نواز شریف کی ایک اور نااہلی

سپریم کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سنا دیا، اس فیصلے کی رو سے نوازشریف وزارتِ عظمیٰ کے بعد اب پارٹی صدارت کے بھی اہل نہیں رہے۔ نوازشریف کو یہ عہدہ پارٹی نے پارلیمنٹ میں آئین میں ایک ترمیم کرکے دیا تھا۔ نوازشریف کو پارٹی صدارت کا عہدہ دینا مسلم لیگ(ن) کی جانب سے عدلیہ کے فیصلے پر ردعمل تھا، اور اب سپریم کورٹ نے اس ردعمل کے تنکے کو قانون اور آئین کی روشنی میں خس و خاشاک کی طرح بہا دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق نوازشریف کے بطور پارٹی صدر تمام فیصلے بھی کالعدم قرار پائے ہیں، جس کا پہلا اثر سینیٹ کے لیے مسلم لیگ (ن) کے جاری کردہ ٹکٹوں پر پڑا ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) اپنے امیدواروں کے لیے نئے سرے سے کام کرے گی یا پھر سینیٹ کا انتخاب اپنے وقت پر ہوگا اور مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کے لیے بعد میں انتخابی شیڈول جاری کیا جائے گا۔ دونوں میں سے کوئی ایک صورت بہرحال سامنے آئے گی۔ ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پارٹی کے نئے صدر کے انتخاب تک مسلم لیگ(ن) میں کسی کو قائم مقام صدر بنادیا جائے گا، اور اسی کے دستخطوں سے ٹکٹ دوبارہ جاری ہوجائیں گے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کی صدارت سے نوازشریف کو ہٹادیا ہے، لیکن ایک اہم ترین نکتہ یہ باقی چھوڑ دیا ہے کہ نااہلی کیس کے دوسرے مقدمے کا فیصلہ کب سنایا جائے جس میں یہ طے ہونا ہے کہ کسی بھی نااہل شخص کی نااہلی کی مدت کیا ہوگی؟ یہ مقدمہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن ایکٹ2017ء کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، آئین کے آرٹیکل 62 اور 63پر پورا اترنے والا ہی پارٹی صدر بن سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کی مسلم لیگ(ن) کی صدارت ختم کردی اور قرار دیا کہ پابندی کا اطلاق نوازشریف کی نااہلی کی مدت سے ہوگا۔
سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ 2017کی شق 203 میں ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی ہے اور اس حوالے سے دائر کی گئی16درخواستوں کو
آئینی طور پر منظور کرلیا ہے۔ ان درخواستوں میں آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت ارکان اسمبلی کا معیار مقرر کرنے کا سوال اٹھایا گیا تھا، 63 اے پارٹی سربراہ سے متعلق ہے، الیکشن ایکٹ پارٹی صدر کو بڑا اختیار دیتا ہے۔ اس مقدمہ میں مسلم لیگ (ن) کے وکیل سلمان اکرم راجا پیش ہوئے، لیکن وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔ درخواستوں کی سماعت کے دوران بھی عدالت نے اپنے ریمارکس میں بنیادی سوالات اٹھائے تھے کہ اگر پولیٹکل پارٹی آرڈر معطل ہوجائے تو پھر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ کہا گیا کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے کمزور دلائل کی وجہ سے قانونی ماہرین جانتے تھے کہ اب فیصلہ کیا آئے گا، اور فیصلہ وہی آیا ہے، کیونکہ عدالت کے اس نہایت اہم ریمارک یا سوال کا جواب ہی نہیں دیا گیا۔ اگر عدالت میں دلیل کے ساتھ بات کی جاتی کہ پارٹی سربراہ کے نااہل ہونے سے اس کے فیصلے محفوظ رہتے ہیں تو شاید عدالت اس نکتہ پر مزید بات کرتی، یا پھر اسے منظور یا مسترد کرنے کی وجوہات اپنے فیصلے میں لکھتی۔ عدالت کا فیصلہ کئی پہلوؤں سے منفرد ہے کہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے سیکشن 203، الیکشن ایکٹ 2017کو منسوخ نہیں کیا بلکہ یہ ایکٹ موجود رہے گا۔ اس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی دلائل دیے تھے کہ سیاسی جماعت بنانے کا حق آئین فراہم کرتا ہے، کسی دوسرے آرٹیکل سے بنیادی حق ختم نہیں کیا جا سکتا، انتخابی اصلاحات کمیٹی میں سیاسی جماعتیں متفق تھیں، صدر سے منظوری کے بعد قانون کا جائزہ لیا جاتا ہے، آئین کی بنیاد جمہوریت ہے، آئین کے آگے کسی دوسرے آئینی آرٹیکل کی رکاوٹ نہیں لگائی جا سکتی۔ ان دلائل پر ہی عدالت نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا عدالت ان امور کو ہی اپنے فیصلے کے وقت ذہن میں رکھے؟ لہٰذا عدالت نے وہی کیا جو مسلم لیگ(ن) کے وکلا کے دلائل کی روشنی میں کیا جاسکتا تھا۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے وکلا نے کمزور دلائل دے کر خود ہی اپنا قانونی مقدر لکھا ہے، کیونکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں صرف آرٹیکل 17کو مدنظر رکھا۔ اسی طرح آرٹیکل 17کا سب سیکشن سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل 17کے سب سیکشن 2 پر کسی قسم کی قدغن نہیں لگائی گئی۔ اسی مقدمے کی سماعت میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ سیاسی جماعت ملکی سالمیت کے خلاف بنے تو اس پر کوئی قدغن نہیں؟ آرٹیکل 63,62 اور 63 اے کو ایک ساتھ پڑھا جائے گا۔ یہ بھی سوال اٹھایا گیا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی قدغن کو نظرانداز کردیں؟ عدالت نے فیصلے میں ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی تعریف اور کردار کے لیے رہنما اصول بھی بتا دیے ہیں۔ فروغ نسیم کے دلائل یہ تھے کہ عوام کا بنیادی حق ہے کہ ان پر ایمان دار لوگ حکومت کریں۔ یہاں دلیل دی جا رہی ہے کہ بنیادی حقوق کو ترجیح دی جائے۔ لیکن عدالت کے ذہن میں یہ بات رہی کہ ہمارے کلچر میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں، لہٰذا اسے کردار کے لحاظ سے بھی عمدہ اور اعلیٰ ہونا چاہیے۔ اس مقدمے میں صرف تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے اس نکتہ پر دلائل دیے کہ سینیٹ ٹکٹ اُس شخص نے جاری کیے جو خود نااہل ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سب سے پہلا ردعمل تحریک انصاف نے دیا اور عدلیہ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ پیپلزپارٹی کے چےئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سیاستدان سیاست اور عدلیہ فیصلے کرتی ہے، بے شک پارلیمنٹ سپریم اور آئین سب سے بالا ہے، نوازشر یف کی تحریکِ عدل مذاق ہے، اداروں کے در میان تصادم نہیں چاہتے، مسلم لیگ (ن) عدلیہ کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتی ہے اور نوازشریف پارلیمنٹ کو عدلیہ سے لڑاکر پارلیمنٹ کو متنازع بنانا چاہتے ہیں، پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا حق ہے مگر نوازشریف عدلیہ اصلاحات نہیں چاہتے، عدلیہ میں اصلاحات ججوں، وکلا اور سول سوسائٹی سمیت دیگر لوگوں کی مشاورت سے ہی ہوسکتی ہیں، ہم لڑکر عدلیہ اصلاحات نہیں لے کر آئیں گے۔ پیپلزپارٹی نے ردعمل دیا کہ نون لیگی حکومت کو چاہیے کہ وہ رونے دھونے کے بجائے آئین و قانون کے مطابق کام کرے، وہ لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے ڈبل پالیسی اپنا رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا مؤقف ہے کہ نوازشر یف سپر یم کورٹ سے نااہل ہوئے، پارلیمنٹ کے پاس قانون بنانے اور اس میں ترمیم کرنے کا اختیار ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کے پاس کسی بھی قانون کی تشریح کا اختیار ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے بھی ردعمل دیا کہ نااہل افراد اپنی حد میں رہیں، عدلیہ کا بڑا پن ہے کہ نااہلوں کی بیان بازی برداشت کررہی ہے، سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے آئین کے ڈھانچے سے متصادم فیصلے کو رد کر سکتی ہے، قوم عدلیہ کے خلاف ان کی کسی مہم کو برداشت نہیں کرے گی۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو پارٹی صدارت سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے بعد سینیٹ انتخابات کے شیڈول میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، اور نون لیگ کا کوئی بھی قائم مقام صدر نئے ٹکٹ جاری کرے گا، اور اب اس بات کا امکان ہے کہ سینیٹ کے انتخابات 3 مارچ کے بجائے 7 مارچ کو ہوں گے۔ نوازشریف نے بطور پارٹی صدر سینیٹ سمیت ضمنی انتخابات کے لیے جو بھی ٹکٹ جاری کیے یہ سارا عمل منسوخ ہوگیا ہے۔ اب نئی صورت حال میں الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کی نئی تاریخ کون سی رکھی جائے۔
اس فیصلے پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما کہتے ہیں کہ فیصلہ نوازشریف کا ہی چلے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائدِ ایوان راجا ظفرالحق کہتے ہیں کہ ہماری پارٹی قیادت بیٹھ کر پارٹی صدارت کا فیصلہ کرے گی، شہبازشریف کو پارٹی صدر بنانے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ سینیٹ امیدواروں کا فیصلہ نوازشریف کی مشاورت سے ہوگا، آئندہ پارٹی صدر کا فیصلہ نوازشریف کریں گے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سب سے اہم اور اعلیٰ ادارہ ہے، پارلیمنٹ آئین بناتی ہے اور اس میں ترمیم کرسکتی ہے، پارلیمنٹ جو چاہے کرسکتی ہے، نوازشریف کے کیے گئے فیصلوں پر ہی دستخط ہوں گے اور اُن کے کیے گئے فیصلوں پر ہی عوام مہر لگائیں گے، نوازشریف کسی عہدے کے مرہونِ منت نہیں، پارٹی کا نام ہی مسلم لیگ (ن) ہے، چاہے پارٹی کا صدر کوئی بھی ہو۔ یہ نوازشریف کو نہ کسی جمہوری عمل کا حصہ بننے دیں گے اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لینے دیں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نوازشریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی کے فیصلے کو عالمی میڈیا نے بھی بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا اور مختلف تبصرے کیے جاتے رہے۔ بھارتی ٹی وی چینلز، امریکی، برطانوی اور دیگر غیر ملکی ٹی وی چینلز اور نیوز ویب سائٹس پر نوازشریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی پر مختلف تبصرے کیے گئے اور کہاگیا کہ اس فیصلے سے ملک کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے مختلف اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
nn

Share this: