فلور ایڈا اسکول میں فائرنگ طلبا اور اساتڈہ کا قتل عام

امریکہ میں تشدد کا رجحان
امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ (Parkland) کے Marjory Stoneman Douglas High School میں فائرنگ نے سارے امریکہ کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ 31000 نفوس پر مشتمل جنوبی فلوریڈا میں واقع پارک لینڈ چھوٹا لیکن انتہائی متمول اور ریاست کا سب سے محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے۔ ہریالی و شادابی کے اعتبار سے اس علاقے کا سارے امریکہ میں کوئی مقابلہ نہیں، اور چند برس پہلے تک پورا شہر عملاً ایک باغیچہ یا پارک تھا۔ یہاں کے رہنے والوں کو بھی اپنے علاقے کی خوبصورتی کا بڑا خیال تھا اور اسی وجہ سے شہر کی بلدیہ نے علاقے میں دکانیں اور دفتر کھولنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔1990ء تک یہاں قائم ایک ڈاک خانہ پارک لینڈ کا واحد آفس یا کاروباری مرکز تھا۔ شہر کے اندر کوئی ٹریفک سگنل بھی نہ تھا کہ گاڑیوں کے کھڑے ہونے پر ان سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول کی کثافت میں اضافہ کردیتی ہے۔ تاہم گزشتہ صدی کے اختتام پر یہ قوانین تبدیل کردیئے گئے اور ’پیٹ‘ حُسنِ فطرت پر غالب آگیا۔ اب بھی علاقہ ہے تو سرسبز، لیکن کنکریٹ بہت سے ہرے بھرے قطعات کو نگل چکا ہے اور جابجا ٹریفک سگنل پر گاڑیوں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ مضافاتی علاقے میں یہودیوں کی قابلِ ذکر نفری آباد ہے جن کی اکثریت ڈاکٹروں، وکلا اور خوش حال تاجروں پر مشتمل ہے۔
ویلنٹائن کے دن یعنی 14 فروری کو اس شہر پر قیامت ٹوٹ پڑی، جب ایک 19 سالہ سابق طالب علم نکولس کروز (Nicholas Cruz) اوبر (Uber) ٹیکسی سے ہائی اسکول کے سامنے اترا۔ اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ بیگ تھا جس میں ایک نیم خودکار AR-15 رائفل تھی۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ پہلے نکولس کو اسکول سے نکال دیا گیا تھا اور اس کے یہاں داخلے پر پابندی تھی، لیکن وہ بیگ لے کر اسکول میں داخل ہوا اور کسی نے اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ AR-15 کوئی ننھا منا پستول نہیں کہ آسانی سے چھپایا جاسکے۔ اس رائفل کی لمبائی 2 فٹ سے زیادہ ہے۔ لیکن نکولس اسے لے کر اطمینان سے اسکول کے اندر آگیا۔AR-15 امریکی فوج کے زیر استعمال -16 M مشین گن کا ایک ہلکا ماڈل ہے۔ اسکول میں داخل ہوتے ہی اس نے بیگ سے رائفل نکالی، اسے تیار کیا اور ایک کمرۂ تدریس میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس نے ایک کے بعد تین کمروں میں طلبہ اور اساتذہ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد وہ سیڑھیوں سے اوپر گیا اور دوسری منزل پر ایک کلاس روم میں نشانہ بازی کی مشق کی۔ 15 منٹ کی اس کارروائی کے بعد نکولس تیسری منزل پر گیا جہاں اس نے رائفل اور بیگ کو پھینکا اور بھاگتا ہوا اسکول سے باہر نکل گیا۔ وہ جان بچاکر بھاگنے والے بچوں کے ساتھ دوڑتا رہا۔ کچھ آگے جاکر نکولس رکا، سانسوں کو ہموار کرکے سڑک کی دوسری جانب ایک Subway ریستوران سے اس نے پانی خریدا اور ٹہلتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا۔ قریب ہی ایک McDonald میں کچھ دیر ’آرام‘ کرنے کے بعد وہ باہر نکلا، اور ابھی وہ کچھ ہی دور چلا ہوگا کہ اسے پولیس نے دبوچ لیا۔ فائرنگ کے آغاز سے ملزم کی گرفتاری تک کا وقفہ ایک گھنٹہ 22 منٹ تھا۔ اس واقعہ میں 14 طلبہ، ایک استانی اور فٹبال کے دو کوچ ہلاک ہوگئے، جبکہ اساتذہ سمیت 15 افراد شدید زخمی ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ واقعہ اُس روز پیش آیا جس دن سے مسیحی دنیا میں روزوں کا آغاز ہوا ہے۔ 40 روزہ موسم صیام یا Lent تیس مارچ کو متبرک جمعہ یا Good Friday تک جاری رہے گا، جس کے دو دن بعد عیدِ ایسٹر (Easter) منائی جائے گی۔ ان روح پرور دنوں میں خون کی ہولی نے سارے معاشرے کو سوگوار کردیا ہے۔
بدقسمتی سے فلوریڈا کے ہائی اسکول میں پیش آنے والا یہ المناک واقعہ امریکی اسکولوں بلکہ سارے معاشرے میں تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کا تسلسل ہے۔ اِس سال کے پہلے 7 ہفتوں کے دوران امریکہ کے اسکولوں میں بلا اشتعال فائرنگ کا یہ 18 واں واقعہ تھا۔ یعنی ہر ہفتے کسی نہ کسی اسکول میں بلاجواز و بلااشتعال فائرنگ کے 3 واقعات پیش آئے۔ ان تمام کارروائیوں کا ارتکاب سفید فام بچوں نے کیا، اور بلا استثنا ہر جگہ لائسنس یافتہ اسلحہ استعمال ہوا۔ تمام ملزمان کی عمر 14 سے 18 سال ہے۔ یکم فروری کو کیلی فورنیا کے سب سے بڑے شہر لاس اینجلس (Los Angeles) میں تو مڈل اسکول کی ایک 15 سالہ بچی پستول کلاس میں لے آئی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ بیچاری بھاری پستول کو اوپر نہ اٹھا سکی اور نال نیچے کی طرف ہونے کی بنا پر 3 بچوں کو کلائی اور پیروں پر زخم آئے۔ یہ تمام ملزمان متمول اور پڑھے لکھے گھرانوں سے ہیں اور نکولس کے سوا کسی کا ماضی مشکوک نہیں۔ معاملہ صرف اسکول فائرنگ تک محدود نہیں، لاس ویگاس (Las Vegas) کے جوئے خانے اور ٹیکساس (Texas)کے گرجا گھر پر حملوں میں بھی لائسنس یافتہ اسلحہ استعمال ہوا تھا۔ امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس (CBS) کے مطابق برطانیہ، جاپان، فرانس، جرمنی سمیت دنیا کے 22 امیر ترین ممالک کے مقابلے میں یہاں بلا اشتعال فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد 25 گنا ہے۔
اس دنیا کے 5 فیصد لوگ امریکہ میں آباد ہیں، لیکن دنیا کا 44 فیصد لائسنس یافتہ اسلحہ امریکی شہریوں کے پاس ہے۔ 2009ء میں امریکی کانگریس کی جانب سے لیے گئے جائزے کے مطابق اس وقت امریکہ کی آبادی 30 کروڑ پچاس لاکھ، جبکہ شہریوں کے پاس آتشیں اسلحہ کی تعداد 31 کروڑ تھی۔ ابھی چند دن پہلے جاری ہونے والے اعدادوشمار نے 2009ء کے تخمینے کی تصدیق کردی ہے، جس کے مطابق ہر سو امریکیوں پر 101 بندوقیں، پستول اور خودکار آتشیں اسلحہ ہے۔ ری پبلکن پارٹی اسلحہ کی پُرجوش حامی ہے اور صدر ٹرمپ فائرنگ کے ہر واقعے کے بعد امریکی آئین کی دوسری ترمیم کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں جس کے تحت امریکی شہریوں کو اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اسلحہ رکھنا بجائے خود کوئی بری بات نہیں کہ بہت سے لوگوں کو شکار کا شوق ہے۔ اس کے علاوہ اپنی اور گھر والوں کی حفاظت کے لیے بھی اسلحہ کا حصول مناسب بات ہے، لیکن اسلحہ لائسنس کے اجرا سے پہلے اتنی جانچ پڑتال تو ضروری ہے جتنی ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا سے پہلے کی جاتی ہے۔ ذہنی دبائو کا شکار اور نفسیاتی مریضوں کو بلا تحقیق و معائنہ آتشیں اسلحہ کے لائسنس کا اجرا کسی طور مناسب نہیں۔ دنیا بھر میں شہریوں کو ایک خاص بور تک کا اسلحہ خریدنے کی اجازت ہے لیکن امریکہ میں عسکری معیار کی نیم خودکار رائفلیں بھی خریدی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ایک وقت میں گولیوں کے حصول پر بھی کوئی پابندی نہیں، اور صارف ہزاروں گولیاں خرید سکتا ہے۔
یہاں سراغ رسانی کے وفاقی ادارے FBI کی کارکردگی پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں ایک You Tube Video Blogger نے انٹرنیٹ پر کچھ اشتعال انگیر یوٹیوب پوسٹ دیکھیں جو کسی نکولس کروز نامی نوجوان نے نصب کی تھیں۔ اس ویڈیو میں نکولس پیشہ ور نشانہ باز بننے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اس نے AR-15 رائفل خرید لی ہے۔ ایک اور پوسٹ میں اس نے مبینہ طور پر پولیس کو نشانہ بنانے کی بات کی جو اُس کے خیال میں شریف لوگوں کو تنگ کرتی ہے۔ امریکی ریاست مسی سپی (Mississippi)کے 36 سالہ بلاگر بین بینائٹ (Ben Benight) نے اس اشتعال انگیز یوٹیوب ویڈیو کا تراشا ایف بی آئی کو بھیج کر تحقیقات کی درخواست کی۔ نکولس نے ویڈیو کی تشہیر کے لیے فرضی نام کے بجائے بہت ہی بے تکلفی سے اپنا پورا نام استعمال کیا تھا، اس لیے ایف بی آئی کے لیے اُس تک پہنچنا کچھ مشکل نہ تھا۔ امریکی ٹیلی ویژن CNNکے مطابق اس سے پہلے بھی ایف بی آئی نکولس کی حرکات کا جائزہ لے رہی تھی اور گزشتہ 7 سال کے دوران 39 بار قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اُس سے رابطہ کیا، لیکن ہر بار معاملہ بات چیت سے آگے نہ بڑھا۔ نکولس مسلمانوں اور سیاہ فام افراد کے خلاف دھمکی و تضحیک آمیز گفتگو کرتا تھا اور امریکی یہودیوں کی انجمن Anti-Defamation Leagueکے مطابق اُس کے سفید فام انتہا پسندوں سے تعلقات تھے۔ موصوف صدر ٹرمپ کے پُرجوش حامی ہیں اور ری پبلکن پارٹی کی MAGA یا Make America Great Again کے نعرے والی سرخ ٹوپی پہن کر اسکول آتے تھے۔ مسلمان اور سیاہ فام طلبہ کو دھمکانے اور کلاس میں غل غپاڑہ کرنے کی وجہ سے اس کو گزشتہ برس اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کی منہ بولی ماں کا کہنا ہے کہ نکولس اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے نفسیاتی مریض ہوگیا تھا۔ چند ہفتے پہلے یعنی 5 جنوری کو اُس کے ایک قریبی دوست نے ایف بی آئی سے رابطہ کرکے نکولس کے’خطرناک عزائم‘ کے بارے میں شکایت کی، لیکن کارروائی تو کجا ایف بی آئی ایجنٹ نے معاملے کو تحقیق کے لیے میامی (Miami) میں ادارے کے ریاستی صدر دفتر تک پہنچانے کی تکلیف بھی نہیں کی۔ اس کوتاہی پر فلوریڈا کے گورنر رک اسکاٹ (Rich Scott) نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حادثے کے دوسرے دن وائس آف امریکہ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں جب ہم سے اس واقعے پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو ہم نے جوابی سوال کیا کہ اگر اس قسم کے عزائم کا اظہار کرنے والے لڑکے کا نام نکولس کروز کے بجائے محمد، احمد، خان یا شیخ ہوتا تب بھی ایف بی آئی کا رویہ ایسا ہی ہوتا؟ اس ضمن میں اسکول کا کمزور حفاظتی نظام بھی تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے، انگریزی کے ایک استاد جم گارڈ(Jim Gard) نے گزشتہ روز انکشاف کیا کہ نومبر یا دسمبر 2016ء میں اسکول انتظامیہ کی طرف سے تمام اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو برقی مکتوب (email)موصول ہوا جس میں بڑی صراحت کے ساتھ کہا گیا تھا کہ اگرکوئی نکولس کروز کو بیگ کے ساتھ اسکول میں داخل ہوتا دیکھے تو فوری طور پر انتظامیہ کو مطلع کیا جائے۔ اس تنبیہ کے باوجود نکولس اپنے بیگ میں رائفل رکھ کر بلامزاحمت اسکول میں داخل ہوگیا۔
صدر ٹرمپ کا اندازِ گفتگو اور مخلتف طبقات سے ان کا امتیازی سلوک بھی انتشار اور تشدد کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ فائرنگ کے واقعات میں جب بھی کوئی مسلمان ملوث پایا گیا صدر ٹرمپ کا اشتعال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ دانت پیس کر اپنے مخصوص نفرت انگیز لہجے میں جس طرح ’ازلامک ٹیررازم‘ (Islamic terrorism) کہتے ہیں اس سے امریکی مسلمان سہم کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے وہ ایک ہی سانس میں غیر ملکیوں کی امریکہ آمد پر پابندی، ایف بی آئی اور پولیس کی طرف سے سخت اقدامات اور ملزم کو گوانتانامو (Guantanamo) بھجوانے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سفید فام ملزم انھیں تحقیق سے پہلے ہی نفسیاتی مریض نظر آتا ہے اور وہ پُرتشدد واردات کا سارا ملبہ اپنے سے پہلے آنے والی حکومتوں کی مہمل صحت پالیسی پر گرا دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس رویّے کو ایف بی آئی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اچھی طرح سمجھ گئے ہیں اور انھوں نے اپنی ترجیحات کو صدر ٹرمپ کی خوشنودی کے تابع کرلیا ہے۔ ایف بی آئی کے سارے وسائل مساجد اور اسلامی تنظیموں کی نگرانی کے لیے وقف ہیں۔ اس کے ایجنٹ مساجد اور اجتماعات میں ہونے والی تقاریر کے تجزیے میں مصروف ہیں۔ ایف بی آئی اہلکاروں کی نفری مسلم نوجوانوں کی نجی گفتگو کی سن گن کے لیے مخصوص ہے۔ بدقسمتی سے یہاں آباد قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد بھی مسلمانوں کی جاسوسی میں لگی ہوئی ہے۔ ان کے سوشل میڈیا اور آن لائن اخبارات پر مساجد میں ہونے والی تقاریر نمک مرچ لگا کر پیش کی جارہی ہیں جسے بنیاد بناکر ایف بی آئی کھاتہ کھول دیتی ہے۔ ہسپانویوں کے خلاف صدر ٹرمپ کے سخت رویّے نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات کو متاثر کیا ہے اور اب ان کی توجہ غیر قانونی تارکین وطن پر نظر رکھنے اور پکڑ دھکڑ پر مرکوز ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تمام وسائل مسلمانوں، سیاہ فام اور غیر ملکی تارکین وطن کی نگرانی کے لیے وقف ہوں تو انسدادِ دہشت گردی پر توجہ کیسے دی جاسکتی ہے! اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پولیس پر حملے، اندھا دھند فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ عام ہے۔ سفید فام دہشت گرد نفسیاتی مریض قرار پاکر سخت سزائوں سے بچ جاتے ہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کی تقریروں سے انتہا پسند سفید فاموں کو تقویت مل رہی ہے اور وہ ’حب الوطنی‘ کے نام پر مسلمانوں کی زندگی تنگ کیے ہوئے ہیں۔ دنیا میں دہشت گردی کے ہر واقعے پر صدر ٹرمپ کی تقریر سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم میں تیزی آجاتی ہے۔
اسلحہ ساز اور فروخت کنندگان کی انجمن National Rifle Association یا NRA ری پبلکن پارٹی کے قدامت پسند قانون سازوں کی انتخابی مہم میں کروڑوں ڈالر کے عطیات دے رہی ہے جس کی وجہ سے امریکی پارلیمان میں اسلحہ پر پابندی یا لائسنس کے اجرا پر سختی کی تجاویز پر رائے شماری کی نوبت بھی نہیں آتی اور مجالسِ قائمہ ہی میں ان کا کریا کرم ہوجاتا ہے۔ ارکانِ کانگریس کا سارا زور مزید پولیس کی بھرتی، ان کی تربیت اور سراغ رسانی کو بہتر بنانے کی طرف ہوتا ہے۔ پولیس اور ایف بی آئی کی ترجیحات کا ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں۔ چنانچہ ان اقدامات سے مسلمانوں، ہسپانویوں، سیاہ فام اور غیر ملکی تارکین وطن کی زندگی مزید تلخ ہوتی جارہی ہے۔
تاہم فلوریڈا اسکول کے واقعے کے بعد رائے عامہ میں تبدیلی کی لہر محسوس ہورہی ہے۔ ہفتے کی صبح Ft Lauderdale میں زبردست عوامی مظاہرہ ہوا جس کی قیادت اسکول کے طلبہ نے کی۔ اس موقع پر Gun Control یا اسلحہ پر پابندی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اسکول کی طالب علم رہنما ایما گونزیلیز (Emma Gonzalez)نے کہا کہ آتشیں اسلحہ خریدنا امریکہ میں سب سے آسان ہے۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں تبدیلی اس لیے بہت ضروری ہے کہ دوسری آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سے اسلحہ کی ہلاکت خیزی میں تیزی آچکی ہے۔ ایما نے سیاست دانوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم طلبہ اگر نہ پڑھیں تو امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں لیکن ہمارے قانون ساز زمینی حقائق پڑھنے سے معذور ہیں، پھر بھی انتخابات میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس موقع پر ہجوم نے قانون سازوں کے لیے شرم کرو حیا کرو، NRA مُردہ باد، وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن کو نشانِ عبرت بنادو کے نعرے لگائے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما سینیٹر ڈائن فینسٹائن (Dian Feinstein) نے اسلحہ لائسنس کے اجرا کو سخت کرنے اور نیم خودکار اسلحہ پر پابندی کا بل سینیٹ میں پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سینیٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کی منظوری کے لیے بہت زیادہ پُرامید نہیں لیکن وہ خاموش نہیں رہ سکتیں۔ سینیٹر صاحبہ کا اندیشہ اپنی جگہ، لیکن اس وقت رائے عامہ اسلحہ پر پابندیوں کے حق میں ہے۔ دیکھنا ہے کہ تہذیب و شائستگی کی علَم بردار قوتیں اس موقع سے کیسے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
nn

حصہ