خطابات سید مودودیؒ

نام کتاب : خطابات
سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ (جلد اول)
(طلبہ اور طالبات سے)
مرتب : پروفیسر نور ور جان
صفحات : 480 قیمت 525 روپے
بااہتمام : ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ لاہور 54790
فون نمبر : 042-35252475-76
042-35419520-4
فیکس : 042-35252194
تقسیم کنندہ : مکتبہ معارف اسلامی، منصورہ ملتان روڈ لاہور
فون نمبر : 042-35252419
042-35419520-4
پروفیسر نور ورجان (پشاور) ایک صاحبِ دل محنتی اور اسلام کی سربلندی کے متمنی اہلِ علم ہیں۔ ان کی کئی کتب پہلے بھی شائع ہوچکی ہیں، اب انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی تقاریر کو مرتب کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ یہاں یہ بیان کرنا نامناسب نہ ہوگا کہ مرحوم ثروت صولت نے بارہ جلدوں میں مولانا کی تقاریر جمع کی تھیں جن میں سے اسلامک پبلی کیشنز سے غالباً دو جلدیں شائع ہوئیں اور باقی کے مسودے غائب ہوگئے۔ یہ بہت ضروری تھا اور ہے کہ مولانا کے تمام علمی اور دعوتی آثار کو جمع اور شائع کردیا جائے۔ یہ تقاریر کے اس سلسلے کی پہلی کتاب منصۂ شہود پر آئی ہے جس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ حافظ محمد ادریس نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی لاہور تحریر فرماتے ہیں:
’’سید مودودیؒ نے اپنی مصروف اور بھرپور زندگی میں بے شمار تقریریں کیں، ان تقاریر میں دعوتی، تربیتی اور سیاسی تقاریر شامل ہیں۔ آپ ارکانِ جماعت سے مخاطب ہونے کے علاوہ عوام الناس، تعلیم یافتہ طبقات، اساتذہ، وکلا، اطبا اور مہندسین سے لے کر خواتین، طلبہ اور طالبات تک سب طبقات سے مخاطب ہوئے۔ آپ کی ان تقاریر کا مرکزی نقطہ اقامتِ دین، حکومتِ الٰہیہ کا قیام اور پاکستان میں اسلامی قانون کا نفاذ ہے۔ سید مودودیؒ کی تقریریں اوّل تا آخر مضبوط دلائل اور ٹھوس شواہد کی حامل ہیں۔ آپ کے یہاں محض لفظی بازی گری نہیں، اور نہ واعظانہ طول کلامی ہے۔ انٹرویو، مقالات اور تقاریر سبھی میں سید مودودیؒ جچے تلے الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرتے ہیں۔
زیرنظر کتاب میں سید مودودی کی اُن تقاریر کو جمع کیا گیا ہے جو انہوں نے طلبہ اور طالبات کے اجتماعات میں کیں۔ قارئین مشاہدہ کریں کہ ایک داعیٔ اسلام، جس کے پیش نظر غلبۂ اسلام کا مشن ہو، وہ کس کس انداز سے نوجوانوں کے دلوں میں اتر کر بات کرتا ہے۔ آپ کو نظر آئے گا کہ وہ طلبہ و طالبات کو حصولِ علم کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اس امر کی تلقین بھی کرتے ہیں کہ انہیں کس طرح ایک پختہ فکر مسلمان بن کر رہنا ہے۔ نہ صرف روایتی و پیدائشی مسلمان بن کر جینا ہے بلکہ فکرِ سلیم کے ساتھ غیر اسلامی تہذیبوں کے اثرات کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔ سید مودودیؒ اپنی تقاریر میں جو نکات بیان کرتے ہیں وہ سامعین کے جذبات اور دل و دماغ کو مطمئن کرتے ہیں۔
سید مودودیؒ کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی تھی کہ ان کی زبان سے جو بات نکلتی، سامعین کے دل و دماغ کو مسخر و مطمئن کرلیتی۔ وہ ہر بات پورے استدلال کے ساتھ کرتے۔ وہ محض شعلہ بیانی کے کبھی قائل نہ تھے۔ سید مودودیؒ کا اسلوبِ بیان سادہ، رواں دواں اور شگفتہ و شائستہ تھا۔ وہ اپنے سامعین کے مخصوص حالات اور ان کے فہم کے مطابق نہایت سلیس زبان میں بات کرتے تھے۔ دقیق سے دقیق موضوعات کو بھی انہوں نے اپنے حُسنِ بیان سے ایسا سادہ اور قابلِ فہم بنادیا تھا کہ تعلیم یافتہ طبقہ اور اَن پڑھ عوام، سبھی یکساں ان کی تقریر اور تحریر سے متاثر ہوتے تھے۔‘‘
پروفیسر نور ور جان تحریر فرماتے ہیں:
’’خطاباتِ سید مودودیؒ، طلبہ و طالبات سے‘‘ ایک اہم تاریخی، دعوتی اور تحریکی دستاویز آپ کے ہاتھوں میں ہے جس میں جمعیت کی تاسیس کے بعد تاریخی ترتیب سے سید مودودیؒ کے 55 خطابات، دس پیغامات، دو بیانات، دو مکتوبات اور دوصد سوالات و جوابات کو پیش کیا گیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات سے سید مرحوم و مغفور کے خطابات کے اس مجموعے کو اوّلیت کا شرف حاصل ہورہا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات سے سید مرحوم ومغفور نے اندازاً پچپن بار خطاب فرمایا۔
اس پیشکش میں اُن اہم سوالات و جوابات کو ضمنی عنوانات قائم کرکے سید کے خطاب کے بعد پیش کیا گیا ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ خطاب سننے کے بعد جو سوالات ذہنوں میں اٹھے اُن کے جوابات سید نے ارشاد فرمادیے۔ جمعیت کی تاریخ اور جدوجہد اور ارتقا میں سید مرحوم کے خطابات کو سنگ ہائے میل کی حیثیت حاصل ہے۔
جمعیت کا قیام 23 دسمبر 1947ء کو لاہور میں عمل میں آیا تو سید نے اپنی اولاد کی طرح اس کی تربیت کا اہتمام کیا۔ اس ابتدائی دور میں کراچی سے جمعیت کے جاری ہونے والے ترجمان رسالے ’’سحر‘‘ کے لیے پیغام دیتے ہوئے لکھا:
’’خبردار! آپ کی یہ ’’سحر‘‘ کہیں صبحِ کاذب ثابت نہ ہو، اسے صبحِ صادق بنایئے، سحری کھاکر سو نہ جایئے،پَوپھٹتے ہی نماز کی تیاری کیجیے، اس طرح آپ کی صبح، صبحِ صادق ثابت ہوگی۔‘‘
جمعیت شاخ در شاخ، افق تا افق آسمان کی بلندیوں کی طرف لپکتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ زمین میں اپنی جڑوں کو انتہائی گہرائی تک لے جاتی ہے۔ سیّد نے دیکھا کہ جمعیت کا کاروان چل پڑا ہے تو اپنے ایک خطاب میں اسلامی جمعیت طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اسلام کے شیدائی نوجوانوں کی یہ ہری بھری لہلہاتی فصل دیکھ کر میرے اوپر اس طرح کا اثر ہوتا ہے جس کو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار (الفتح 48:29)کسانوں کو اس کی بہار پسند آتی ہے اور کفار کا دل کڑھتا ہے۔ اس آیت میں ایک لطیف نکتہ اور بھی ہے، اور وہ یہ کہ کافر کا لفظ عربی زبان میں کسان کے لیے بھی بولاجاتا ہے۔ زراع کے مقابلے میں کفار کا لفظ ذومعنی استعمال کیا گیا ہے، مراد یہ ہے کہ بھلائی کی فصل بونے والے خوش ہوتے ہیں اور برائی کی فصل بونے والے کڑھتے ہیں۔ پس یہ بھلائی کی فصل ہے جسے لہلہاتے دیکھ کر میرا دل خوش ہوتا ہے اور اسی کو دیکھ کر برائی کی فصل بونے والے غیظ و غضب میں مبتلا ہورہے ہیں۔‘‘
پھر ایک وقت آیا کہ سید مرحوم سے طلبہ نے17 مارچ 1968ء کو کراچی میں یہ پوچھ ہی لیا کہ ’’تحریکی مزاج‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اور پھر ایک وقت وہ آیا جب سید کی تربیت یافتہ یہ فوجِ ظفر موج ’’اسلامی نظریہ‘‘ باَلفاظِ دیگر فریضۂ اقامتِ دین کے لیے باطل کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ سید مودودیؒ کے قائم کردہ اداروں میں سب سے مضبوط ادارہ ’’اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات‘‘ ہے۔ اس ادارے میں علم وحکمت، تربیتی نظام، استحکامِ نظم اور احتساب کے مؤثر عوامل اس طرح عمل کرتے رہتے ہیں جیسے شاخِ گل میں بادِ سحر گاہی کا نم جھلکتا ہے۔
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحر گاہی کا نم
جمعیت کے ارکان نے اپنی صبح کو واقعی صبحِ صادق کردیا، اور صبح کی باجماعت نماز میں صفِ اوّل میں نظر آرہے ہیں۔
راقم الحروف 1965ء میں جمعیت کا متفق بنا تھا اور آج تک اس کی رکنیت کی سعادت سے محروم ہے۔ متفق کے درجے میں رہتے ہوئے موجودہ پیشکش ’’جمعیت‘‘ کے حضور خراجِ عقیدت کا اظہار ہے۔
اس پیشکش کی ہر اچھی بات اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا مظہر ہے، اور اس کی خامی مرتب کی کم علمی اور کوتاہ عملی کا نتیجہ ہے۔ البتہ راقم کو اتناکہنے کا حق ہے کہ
شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کر دم
حافظ ادریس صاحب فرماتے ہیں:
’’ادارہ معارفِ اسلامی کے پیش نظر سید مودودیؒ کی تمام تقریروں، انٹرویوز، بیانات اور مکاتیب کی اشاعت کا پروگرام ہے۔ ’’مکاتیب سید مودودیؒ‘‘ کی ایک جلد اور ’’مولانا مودودیؒ کے بین الاقوامی اسفار‘‘ اس سے قبل جنوری 2011ء میں شائع کی جاچکی ہیں۔ ان کی تقاریر کے دیگر آٹھ مجموعے بھی تیار ہیں۔ ان شاء اللہ انہیں بھی عنقریب شائع کردیا جائے گا۔ قارئین سے التماس ہے کہ زیر نظر مجموعہ تقاریر میں کہیں، کوئی کوتاہی نظر آئے تو ادارے کو ضرور مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں درستی کی جاسکے۔
ہمیں امید ہے کہ زیرنظر تقاریر قارئین کو قندِمکرر کے طور پر پسند آئیں گی اور آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی کا کام دیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق اور اخلاص کی دولت عطا فرمادے۔‘‘
کتاب میں جن خطابات کو شامل کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی تاسیس، اسلامی جمعیت طلبہ کے اجلاس میں تقریر، اسلامی جمعیت طلبہ راولپنڈی کی دعوتِ عصرانہ میں خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کی تقریب سے خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ کے اجتماعِ عام لاہور میں خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے ساتھ سوالات و جوابات کی نشست، کوئٹہ میں طلبہ کے اجتماعِ عام سے خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ کے آٹھویں سالانہ اجتماع سے خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ سے خطاب، ڈیپر (حیدرآباد، سندھ) میں دارالعلوم جماعت اسلامی اور ہائی اسکول کے طلبہ سے خطاب، اسلامیہ کالج لاہور کی مجلسِ مباحثہ میں تقریر، موضوع: ہمارے تعلیمی مسائل اور ان کا حل، اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سے خطاب، موضوع: اسلام عصر حاضر میں، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے چودھویں سالانہ اجتماع سے خطاب (ملتان)، ماہر القادری ؒکا نوٹ، موضوع: پاکستان کا مستقبل اور طلبہ، اسلامی جمعیت طلبہ راولپنڈی کے اجتماع سے خطاب، سپاس نامہ: اے آمدنت باعثِ آبادی ما، سید مودودیؒ کا خطاب، گورنمنٹ کالج میرپور اسلامی جمعیت طلبہ سے خطاب، اسلامی نظم معیشت کے اصول اور مقاصد، پیغام اسلامی جمعیت طلبہ میانوالی کے نام، اسلامی جمعیت طلبہ کے سولہویں سالانہ اجلاس سے خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ حلقہ مشرقی پاکستان سے خطاب، ڈھاکہ موضوع: اسلام کے احیا میں طلبہ کا کردار، اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ سوال وجواب کی نشست (کراچی)، اسلامی جمعیت طلبہ تعمیر نوہائی اسکول سکھر کے ساتھ ایک نشست، اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کی نشست (لاہور)، مکتوب بنام ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے اٹھارہویں سالانہ اجتماع سے خطاب (لاہور)، مشرقی پاکستان میں اسلامی جمعیت طلبہ سے خطاب، مکتوب بنام اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان ہارون آباد، اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے اجتماع سے خطاب، بیان: فرزندانِ اسلام کے قافلہ سالار کی یاد میں، عبدالمالک شہیدؒ (ڈھاکہ یونیورسٹی) کی شہادت کی پہلی برسی، پیغام بنام ڈیموکریٹک یوتھ فورس پاکستان لاہور، اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ پنجاب سے خطاب، استقبالیہ زیراہتمام اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، سید مودودی کا خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے اجتماع سے خطاب، تسنیم عالم منظر کی شہادت پر سید مودودیؒ کے تاثرات، اسلامی جمعیت طلبہ کے اکیسویں سالانہ اجتماع کے موقع پر پیغام، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے پچیسویں یوم تاسیس پر تقریر، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے تربیتی اجتماع منعقدہ لاہور سے خطاب، تعزیتی اجلاس سے خطاب ، لاہور (طالب علم رہنما عبدالوحید کے قتل پر)، اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب سے خطاب، لاہور۔ موضوع: تربیت گاہیں، ڈیمو کریٹک یوتھ فورس لاہورسے خطاب (تقریب حلف برادری)، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے خطاب، لاہور (ڈاکٹر نذیر شہید کی یاد میں)، اسلامی جمعیت طلبہ کے نومنتخب عہدیداروں سے خطاب (لاہور)، اسلامی جمعیت طلبہ کے منتخب عہدیداروں سے خطاب، پیغام برائے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، پیغام: مجلہ جمعیت ’’ہم قدم‘‘، اسلامی جمعیت طلبہ کی سالانہ تربیت گاہ سے خطاب، -5 اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور… ایک انٹرویو، فاروقی مسجد سعود آباد کراچی میں کارکنوں سے خطاب، کراچی یونیورسٹی کے کنووکیشن گرائونڈ میں خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ کے نام سید مودودیؒ کا پیغام، اسلامی جمعیت طلبہ کے بائیسویں سالانہ اجتماع کے موقع پر پیغام، اسلامی جمعیت طلبہ سوات سے خطاب… موضوع: خیر و شر کا معرکہ، اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کی تربیت گاہ سے خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں خطاب (لاہور)… موضوع: سیرت کا پیغام، اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کے چھٹے سالانہ اجتماع سے خطاب (لاہور)، اسلامی جمعیت طلبہ سکھر سے خطاب (باب الاسلام سندھ)، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صوبہ سرحد کی کانفرنس منعقدہ پشاور کے لیے پیغام، اسلامی جمعیت طلبہ کی صوبائی تربیت گاہ سے خطاب (لاہور)، اسلامی جمعیت طالبات کے ساتویں سالانہ اجتماع سے خطاب، اسلامی جمعیت طلبہ سے خطاب (پنجاب یونیورسٹی میں کامیابی پر)، اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے نام پیغام… قائداعظم اور پاکستان، پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ سے، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے آخری خطاب۔
کتاب مجلّد ہے، رنگین سرورق سے مزین ہے۔ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔
نام مجلہ : ششماہی تحقیقی مجلہ ’’جہات الاسلام‘‘ لاہور
جلد 10 شمارہ 1
مدیر اعلیٰ : ڈاکٹر طاہرہ بشارت
مدیر : ڈاکٹر محمد عبداللہ
معاون مدیران : ڈاکٹر شاہدہ پروین؍ڈاکٹر حفصہ نسرین
صفحات : 434 قیمت 300 روپے سالانہ
(30 ڈالر سالانہ)
ناشر : پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ بشارت۔ ڈین کلیہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور
پتابرائے خط کتاب : ڈاکٹر محمد عبداللہ، مدیر جہات الاسلام
کلیہ علوم اسلامیہ، قائداعظم کیمپس پنجاب یونیورسٹی ، لاہور54590 پاکستان
ای میل : jihat_ul_islam@yahoo.com

ششماہی تحقیقی مجلہ ’’جہات الاسلام‘‘ کلیہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا شعبہ جاتی گرانقدر مجلہ ہے، جس میں اردو، عربی، انگریزی کے تحقیقی مقالات شائع کیے جاتے ہیں۔ زیرنظر شمارہ بھی اپنی اعلیٰ روایات کا امین ہے۔ اس میں جو مقالات شاملِ اشاعت ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
’’مولانا احمد علی لاہوری کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ‘‘۔ حافظ محمد سعید احمد؍ عبداللہ
’’قرآن کریم کا انداز اعجاز۔ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘۔ غازی عبدالرحمن قاسمی؍ محمد مجتبیٰ
’’روایاتِ سیرت و حدیث میں تعارض اور اصولِ ترجیح‘‘۔ عثمان احمد
’’امام محمد بن عبدالوہاب نجدیؒ کی سیرت نگاری‘‘ (آخری قسط)۔ محمد یٰسین مظہر صدیقی
’’اسلامی ریاست میں عوام الناس کو نظم و ضبط کا پابند رکھنے کے طریقے‘‘۔ ثمینہ سعدیہ
’’عورت کا حقِ وراثت: اسلام اور قدیم قوانین کی روشنی میں‘‘۔ محمد خبیب؍محمد افضل
’’شرعی سزائوں کی تنفیذ میں حکومتی اور عدالتی اختیارات، مشکلا ت اور تدارک‘‘۔ عبدالغفار؍عبدالغفار
’’مصرفِ زکوٰۃ فی سبیل اللہ۔ معاصر تشریحات‘‘۔ حافظ عاطف اقبال؍محمد اعجاز
’’خلفاء راشدین کی تجارتی حکمت عملی اور پاکستان‘‘۔ محمد نعیم؍ہمایوں سعید
’’شاہ ولی اللہ کے معاشی افکار کا جائزہ‘‘۔ دلشاد احمد خاں؍محمد ادریس لودھی
’’برصغیر پاک و ہند کے صوفیہ کرام کی تعلیمات کے اثرات‘‘۔ اُمِ سلمیٰ؍ طاہرہ بشارت
’’وحدۃ الوجود کی علمی تعبیر و تفہیم میں خواجہ کلیم اللہ کا کردار‘‘۔ شبیر احمد جامی
’’ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی (حیات اور علمی خدمات کے چند گوشے)‘‘۔ محمد راشد شیخ
عربی مقالات:المجاز المرسل و مباحثہ فی التفسیر المظہری۔ مرزا مجاہد احمد بیگ؍عبدالماجد ندیم
فقہ الحوار فی الہدی النبوی و مآثرہ فی الدعوۃ الی اللّٰہ ۔ طاہر صدیق
ظاہرۃ البطالۃ فی الباکستان و مجالات الاستغلال فی ضوء السنۃ۔ محمد ابوبکر
تعارف و تبصرہ
’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم: منتخب کتابیات اردو کتب و مقالات‘‘۔ محمد عبداللہ
حصہ انگریزی میں درج ذیل مقالات ہیں:
A BLAME AT THE HISTORY OF RELIGIOUS ENCOUNTERING AND RELIGIOUS PLURALISM IN PRE AND POST-COLONIAL BENGAL
Nosheen Zaheer/ Addul Ali Achakzai
WOMEN AND ISLAM AS RELIGION IN A NOMADIC SOCIETY
Aisha Shoukat / Amir Zada Asad
DEVELOPMENT OF EDUCATION REGULATED BY CHURCH AND IMPERIALISM
Hafiz Mujahid Maqsood / Abrar Mohy-Ud-Din
PRECURSORY EFFECTS ON BUYING ISLAMIC BANKING PRODUCTS IN PAKISTAN
Asif Yassen/ Abou Bakar
محترمہ ڈاکٹر طاہرہ بشارت اداریے میں تحریر فرماتی ہیں:
’’جہات الاسلام کا دسواں شمارہ (جولائی۔دسمبر2016ء) حاضر خدمت ہے۔ شمارے میں حسب سابق اردو، عربی اور انگریزی مقالات پیش کیے گئے ہیں۔ لکھنے والوں میں وطنِ عزیز کے اہلِ علم بھی ہیں اور بیرونِ ملک کے دانش ور بھی۔ مجلسِ ادارت ان سب کی تہِ دل سے مشکور ہے جن کے رشحاتِ قلم مجلہ کی زینت بنے۔
’’قومیں سوچ و فکر کے نئے زاویوں کو پروان چڑھاتی ہیں، اور اختلافِ رائے کو وسعتِ قلبی کے ساتھ برداشت کیا جاتا ہے۔ جامعات اور اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی اسی روشن پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ اسی سے دنیا بھر میں مقابلے اور مسابقت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ تحقیقی رسائل و جرائد بھی علمی دنیا میں فکر و خیال کے نئے پہلو سامنے لاتے ہیں۔ علمی مضامین اور ان پر تنقیدات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور معاشرے میں صحت مند علمی فضا قائم رہتی ہے۔
جہات الاسلام کا زیرنظر شمارہ بھی علم و فکر کے متنوع پہلوئوں پر مقالات کا گلدستہ سجاتا ہے۔ تفسیر و علوم القرآن، حدیث و سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فقہ و قانون، معاشرت و تجارت اور تصوف و سوانح کے موضوعات پر تحریرات کا ایک مجموعہ قارئین کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ فکری انتہا پسندی پر مضمون برداشت و رواداری کو فروغ دینے کی کاوش ہے۔
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی، جہات الاسلام کے آغاز سے ہی مجلسِ مشاورت میں شامل رہے اور اُن کے قیمتی مشورے اور آراء ہمیشہ بہتری کے لیے ہوتے تھے۔ ان کی وفات پر ایک یادگاری مضمون بھی شاملِ اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ امین
کسی بھی انسانی سعی و کاوش میں خامیوں کا در آنا اچنبھے کی بات نہیں، مجلہ کے بارے میں قارئین کرام کی آراء نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں، جس سے وہ گاہے بہ گاہے مطلع کرتے ہیں۔ مجلس ادارت اس طرح کی تنقیدات کا ہمیشہ سے خیرمقدم کرتی ہے اور بہتری کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔ امین‘‘
مجلہ سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کیا گیا ہے۔

Share this: