جماعت اسلامی کراچی یوتھ کنونشن

پاکستان کی آبادی کا دو تہائی حصہ 30 سال سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان، جن کی عمریں 14 اور 30 سال کے درمیان ہیں، کُل آبادی کا 30 فیصد ہیں۔ دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جن میں نوجوانوں کا کُل آبادی میں تناسب 30 فیصد یا اس سے زیادہ ہو۔ یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بیس کروڑ آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 63 فیصد ہے۔
دیکھا جائے تو نوجوان خوش قسمت قوموں کا اثاثہ ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوانی کا دور ارادے باندھنے کا دور ہوتا ہے،جذبے عروج پر ہوتے ہیں اور کچھ کرنے کی لگن اونچی اڑان بھرنے کی طرف راغب کرتی ہے، اور جو قومیں ان کے جوش، جذبات اور لگن کو کسی مقصد کی طرف لگا دیتی ہیں اُن کا مستقبل محفوظ سمجھا جاتا ہے، اور اس قیمتی اثاثے سے فائدہ نہ اٹھانے والی قومیں بدنصیب ہوتی ہیں، اور پھر بتدریج زوال اُن کا مقدر بن جاتا ہے۔ نوجوانوں کے سامنے ایک واضح مقصد اور خاکہ، اور پھر اس کے لیے بہترین منصوبہ بندی ہونی چاہیے، اور ریاست کی سطح پر ان کی رہنمائی ہونی چاہیے۔ لیکن ریاست اپنی اس اہم ذمہ داری کو نبھانے، اور نوجوانوں کے لیے کوئی واضح پروگرام پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ ہمارا نوجوان بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند ہے جس کی کوئی سمت نہیں ہے اور جس کے پاس کوئی نصب العین، مقصد اور لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ لیکن اس صورتِ حال میں جماعت اسلامی نے اس قومی اثاثے کو بچانے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مکمل لائحہ عمل تیار کیا ہے اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے کوشاں ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق جو خود بھی نوجوانی میں طالب علم رہنما رہے ہیں اور نوجوانوں کی قیادت کرتے رہے ہیں، وہ نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ’’اسلامی اور خوشحال پاکستان‘‘ کے نعرے کے ساتھ متحرک ہیں۔ وہ پورے ملک میں نوجوانوں کو جمع کرنے اور انھیں متحرک کرنے کے لیے طوفانی دورے کررہے ہیں۔ اسی پس منظر کے ساتھ انھوں نے کراچی میں جماعت اسلامی کے ورکرز کنونشن میں یوتھ چارٹر دیتے ہوئے کہاکہ کراچی کے ہر ضلعے میں یونیورسٹی ہونی چاہیے۔ مزید کالجز کھولے جائیں۔ تعلیم مفت کی جائے۔ تعلیم ہوگی تو نوجوان آگے بڑھے گا۔انہوں نے یوتھ الیکشن کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ نوجوان ایک نئی قوت، طاقت اور بھرپور توانائی کے ساتھ آگے آئیں اور کراچی کے عوام کے مسائل حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
جماعت اسلامی یوتھ کے تحت ہفتہ 3مارچ کو نشتر پارک میں ہونے والا ’’ورکرز کنونشن‘‘کراچی کا تاریخی کنونشن ثابت ہوا۔ کنونشن میں نوجوانوں کی بہت بڑی اور پُرجوش انداز میں شرکت اہلِ کراچی کے لیے بڑی اور مثبت خبر ہے۔ کنونشن میں نوجوانوں کے ساتھ بزرگ، خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ خواتین اور مردوں کے داخلی دروازے الگ الگ بنائے گئے تھے۔ نشترپارک میں ایک وسیع و عریض اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے قائدین نے خطاب کیا۔ اسٹیج پر ایک بڑا بینر بورڈ لگایا گیا تھا جس پر ’’ہم کراچی یوتھ… کراچی کے وارث‘‘ لکھا ہوا تھا۔ کنونشن میں خواتین کے لیے الگ سے کیمپ قائم کیا گیا تھا۔
عظیم الشان کنونشن سے اپنے کلیدی اور تفصیلی خطاب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نوجوان ایک نئی قوت، طاقت اور بھرپور توانائی کے ساتھ آگے آئیں گے اور کراچی کے عوام کے مسائل حل کرائیں گے۔جماعت اسلامی کی جنگ کسی فرد یا جماعت سے نہیں بلکہ ظلم اور کرپشن کے نظام سے ہے۔ زندگی کے آخری لمحے اور خون کے آخری قطرے تک اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں گے۔ اسلامی اور خوشحال پاکستان ہی عوام کے مسائل کا حل ہے، ہم عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ کراچی کو اس کا کھویا ہوا مقام دلوائیں گے، کراچی کو عزت اور نجات دلوائیں گے۔ پُرامن اور پُرسکون کراچی صرف اہلِ کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کی ضرورت ہے۔ سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج نشتر پارک میں یہ عظیم الشان یوتھ ورکرز کنونشن اہلِ کراچی اور پورے ملک کے عوام کے لیے امید کی شمع اور پیغام ہے۔ سینیٹ الیکشن کے نتائج سے سندھ کے دولت مند تو خوش ہیں لیکن کراچی کے عوام نے جن کو اپنا نمائندہ بنایا تھا وہ فروخت، اور ناکام ہوگئے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کے عوام چوکوں اور چوراہوں پر ان بکنے والوں کے خلاف عدالتیں لگائیں اور ان سے پوچھیں کہ انھوں نے سینیٹ کے انتخاب میں یہ کیا کیا؟ آج ان نمائندوں نے کراچی کا کیا حشر کیا ہے! وڈیرے جیت گئے، دولت جیت گئی، کراچی ہار گیا اور سیاست کو شکست ہوگئی۔ کراچی منی پاکستان اور عالمِ اسلام کا ایک اہم شہر ہے۔ کراچی نے ہمیشہ امت کا ساتھ دیا ہے اور اتحادِ امت کا اظہار کیا ہے۔ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے کراچی پر حملہ کیا، نفرتوںکو عام کیا، خون بہایا، عوام کو لڑایا، نوجوانوں سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا، وکلا اور مزدوروں کو جلا دیا گیا، پورے کراچی کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آج کراچی کے نمائندے ایک دوسرے پر کرپشن اور مال بنانے کے الزامات لگارہے ہیں۔ ان کے آپس کے اختلافات اور لڑائی ذاتی مفادات کی جنگ ہے، ایسی سیاست سے کراچی کے عوام کو کچھ نہیں مل سکتا۔کراچی کے رہنے والوں نے اسلام کے لیے ہجرت کی، پاکستان کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا۔ آج ہم اس پاکستان کی تلاش میں نکلے ہیں۔ اہلِ کراچی آج سے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ تجدیدِ عہد کریں اور اسلامی اور خوشحال پاکستان کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ موجودہ نظام ظلم وجبر اور استحصال کا نظام ہے۔ ہم اس نظام سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور عوام سے کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ چلیں اور اس نظام کو جڑ سے اٹھاکر پھینکنے کی جدوجہد میں شریک ہوں۔ ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں عوام اور خواص برابر ہوں۔ حکمران عوام کے خادم ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کراچی کے ہرضلع میں یونیورسٹی بنے، کراچی میں مزید کالج کھولے جائیں۔ تعلیم ہر نوجوانوں کا حق ہے اور تعلیم مفت دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح آج خیبر پختون خوا میں کامیابی کی خوشخبری ملی ہے اسی طرح کراچی سے ضرور خوشخبری ملے گی اور عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا عظیم الشان کنونشن بتا رہا ہے کہ کراچی کا نوجوان بیدار ہے، وہ کراچی کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ 2018ء کا الیکشن ایک چیلنج ہے، ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ کراچی کے نوجوان اور عوام ثابت کریں گے کہ کراچی جماعت اسلامی کا شہر ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشتاق احمد خان سینیٹ میں جماعت اسلامی کے صرف ایک ہی امیدوار تھے اور الحمدللہ وہ آج کامیاب ہوگئے ہیں، اب سینیٹ میں وہ سراج الحق کے ساتھ مل کر عوام کو بتائیں گے کہ صرف 2 افراد بھی کس طرح نمایاں اور مثالی پارلیمانی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کراچی ہجرتیں کرنے والوں اور محبتیں بانٹنے والوں کا شہر ہے۔ یہ شہر منی پاکستان ہے۔ اس کے اندر پورے ملک کے افراد رہتے ہیں۔ یہ شہر امت کا ترجمان، اور پوری امت کے لیے آواز اٹھانے والا شہر ہے۔ امت کے لیے تاریخی ملین مارچ کرنے والوں کا شہر ہے۔ عوامی اور نظریاتی تحریکوں کی قیادت کرنے والوں کا شہر ہے۔ اس کے دشمن پاکستان اور پوری امت کے دشمن ہیں۔ ان دشمنوں نے کراچی کو تقسیم درتقسیم کیا، لسانیت اور عصبیت کی آگ میں دھکیلا ہے۔ اصل میں تقسیم ظالم اور مظلوموں کی ہے۔ ظالموں نے مظلوموں کو غلام بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو تحفظ اور حقوق صرف اتحاد اور یکجہتی سے مل سکتے ہیں، اور اسلام کے دامن میں پناہ لینے سے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔ آج سے جدوجہد کا نیا دور شروع ہورہا ہے۔ ہم سب کو متحد کریں گے۔ کراچی کے مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں! وہ آپس میں لڑرہے ہیں۔ ان کی تقسیم در تقسیم ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ انھوں نے کہا کہ ڈھائی کروڑ آبادی کے شہر میں 65 فیصد نوجوان ہیں، اور عالمی سطح پر کراچی دوسرے نمبر پر نوجوانوں کا شہر ہے۔ اب کراچی کے نوجوانوں کو کوئی ورغلا نہیں سکے گا۔ جماعت اسلامی آج کراچی کے اندر یوتھ الیکشن کا آغاز کررہی ہے، یوسی کی سطح پر نوجوانوں کو آگے لائیں گے اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرائیں گے۔ میئر کراچی 26 ارب روپے کا بجٹ لے کر بھی کہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ہم نہیںکہہ رہے، فاروق ستار کہہ رہے ہیں کہ میئر کراچی 5 ارب روپے کھا گئے ہیں۔ اب میئر کراچی بتائیں کہ فاروق ستار نے کتنے کھائے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے اور اس کو ایم کیو ایم مل گئی ہے جس نے سینیٹ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کامیاب کراکر لوٹ مار کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پبلک ایڈ کمیٹی کے ذریعے عوامی مسائل کو اٹھایا ہے۔ اب ہم نوجوانوں کو منظم اور متحرک کرکے یوتھ لیڈرشپ کو سامنے لائیں گے۔ اب یوتھ لیڈرشپ عوامی مسائل حل کرے گی۔ جماعت اسلامی نے ’کے۔ الیکٹرک‘ اور ’نادرا‘ کے خلاف تاریخی اور مثالی جدوجہد کی جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملا ہے۔ اب ہم کراچی کے ہر مسئلے کے حل کے لیے نکلے ہیں۔ ہم نے تحریک حقوقِ کراچی شروع کردی ہے۔ جماعت اسلامی وہ واحد فریق اور پارٹی ہے جو کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافے کے سامنے ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے، اور جماعت اسلامی کی جدوجہد کی وجہ سے نیپرا ٹیرف میں اضافے کی ہمت نہیں کررہا ہے۔
کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، جے آئی یوتھ کراچی کے صدر حافظ بلال رمضان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
کراچی میں لوگوں کی، جماعت اسلامی میں شمولیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل لیاری سے تعلق رکھنے والے اہم سماجی اور سیاسی کارکنوں سمیت کئی لوگوں نے امیر ضلع جنوبی سید عبدالرشید کے ساتھ حافظ نعیم الرحمن سے ادارۂ نورحق میں ملاقات کرکے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کنونشن میں بھی چودھری ذوالفقار علی کی قیادت میں جٹ برادری اور آرائیں برادری، پختون یوتھ کے اسرار آفریدی، عدنان محمد خان، شہباز خان، اور قبائلی یوتھ کے بصیر زمانی، اکبر خان خروٹی، سلطان علی، نصیر احمد،لیاری سے ہنگورہ یوتھ کے فرحان ہنگورہ، دیر، باجوڑ، سوات قومی اتحاد کے علی شاہ، نیک زادہ، زاہد سواتی اور دیگر مؤثر افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیارکی۔
جماعت اسلامی نوجوانوں کے لیے سرگرم ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں اور ان کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ نوجوان نسل ڈپریشن کا شکار ہورہی ہے اور ذریعہ معاش کے لیے ناجائز طریقے استعمال کررہی ہے۔ کچھ افراد ڈپریشن میں نشہ، ڈرگ اور تمباکو نوشی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک میں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر، بینکر اور دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی اکثریت ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگی ہے اور بیرون ملک منتقل ہورہی ہے۔ تحقیق کے مطابق ہر روز ڈھائی ہزار افراد وطن چھوڑ کر دیارِ غیر منتقل ہورہے ہیں۔ اگر ان نوجوانوں کو پاکستان میں ہی مواقع فراہم کیے جائے تو ہمارا ملک ترقی کرے گا۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے حکومت کو مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جہاں نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جائے، ان میں صلاحیتیں پیدا کی جائیں تاکہ وہ اپنا لوہا منوا سکیں۔ حکومت کو نوجوانوں کے لیے کیرئیر پلاننگ سسٹم بنانا چاہیے تاکہ جن نوجوانوں کی تعلیم مکمل ہوجائے اُن کے لیے روزگار کا حصول آسان ہو۔جماعت اسلامی تو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے اپنے حصے کا کام کررہی ہے لیکن ہماری حکومت کو نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے اور رسمی اعلانات کے بجائے صحت اورتعلیم کو بجٹ میں اولین ترجیح دینے کے متعلق سوچنا ہوگا۔ کیونکہ جو قومیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں وہ آگے بڑھتی ہیں۔ اورترقی یافتہ، خوش حال اور کامیاب اقوام کی تاریخ میں یہی راز پوشیدہ ہے کہ انھوں نے اپنی ناکامی میں کامیابی، شکست میں جیت اور ذلت میں عزت کو تلاش کرنے کا ہنرجانا ہے۔

Share this: