مجلہ الواقعۃ

نام مجلہ : مجلہ ’’ الواقعہ‘‘ کراچی
(اشاعت ِخصوصی برائے ختم ِنبوت)
مدیر : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
ادارتی معاونین : ابوعمار سلیم، ابوالحسن،‘محمد ثاقب صدیقی، محمد ساجد صدیقی
صفحات : 264۔قیمت اشاعت ِخاص 600روپے
سالانہ زرِ تعاون 400 روپے (مع ڈاک خرچ) خصوصی شماروں کی قیمت اس میں شامل نہیں
ناشر : مکتبہ دارالاحسن۔مبارک پرائڈ، یاسین آباد، بلاک 9، فیڈرل بی ایریا، کراچی
برائے رابطہ : 0300-3738795, 0300-2277551, 0315-3411838
ای میل : mujalla.alwaqia@gmail.com
ویب ایڈریس : alwaqiamagzine.wordpress.com
فیس بک : http:/www.facebook.com/AlWaqiaMagzine
جناب محمد تنزیل الصدیقی الحسینی صاحب ِعلم نوجوان ہیں۔ ان کی زیرادارت ماہنامہ الواقعہ کراچی سے شائع ہوتا ہے جس میں بہت عمدہ علمی و دینی مضامین اور مقالات شائع ہوتے ہیں۔ اس مجلہ کی کئی خاص اشاعتیں شائع ہوچکی ہیں جن میں قرآن نمبر، فاروقِ اعظم ؓ نمبر، عثمان غنیؓ نمبر شامل ہیں جن کا تعارف نے فرائیڈے اسپیشل میں کرایا جا چکا ہے۔ زیرنظر اشاعتِ خصوصی برائے ختم نبوت ایک دستاویز ہے جو بڑے احسن طریقے سے مرتب کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ہفت روزہ ایشیا لاہور کی گرانقدر ختمِ نبوت اشاعت کا تعارف ہم فرائیڈے اسپیشل میں کراچکے ہیں۔ اس خصوصی اشاعت میں جو مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ مجلہ سات حصوں میں منقسم ہے۔
(1) عقیدہ ختم نبوت
’’قرآن مجید کے لفظ خاتم النبیین کی تفسیر‘‘۔ مولانا حکیم محمد ادریس ڈیانوی، ’’ختم نبوت اور خاتم النبیین کے معنی‘‘۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ’’خاتم النبیین، تکمیلِ نبوت تکمیلِ دین‘‘۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ’’فلسفہ ختمِ نبوت‘‘۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، ’’قرآن میرا معجزہ ہے‘‘۔ محمد عالمگیر؍ابوعمار سلیم، ’’ختمِ نبوت‘‘۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی، ’’قرآن اور ختمِ نبوت‘‘۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی، ’’ختمِ نبوت‘‘۔ مفتی عبدالخالق
(2)عقیدہ ختمِ نبوت اور سلسلۂ کذابین
’’وحی و نبوت کے جھوٹے دعویدار‘‘۔ محمد تنزیل الصدیقی الحسینی، ’’ختمِ نبوت کے بعد مدعیانِ نبوت‘‘۔ شیخ محمد السیدالبلاسی؍سید علیم اشرف جائسی، ’’یک نظر برعقیدہ ختم نبوت و مدعیانِ نبوت کاذبہ‘‘۔ مولانا عبدالرحیم اظہر الکریمی، ’’جھوٹے مدعیانِ نبوت‘‘۔ مولانا سید محبوب حسن واسطی
(3)مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانیت
’’مرزا صاحب قادیانی کا انتقال‘‘۔ علامہ ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری، ’’مسیح الہند‘‘۔ علامہ سید رشید رضا مصری، ’’قادیانی اورانی متوفیک ورافعک الی کی تفسیر‘‘۔ علامہ عبدالعزیز رحیم آبادی، ’’ختمِ نبوت اور قادیانی فتنہ‘‘۔ مولانا محمد منظور نعمانی، ’’فتنہ انکار ختمِ نبوت‘‘۔ جسٹس پیر کرم شاہ ازہری، ’’اسلام اور قادیانیت‘‘۔ مولانا محمد دائود غزنوی، ’’مجازی نبی اور ظلی نبی‘‘۔ مولانا محمد حنیف ندوی، ’’مرزائی نبوت کا خاتمہ‘‘۔ مولانا سید انور حسین مونگیری، ’’مرزا قادیانی اپنے دعاوی کی روشنی میں‘‘۔ مولانا محمد اسماعیل سلفی، ’’ختم نبوت اور مرزائے قادیاں‘‘۔ مولانا محمد ابراہیم میرؔ سیالکوٹی، ’’مرزا قادیانی کا مباہلہ‘‘۔ ڈاکٹر بہاء الدین محمد سلیمان، ’’میں کیسے تمہیں نبی مان لوں؟‘‘۔ ابوعمار سلیم، ’’فتنہ قادیانی‘‘۔ مولانا محمد احمد رضوی، ’’نبوت و رسالت کا منطقی جائزہ‘‘۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی، ’’قادیان کا خودساختہ نبی‘‘۔ مولانا شاہ احمد نورانی، ’’قادیانی مشن۔ یہود و نصاریٰ کی چاکری اور جہاد کی مخالفت‘‘۔ عبیداللہ لطیف، ’’معیارِ انسانیت اور مرزا قادیانی‘‘۔ عبدالمنان شورشؔ
(4) عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں خدمات
’’فتنہ ارتداد اورصدیق اکبرؓ‘‘۔ عمر ابوالنصر، ’’حضرت حبیب بن زید انصاریؓ‘‘۔ ابومحمد معتصم باللہ، ’’فتنہ قادیانیت اور حضرت مونگیریؒ کی خدماتِ جلیلہ‘‘۔ مولانا سید منت اللہ رحمانی، ’’پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ اور تردیدِ قادیانیت‘‘۔ محمد ثاقب صدیقی، ’’تحریک ردِّ قادیانیت اور مولانا سیف بنارسیؒ‘‘۔ مولانا محمد ابوالقاسم فاروقی
(5)عقیدہ ختم نبوت آئین و قانون کی روشنی میں
’’قادیانی حقائق اور آئینِ پاکستان‘‘۔ مولانا حمیداللہ خان عزیزؔ‘ ’’تحریک دفاعِ ختمِ نبوت، مفصل عدالتی فیصلہ‘‘۔ مولانا محمد یاسین شاد، ’’قادیانیت عدالت کے کٹہرے میں‘‘۔ مولانا گلزار احمد مظاہری، ’’فتنۂ قادیانیت آئین و قانون کی نظر میں‘‘۔ محمد متین خالد
(6) عقیدہ ختمِ نبوت اور فرائضِ امت
’’ختم نبوت اور امت کی ذمہ داریاں‘‘۔ مولانا سعید احمد پالن پوری، ’’عقیدہ ختمِ نبوت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں‘‘۔ مولانا منظور احمد الحسینی، ’’غداران ِختم نبوت کا انجام‘‘۔ آغا شورش کاشمیری
(7) حصہ انگریزی
My Miracle is the Quran -Muhammad Alamgir, Let Not the Doctrine of the Finality of Prophethood be Subjected to Controversy- Muhammad Tanzeel as-Siddiqui al-Hussaini/Muhammad Alamgir
مجلے کے مطالعے سے قادیانیت کے تمام گوشوں کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ اس گرانقدر اشاعت کو لے کر فوراً محفوظ کرلینا چاہیے، کیونکہ ہر طبقۂ خیال کے اہلِ علم کا ایسا اجتماع کم ہی دیکھنے میں آیا ہے جو مدیر محترم کے وسیع الظرف اور وسیع الخیال ہونے کی دلیل بھی ہے۔ یہ مجلہ فضلی بک سپر مارکیٹ اردو بازار کراچی اور لاہور میں مکتبہ بیت السلام اردو بازار لاہور۔0333-4413318 سے دستیاب ہے۔
مدیر جناب محمد تنزیل الصدیقی الحسینی نے ’’خاتم النبیین سے خاتم الامۃ تک‘‘ کے عنوان سے اداریہلکھا ہے، ہم وہ یہاں قارئین کے مطالعے کے لیے درج کرتے ہیں:
’’اسلام میں توحید اور ختم نبوت، یہ دو ایسے عقیدے ہیں جو محض رسمی نظریات نہیں بلکہ عملی قوت کی حیرت انگیز تاثیر رکھتے ہیں۔ توحید کا تقاضا تو ہر امت اور ہر فردِ بشر سے کیا گیا، اور اس میں اسلام اور مذاہبِ گزشتہ کی کوئی تخصیص نہیں، مگر ختمِ نبوت کا عقیدہ صرف اس امتِ آخر سے مخصوص ہے اور سردست یہاں اسی عقیدے سے متعلق گزارشات پیش کرنا مقصود ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کا نظریہ مسلمانوں کی ہیئتِ اجتماعی کے لیے موت و حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک عقیدہ نہیں جسے مسندِ دل پر مقام تقدیس عطا کردیا جاتا ہے، یہ ایک زندہ نظریہ ہے جو اپنی ہمہ گیر تاثیر رکھتا ہے۔ اس نظریے کی یہی زندگی، اس امت اور گزشتہ امتوں کے درمیان مابہ الامتیاز ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے اپنی وحی و الہام کا آخری مخاطب بنایا، اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبوتوں کے خاتم بنے۔ اس غیر معمولی عز و شرف کی بدولت ان کی امت بھی پیغامِ ربانی کی آخری مخاطب بنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو اس شرف کے ساتھ کہ ان کی امت خاتم الامۃ بنی۔
امتِ مسلمہ کو اپنا یہ فخر سلامت رکھنا ہے تو عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ لازم ہے۔ یہ تحفظ فرائضِ امت کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے اور اسلامی وحدت کی بقا ختمِ نبوت ہی پر منحصر ہے۔
یہ امت جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات سے کبھی سبک دوش نہیں ہو سکتی، جنھوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی اس عقیدے کا تحفظ کیا اور ہر مدعیٔ نبوتِ کاذبہ کو کیفر انجام تک پہنچایا۔
اس عقیدے کی عظمت حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے اسوہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کروانا پسند کیا مگر ایک کاذب کی تصدیق گوارا نہیں کی۔
اقبال نے کہا تھا: ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی‘‘، ترکیب کا وہ نسخہ ختمِ نبوت ہی ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس عقیدے کی تہذیبی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں:
’’اس کے معنیٰ بالکل سلیس ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جنہوں نے اپنے پیروئوں کو ایسا قانون عطا کرکے جو ضمیرِ انسان کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے، آزادی کا راستہ دکھا دیا ہے، کسی اور انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سرِ نیاز خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریے کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں، مکمل اور ابدی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار، کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔‘‘ (حرفِ اقبال، ص127-)
اس عقیدے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے ساتھ ایک ایسی خاص نسبت دی ہے جس سے گزشتہ امتیں محروم تھیں۔
اس لیے یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی اپنی اس متاعِ گراں مایہ سے دست بردار ہوجائے۔ آج عالمِ کفر کے جہابذہ علم و دانش اس نکتے کو جان گئے ہیں، اسی لیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی محبت کی آزمائش کرتے رہتے اور عقیدہ ختم نبوت پر زد لگانے کی پیہم کوشش کرتے ہیں۔ یہ رشک و حسد کی وہ قسم ہے جو منفی ذہنیت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے، جس میں انسان کی نفسانی کیفیت اس درجہ غالب آجاتی ہیں کہ حق کی شناخت کے باوجود وہ تسلیمِ حق کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ بھی اس نسبت میں مسلمانوں کے شریک ہوجاتے۔ اسلام صرف مسلمانوں کا دین نہیں ہے، اور نہ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے پیغمبر ہیں۔ اسلام کی آفاقیت دائمی اور ابدی ہے، اور اپنے دامن میں ہر طالبِ حق و صداقت کے لیے جگہ رکھتی ہے۔ مبارک ہیں وہ سعید روحیں جنہوں نے اپنے قلب کی اس پکار کو سنا اور قبولِ حق کی سعادت حاصل کی۔
اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون
…………
عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے اور اس عظیم فخر میں ہر مسلمان یکساں شریک ہے۔ کوئی مسلمان عقیدہ ختم نبوت کا اقرار کیے بغیر مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسے میں کسی بھی طبقے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر اپنی اجارہ داری قائم کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے عقیدہ ختم نبوت پر نقب زنی کی مذموم کوشش کی تھی تو ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان نے اس کی مخالفت کی۔ تمام مکاتبِ فکر کے اکابر آگے بڑھے اور انہوں نے اس دجالِ کاذب کے دعویٰ نبوت کی سختی سے تردید کی۔ آج مسلکی عصبیت اور فرقہ وارانہ تعصب کے زیرِ اثر ایک طبقہ دوسرے طبقے کی خدمات کا اعتراف نہیں کرتا، اور ہر طبقہ اپنے طبقے کے اکابر کے ذخیرۂ حسنات کو محض اپنے طبقے کی خدمات باور کراتا ہے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری، پیر مہر علی شاہ گولڑوی، علامہ انور شاہ کشمیری کو دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث کے خانوں میں دیکھنا خود ان کی خدمات کو چھوٹا بنا دینا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان بزرگوں نے اپنی ایمانی غیرت کا تقاضا سمجھ کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا ہے۔ جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کی چوکیداری کی وہ سب ہی امت کے محسن ہیں۔ اس میں کسی قسم کی تفریق غیر مناسب ہے۔
اس اتفاق میں ہرگز دراڑ نہ ڈالی جائے، ورنہ اسلامی وحدت کا سارا تصور مجروح ہوکر رہ جائے گا۔ اس عقیدے کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے عالمِ کفر کے نمائندے کم نہیں ہیں، ہمیں شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کے کارِ مذموم کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور اس ضمن میں کی جانے والی ایسی ہر کوشش کو جو وحدتِ اسلامی کے تصور کو مجروح کرے، سختی سے مسترد کردینا چاہیے۔
آفرید کارِ عالم انسانیت نے ہمیں ’’خاتم الامۃ‘‘ بناکر ’’خیر الامۃ‘‘ کے مقامِ رفیع پر فائز کیا ہے، مگر ہم نے اس مقام کی قدر نہیں کی۔ نتیجہ یہ کہ زمانے کی ٹھوکریں ہمارا مقدر بن گئیں۔ اب بھی وقت نہیں گزرا، درِ توبہ و انابت کھلا ہے۔ آئو اپنے سر نہیں دل جھکا دو۔ کمر کو خم نہیں، روح کو خمیدہ کردو۔
ہم اگر چاہیں تو آج بھی دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر مصائب کے پہاڑ بلند ہیں تو کیا ہوا، ہمارے عزائم کی بلندی سے بلند نہیں ہوسکتے۔ اگر پوری کائنات بھی رب کی توحید اور رسول کی رسالت کے خلاف در آئے تو کیا غم ہے، ہمارے ایمان کی طاقت کو زیر نہیں کرسکتی۔ ظلمتوں کی دھند خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، حق کا آفتاب کبھی تاریکی سے گہنا نہیں سکتا، اور تیرہ و تیرگی خواہ کتنی ہی بڑھ جائے مگر روشنی کی ایک کرن کے سامنے ہار جاتی ہے۔ غدارانِ ختمِ نبوت اور منکرینِ نبوتِ محمدی خواہ کچھ ہی کرلیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت کے لیے ورفعنا لک ذکرک فیصلۂ الٰہی اور نوشتۂ تقدیرہے۔ ناممکن ہے کہ کبھی رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حرف آسکے۔
آج بھی مسلمان اگر قرآن کے مخاطب مسلمان بن جائیں۔ آج بھی مسلمان اگر رسولؐ کے متوالے مسلمان بن جائیں۔آج بھی مسلمان اگر نقوشِ صحابہؓ کو اپنا معیارِ زندگی بنا لیں۔ فلسفۂ دجل و فریب کی پرستش ترک کرکے صدیقؓ اور فاروقؓ کو اپنا امام بنا لیں تو دنیا فتح کرسکتے ہیں۔ ہم صرف ایک بار توحید کی عملی طاقت اور ختمِ نبوت کے پیغامِ وحدت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بنا لیں تو یقین جانیے ہم تاریخ بدل دیں گے۔‘‘

Share this: