سفارتی کامیابی یا…؟

پاکستان کی سیاسی لغت میں ایک نئی اصطلاح ’’این آر او‘‘ رائج ہوگئی ہے۔ یہ اصطلاح جنرل (ر) پرویزمشرف اور سابق وزیراعظم اور سربراہ پاکستان پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کے درمیان سیاسی معاہدے کا عنوان تھی۔ بے نظیر بھٹو اور جنرل (ر) پرویزمشرف کے درمیان یہ معاہدہ امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت، ثالثی اور سفارت کاری کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے اس سفارت کاری اور ثالثی پر پردہ ڈالنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور اس کی کچھ تفصیلات اپنی کتاب میں درج کردی تھیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سیاسی مفاہمت کے نام پر بدعنوانی کے مقدمات ختم کردیے گئے۔ اس معاہدے سے الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم نے بھی استفادہ کیا جس کے کارکنوں پر قتل جیسے جرائم کے الزامات تھے۔ اس معاہدے نے پاکستان کی سیاست میں امریکہ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت پر پڑے نقاب کو الٹ دیا تھا۔ ایسا نہیں تھاکہ پاکستانی قوم ملک کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت سے واقف نہیں تھی، لیکن جس طرح امریکہ نے ایک سیاہ سیاسی معاہدہ پاکستان کے فوجی آمر اور ایک سیاسی جماعت کی سربراہ کے درمیان کرایا تھا وہ بہ ظاہر ناقابلِ تصور تھا، لیکن اس کے باوجود ایسا ہوا۔ اس طرح کے سیاسی معاہدے کے ذریعے بدعنوانی کے مقدمات کا خاتمہ کبھی کھلے عام نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے داخلی امور میں امریکی مداخلت ختم ہوچکی ہے؟ یہ بات بھی ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سیاسی قوتوں کی کامیابی کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی فیصلے کا شاخسانہ ہے۔ جس طرح پاکستان میں امریکی اشارے پر مارشل لا لگتے رہے، اسی طرح پاکستان میں جمہوریت کی بحالی بھی امریکی سامراجی مصلحتوں کی ضرورت ہے۔ ’’عرب بہار‘‘ اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ملکوں میں آنے والی تباہی بھی ایک مثال ہے۔ اگر کسی مسلم ملک میں جمہوریت ایسی قیادت کو برسراقتدار لے آتی ہے جو ملّی آرزوئوں کو پورا کرسکے تو اُسے طاقت کے زور پر کچل دیا جاتا ہے اور پوری دنیا انسانیت کُشی کے ظلم کا مشاہدہ کرتی ہے۔ مصر اور بنگلادیش میں فوجی اور سیاسی قیادتوں کے ذریعے اسلامی سیاسی جدوجہد کرنے والی جماعتوں کو جس وحشیانہ انداز میں کچلا گیا ہے وہ ہر مسلمان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے سیاسی بحران کے پسِ پشت کارفرما عالمی قوتوں کی مداخلت کیا ختم ہوگئی ہے؟ کیا اب امریکہ اور عالمی قوتوں کے مفادات پاکستان سے غیر متعلق ہوگئے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ یقینا ایسا نہیں ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اس موضوع کو زیربحث کیوں نہیں لایا جاتا؟ اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے پاناما انکشافات کی وجہ سے ان کی قیادت کی نااہلی کو عالمی سازش کے تناظر میں ضرور دیکھا گیا ہے، لیکن وہ بھی اس سے آگے بڑھ کر قوم کو پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کے حقائق بتانے کو تیار نہیں ہیں، جس طرح پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر امریکی سزا سے تعبیر کیا تھا، لیکن بعد میں اسی بھٹو کی بیٹی امریکی مدد سے پاکستان میں دوبارہ برسراقتدار آئیں، لیکن ان کی سیاسی طاقت کمزور ہوچکی تھی، انہوں نے بھی بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے حکومت کے ذریعے بدعنوانی کے نئے ذرائع اختیار کیے، جس نے بالآخر پاکستان میں سیاسی قوتوں کو کمزور کیا۔ آج وہ لوگ پاکستان میں فوجی مارشل لا اور اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں عوامی نمائندگی اور پارلیمانی بالادستی کا نعرہ لگا رہے ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی سے گریز کررہے ہیں۔ پارلیمان کی بحثوں کو دیکھ لیجیے، امریکی پالیسی اور جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے اس کی تابعداری نے جو تباہی پیدا کی ہے اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ سعودی عرب فوج بھیجنے پر بجا طور پر ردعمل ظاہر کرنے والی پارلیمان افغانستان کے مسلمانوں پر مسلط کی جانے والی جنگ اور اس کی تباہ کاری پر ایک لفظ کہنے پر تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپس میں لڑنے والی تمام قوتیں امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا مقابلہ کررہی ہیں۔ ہم گزشتہ شماروں میں یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کو دھمکی اور تھپکی ساتھ ساتھ دی جارہی ہے تاکہ وہ امریکی احکامات پر پوری طرح عمل کرسکیں۔ جس طرح ایک خاص مرحلے پر جنرل (ر) پرویزمشرف کو ’’ڈبل گیم‘‘ کی اجازت دی گئی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ جنرل (ر) پرویزمشرف امریکی ’’بشرف‘‘ بننے کی وجہ سے پاکستان میں انتہائی غیر مقبول ہوتے جارہے تھے۔ رائے عامہ کے تمام جائزے پاکستانی عوام کی امریکہ سے نفرت کو ظاہر کررہے تھے۔ اس مرحلے پر امریکہ کی ایک ضرورت یہ تھی کہ اسے اپنی جنگ کی سیاسی حمایت ملے۔ اس مقصد کے لیے سیاست دانوں کی بدعنوانی اور جرائم سے آنکھیں بند کی گئیں۔ اب بھی امریکہ کی ضرورت یہی ہے کہ اسے اپنے ایجنڈے کی سیاسی حمایت مہیا کی جائے۔ اس وجہ سے سیاسی طاقت کے دو مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ امریکی دھمکی اور تھپکی کی پالیسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ منی لانڈرنگ کے خلاف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کے پیرس اجلاس میں پاکستان کو جون تک کی مہلت مل گئی ہے۔ اجلاس میں امریکہ اور برطانیہ کو ایک قرارداد پیش کرنی تھی جس میں پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کیا جانا تھا۔ کہا یہ گیا ہے کہ اجلاس میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے قرارداد کو تین ماہ کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔ روس کے دارالحکومت میں موجود وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اس فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کو بھیجا گیا تھا۔ اب جون میں یعنی تین ماہ بعد اس معاملے کا پھر جائزہ لیا جائے گا۔ یہ کیسا دلچسپ تضاد ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں خطِ اوّل کا اتحادی ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں جانی اور مالی قربانیاں دے رہے ہیں لیکن امریکہ پاکستان کے ریاستی اداروں، بلکہ خود پاکستان کو دہشت گردی کا مالی معاون قرار دے رہا ہے۔ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کی دھمکی اُس وقت بھی دی گئی تھی جب نائن الیون نہیں ہوا تھا۔ امریکی صدر کے ٹوئٹ سے لے کر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے تک امریکی پالیسی کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران امریکی تابعداری کرتے رہیں۔ ہمارے حکمران امریکہ کو راضی کرنے کے لیے جو ذلت اختیار کررہے ہیں اُس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وہ امریکہ کو تو راضی نہیں کرپارہے البتہ اللہ کو نار

Share this: