نواز لیگ کی صدارت‘ شہباز شریف کے لیے چیلنج

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ماڈل ٹائون لاہور میں پارٹی چیئرمین راجا محمد ظفرالحق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ اور صوبائی مسلم لیگ پنجاب کے صدر، عدالتِ عظمیٰ سے نااہل قرار پانے والے سابق وزیراعظم اور سابق پارٹی سربراہ کے چھوٹے بھائی میاں شہبازشریف کو حکمران نواز لیگ کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا گیا، جب کہ میاں نوازشریف کو پارٹی کا تاحیات قائد قرار دیا گیا۔ تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ پارٹی دستور میں ’’قائد‘‘ نام کا کوئی منصب موجود نہیں، اس صورتِ حال میں قائد کی دستوری حیثیت کیا ہوگی اور اس کے اختیارات و مراعات اور ذمہ داریوں کا تعین کس طرح کیا جائے گا، اس بارے میں راوی خاموش ہے اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں بھی اس ضمن میں کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی گئی، البتہ یہ دلچسپ بات ضرور سامنے آتی ہے کہ دستور میں غیر موجود اس عہدے پر جناب نوازشریف کا تقرر زندگی بھر کے لیے یعنی تاحیات کیا گیا ہے، جب کہ پارٹی کے دستوری صدر کے منصب پر مجلسِ عاملہ نے شہبازشریف کا انتخاب قائم مقام صدر کے طور پر کیا ہے کہ مستقل صدر کے انتخاب کا اختیار جنرل کونسل کے پاس ہے جس کا اجلاس 6 مارچ کو طلب کرلیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں اُن کے باقاعدہ اور مستقل صدر کے طور پر انتخاب کی رسمی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
یہاں یہ ذکر کرنا بھی شاید دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ پرانی ضرب المثل ’’من ترا حاجی بگویم تو، مرا حاجی بگو‘‘ کے مصداق اپنے برادرِ خورد شہبازشریف کو پارٹی صدر بنائے جانے کی تجویز میاں نوازشریف نے پیش کی جس سے اختلاف کی مجال پوری مرکزی مجلسِ عاملہ میں سے کسی ایک رکن کو بھی نہیں ہوئی، اور یوں میاں شہبازشریف بلامقابلہ پارٹی کے قائم مقام صدر منتخب ہوگئے، جب کہ جواب میں اس احسان کا بدلہ میاں شہبازشریف نے یوں اتارا کہ اپنے برادرِ بزرگ میاں نوازشریف کو پارٹی کا تاحیات ’’قائد‘‘ بنائے جانے کی تجویز پیش کردی۔ ظاہر ہے اس تجویز کو بھی اتفاقِ رائے سے قبول کرلیا گیا، اور یوں میاں نوازشریف پارٹی کے تاحیات قائد قرار پا گئے۔
میاں شہبازشریف نے اپنے بڑے بھائی سے تھوڑا ہی عرصہ تاخیر سے سیاست میں قدم رکھا۔ 1985ء میں جب میاں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو میاں شہبازشریف لاہور شہر کی مسلم لیگ کے صدر بنادیئے گئے۔ اسی دوران انہیں ایوانِ صنعت و تجارت لاہور کا صدر بھی منتخب کرلیا گیا۔ 1988ء سے 2013ء تک کے تمام انتخابات میں سوائے 2002ء کے، وہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں اگرچہ ان کی پارٹی نے حصہ لیا، لیکن وہ چونکہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ سعودی عرب میں خود اختیار کردہ جلا وطنی کے دن گزار رہے تھے اس لیے وہ ان انتخابات میں امیدوار نہیں تھے۔ 1997ء کے انتخابات کے بعد انہیں پہلی بار پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا، جب کہ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ان تمام ادوار میں انہوں نے اپنے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مثبت اور منفی شہرت حاصل کی۔ وہ تمام تر اختیارات اپنی ذات میں مرکوز رکھنے اور اپنے احکام پر سختی سے عمل کروانے کے لیے مشہور ہیں… وہ ’’میرٹ‘‘ کو ہر چیز پر ترجیح دینے کا نعرہ تو بڑے زور شور سے بلند کرتے ہیں تاہم واقفانِ رازِ درونِ مے خانہ کے بقول ’’میرٹ‘‘ سے اُن کی مراد اُن کی ذات سے وفاداری اور اُن کے احکام پر بلا چوں و چرا عمل درآمد ہوتی ہے۔
میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف میں جہاں شریف خاندان کے چشم و چراغ اور باہم بھائی ہونے کا مضبوط رشتہ پایا جاتا ہے، وہیں ان دونوں میں اب یہ قدر بھی مشترک قرار پائی ہے کہ دونوں نے پارٹی کی صوبہ پنجاب کی قیادت سے براہِ راست مرکزی صدارت کا منصب سنبھالا۔ اور2018ء کے عام انتخابات کے بعد اگر میاں شہبازشریف کو میاں نوازشریف کے اعلان کے مطابق وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ بھی مل جاتا ہے تو دونوں بھائی اس لحاظ سے بھی یکساں خوش نصیب قرار پائیں گے کہ دونوں وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب سے چھلانگ لگاکر سیدھے مملکت کے وزیراعظم کے بلند ترین منصب پر پہنچے۔
سیاسی حلقوں میں اس وقت یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ پارٹی قیادت میں تبدیلی کے نتیجے میں کیا پارٹی کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ میاں شہبازشریف کی سیاسی میدان میں عمومی شہرت اعتدال پسند رہنما کی ہے۔ اس شہرت کو 28 جولائی 2017ء کے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے باعث نوازشریف کی وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد کی جارحانہ سیاسی حکمت عملی کا ساتھ نہ دینے سے مزید تقویت ملی۔ میاں شہبازشریف نے اپنے بڑے بھائی سے تمام تر وفاداری کے اظہار کے باوجود اُن کی اس جارحانہ حکمت عملی سے کھلے بندوں اختلاف کیا اور بھرے جلسوں میں یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ہمیں یعنی حکمران شریف خاندان کو اداروں سے تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے اس مؤقف کی اُن کے فرزند، لاہور سے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہبازشریف نے بھی بھرپور تائید کی، جب کہ راولپنڈی سے پارٹی کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بھی اس معاملے میں اُن کے ہم آواز رہے۔ شاید اسی اختلاف کے باعث چودھری نثار علی خان موجودہ وفاقی کابینہ کا حصہ بھی نہیں بنے اور انہیں پارٹی معاملات میں بھی پہلے جو اہم ترین حیثیت حاصل تھی، وہ تقریباً صفر پر پہنچ گئی، جس کا ایک اظہار اُس وقت ہوا جب 27 فروری کے ماڈل ٹائون لاہور کے مرکزی مجلسِ عاملہ کے اہم اجلاس میں چودھری نثار نظر نہیں آئے۔ ان کی اس اجلاس میں عدم موجودگی کے بارے میں دو طرح کی آراء سامنے آئی ہیں۔ اول یہ کہ انہیں اس اجلاس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا، اور دوئم یہ کہ انہیں مدعو تو کیا گیا تھا مگر وہ خود شریک نہیں ہوئے۔ حقیقت جو کچھ بھی ہو، بہرحال یہ پارٹی قائد میاں نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کے مابین تعلقات کی انتہائی حد تک سردمہری کا اظہار ضرور ہے۔
حکمران نواز لیگ کی قیادت میں تبدیلی کے بعد ماضی میں دونوں بھائیوں کے مابین سیاسی حکمت عملی کے اس واضح اختلاف کے تناظر میں یہ سوال فطری ہے کہ پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کیا ہو گی… ؟ اس کا درست جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا، تاہم سیاسی مبصرین کی رائے یہ ہے کہ جب تک میاں نوازشریف سیاسی میدان میں متحرک اور فعال ہیں، ان کی دختر مریم نواز اور قریبی ہاکس اپنی تندوتیز تقاریر اور ریاستی اداروں خصوصاً اعلیٰ عدلیہ کو ہدفِ تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جس کی موجودگی میں میاں شہبازشریف کے لیے اپنی اعتدال پسندانہ حکمت عملی کو روبہ عمل لانا خاصا دشوار ہوگا۔ تاہم اگر میاں نوازشریف اور مریم نواز کو مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں متوقع طور پر احتساب عدالت سے سزا سنا دی جاتی ہے اور جیل بھیج دیا جاتا ہے تو سیاسی کشیدگی اور ماحول کی حدت میں اضافے کے باوجود میدان میاں شہبازشریف کے لیے قدرے صاف ہوجائے گا، اور وہ چودھری نثار علی خان اور اُن جیسے اپنے دیگر ساتھیوں کو متحرک کرکے قومی اداروں سے مفاہمت اور تعلقاتِ کار کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ یوں پارٹی سربراہ کے طور پر اُن کی آئندہ وزراتِ عظمیٰ کے منصب تک رسائی میں بھی آسانی پیدا ہو سکتی ہے جس کا اعلان میاں نوازشریف اگرچہ ایک سے زائد بار کر چکے ہیں مگر موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور بعض دیگر پارٹی رہنمائوں کی جانب سے بھی ایک سے زائد بار ہی میاں شہبازشریف کے پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے نامزد امیدوار ہونے کی تردید یہ کہہ کر کی جا چکی ہے کہ اس ضمن میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ فیصلہ انتخابات میں اکثریت حاصل ہونے کے بعد پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
بہرحال موجودہ مشکل ملکی حالات اور کشیدہ سیاسی صورت حال میں پارٹی کی قیادت سنبھالنا پھولوں کی سیج نہیں ہوگی، بلکہ یہ ان کے لیے کانٹوں بھرا تاج بھی ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ ان کے پیش رو میاں نوازشریف نے پارٹی کو تصادم کی جس راہ پر گامزن کردیا ہے اس سے گریز اور انحراف کی راہ اختیار کرتے ہوئے اداروں سے بہتر تعلقات کی خاطر نئی سیاسی حکمت عملی کو بروئے کار لانا کسی آزمائش سے کم نہ ہوگا۔

Share this: