میونخ سیکورٹی کانفرنس، جنرل باجوہ کے اہم خطاب کا تجزیہ

جرمنی کے شہر میونخ میں 18 فروری 2018ء کو ہونے والی سیکورٹی کانفرنس سے جنرل باجوہ نے اہم خطاب کیا ہے۔ مگر اس خطاب پر وطنِ عزیز میں نہ ہونے کے برابرگفتگو ہوئی ہے۔ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی؟ اس بارے میں کچھ بھی کہنا دشوار ہے۔ البتہ جنرل باجوہ کو اس بات کی داد نہ دینا زیادتی ہی ہوگی کہ انہوں نے خطاب کے آغاز ہی میں کہہ دیا کہ میرا خطاب ’’ایک دانشور‘‘ کا خطاب نہیں ہوگا بلکہ ایک ’’فوجی‘‘ کا خطاب ہوگا۔ ہم نے مغرب سے اشتہار بازی کا فن خوب سیکھا ہے۔ چنانچہ وطنِ عزیز میں شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کا معاملہ یہ ہے کہ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اچھی بات ہے کہ جنرل باجوہ کو معلوم ہے کہ وہ دانشور نہیں ہیں، صرف ایک فوجی ہیں۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے کانفرنس میں جتنے موضوعات پر کلام کیا اُن میں سے اکثر اپنی اصل میں ’’دانشورانہ‘‘ تھے۔ یہاں تک کہ جنرل باجوہ کو ایک موقع پر خود کہنا پڑا کہ وہ کانفرنس میں موجود شرکاء کو تاریخ پر لیکچر دینے کے لیے معذرت چاہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے اپنے خطاب میں کہا کیا؟
جنرل باجوہ نے کہا کہ موجودہ ’’جہاد ازم‘‘ ایک Misnomer ہے۔ یعنی ایک درست تصور کو غلط نام دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں جہاد ایک وسیع تصور ہے۔ ایک جانب اس کا مطلب جبر کی تمام صورتوں کے خلاف جدوجہد ہے، دوسری جانب ’’جہاد بالنفس‘‘ جہاد کا اعلیٰ ترین تصور ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا بہترین جہاد ہے۔ جہاں تک جہاد بالسیف یا قتال کا تعلق ہے تو یہ جہاد کے تصورات کی درجہ بندی میں سب سے نیچے آتا ہے اور ریاست کے سوا کسی کو قتال کی اجازت نہیں۔
بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد بالسیف یا جہادِ اصغر سے لوٹتے ہوئے فرمایا تھا کہ اب ہم جہادِ اکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلم حکمرانوں کے لیے جہادِ اصغر سے لوٹتے ہوئے ہی یہ کہنا زیبا ہے کہ اب ہم جہادِ اکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ جو مسلم حکمران جہادِ اصغر نہیں کرتے اُنہیں جہادِ اکبر کی فضیلت پر بھی گفتگو کا حق حاصل نہیں۔ مسلمانوں کی گزشتہ 70 سالہ تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں بالخصوص جرنیلوں نے بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں مگر انہوں نے بھارت کے خلاف جہادِ اصغر کا اعلان ایک بار بھی نہیں کیا۔ عرب حکمرانوں نے اسرائیل کے خلاف تین چار جنگیں لڑی ہیں مگر انہوں نے ایک بار بھی جہادِ اصغر کا اعلان نہیں کیا۔ شیعہ ایران شام میں شیطان صفت بشارالاسد کے لیے لڑ رہا ہے مگر جہاد کا اعلان اُس نے بھی نہیں کیا۔ سنّی سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف صف آراء ہے مگر سعودی عرب بھی جنگ ہی لڑرہا ہے، جہادِ اصغر نہیں فرما رہا ہے۔ جنرل باجوہ ماشاء اللہ سعودی عرب کی عسکری مدد کررہے ہیں تو وہ سعودی حکمرانوں سے کیوں نہیں کہہ رہے کہ آئو اب سعودی عرب کا دفاع ’’جہادِ اصغر‘‘ کے تصور کے تحت کرتے ہیں۔ بعض لوگ ان باتوں سے قیاس کرسکتے ہیں کہ جہادِ اصغر سے گریز ’’جدید مسلم حکمرانوں‘‘ کا مسئلہ ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ 1857ء میں اصولاً بہادر شاہ ظفر کو حکمران اور ریاست کی حیثیت سے جہاد کا اعلان کرنا چاہیے تھا، مگر 1857ء میں جو جہاد ہوا وہ جنرل بخت خان یا ’’نجی شعبے‘‘ میں ہوا۔ اس سے بہت پہلے جب تاتاری لشکر مسلم شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے اور مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کررہے تھے تو جلال الدین خوارزم شاہ خلیفۂ بغداد کو جہاد پر مائل کررہا تھا، مگر خلیفۂ بغداد نے ایک حکمران اور ایک ریاست کی حیثیت سے جہاد سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ کہ تاتاریوں نے مسلمانوں کی سیاسی قوت کے مرکز بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ چلیے جو ہوا سو ہوا۔ اب جبکہ جنرل باجوہ نے جہادِ اصغر کے جملہ حقوق بحق ریاست نجی شعبے سے واپس لے لیے ہیں اور ان پر 1854 ’’جید علماء‘‘ سے فتویٰ بھی حاصل کرلیا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ یہ اعلان کردیں کہ مستقبل میں خدانخواستہ امریکہ یا بھارت نے اگر پاکستان کی سلامتی کو دائو پر لگانے کی کوشش کی تو امریکہ اور بھارت سے پاکستان جنگ نہیں ’’جہادِ اصغر‘‘ کرے گا۔ اس گفتگو کا سبب یہ ہے کہ جنگ اور جہاد دو مختلف تصورات ہیں۔ اقبال نے صاف کہا ہے ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
جنرل باجوہ تو ویسے بھی 6 ستمبر 2017ء کے روز جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ہم لاالٰہ الا اللہ کے وارث ہیں۔ چنانچہ اُن پہ لازم ہے کہ وہ جنگ کے تصور کو مسترد کردیں اور صاف کہیں کہ اب اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا نظریہ جنگ نہیں ’’جہادِ اصغر‘‘ ہے۔ جنرل باجوہ اس سلسلے میں اسلام اور قوم کا نہ سہی،1854 ’’جیّد علمائے کرام‘‘ ہی کا خیال کرلیں۔ جنرل باجوہ نے ’’جہاد بالنفس‘‘ کو جہادِ اکبر تسلیم کرکے اس کی جو توصیف فرمائی ہے وہ بہترین ہے۔ مگر جنرل باجوہ یہ تو بتائیں کہ گزشتہ 70 سال میں کس سول یا فوجی حکمران نے قوم کو جہاد بالنفس کے لیے تیار کیا ہے؟ چلیے ماضی میں جو ہوا سو ہوا، اب جنرل باجوہ نے جہادِ اکبر کی تعریف فرمائی ہے تو اُن پر فرض ہے کہ وہ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور مدرسوں میں نفس کے خلاف جہاد کا ماحول پیدا کریں اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو پابند کریں کہ وہ قرآن مجید فرقان حمید کے نفسِ امّارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ کے تصورات کی بنیاد پر قوم کو تعلیم دیں کہ انسان کیسے نفسِ امّارہ کے چنگل سے نکل کر نفسِ مطمئنہ حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ناگزیر ہے کہ ذرائع ابلاغ سے ایسا مواد نشر نہ ہو جو نفسِ امّارہ کو چوہے سے ڈائناسور بنانے والا ہو۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو وہ تو جنرل باجوہ کی کمان میں کام کرتی ہے، چنانچہ جنرل باجوہ کو چاہیے کہ وہ فوراً سے پیشتر ہر درجے کے فوجی اہلکاروں کے لیے جہادِ اصغر کے ساتھ جہادِ اکبر کا بھی اہتمام فرمائیں۔ اس سلسلے میں کاکول اکیڈمی کی طرز پر اکیڈمیز قائم کی جائیں اور ان میں سرحدوں کے نگہبانوں اور محافظوں کو نفسِ امّارہ سے اوپر اٹھنے اور نفسِ مطمئنہ حاصل کرنے کی ایسی تربیت دی جائے کہ اس دائرے میں بھی ہماری مسلح افواج دنیا کی بہترین فوج بن جائیں۔ اس عظیم کام کے سلسلے میں وہ 1854 جید علمائے کرام یقینا جنرل باجوہ کے بڑے کام آئیں گے جو جہادِ اصغر کے سلسلے میں اجتماعی فتویٰ دے چکے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے فوجی بھائی روحانی ترقی کریں گے تو ان کو تربیت دینے والے علماء کو بھی اس کا فائدہ ہوگا۔ آخر نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ کی طرف سفر کی جتنی ضرورت ہم جیسے گناہ گار لوگوں کو ہے اُس سے لاکھوں گنا ضرورت علمائے کرام کو ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔
ریاست کی ذمے داری صرف جہاد بالسیف نہیں، ریاست کے باشندوں کو تعلیم فراہم کرنا، علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کرنا، اور قوم کو بے روزگاری سے نجات دلانا بھی ہے، مگر گزشتہ 70 سال میں ریاست کہلانے کے ’’شوقین‘‘ فوجی اور سول حکمران نہ قوم کو تعلیم مہیا کرسکے، نہ علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرسکے، نہ بے روزگاری کو ختم کرسکے۔ بلکہ اب تو یہ حال ہے کہ ملک کا سب سے جدید اور امیر شہر کراچی کچرا کنڈی بنا ہوا ہے۔ اس کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ ہر طرف گٹر ابل رہے ہیں۔ آدھے شہر کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو ریاست 70 سال میں اپنے باشندوں کو بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہ کرسکی ہو وہ جہاد بالسیف یا جہادِ اصغر کا بوجھ کیسے اٹھائے گی؟ اور اگر نہیں اٹھا سکے گی تو اس کا ذمے دار کون ہوگا؟ صرف ریاست یا اُس کو جہادِ اصغر کا مکلف بنانے والے علماء بھی اس بار کو اٹھائیں گے؟
جنرل باجوہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اکثر مسلمانوں کے لیے خلافت کا تصور ماضی کی یاد یا جنرل باجوہ کی اصطلاح میں Nostalgiaہے، نہ کہ ’’حقیقی امکان‘‘ یاActual Possibility۔ جنرل باجوہ چونکہ اپنے اعتراف کے مطابق فوجی ہیں اس لیے انہیں ماضی کی یاد یا Nostalgiaکی قوت کا اندازہ نہیں۔Nostalgia نے دنیا میں ادب کے بڑے بڑے نمونے پیدا کیے ہیں۔ اقبال کی پوری شاعری Nostalgiaکا حاصل ہے۔ اقبال کی سب سے بڑی اور اردو ادب کی سب سے عظیم نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ ماضی کی یاد کا حاصل ہے۔ یہاں تک کہ اقبال نے اپنی شاعری کو خود ’’کھوئے ہوئوں کی جستجو‘‘ قرار دیا ہے۔ دور کیوں جایئے جس پاکستان نے جنرل باجوہ کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا ہے وہ بھی ایک مذہبی، تہذیبی اور تاریخی Nostalgia ہی کا حاصل ہے۔ اسلام کی تاریخ میں مذہبی ریاست صرف ریاست مدینہ ہے، اور پاکستان اس ریاست سے جڑی ہوئی ایک حقیقت ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں، آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے جہاد کو بھی ایک ’’مُردہ شے‘‘، یا مُردہ ادارہ سمجھا جاتا تھا اور سرسید اور مرزا غلام احمد قادیانی کا خیال تھا کہ اب جہاد بالقلم کا زمانہ ہے۔ مگر ایک ذرا سا موقع ملتے ہی جہاد کا ادارہ اس طرح زندہ ہوا کہ اُس نے افغانستان میں سوویت یونین ہی کو نہیں امریکہ کو بھی منہ کے بل گرا دیا۔ چلیے جنرل باجوہ اسلام کو ماضی کی یادگار سمجھتے ہوں گے، مگر یہودیوں کے Nostalgia کی قوت کا تو وہ بھی انکار نہیں کرسکیں گے۔ اسرائیل کا وجود ایک شیطنت ہے، بلکہ اس کے لیے شیطنت کا لفظ بھی چھوٹا ہے، مگر اسرائیل بہرحال یہودیوں کی ماضی کی یاد یا Nostalgia کا حاصل ہے۔ اتفاق سے یہ Nostalgia بھی ڈھائی ہزار برس پرانا ہے۔ اس کے مقابلے پر اسلام تو صرف 1400 سال پرانا ہے اور اللہ کا آخری دین بھی ہے۔ چنانچہ اسلام دنیا میں جو معجزہ کردے کم ہے۔ جنرل باجوہ کو اپنے اوپر یا مسلمانوں پر اعتبار نہیں تو نہ ہو، مگر وہ اسلام پر تو اعتبار کریں۔ اسلام کا کوئی بنیادی تصور یا کوئی بنیادی قدر، کوئی بنیادی تجربہ فنا نہیں ہوگا۔ اسلام کی ہر چیز کی بازیافت ہوکر رہے گی… خلافت کی بھی۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں۔ یہاں جنرل باجوہ اور ان جیسے لوگوں کو ایک حدیث شریف کا مفہوم یاد دلانا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد خلافت ہوگی اور اس کا زمانہ رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا عہد چلے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ پھر کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی اور اس کا سلسلہ چلے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ لیکن اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علی منہاج النبوت کے تجربے کی جانب لوٹے گی۔ جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا تو چاہے ساری دنیا نہ چاہے مگر خلافت کا تجربہ لوٹے گا۔ کب لوٹے گا؟ ہمیں نہیں معلوم۔ ہوسکتا ہے کہ اس تجربے کی بازیافت کئی سو سال بعد ہو، لیکن یہ تجربہ دنیا کی تقدیر ہے۔ اگر ایک منسوخ شریعت کے علَم بردار ڈھائی ہزار سال بعد Nostalgia اور سازش کے ذریعے اسرائیل کے نام سے ایک ریاست تخلیق کرسکتے ہیں تو اللہ کے آخری اور پسندیدہ دین کے سائے میں خلافت کی بازیافت کیوں نہیں ہوسکتی؟ معلوم نہیں جنرل باجوہ نے سیکورٹی کانفرنس میں خلافت کو ایک ’’بھولی بسری یاد‘‘ باور کرکے کسے خوش کیا ہے؟ ظاہر ہے ان کے سامعین میں اکثر اہلِ مغرب تھے۔ جہاں تک اہلِ مغرب کا تعلق ہے تو وہ خلافت کیا، افغانستان میں طالبان کی چھوٹی سی، ننھی منی سی، معمولی سی ’’امارتِ اسلامیہ‘‘ نہیں ہضم کرسکے۔ امارتِ اسلامیہ کیا، اہلِ مغرب مسلم دنیا میں اپنی جمہوریت پر تھوک دیتے ہیں خاص طور پر اس صورت میں جب مذہبی تشخص کی حامل کوئی جماعت انتخابات میں کامیاب ہوجاتی ہے یا اقتدار میں آجاتی ہے۔ اہلِ مغرب مسلم دنیا میں اُس وقت بھی اپنی جمہوریت پر تھوک دیتے ہیں جب کوئی جرنیل امریکہ اور یورپ کے ساتھ سازباز کرکے اقتدار پر قبضہ کرتا ہے۔ ایسی بددیانت مغربی دنیا کے سامنے خلافت پر معذرت خواہی کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ ویسے بھی مغرب کا تصورِ آزادی انسان کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے لیے جو سیاسی نظام بنانا چاہے، بنالے۔
جنرل باجوہ نے کانفرنس کے شرکاء سے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف ہونے والا افغان جہاد ایک عفریت اور انتہا پسندانہ Ideology تھا، لیکن یہ کام ہم نے تنہا نہیں کیا، بلکہ “Free World” بھی اس کی ذمے دار ہے، کیونکہ اسی’’آزاد دنیا‘‘ نے مدارس کے نصاب میں جہاد کی تعلیم کو شامل کرایا، پوری مسلم دنیا سے نوجوانوں کو جمع کیا، انہیں Radicalize کیا، اور جہاد کی کامیابی کے بعد آزاد دنیا ان نوجوانوں کو تنہا چھوڑ کر چلتی بنی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کل جو بویا تھا آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ جنرل باجوہ نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن نے 10 مارچ 1988ء کو خلائی شٹل کولمبیا کی پرواز کو ’’بہادر افغانوں‘‘ کے نام معنون یا Dedicate کیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض ہے کہ افغان جہادکا آغاز امریکہ کی ہدایت اور مدد کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ افغان رہنمائوں کے ساتھ رابطے بھٹو صاحب کے زمانے سے موجود تھے جنہیں جنرل ضیاء الحق نے مزید مضبوط بناکر افغانستان میں مزاحمت شروع کرادی تھی۔ امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے جنرل ضیاء کو اس موقع پر 800 ملین ڈالر کی امداد کی پیشکش کی تو جنرل ضیاء الحق نے 800 ملین ڈالرز کو ’’مونگ پھلی‘‘ قرار دے کر امداد لینے سے انکار کردیا۔ چنانچہ امریکہ نے فوجی اور غیر فوجی امداد کو بڑھا کر ساڑھے تین ارب ڈالر کردیا۔ بلاشبہ جب جہاد چل نکلا تو امریکہ کیا، پوری مغربی دنیا نے اس سلسلے میں ہماری مدد کی۔ لیکن صرف سوویت یونین کے خلاف جہاد مغرب کے سائے میں نہیں ہوا۔ جنیوا معاہدہ بھی امریکہ کے سائے میں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے طیارے کا حادثہ بھی امریکہ کے پرچم تلے ہوا۔ طالبان کی تخلیق بھی امریکہ اورکئی یورپی طاقتوں کا کرشمہ تھی۔ یہاں تک کہ جنرل پرویز نے نائن الیون کے بعد ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکہ کے حوالے کیا تو یہ بھی ’’آزاد دنیا‘‘ ہی کا کارنامہ تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں مارشل لا آتا ہے تو ’’آزاد دنیا‘‘ کے کہنے سے، جمہوریت بحال ہوتی ہے تو ’’آزاد دنیا‘‘ کے اشارے پر۔ مارشل لا نہیں آتا تو ’’آزاد دنیا‘‘ کے خوف سے۔ ہماری معیشت اور ہمارا دفاع پچاس سال سے ’’غلام‘‘ ہے تو ’’آزاد دنیا‘‘ کی وجہ سے۔ لیکن ہماری فوجی اور سول اسٹیبلشمنٹ ان تباہیوں کی ذمے داری نہ خود قبول کرتی ہے، نہ آزاد دنیا پر ڈالتی ہے۔ اس سلسلے میں یاد آیا ہے تو صرف سوویت یونین کے خلاف جہاد، جس نے بقول جنرل باجوہ کے، انتہا پسندی پیدا کی۔ لیکن ایسا ہوتا تو سوویت یونین کے خلاف دس برسوں تک جاری رہنے والے جہاد کے دوران بھی پاکستان میں دس بیس بم دھماکے، چالیس پچاس خودکش حملے ضرور ہوتے۔ لیکن دس سالہ جہاد کے دوران کسی ’’جہادی‘‘ نے پاکستان کے معاشرے کے خلاف یا ریاست کے خلاف معمولی درجے کی ’’تخریب کاری‘‘ بھی نہ کی۔ یہاں تک کہ طالبان کے پانچ سالہ دور میں بھی پاکستان میں کچھ نہ ہوا۔ ہوتا تو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ افغانستان کو پاکستان کی تزویراتی گہرائی یا Strategic Depth نہ کہتی۔ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب جنرل پرویز نے ایک ٹیلی فون کال پر اپنا قبلہ، ایمان، تصورِ خیر و شر، تصورِ دوست اور تصورِ دشمن تبدیل کیا۔ بدقسمتی سے جہادیوں کو ایک ٹیلی فون کال پر مکہ سے واشنگٹن کی طرف رخ کرنے، ایمان فروخت کردینے، ایک لمحے میں تصورِ خیر و شر، اور ایک لحظے میں دوست اور دشمن تبدیل کرنے کا ’’تجربہ‘‘ نہ تھا۔ چنانچہ مجاہدین کی اس بات پر واقعتا مذمت کی جانی چاہیے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی طرح بے حیا اور بے شرم کیوں ثابت نہ ہوئے۔ بس اسی فرق سے تمام مسائل پیدا ہوئے۔ بلاشبہ جن لوگوں نے امریکہ یا بھارت کا آلۂ کار بن کر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کیں انہوں نے اسلام کو بدنام کیا۔ لیکن طالبان کو ’’اپنے بچے‘‘ قرار دینے والے جن حکمرانوں نے محض امریکہ کی طاقت سے خوف زدہ ہوکر امریکہ کے لیے کرائے کے فوجی کا کردار ادا کیا انہوں نے کون سا اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی؟ رہا مغرب، تو اس کی پوری تاریخ یہ ہے کہ وہ اپنی مزاحمت کرنے والوں کو طرح طرح کے نام دیتا ہے۔ مائیکل مان نے اپنی تصنیف Dark Side of the Democracy میں بتایا ہے کہ سفید فاموں نے ریڈ انڈینز کے ملک امریکہ پر قبضہ کیا۔ ریڈ انڈینز نے سفید فاموں کی مزاحمت کی تو انہوں نے مزاحمت کرنے والوں کو کتے، بھیڑیے اور خنزیر قرار دیا۔ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کے ہندوستان پر قبضہ کیا اور خود کو ریاست ہندوستان کا باغی ثابت کیا، مگر ’’بغاوت‘‘ کا مقدمہ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر پر چلایا۔1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کے لوگوں کا حق تھی مگر انگریزوں نے اسے بغاوت اور غدر کا نام دیا اور مجاہدینِ آزادی کو سزا دینے کے لیے بندوقیں نہیں بلکہ توپیں استعمال کی گئیں۔ آج اسلام مغرب کی مزاحمت کررہا ہے تو مغرب کبھی اسلام کو ’’سیاسی اسلام‘‘ کی گالی دیتا ہے، کبھی اسے انتہا پسند مذہب باور کراتا ہے، کبھی اسلام کو پُرتشدد نظریہ باور کراتا ہے۔ رہے مزاحمت کرنے والے، تو وہ انتہا پسند ہیں، درندے ہیں، وحشی ہیں، دہشت گرد ہیں۔ جو مغرب کی مزاحمت کرے گا اُسے ایسے ہی ناموں سے یاد کیا جائے گا۔ رہے مغرب کے آلۂ کار، اس کے ایجنٹ، تو وہ ’’روشن خیال ‘‘ہیں، ’’سیکولر ‘‘ہیں، ’’لبرل‘‘ ہیں، ’’اعتدال پسند‘‘ ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ نائن الیون سے قبل جنرل پرویز امریکہ کے صدر بل کلنٹن کی نظروں میں اتنے حقیر تھے کہ انہوں نے دورۂ پاکستان کے دوران میں دارالحکومت اسلام آباد تک میں قدم نہ رکھا۔ انہوں نے جنرل پرویز سے ہوائی اڈے پر ملاقات کی اور وہیں سے خطاب فرمایا۔ مگر نائن الیون کے بعد چونکہ جنرل پرویز کرائے کے فوجی بن کر سامنے آئے، چنانچہ چار دن میں امریکہ اور یورپ کے رہنما جنرل پرویز کو ’’مدبر‘‘ کہنے لگے۔ اسرائیل کا صدر سونے سے قبل روز رات کو جنرل پرویز کی سلامتی کے لیے دعا کرنے لگا، اور یہ صورتِ حال ہوئی کہ مغرب کا ایک رہنما اسلام آباد سے جانے نہیں پاتا تھا کہ دوسرا رہنما آدھمکتا تھا۔ ان حقائق کے باوجود جنرل باجوہ مغرب کو خوش کرنے میں لگے ہیں اور جہاد کے اس پورے تجربے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں جس میں 15 لاکھ لوگ شہید اور 15لاکھ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
جنرل باجوہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ جب وہ جوان تھے تو پاکستان دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح “Normal” ملک تھا۔ پاکستان کے ’’نارمل ملک‘‘ ہونے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اُس زمانے میں جیکولین کینیڈی نے کراچی کا دورہ کیا، مغرب کے مشہورِ زمانہ بینڈ Beatles نے پاکستان میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ملکہ ایلزبتھ قبائلیوں سے ملاقات کے لیے درۂ خیبر تشریف لائیں، پاکستان سیاحوں کے لیے باعثِ کشش تھا، ہم نے ہاکی اور کرکٹ کے ورلڈکپ کا انعقاد کیا، 1963ء میں عالمی بینک نے پاکستان کو ایشیا کے Progressive اور متحرک ممالک میں شامل کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی تمام تر ’’مذہبیت‘‘ کے باوجود کوئی جیکولین کراچی آنا چاہے تو اُس کی آمد میں کوئی رکاوٹ نہیں، بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اب ہم ’’جیکولینز ‘‘ کے معاملے میں ’’خودکفیل‘‘ ہوچکے ہیں۔ جنرل باجوہ جس وقت چاہیں ٹیلی وژن کے چینلز آن کرکے درجنوں جیکولینز بلکہ جیکولین کی استادوں کو اسکرین پر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ Beatlesکا قصہ یہ ہے کہ ہم نے درجنوں ’’مقامی Beatles‘‘ پیدا کرلیے ہیں جو ہر وقت ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلز پر قوم کی سمع خراشی کرتے رہتے ہیں اور کوئی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ رہی کرکٹ، تو اسے ہمارے حکمران طبقے نے مذہب سے بھی بڑا درجہ دے دیا ہے۔ جنرل باجوہ خود کہہ چکے ہیں کہ کرکٹ کا کھیل قوم کو متحد کرتا ہے۔ بلاشبہ ملک میں کرکٹ اور ہاکی کے بڑے مقابلے نہیں ہورہے، مگر اب اس کا تعلق بڑی طاقتوں کی سیاست سے زیادہ اور ہمارے ملکی حالات سے کم ہے۔ مطلب یہ کہ جنرل باجوہ نے پاکستان کو جتنا Abnormal باور کرانے کی کوشش کی پاکستان اتنا Abnormal نہیں ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جنرل باجوہ کو موسیقی اور کھیل کا Normal تو یاد آیا مگر خواندگی، علم، طبی و شہری سہولتوں کا وہ Normal یاد نہ آیا جو پاکستان کا حکمران طبقہ 70 سال سے مہیا نہیں کر پارہا۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک Normal حکمرانوں کا ہے، ایک Normal ہمارے مذہب کا ہے، ہماری تہذیب کا ہے، ہماری تاریخ کا ہے۔ جنرل باجوہ کو اپنا Normal تو یاد آیا مگر اپنے مذہب، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کا کوئی Normal انہیں یاد نہ آسکا۔ ویسے لفظ Normal کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس کا مغرب سے گہرا تعلق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں Normal کا تصور بدلتا رہا ہے اور بدل رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ مغرب میں عورت کی شرم و حیا Normal بات تھی۔ پھر مغرب میں عریانی Normal بن گئی۔ اگلے مرحلے میں آزادانہ جنسی تعلق Normal بن گیا۔ اب مدتوں سے مغرب میں ہم جنس پرستی بھی Normal رجحان ہے۔ یہاں تک کہ مغرب کے بعض گرجوں میں ہم جنس پرست Pasters کو قبول کرلیا گیا ہے۔ مغرب میں تحریم کے رشتوں میں جنسی تعلق یعنی Incest عام ہوچلا ہے، اور کچھ برسوں میں اسے بھی مغرب کے Normal کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہمارا حکمران طبقہ کہاں تک مغرب کے Normal کا تعاقب کرے گا؟ کہاں تک… آخر کہاں تک؟ جنرل باجوہ اس سلسلے میں قوم کی رہنمائی کریں تو اُن کی بڑی مہربانی ہوگی۔

Share this: