اچھی کتاب

ابوسعدی
پڑھنے کی عادت بہت اچھی ہے لیکن پڑھنے پڑھنے میں فرق ہے اورکتاب کتاب میں فرق ہے۔
میں ایک بدمعاش اور پاجی آدمی سے باتیں یا بے تکلفی کرتے ہوئے جھپکتا ہوں اور آپ بھی میرے اس فعل کو بُری نظر سے دیکھتے ہیں، لیکن میں اس سے زیادہ بُری اور پاجی کتاب پڑھتا ہوں، نہ آپ کو ناگوار گزرتا ہے اور نہ مجھے ہی کچھ ایسی شرم آتی ہے، بلکہ اس کی بات شربت کے گھونٹ کی طرح حلق سے اُترتی چلی جاتی ہے۔ پاجی آدمی کی شاید کوئی حرکت ناگوار ہوتی اور میں اس سے بیزار ہوجاتا، مگر یہ چپکے چپکے دل میں گھر کررہی ہے اور اس کی ہر بات دلربا معلوم ہوتی ہے۔
اگر میں کسی روز بازار جاؤں اور چوک میں سے کسی محض اجنبی شخص کو ساتھ لے آؤں اور اس سے بے تکلفی اور دوستی کی باتیں شروع کردوں اور پہلے ہی روز اس طرح اعتبار کرنے لگوں جیسے کسی پرانے دوست پر، تو آپ کیا کہیں گے؟ لیکن ریل اگر کسی اسٹیشن پر ٹھیرے اور میں اپنی گاڑی سے اُتر کر سیدھا بک اسٹال (کتب فروش کی الماری) پر پہنچوں اور پہلی کتاب جو میرے ہاتھ لگے وہ خرید لاؤں اور کھول کر شوق سے پڑھنے لگوں تو شاید آپ کچھ نہ کہیں گے۔ حالانکہ یہ فعل پہلے فعل سے زیادہ مجنونانہ ہے۔میں ایک بڑے شہر یا مجمع میں جاتا ہوں۔ کبھی ایک طرف نکل جاتا ہوں اور کبھی دوسری طرف جا پہنچتا ہوں، اور بغیر کسی مقصد کے اِدھر اُدھر مارا مارا پھرتا ہوں۔ افسوس کہ باوجود آدمیوں کی کثرت کے، میں وہاں اپنے تئیں اکیلا اور تنہا پاتا ہوں اور اس ہجوم میں تنہائی کا بار اور بھی گراں معلوم ہوتا ہے۔ میرے کتب خانے میں بیسیوں الماریاں کتابوں کی ہیں، میں کبھی ایک الماری کے پاس جا کھڑا ہوتا ہوں اور کوئی کتاب نکال کر پڑھنے لگتا ہوں۔ میں اس طرح سینکڑوں کتابیں پڑھ جاتا ہوں، لیکن اگر میں غور کروں تو دیکھوں گا کہ میں نے کچھ بھی نہیں پڑھا۔ اس وقت میری آوارہ خوانی مجھے ستائے گی اور جس طرح ایک بھرے پرے شہر میں میری تنہائی میرے لیے وبال ہوگی، اسی طرح اس مجمع شرفا، علما، ادبا و شعرا میں یکہ و تنہا و حیران ہوں گا۔ بغیر کسی مقصد کے پڑھنا فضول ہی نہیں مضر بھی ہے۔ جس قدر ہم بغیر کسی مقصد کے پڑھتے ہیں اسی قدر ہم ایک بامعنی مطالعے سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
ملٹن نے ایک جگہ کہا ہے ’’اچھی کتاب کا گلا گھونٹنا ایسا ہی ہے جیسا کسی انسان کا گلا گھونٹنا‘‘۔ جس سے اُس کی مراد یہ ہے کہ فضول اور معمولی کتابوں کے پڑھنے میں عزیز وقت ضائع کرنا اچھی کتابوں کا گلا گھونٹنا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں وہ ہمارے لیے مُردہ ہے۔ لوگ کیوں فضول، معمولی اور ادنیٰ درجے کی کتابیں پڑھتے ہیں؟ کچھ تو اس لیے کہ ان میں نیاپن ہے، کچھ اس خیال سے کہ ایسا کرنا داخلِ فیشن ہے، اور کچھ اس غرض سے کہ اس سے معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
پہلی دو وجہیں تو طفلانہ ہیں، تیسری وجہ بظاہر معقول ہے لیکن اس کے یہ معنیٰ ہوں گے کہ ہم معمولی، ذلیل اور ادنیٰ معلومات کو اپنے دماغ میں بھرتے ہیں تاکہ اعلیٰ معلومات کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اگر ہم اپنے مطالعے کا ایک سیاہہ تیار کریں اور اس میں صبح و شام تک جو کچھ پڑھتے ہیں لکھ لیا کریں اور ایک مدت کے بعد اسے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم کیا کیاکر گزرے۔ اس میں ہم بہت سی ایسی تحریریں پائیں گے جن کا ہمیں مطلق خیال نہیں۔ بہت سے ایسے ناول ہوں گے جن کے ہیروؤں تک کے نام یاد نہیں۔ بہت سی ایسی کتابیں ہیں کہ جن کی نسبت اگر ہم سے کوئی کہتا کہ یہ ہم پڑھ چکے ہیں تو ہمیں کبھی یقین نہ آتا۔ بہت سی ایسی تاریخیں، سفرنامے، رسالے وغیرہ ہوں گے جنھیں پڑھ کر خوش تو کیا ہوتے، پچھتائے ہی ہوں گے۔
اگر ہم علی گڑھ کے کالج کے طالب علموں کے نام، ان کے حلیے، ان کے وطن، ان کے محلّے، ان کی کتب، نصاب تعلیم اور ان کے شجرے یاد کرنے شروع کردیں اور اسے معلومات کے نام سے موسوم کریں تو لوگ کیا کہیں گے! غرض ایسا ہی کچھ حال اس سیاہہ کا ہوگا۔ اس کا اکثر حصہ خرافات کی ایک عجیب فہرست اور ہماری ورق گردانی اور تضیع وقت و دماغ کی ایک عمدہ یادگار ہوتی ہے۔
ملٹن نے کیا خوب کہا ہے’’عمدہ کتاب حیات ہی نہیں بلکہ وہ ایک لافانی چیز ہے‘‘۔ اس قول میں مطلق مبالغہ نہیں۔

علم پر شاعری

علم کو موضوع بنانے والے جن شعروں کا انتخاب یہاں پیش کیا جارہا ہے اس سے زندگی میں علم کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
علامہ اقبال
۔۔۔۔
وہ کھڑا ہے ایک بابِ علم کی دہلیز پر
میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو
منیر نیازی
۔۔۔۔
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
میر تقی میرؔ
۔۔۔۔
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
شیخ ابراہیم ذوقؔ
۔۔۔۔
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمتِ استاد کرتے ہیں
چکبست برج نرائن
۔۔۔۔
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی
(فردوس گیاوی)

استاد

فراغ روہوی
اسکول کے ہمارے
استادپیارے پیارے
ہم کو پڑھا رہے ہیں
انساں بنا رہے ہیں
کیا کیا نہیں سکھایا
یوں حوصلہ بڑھایا
بات اَن سنی بتائی
دنیا نئی دکھائی
کی دُور ہر برائی
تہذیب بھی سکھائی
کرنا نہیں لڑائی
ہوتی ہے جگ ہنسائی
ہوتے ہیں باپ سایہ
ان سے یہ درس پایا
تعلیم کا اثر ہے
اونچا ہمارا سر ہے
ان کا جو یہ عمل ہے
احسان بے بدل ہے
ان کی کریں گے عزت
پاتے رہیں گے شفقت
خوبی فراغؔ نے بھی
استاد کی بیاں کی

Share this: