گڑھ میں اعلیٰ تعلیمی مراحل‘‘۔ باب نمبر 4۔ ’’علامہ عبدالعزیز میمن اور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ… عظیم استاد اور عظیم شاگرد‘‘۔
باب نمبر 5۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا قیامِ امریکہ۔ وہاں حصولِ علم و دیگر مصروفیات۔‘‘
باب نمبر 6۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا قیام کراچی (1949ء۔1951ء)‘‘
باب نمبر 7۔ ’’سندھ یونیورسٹی میں علمی و عملی خدمات۔‘‘
باب نمبر 8۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا قیامِ اسلام آباد (1976ء تا 1989ء)‘‘
باب نمبر 9۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا دوبارہ قیام حیدرآباد (1989ء تا 2011ء)‘‘
باب نمبر 10۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی شخصیت کے اوصاف و محاسن‘‘۔
باب نمبر 11۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی علمی و تحقیقی خدمات کا مختصر تعارف‘‘۔
باب نمبر 12۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی سندھی زبان و ادب اور موسیقی سے متعلق تحقیقات‘‘۔
باب نمبر 13۔’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی لغت نویسی میں خدمات‘‘۔
باب نمبر 14۔ ’’سندھی لوک ادب کے تحفظ کا عظیم الشان منصوبہ‘‘۔
باب نمبر 15۔’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی ’’شاہ جو رسالو‘‘ پر منفرد تحقیق و تکمیل‘‘۔
باب نمبر 16۔ ’’ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی تاریخ نویسی میں خدمات‘‘۔
باب نمبر 17۔ ’’سندھی اساسی (کلاسیکی) شعرا کے کلام کا تحفظ‘‘۔
باب نمبر 18۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی فارسی اور عربی زبان میں خدمات‘‘۔
باب نمبر 19۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی اردو میں علمی و تحقیقی خدمات‘‘۔
باب نمبر 20۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بحیثیت ماہر تعلیم اور ان کی تعلیمی خدمات‘‘۔
باب نمبر 21۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی مکتوب نگاری‘‘۔
باب نمبر 22۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی خاکہ نگاری‘‘۔
باب نمبر 23۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے اسفار اور سفرنامے‘‘۔
باب نمبر 24۔ ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے علمی روابط‘‘۔
باب نمبر 25۔ ’’افکارِ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘۔
(باقی صفحہ 41)
تبصرۂ کتب/جاوید اختر بھٹی

راشد شیخ صاحب لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر بلوچ مرحوم کی شخصیت ایک کثیرالجہتی شخصیت تھی، اور ان کے افکار کی بھی کئی جہتیں ہیں۔ وہ بیک وقت ایک محقق، ایک استاد، ایک ماہر تعلیم، ایک دانشور، ایک عالم ہفت زبان اور اعلیٰ اخلاق و کردار کے اوصاف سے متصف شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی اَن گنت تحریروں میں ایسے جملے اور ایسے اقتباسات ملتے ہیں جو بڑے فکر انگیز ہیں اور جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر بلوچ محض ایک مصنف اور ایک محقق ہی نہیں بلکہ کئی معاملات میں منفرد فکر رکھتے تھے اورایک مفکر کی حیثیت سے بھی ان کا مقام بلند ہے۔‘‘
راشد شیخ صاحب بہت محنت اور سلیقے سے تحقیق کو پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر بلوچ مرحوم قدآور علمی اور ادبی شخصیت تھے۔ ان کے حوالے سے راشد شیخ صاحب نے نہایت محنت سے اس کتاب پر کام کیا ہے۔ یہ معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ اس قابل ہے کہ اسے مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ تحقیق جامعات سے باہر ہورہی ہے۔ آج کسی یونیورسٹی میں راشد شیخ جیسا محقق موجود نہیں ہے۔ ان کی کتابیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ مزید بہت سا کام کریں۔ آمین
nn

Share this: