آذربائیجان، ایران تلخی

سعودی عرب اور ایران کی لڑائی بحرِ روم (شام اور لبنان)، خلیج فارس (عراق و قطر)، اور بحرِ عرب (یمن) سے آگے بڑھ کر کوہ قاف تک پہنچنے کو ہے۔ جی ہاں، شام کو پارہ پارہ اور یمن کو بیماری و قحط میں مبتلا کرنے کے بعد تہران و ریاض اب تیل و گیس سے مالامال آذربائیجان میں اپنے سینگ پھنسانے کو ہیں۔ بحرکیسپین (Caspian) کے مغرب اور ایران کے شمال میں واقع 98 لاکھ نفوس پر مشتمل آذربائیجان کی 86 فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ کوہستانی جھرنوں سے مزین سرسبزو شاداب پہاڑ، سطع مرتفع اور حسین وادیوں کی بنا پر آذربائیجان کو کیسپین کی دلہن کہا جاتا ہے۔ جب سردیوں میں یہ پہاڑ برف کی چادر اوڑھ لیتے ہیں تو آپ اس حسین ملک کو اپنے مری کی طرح ملکہ کوہسار بھی کہہ سکتے ہیں، اور علاقے کی مناسبت سے آذربائیجان کو کوہ قاف کی پری کہنا بھی درست ہے۔ آذربائیجان کی شناخت کاراباخ نسل کے مضبوط گھوڑے ہیں، جن کا تیز رفتاری میں کوئی مقابلہ نہیں۔جغرافیہ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کے لیے عرض ہے کہ خشکی میں گھرے بحر کیسپین کو قدیم مسلم ماہرینِ بحریات دریا کہا کرتے تھے، اور ایرانی اب بھی اسے دریائے خزر پکارتے ہیں۔ ایران کے ساحلی صوبوں گیلان اور مازندران کی مناسبت سے اسے دریائے گیلان اور دریائے مازندران بھی کہا جاتا ہے۔
ایران میں آباد آذربائیجانی نسل کے لوگوں کی تعداد تقریباً پونے دو کروڑ ہے، یعنی ایران کی آذری آبادی آذربائیجان کی کُل نفری سے دگنی ہے، اور چونکہ ان ’’تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے‘‘ اس لیے ایران میں ’’آزاد آذربائیجان‘‘ کا نعرہ اکثر سنائی دیتا ہے۔ آذری فٹ بال کے بہت شوقین ہیں۔ تبریز میں ٹریکٹر سازی کلب (Tractor Sazi Club)کے نام سے ایرانی آذریوں کی ایک فٹ بال ٹیم بھی ہے، اور اکثر میچ کے دوران ’’آزاد آذربائیجان‘‘ کے نعرے گونجتے ہیں۔ دوسری طرف ٹریکٹر سازی کی مخالف ٹیموں کے مداح اس موقع پر آذریوں پر آوازے کستے ہیں جس میں ’’خر خر تریکتر‘‘ بہت مشہور ہے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ خر فارسی میں گدھے کو کہتے ہیں۔ چند برس پہلے کلب کے سابق سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام اصغر کریمیان کا ایک خفیہ مکتوب آذر نیوز (Azer News) میں شائع ہوا جس میں بریگیڈیئر صاحب نے انکشاف کیا کہ کلب کا پلیٹ فارم ایرانی آذریوں کو متحدکرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ تبریز سے شائع ہونے والے اس اخبار پر ایرانی حکومت کی گہری نظر ہے اور تہران کو شک ہے کہ آذر نیوز دراصل تنظیم برائے قومی مزاحمت آذربائیجان یا NROAکی مالی معاونت سے چل رہا ہے۔ ایرانی حکومت NROA کو دہشت گرد تنظیم مجاہدینِ خلق کا آلہ کار سمجھتی ہے جس کا مقصد ایران کے آذریوں میں بے چینی پیدا کرنا ہے۔ چند ہفتہ قبل سارے ایران میں جو تشدد آمیز مظاہرے ہوئے اُس میں بھی مبینہ طور پر NROAکا ہاتھ تھا، اور تبریز ان مظاہروں کی وجہ سے کئی دن بند رہا۔ اس دوران پیرس سے اپنے پیغام میں مجاہدینِ خلق کی مرکزی رہنما مریم رجاوی نے ’’پُرعزم مزاحمت‘‘ پر تبریزیوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ویسے تو آذری سارے ایران میں موجود ہیں لیکن ان کی بڑی اکثریت شمالی ایران میں آذربائیجان کی سرحد پر واقع صوبوں اردبیل اور گیلان میں آباد ہے۔ یہاں تاتاریوں اور چینی نسل کے اویغور بھی ہیں جو خود کو ترک کہتے ہیں۔ سنی مکتبِ فکر کے تاتاری اور اویغور ایران کے فارسی بانوں کے مقابلے میں خود کو آذریوں سے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں۔ ایک عرصے سے شمال مغربی ایران میں آباد آذری، تاتار اور اویغور تالش(Talysh) کو قومی زبان بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں اور کئی بار اس سلسلے میں مظاہرے بھی ہوچکے ہیں۔ ایران کے اردبیلیوں، مازندرانیوں اور گیلانیوں میں تالش اور تاتی زبانیں بے حد مقبول ہیں جو ایران میں بولی جانے والی ’فارسیِ شیریں‘ کے مقابلے میں آذری اور ترکی سے زیادہ قریب ہیں۔ ایران کے آذری جنوبی آذربائیجان کے لوگوں سے رابطے میں ہیں اور وہاں کے اخبارات میں آذریوں اور ایرانیوں کی چپقلش کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ادھر کچھ عرصے سے اشتعال انگیز خبروں کی اشاعت بڑھ گئی ہے۔
تہران ایک عرصے سے شکوہ کررہا ہے کہ سعودیوں کے ایما پر آذربائیجان کے سنّی مدرسوں کے طلبہ داعش سے وابستگی اختیار کرکے لڑائی کے لیے شام اور عراق جارہے ہیں۔ جبکہ سعودی الزام لگا رہے ہیں کہ ایران اپنے زیراثر شیعہ مدارس سے ’پاسداران انقلاب‘ کے لیے سپاہی بھرتی کررہا ہے۔ آذر بائیجان کے مدارس حکومت کے زیرانتظام ہیں اور ایک حالیہ جائزے کے مطابق 150 میں سے صرف 22 مدارس پر ایران کا کنٹرول ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے آذربائیجان کی مساجد اور مدارس پر ایران کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔ ساری دنیا کی طرح آذر بائیجان کے شیعہ طلبہ اور علما اعلیٰ تعلیم کے لیے قم (ایران) جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مذہبی طبقے پر ایران کا اثرونفوذ فطری ہے۔ دوسری طرف زاہدان اور ایرانی بلوچستان میں سنیوں کی اکثریت ہے ایرانی حکومت نے دیوبند سے اچھے تعلقات قائم کرلیے ہیں اور دیوبندی علما کو بہت ہی عزت و احترام سے زاہدان دوروں کی دعوت دی جارہی ہے، جہاں ایرانی علما سے ان کی ملاقاتیں رہتی ہیں۔ دیوبند کے علاوہ بہت سے ایرانی علما اکوڑہ خٹک کی جامعہ حقانیہ، دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوریہ کے فارغ التحصیل ہیں جس کی بنا پر آذربائیجان کے سنی مدارس پر بھی ایران کا اثر بڑھ رہا ہے۔
ایران کی آذری آبادی کے علاوہ آذربائیجان اور ایران کے درمیان خاموش کھٹ پٹ کی ایک بڑی وجہ آرمینیا (Armenia) سے تہران کے عمدہ تعلقات ہیں۔ جبکہ نگورنو کاراباخ (Nagorno-Karabakh) تنازعے کی وجہ سے آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین سخت کشیدگی ہے۔ نگورنو کاراباخ میں آرمینیائی باشندوں کی اکثریت ہے لیکن یہ علاقہ آذربائیجان میں ہے۔ چنانچہ قبضہ کرنے اور قبضہ برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ آذربائیجان کو شبہ ہے کہ نگورنو کاراباخ میں آرمینیا کی مداخلت اور عسکری مہم جوئی کو ایران کی نہ صرف حمایت حاصل ہے بلکہ ایران آرمینیا کو ہلکے ہتھیار فروخت کررہا ہے جنھیں آرمینیائی دہشت گرد نگورنو کارا باخ میں استعمال کر تے ہیں۔آرمینیا سے فوجی تعاون اور عسکری تربیت کے معاملے پر ترکی کو بھی ایران سے شکایات ہیں۔ دوسری طرف ایران کو شکوہ ہے کہ نگورنو کاراباخ کے جن آذری باشندوں کو آذربائیجان کی حکومت فوجی تربیت دے رہی ہے اُن کی اکثریت آرمینیا میں لڑنے کے بجائے ایران کے آذری علیحدگی پسندوں کی مدد کررہی ہے۔ اتفاق سے آرمینیا کی سرحد پر آباد کاراباخیوں کی اکثریت سنیوں پر مشتمل ہے جو ایران کی جانب سے آرمینیا کی حمایت پر سخت مشتعل ہیں اور ’دشمن کا دوست دشمن‘ کے اصول پر وہ ایران کے بارے میں غیر دوستانہ جذبات رکھتے ہیں۔
آرمینیا سے ترکی کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں جس کی وجہ سے کاراباخ میں آباد ترک النسل آبادی کو آرمینی چھاپہ مار خاص طور سے نشانہ بنارہے ہیں۔ دوسری طرف آرمینیا الزام لگارہا ہے کہ ترک نسل آذریوں کو انقرہ اسلحہ دے رہا ہے۔ چند روز پہلے اسلام آباد میں جو نشست ہوئی تھی اُس میں بھی آذربائیجان اور ترکی کے سفیروں نے نکورنو کاراباخ اور آرمینیا میں آذری ترکوں پر ہونے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس اجتماع میں قومی سلامتی کے لیے پاکستانی وزیراعظم کے مشیر جنرل جنجوعہ بھی موجود تھے۔
ادھر کچھ عرصے سے کچھ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ جیسے ایرانی آذریوں میں بے چینی اور آرمینیا کے مسئلے پر آذربائیجان اور ایران کے درمیان غیر اعلانیہ کشیدگی سے سعودی عرب فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب بہت عرصے سے ایک دوسرے کو ’’گھیرنے‘‘ کی فکر میں ہیں۔ ایران نے یمن کے حوثی چھاپہ ماروں کو گود لے کر سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں کو ریاض کے لیے دُکھتی رگ بنادیا ہے۔ ریاض کو یہ بھی شکایت ہے کہ ایران خلیج عرب (یا خلیجِ فارس) کے مغربی کنارے پر قطیف اور صحات کے علاوہ کویت سے متصل علاقے خفجی میں آباد سعودی شیعوں کو حکومت کے خلاف بھڑکا رہا ہے۔ قطیف کے علاقے العوامیہ میں کئی بار شیعوں اور سعودی فوج کے درمیان خونریز جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔ ریاض کے خیال میں خلیج کے مشرقی کنارے پر البدیع اور الملکیہ کے بحرینی شیعوں کو بھی ایران مسلح کررہا ہے۔ سعودی عرب کی سینکڑوں میل طویل شمال مشرقی سرحد عراق سے ملتی ہے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سے عراق پر ایران کے اثرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
آذربائیجان اور ایران کے درمیان تلخی نے سعودی عرب کے لیے ایران کی شمالی سرحدوں کو ’گرم‘ کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے چھاپہ ماروں نے آذربائیجان اور ترکی کی سرحد پر ’عالمی مستکبرین‘ کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکہ کے لیے عالمی مستکبرین کی اصطلاح آیت اللہ خمینی مرحوم نے وضع کی تھی۔ اب تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس حملے میں کن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ پاسداران نے حملے کے دوران مغربی آذربائیجان میں ایرانی کردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ ایک نجی محفل میں اس کارروائی کو ایرانیوں کی سکھا شاہی قرار دیتے ہوئے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے تشویش کا اظہار کیا اور اپنے حالیہ دورۂ سعودی عرب میں انھوں نے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے بھی اس موضوع پر بات کی۔ 20 فروری کو آذربائیجان کے وزیر داخلہ جنرل رمیل اسبوف اپنے صدر کا خصوصی پیغام لے کر ریاض پہنچے ہیں جہاں اُن کی اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران دوسرے وزرا کے علاوہ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز بھی موجود تھے جو اس ملاقات کے لیے خاص طور پر واشنگٹن سے آئے تھے۔ شہزادہ خالد ولی عہد کے بھائی اور اُن کے خاص معتمد ہیں۔ یہ دونوں بھائی صدر ٹرمپ اور اُن کے داماد جیررڈ کشنر کے مقربین میں شمار ہوتے ہیں۔ خیال ہے کہ اس ملاقات کا کلیدی موضوع آذربائیجان اور آرمینیا سے متصل علاقوں میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ان کے سدباب کی حکمت عملی تھا۔ امریکہ کو بھی کوہ قاف میں ایران کی مداخلت پر تشویش ہے۔ افواہ گرم ہے کہ موسم بہار کے آغاز پر جنوبی آذربائیجان میں امریکی، سعودی و آذری فوج کی مشترکہ مشق زیرِ غور ہے۔
علاقے میں ایرانی اثررسوخ کے مقابلے کے لیے آذربائیجان جہاں سعودی عرب سے اپنے مراسم کو وسعت د ے رہا ہے، وہیں اسرائیل سے بھی تعلقات میں گرم جوشی کے اشارے مل رہے ہیں۔ آذربائیجان نگورنو کاراباخ میں آرمینیائی چھاپہ ماروں سے لڑنے کے لیے چھوٹے ہتھیار اسرائیل سے خرید رہا ہے۔ اسرائیل خود بھی آذربائیجان سے قریبی تعلقات کا خواہش مند ہے کہ وہ آذربائیجان میں بیٹھ کر ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر نظر رکھ سکتا ہے۔ ایران کے معاملے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود ان ملکوں کے درمیان سراغ رسانی کے باب میں گہرا تعاون بہت واضح ہے۔ تل ابیب نے کردستان میں خطیر ’’سیاسی سرمایہ کاری‘‘ کی ہے۔ اُس کے کردش ڈیموکریٹک پارٹی سے گہرے تعلقات ہیں۔ دوسری طرف کردستان کی قوم پرست تحریک شام، عراق اور ایران تینوں کے لیے دردِسر بنی ہوئی ہے۔ ترکی کو تو براہِ راست کردش ورکرز پارٹی کے دہشت گرد دھڑے YPGکی طرف سے چھاپہ مار جنگ کا سامنا ہے۔ عراقی کردستان میں آزادی کے لیے ریفرنڈم بھی ہوچکا، اور ایرانی کردوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ یہ کرد ترکی، ایران اور آذربائیجان کی سرحد پر آباد ہیں جن کے آذربائیجانیوں اور ایرانی آذروں سے اچھے مراسم ہیں۔ ٹریکٹر فٹ بال کلب کے کئی اچھے کھلاڑی ایرانی کرد ہیں جو تالش زبان بولتے ہیں۔ ایران آذربائیجان سے براہِ راست جنگ چھیڑ کر روس کو اپنا مخالف نہیں بناسکتا تو دوسری طرف اگر اسرائیل اور سعودیوں سے شہہ پاکر علیحدگی پسند ایرانی آذریوں اور کردوں نے پاسدارانِ انقلاب کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تو یہ چومکھی جنگ ایران کو شدید مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایران کے پاس بھی آرمینیا کی شکل میں ترپ کا پتّا موجود ہے اور وہ نگورنو کاراباخ اور آذربائیجان کی مغربی سرحدوں پر ہنگامہ کھڑا کرسکتا ہے۔ اس مناقشے نے ترکی کو شدید آزمائش سے دوچار کردیا ہے جسے اپنی جنوبی سرحدوں پر شام اور عراق کی جانب سے YPGکے چھاپہ مار حملوں کا سامنا ہے، اور اب آذربائیجان کی سمت سے اس کی مشرقی سرحد بھی مخدوش ہوتی نظر آرہی ہے جہاں عثمانیوں کے ہاتھوں اپنی شکست کے زخم چاٹتا آرمینیا ترکی سے صدیوں پرانا بدلہ چکانے کی فکر میں ہے۔ اگر سرد جنگ اور دھمکیوں نے حقیقت کا روپ دھار لیا تو خونریزی سے آذربائیجان، ایران اور ترکی سبھی بری طرح متاثر ہوں گے یعنی ’’لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں‘‘، اور ایک بار پھر خونِ مسلم سے ہولی کھیلی جائے گی۔ کاش تہران و ریاض ایک دوسرے کو مارنے اور گھیرنے کی فکر میں دبلے بلکہ اندھے ہونے کے بجائے ملکی وسائل کو اپنے عوام کی خوشی اور خوشحالی کے لیے استعمال کریں۔

Share this: