ڈاکٹر قاسم علی وٹو مرحوم کی یاد میں

ریاض احمد دانش
یہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہر انسان کے دماغ کے نہاں خانوں میں اس کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے اس کی آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والے حالات اور واقعات کے کچھ نہ کچھ ایسے گہرے یا دھندلے نقوش ضرور موجود ہوتے ہیں، جو وقتاً فوقتاً اس کے خیالوں کی وادیوں سے نکل کر اس کے عمل کی دنیائوں میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خوبصورت افعال اور دل آویزکردار کی راہوں پر لے جانے کے لیے آکھڑے ہوتے ہیں، تاکہ وہ اپنی کوششوں کی بنیاد پر اپنا شمار اُن لوگوں میں کروا لے جنہوں نے اس سے پہلے اِس دنیا کے اندر ایک قابلِِ رشک کردار کی ادائیگی کے ذریعے اپنی قبروں کو روشن اور اپنی اُخروی حیات کو آسان بنانے کے لیے بہت سارا سامان اکٹھا کرنے کی فکر کرتے ہوئے اپنی صجوں اور شاموں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے روشن اصولوں کے سائے میں بسر کیا ہوتا ہے۔
جماعتِ اسلامی ضلع اوکاڑہ کے سابق نائب امیر ڈاکٹر قاسم علی وٹو اِس وقت اِس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کے عمل کی خوشبو اور ان کے کردار کی روشنی بے شمار لوگوں کی یادوں میں ایک گہرے نقش کی صورت موجود ہے۔ میرے اُن سے رابطے اور تعلق کے بہت سارے حوالے ہیں، لیکن میرے ذہن کے پردے پر ڈاکٹر قاسم صاحب کا پہلا نقش ایک ایسے بابے کے طور پر موجود ہے جس کی طرف معاشرے کے غریبی کی کڑی دھوپ میں جلنے والے لوگوں کا آنا جانا رہتا تھا تاکہ وہ اپنی زندگی کے راستوں میں پڑے ہوئے معاشی ناہمواری کے بھاری پتھر سے پھوٹنے والے مسائل کا حل ڈھونڈ سکیں۔ میں اُس وقت چوتھی یا پانچویں کلاس کا طالب علم تھا جب میں نے بصیرپور کے ایسے مردوں اور عورتوں کو اپنے اپنے زیرِ تعلیم بچوں کے ہاتھ پکڑے ڈاکٹر صاحب کے کلینک کی طرف جاتے دیکھا جن کے دنوں اور راتوں میں مفلسی کے زہر نے تلخی گھول رکھی تھی، لیکن وہ اس آرزو سے سرشار تھے کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر ان کی زندگی میں در آنے والے ایسے دکھوں کا زور کم کرسکے جن کے سلسلے غربت سے پیدا ہونے والی مجبوریوں سے ملتے تھے۔ جب بھی امتحانات ہوتے اور اسکولوں سے نتائج کا اعلان ہوجاتا تو ڈاکٹر صاحب علم کے پھیلائو کی راہوں میں اپنا حصہ ڈالنے کی غرض سے عمل کے میدان میں موجود ہوتے، اور اپنے ہاتھ سے ایسے رقعے لکھتے نظر آتے جو بصیرپور کی کتابوں کی دو دکانوں اکرم بک ڈپو اور نذیر بک ڈپو کے مالکوں کے نام ہوتے تھے، اور کم وسیلہ گھرانوںکے طلبہ مسکراتے اور کھلے کھلے چہروں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے ایسے رقعے لیتے تھے، کیوں کہ وہ محض رقعے نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کے لیے نئی کتابوں کے حصول کے پروانے ہوتے تھے۔
ڈاکٹر قاسم علی وٹو صاحب کی مسعود اور مبارک کاوشوں کا روشنی بکھیرتا دائرہ غریب طلبہ کو نئی کتابوں کی مفت فراہمی تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ ان کی ہمدردیوں اور غمگساریوں کے بہتے دریا سے ان کے کلینک پر آنے والے ایسے لوگ بھی سیراب ہوتے تھے جن کی جیبوں میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوتی تھی، اور وہ بروقت اور مفت دوائیوں اور علاج کے لیے روہیلہ روڈ بصیرپور پر واقع ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر آتے اور بلاقیمت اپنی بیماریوں کا علاج اور دوا پاتے۔ ڈاکٹر صاحب کا روزمرہ کا ایک معمول یہ بھی تھا کہ غریب لوگوں کا علاج بلاقیمت کرتے تھے اور ان کو مفت دوائیاں حاصل کرنے کے لیے ’’عزیز میڈیکل اسٹور‘‘ بھیجا کرتے تھے، جہاں پر اس دن کی تاریخ اور دوا کی قیمت ایک رجسٹر پر درج کرلی جاتی اور مریض کو بلانرخ دوا دے دی جاتی۔
ڈاکٹر قاسم صاحب مطلق جسمانی بیماریوں کے ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ معاشرے میں پھیلے اخلاقی، روحانی، معاشی اور سیاسی نوعیت کے عوارض کا سدباب کرنے کی بھی بھرپور کوششیں کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ان کے ہاں مریضوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی جمگھٹا لگا رہتا تھا، ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو معاشر ے میں اپنے سے کسی طاقتور آدمی کے ستائے ہوئے ہوتے اور ڈاکٹر صاحب کی مدد اور تعاون کے آرزومند ہوتے تھے، ان میں وہ لوگ بھی ہوتے تھے جو اپنوں کے ظلم اور جبر کا شکار ہوتے تھے اور اشک شوئی کے طالب ہوتے تھے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے تھے جو غیروں کے سنگین رویوں کے ڈسے ہوتے تھے اور اپنے لیے انصاف اور قانون کے تقاضوں کی عمل داری کی خواہش رکھتے تھے… غٖرض لوگ طرح طرح کی مصیبتوں اور مشکلوں کا بوجھ اٹھائے ان کے در کا رخ کرتے تھے اور دکھوں اور عذابوں سے ہلکے ہوکر اطمینان اور شادابی کے احساسات سے گھروں کو لوٹتے تھے۔
ڈاکٹر قاسم علی وٹو ضلع اوکاڑہ میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے ایک سرگرم اور پُرجوش ساتھی کے طور پر گردانے جاتے تھے۔ دن ہو یا رات، سکون کی کفیت ہو یا دکھ کے گھیرے میں آئے ہوئے لمحات… ڈاکٹر صاحب کا دل بے خوفی کے زریں احساس سے سجا دھجا ہوتا تھا، اور وہ پیش آمدہ کٹھن حالات کا سامنا کررہے ہوتے۔ وہ قاضی صاحب کے اس مشہور ِ زمانہ دھرنے میں بھی شریک تھے جس میں سرکار دربار کے کارندوں نے جماعتِ اسلامی کے کارکنوں پرکیا، خود قاضی حسین احمد پر دھاوا بول دیا تھا اور قاضی صاحب کی عینک اور ٹوپی زمین پر گر گئی تھی، اور وہ گھوڑوں پر سوار پولیس اہل کاروں کے نرغے میں آگئے تھے۔ قصہ مختصر، ڈاکٹر قاسم علی وٹو گزرے ہوئے زمانے میں جماعتِ اسلامی کے منعقد کردہ ہر رنگ کے احتجاج میں جماعت اسلامی اور قاضی صاحب کے سنگ ہوتے تھے اور سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے نتائج کی پروا اور پریشانی کے خیالات کو پل بھر کے لیے بھی اپنا رفیق نہ بناتے تھے۔
ڈاکٹر قاسم صاحب بصیرپور کی ایک ممتاز سیاسی شخصیت تھے، وہ بصیرپور کی یونین کونسل 113 کے ناظم بھی رہ چکے تھے۔ ان کے اثررسوخ کا دائرہ تحصیل دیپالپور اور ضلع اوکاڑہ تک تھا۔ وہ تحصیل دیپالپور اور ضلع اوکاڑہ کے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اجتماعات میں بلائے جاتے تھے، لیکن وہ کسی جگہ پارٹی لائن سے اختلاف نہیں کرتے تھے۔ وہ جماعتِ اسلامی کی ایک پُرزور آواز تھے۔ وہ جماعتِ اسلامی کا دامن تھامنے کے بعد تمام عمر جماعت اسلامی سے رفاقت کے تقاضوں کی ڈور سے بندھے رہے اور اپنے سارے دن اور تمام راتیں جماعتِ اسلامی کے نام لکھ دیں۔ وہ بہت اچھے مقرر تھے اور اپنی تقریروں اور خطابات کے ذریعے بندوں کو بندوں کی حاکمیت سے نکال کر خدائے واحد کی غلامی اور اطاعت کے حلقے میں ڈالنے کی کوششوں پر کمربستہ رہتے تھے۔ ان کی سرگرمی اور جدوجہد والی زندگی کے راستوں پر ایسے کئی نشان ثبت ہیں جو انسان کی وفاداریوں اور محبتوں کے رخ کو خالق کی جانب موڑتے اور عصرِ حاضر کی تاریکیوں میں ایک مردِ مومن اور مردِ حق کے روشنیوں بھرے روزو شب سے مزین ہیں۔
ڈاکٹر قاسم علی وٹو صاحب اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے تو ایک عالم سوگواری کی کفیت میں ڈوب گیا۔ لوگ اس مردِ خدا کے آخری دیداراور نمازِ جنازہ کی ادائیگی میں شرکت کے لیے جوق در جوق چلے آرہے تھے۔ جماعتِ اسلامی صوبہ پنجاب کے امیر میاں مقصود احمد، ضلع اوکاڑہ کے امیر رضوان احمد چودھری اور سابق امیر ضلع ڈاکٹر لیاقت کوثر سمیت جماعت کے وابستگان کی ایک بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے بیٹے محمد بن قاسم کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ ڈاکٹر قاسم علی وٹو کی کتابِ حیات کے ہر صفحے پر صبغتہ اللہ کی کہکشائوں بھری رنگینیاں بکھری ہوئی تھیں، ان سے تعلق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عقل اور حکمت کے مطالبات کا ہاتھ تھام کر اُس مقصد سے رشتہ استوار کیا جائے جو زندگی بھر ڈاکٹر صاحب کے جذبوں کو گرماتا اور ان کی گفتار اور کردار میں عزم و یقین اور عمل کی روشنی بن کر ان سے وابستہ بہت سارے لوگوں کی زندگیوں میں اجالے پھیلاتا رہا۔ آج بصیرپور کی جماعتِ اسلامی امتحان اور آزمائش کے کڑے حالات میں گھری ہوئی ہے۔ لوگ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے سپاہی اور قاضی حسین احمد کے ساتھی ڈاکٹر قاسم علی وٹو کا بتایا ہوا راستہ چھوڑ کر قافلۂ حیات کو من مانی راہوں پر ڈال رہے ہیں، بصیرپور کی گلیوں اور بازاروں میں اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے جانے کے لیے پھر سے ایک ڈاکٹر قاسم علی وٹو پیدا ہو، جو جماعتِ اسلامی کی شناخت اور اس کی پہچان بن کر اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ جماعتِ اسلامی کے نام لکھ کر لوگوں کے صبح وشام بدلے اور ان کے دنوں اور راتوں میں قرآن وسنت کا اجالا بھردے۔

Share this: