افغانستان، امن مذاکرات اور امریکہ کی غیرسنجیدگی

بدنصیب افغانستان میں امن کی کونپل پھوٹنے سے پہلے ہی اُس وقت اَنانیت تلے کچل کر رہ گئی جب امریکہ کی نائب وزیر خارجہ محترمہ الیس ویلز (Alice Wells) نے انتہائی رعونت سے فرمایا کہ ’’طالبان کو بات چیت بین الاقوامی برادری یا امریکہ کے ساتھ نہیں، بلکہ جائز اور اقتدارِ اعلیٰ کی مالک افغان حکومت اور افغانستان کے عوام کے ساتھ کرنا ہوگی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ کا مؤقف دوٹوک ہے۔ ساتھ ہی محترمہ ویلز نے مذکرات کا ایجنڈا بھی طے کردیا کہ طالبان مذاکرات کی میز پر افغان حکومت کو اپنی جائز شکایات بتا سکتے ہیں۔ گویا یہ امن مذاکرات نہیں بلکہ سوداکار انجمن اور آجر کے درمیان بات چیت ہے جس میں مفلوک الحال مزدور اپنی تنخواہوں میں اضافے اور بہتر مراعات کے لیے بات چیت کرتے ہیں۔ محترمہ کے بیان سے قبل ایک فوجی اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف غنی بھی ایک دن پہلے کی جانے والی غیر مشروط پیشکش کو بھلا کر دھمکی پر اُتر آئے۔ انھوں نے مسلح افواج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں‘‘، اور یہ کہ طالبان کو افغان حکومت سے ہی مذاکرات کرنے ہوں گے۔ اب تک طالبان نے محترمہ ویلز کے فرمودات پر اپنے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، لیکن افغانستان پر نظر رکھنے والے سیاسی و صحافتی حلقوں کو اچھی طرح پتا ہے کہ ’’وہ جو لکھیں گے جواب میں‘‘۔
افغان ملّت دسمبر 1979ء میں روسی حملے کے وقت سے جنگ اور خانہ جنگی کا عذاب سہہ رہی ہے، اور 7 اکتوبر 2001ء کے امریکی حملے سے ان کے بہیمانہ قتلِ عام کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی حملے کے آغاز پر تو ایسا لگا تھا کہ طالبان کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ نجم سیٹھی، حسن نثار اور دوسرے دانشور طالبان کو وعید سنارہے تھے کہ ’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘… لیکن چند ہی برسوں میں پانسہ طالبان کے حق میں پلٹ گیا اور ملاّئوں کے جان لیوا حملوں نے اتحادیوں کو سراسیمہ کردیا۔ 2009ء تک طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد دیہی علاقوں پراپنا کنٹرول قائم کرلیا اور امریکہ کی حمایت سے قائم ہونے والی حامد کرزئی انتظامیہ کی عمل داری دارالحکومت اور اُس کے مضافات تک محدود ہوگئی۔ چنانچہ امن مذکرات کا ڈول ڈالا گیا اور جمعیت اسلامی کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کی قیادت میں اعلیٰ اختیاراتی امن جرگہ یا High Afghan Peace Council (HPC) تشکیل دی گئی۔ ستمبر 2010ء میں قائم ہونے والی HPC میں نقشبندی سلسلے کے روحانی پیشوا اور محاذ ملّی اسلامی کے صدر پیر سید احمد گیلانی، تنظیم دعوتِ اسلامی کے سربراہ عبدالرب رسول سیاف، اور افغانستان کے دوسرے علما اور سیاسی رہنما شامل تھے۔ اس کے علاوہ سابق طالبان رہنما ارسلان رحمانی دولت، سعودی عرب میں طالبان کے سابق سفیر حبیب اللہ فوزی، طالبان دور کے نائب وزیر معدنیات مولوی سید الرحمن حقانی، مولوی فقیر محمد وغیرہ کو بھی HPC کا رکن بنایا گیا۔ پروفیسر ربانی کے مطالبے پر پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملاّ عبدالسلام ضعیف کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے نکلواکر انھیں بھی HPCکی رکنیت دی گئی۔ پروفیسر ربانی نے اخلاص سے امن کوششوں کا آغاز کیا۔کہا جاتا ہے کہ انھوں نے طالبان کے سابق قائد ملاّ عمر سے بھی خفیہ ملاقاتیں کیں، لیکن زندگی نے پروفیسر صاحب سے وفا نہ کی اور وہ 20 ستمبر 2011ء کو ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کا قتل بے حد پراسرار تھا۔ جب وہ شام کو کابل میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچے تو دو افراد وہاں پہلے سے انتظار کررہے تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ طالبان کے کمانڈر ہیں اور پروفیسر صاحب کو ان کی سالگرہ کا تحفہ دینے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ اُس دن پروفیسر صاحب کی 70 ویں سالگرہ تھی۔ وہ دونوں حضرات شکل سے ’’معزز‘‘ لگ رہے تھے، لہٰذا چوکیداروں نے اُن کی تلاشی نہیں لی، ہاں گلدستہ اور تحفے کا جائزہ لیا گیا جو بالکل اصلی اور غیر مشکوک و غیر مخدوش تھے۔ جیسے ہی پروفیسر صاحب گھر پہنچے، ان دونوں میں سے ایک نے روایتی انداز میں اُن سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور کہا کہ میرے ساتھی آپ کے لیے ملاّ عمر کا پیغام لائے ہیں۔ برہان الدین ربانی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے ساتھی کو محبت سے گلے لگایا جس نے مبینہ طور پر اپنی پگڑی میں بم چھپایا ہوا تھا۔ بم کے پھٹنے سے پروفیسر ربانی، دونوں ’’مہمان‘‘ اور HPC کے 4 دوسرے رہنما موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ طالبان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں خودکش بمبار پاکستان سے آئے تھے جنھوں نے سی آئی اے کے ایما پر یہ کام کیا ہے جس کا مقصد امن کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔ طالبان کے اس دعوے کی تصدیق تو نہیں ہوسکی کہ حملہ آوروں کو سی آئی اے نے بھیجا تھا، لیکن پاکستانی حکام کے مطابق دونوں حملہ آور افغان پناہ گزین تھے جو یہاں کے ایک کیمپ سے کابل گئے تھے۔ پروفیسر صاحب کے قتل سے ایک ہفتہ پہلے طالبان کے ایک سابق رہنما صبرلال میلمہ کے قتل کا پراسرار واقعہ پیش آچکا تھا۔ صبرلال کو بھی امن کوششوں میں شریک کرنے کے لیے گوانتاناموبے سے رہا کروایا گیا تھا۔ 3 ستمبر 2011ء کی شب جلال آباد میں اُن کے گھر کو مبینہ طور پر مسلح امریکی کمانڈوز نے گھیر لیا اور انھیں باہر آنے کا حکم دیا۔ امریکہ کو شبہ تھا کہ صبر صاحب القاعدہ کو دوبارہ منظم کررہے ہیں۔ آواز سن کر صبر میلمہ جیسے ہی باہر نکلے، انھیں سپاہیوں نے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ فوج کا کہنا تھا کہ صبر صاحب AK-47 رائفل لے کر باہر آئے تھے جس پر سپاہیوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی، لیکن اُن کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ گوانتاناموبے سے واپسی پر صبر صاحب گمنامی کی زندگی گزار رہے تھے اور اُس وقت بھی وہ غیر مسلح تھے۔ واقعے سے دو ہفتے پہلے صبر صاحب نے HPC سے شکایت کی تھی کہ امریکی سی آئی اے انھیں ہراساں کررہی ہے۔ اس شکایت پر پروفیسر ربانی نے مقامی امریکی کمانڈر سے ملاقات بھی کی، جس میں پروفیسر صاحب کو یقین دہانی کروائی گئی کہ امریکی فوج اب صبر صاحب کو تنگ نہیں کرے گی۔ لیکن اس یاددہانی کے دودن بعد صبر لال میلمہ امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔
صبر لال میلمہ کے قتل کے بعد طالبان نے HPCکے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ اس واقعے کے17 دن بعد پروفیسر ربانی کے قتل نے HPC کو عملاً معطل کردیا۔ ان دو واقعات کے بعد HPC غیر مؤثر ہوگئی۔ اپریل 2012ء میں برہان الدین ربانی کے صاحب زادے صلاح الدین ربانی HPC کے سربراہ مقرر ہوئے لیکن کونسل کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر سرگرمی سامنے نہ آئی۔ دوسری طرف طالبان نے بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا۔ اب ان کے حملے زیادہ مؤثر اور ہلاکت خیز ہوگئے تھے۔ اتحادی فوج کا جانی نقصان بڑھ گیا، اور امریکہ اور برطانیہ کے سوا تمام نیٹو ممالک نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیا، حتیٰ کہ 2014ء میں امریکی صدر اوباما نے بھی افغانستان میں اپنے کمانڈروں کو واپسی کی ہدایات جاری کردیں اور سال کے اختتام تک صرف چند ہزار فوجیوں کو چھوڑ کر تمام امریکی سپاہی واپس بلالیے گئے۔ نیٹو افواج کی واپسی کے دوران ہی 2014ء کے صدارتی انتخابات ہوئے اور جھرلو و ٹھپے بازی سے جہاں کراچی کی یاد تازہ ہوگئی، وہیں کابل کا امریکہ نواز اتحاد عملاً پارہ پارہ ہوگیا۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بدترین خانہ جنگی کا خوف پیدا کیا، تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی مداخلت پر دونوں ڈاکٹر صاحبان ’’مل جل‘‘ کر رہنے پر ’’رضامند‘‘ ہوگئے۔
2017ء کے شروع میں پیر سید احمد گیلانی نے دوبارہ امن سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اقوام متحدہ کی کوششوں سے حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یارچھوڑ کر کابل آگئے، تاہم اُن کی جماعت اب تک اسلحہ بند ہے اور انھوں نے ہتھیار نہیں رکھے۔ حکمت یار کے کابل آنے کے بعد امن کوششیں تیز ہوگئیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کی جارحانہ افغان پالیسی کے تحت شہری آبادیوں پر وحشیانہ بمباری سے عام افغانوں میں شدید اشتعال پیدا ہوا۔ اسی دوران اکتوبر 2017ء میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے داعش کی حمایت کررہی ہے۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وہ یہاں تک کہہ گئے کہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے داعش کو اسلحہ پہنچایا جارہا ہے۔ اس پس منظر میں طالبان سے مذاکرات پر دبائو بڑھا۔ تاہم طالبان کا اصرار تھا کہ وہ براہِ راست امریکہ سے مذاکرات کریں گے۔ بمباری اور شہری نقصانات پر عرصے سے غیر فعالHPC نے دسمبر 2017ء میں علما کا جرگہ طلب کیا جس میں پورے ملک سے 700 علما شریک ہوئے۔ ملاّ عبدالسلام ضعیف نے بھی خصوصی دعوت پر علما کے اس جرگے میں شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر علما کے وفد نے ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ طالبان کو کابل میں ایک سیاسی رابطہ دفتر قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے HPCکے چئرمین اور حزب وحدت کے سربراہ جناب کریم خلیلی نے کہا کہ تشدد و خونریزی روکنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں اور امن میں ساری دنیا کا بھلا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ وہ فاضل علما کا مشورہ من و عن تسلیم کرنے کو تیار ہیں اور انھیں توقع ہے کہ طالبان بھی ان باوقار علما کی بات مان لیں گے۔ طالبان اب بھی امریکہ سے مذاکرات کی شرط پر مُصر تھے، لیکن کریم خلیلی نے امید ظاہر کی کہ اگر افغانستان سے غیر ملکی فوج کی واپسی کو مذاکرات کا کلیدی ایجنڈا تسلیم کرلیا جائے تو طالبان مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں۔ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کی مکمل، فوری اور غیر مشروط واپسی کے بعد غیر جانب دارانہ انتخابات طالبان کا دیرینہ اور کلیدی مطالبہ ہے۔ علما جرگے کی جانب سے غیر مشروط امن مذاکرات کی تجویز پر صدر اشرف غنی کے مثبت ردعمل کے باوجود غیر جانب دار مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ امن کی یہ کوششیں امریکہ کو پسند نہیں آئیں گی۔
27 فروری کو افغانستان کے مطلع پر امن و آشتی کی ایک ہلکی سی روشنی نمودار ہوئی جب پیر سید احمد گیلانی، سربراہ عبدالرب رسول سیاف اور دوسرے افغان رہنمائوں کی درخواست پر افغان صدر کے ترجمان نے سرکاری بیان جاری کردیا کہ اشرف غنی طالبان سے غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں HPCکے ترجمان احسان طاہری نے کہا کہ مذاکرات کے لیے جگہ کا انتخاب طالبان کی مرضی سے ہوگا اور وہ جہاں چاہیں گے حکومتی وفد وہاں جانے کو تیار ہے۔ طاہری صاحب نے بہت ہی غیر مبہم انداز میں کہا کہ مذکرات غیر مشروط ہوں گے اور ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔ HPC کے مشورے پر افغان حکومت نے طالبان کو کابل میں ایک سیاسی رابطہ دفتر کھولنے کی بھی پیشکش کی۔ صدر اشرف غنی کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان کا امن طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم طالبان رہنمائوں پر سے نہ صرف پابندیاں ختم کرنے کو تیار ہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم رہنمائوں کو واپسی کے لیے پاسپورٹ بھی ترجیحی بنیادوں پر جاری کردیئے جائیں گے۔
اسی دوران ایک امریکی دانشور پروفیسر روبن بارنیٹ (Rubin Barnett) کا طالبان کے نام ایک کھلا خط امریکی جریدے ’’نیویارکر‘‘ (New Yorker) میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر روبن افغانستان اور جنوب ایشیا امور کے ماہر اور ان موضوعات پر بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ پروفیسر صاحب افغان و امریکی حکومت اور نیٹو کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر روبن جامعہ نیویارک کے مرکز برائے بین الاقوامی تعاون Center for International Cooperationکے سربراہ ہیں۔ اس خط میں پروفیسر روبن نے طالبان پر افغان حکومت سے مذاکرات پر زور دیا تھا۔ ڈاکٹر روبن کا کہنا تھا کہ طالبان براہِ راست امریکہ سے مذاکرات کے بجائے کابل انتظامیہ سے مذاکرات کے دوران غیر ملکی فوجوں کے انخلا کو ایجنڈے کا حصہ بناسکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی دلیل تھی کہ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں طالبان اور کابل انتظامیہ کی جانب سے امریکی فوج کی واپسی کا مشترکہ مطالبہ زیادہ مؤثر ہوگا جسے نظرانداز کرنا امریکہ کے لیے آسان نہ ہوگا۔
ابھی غیر مشروط مذاکرات پر طالبان کے جواب کا انتظار ہی ہورہا تھا کہ امریکی نائب وزیرخارجہ کا وہ بیان سامنے آگیا جس کا ذکر ہم نے اپنے مضمون کے آغاز میں کیا ہے، جس سے شہہ پاکر ڈاکٹر اشرف غنی کا لہجہ بھی تبدیل ہوگیا۔ طالبان نے مذاکرات کی پیشکش اور الیس ویلز کے بیان کا براہِ راست کوئی جواب تو نہیں دیا لیکن یکم مارچ کو ڈاکٹر روبن کے کھلے خط کے جواب میں طالبان نے تحریر کیا کہ’’پروفیسر صاحب! آپ کی یہ رائے کہ طالبان کابل حکومت سے بات کریں اور اسے قانونی تسلیم کرلیں، دراصل وہی فارمولا ہے جو امریکہ نے یہ جنگ جیتنے کے لیے وضع کیا ہے‘‘۔ جوابی خط میں مزید کہا گیا کہ امریکہ افغانستان پر قابض ہے اور اُس نے افغان عوام پر اپنے جیسی ایک نام نہاد حکومت مسلط کردی ہے۔ طالبان نے 28 فروری کو کابل پراسس (Kabul Process) کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد محض یہ خواہش تھی کہ طالبان کسی طرح ہتھیار پھینک دیں۔ جوابی خط کے ساتھ اُسی روز طالبان کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ افغانستان میں دہشت گرد حملوں سے متعلق بین الاقوامی تحفظات پر ’’نیک نیتی سے بات چیت‘‘ کے لیے تیار ہیں اور امریکہ یا کسی دوسری طاقت سے تصادم نہیں چاہتے۔ ملاّئوں نے اپنے اس بیان میں ایک معنی خیز طنز بھی جڑ دیا کہ ’’کیا واقعی دہشت گردی ہی امریکہ کا مسئلہ ہے؟ یا وہ افغانستان سے اس کی معدنی دولت ہتھیانا، ایک مصنوعی حکومت مسلط کرکے اسلامی نظام کا قیام روکنا، اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے خطے میں اپنے سامراجی عزائم کا حصول چاہتا ہے؟‘‘
امن مذاکرات میں امریکیوں کی غیر سنجیدگی کی بنیادی وجہ صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی ہے، جس کی تدوین و تصنیف اُن لوگوں نے کی ہے جو افغانستان میں امریکی فوج کی قیادت کرچکے ہیں۔ یعنی وزیرفاع جنرل میٹس، قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر جنرل مک ماسٹر، وہائٹ ہائوس کے چیف آف اسٹاف جنرل جان کیلی، سابق مشیرِ سلامتی جنرل مائیکل فلن، سی آئی اے کے سابق ڈی جی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس وغیرہ۔ انھی سورمائوں کی پالیسیوں اور طرزِعمل نے افغانستان اور وہاں تعینات امریکی فوج کو اس حال میں پہنچایا ہے، یہ جرنیل اپنی ناکامی کا الزام بارک اوباما پر ڈال رہے ہیں کہ سابق امریکی صدر نے اُن کے ہاتھ باندھ رکھے تھے، اور اگر انھیں اپنے فیصلوں میں آزادی حاصل ہوتی تو طالبان کب کے فنا ہوچکے ہوتے۔ چنانچہ صدر ٹرمپ نے امریکہ کی عسکری قیادت کو مکمل آزادی عطا کردی جس کے نتیجے میں سارا افغانستان بدترین بمباری کا شکار ہے۔ لیکن اس بمباری نے بے گناہوں کی ہلاکت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اب جنوبی اور مشرقی افغانستان کے پشتون علاقوں کے ساتھ شمال میں فارسی بان صوبے بھی ان کی گرفت میں آگئے ہیں۔ نئی افغان پالیسی کے تحت امریکی سپاہیوں کو چھائونیوں اور اڈوں میں سراغ رسانی، ڈرون کی نگہبانی اور مقامی سپاہیوں کی تربیت تک محدود کردیا گیا ہے، جبکہ افغان فوجیوں کو طالبان سے بھڑایا جارہا ہے۔ اس احتیاط سے افغانیوں کا جانی نقصان بہت بڑھ گیا ہے لیکن امریکہ میں تابوتوں کی آمد کا سلسلہ رک گیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی قانون سازوں کی طرف سے صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی تنقید سے بچی ہوئی ہے۔
اسی کے ساتھ کامرانیوں کے دعووں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 27 فروری کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی مجلس قائمہ برائے عسکری خدمات کے سامنے مرکزی امریکی کمان (Central Command) یا CENTCOMکے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے انکشاف کیا کہ 64 فیصد افغانستان پر کابل حکومت کا کنٹرول ہے، 12 فیصد علاقوں پر طالبان قابض ہیں، جبکہ باقی ماندہ 24 فیصد ملک پر قبضہ مشکوک ہے۔ معلوم نہیں جرنیل صاحب 64 فیصد افغانستان پر کابل انتظامیہ کے کنٹرول کی بات کس بنیاد پر کہہ رہے تھے، حالانکہ ابھی چند ہفتہ پہلے افغانستان سے امریکہ کے اسپیشل انسپکٹر جنرل یا SIGAR نے جو رپورٹ جاری کی ہے اُس کے مطابق 49 سے 54 فیصد افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ زمینی حقائق کے بارے میں امریکہ کی ایک سینئر صحافی محترمہ لارالوگن (Lara Logan) کا بھی یہی خیال ہے۔ لارا نے ابھی حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا ہے جس کے بعد انھوں نے کہا کہ کابل ائرپورٹ سے اپنے اڈے تک جانے کے لیے بھی امریکی فوج ہیلی کاپٹر استعمال کرتی ہے حالانکہ یہ فاصلہ صرف چند کلومیٹر ہے۔ اسی نوعیت کی لن ترانی محترمہ ویلز نے بھی فرمائی اور بہت اعتماد سے کہا کہ ’’طالبان میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے‘‘۔
غیر جانب دار تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے مقربین کو افغانستان کے زمینی حقائق کا کچھ بھی علم نہیں۔ وہ اس حقیقت کو نظرانداز کررہے ہیں کہ وقت طالبان کے ساتھ ہے۔ سیاہ پگڑی والے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں اور انھیں لڑائی ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ جبکہ افغانستان میں قیام کا ایک ایک دن امریکی ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی کمائی نچوڑ رہا ہے۔ امریکی عوام نہ صرف اپنی فوج کا خرچہ اٹھارہے ہیں بلکہ کابل انتظامیہ کا نان نفقہ بھی غریب امریکیوں کے سر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں بے ضرورت امریکی پڑائو کا خرچہ 19 کروڑ 18 لاکھ ڈالر یومیہ یا 70 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ بلاشبہ امریکہ دنیا کا امیر ترین ملک ہے لیکن وسائل کا ایسا زیاں تو قارون کا خزانہ بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ ارشاد حقانی مرحوم نے افغانستان میں امریکہ کے حملے پر کہا تھا کہ اجڈ و جاہل طالبان امریکی ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کرپائیں گے اور شوقِ شہادت و جذبۂ جہاد دراصل قومی خودکشی کی طرف ایک قدم ہے۔ حقانی صاحب کے خیال میں یہ تکبر (Arrogance) اور جہالت (Ignorance) کا ٹکرائو ہے۔ تاہم یہ طویل لڑائی اعصاب کی جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے، اور 16 سال بعد بھی اجڈوجاہل ملاّئوں کے اعصاب میں ضعف کا ہلکا سا شائبہ تک نہیں۔

Share this: